Sunday, 2 June 2024

مادران معصومین ایک تعارف ۔۱۔introduction to mothers of the masoomeen .1.

 

آمنہ بنت وہب قریش کی عظیم ترین خاتون تھیں وہ ۲۵ یا ۳۰ سال کی عمر میں جناب عبد اللہ بن عبد المطلبؑ کی زوجیت میں آئیں ، جناب عبد اللہؑ سے ازدواج کے ایک برس بعد  ۱ ؁ عام الفیل میں پیغمبر اکرمؐ کی ولادت با سعادت ہوئی، روایت میں وارد ہوا ہے کہ جناب آمنہ ؑنے زمانہ حمل میں خواب دیکھا کہ اس کا ایک نور آسمان پر چمک رہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ان کے فرزند پیغمبرؑ ہوں گے۔

آپ نے ولادت کے وقت بہت تعجب خیز امور کا دیدار کیا، پیغمبرؑ کے اجداد مادری و پدری سب کے سب خدا پرست اور پاک و پاکیزہ تھے شرک و بت پرستی سے کبھی وابستہ نہیں ہوئے جناب آمنہ بھی پاک و پاکیزہ اور موحد خاتون تھیں ۔

جناب آمنہؑ اور عبدؑ اللہ کی ازدواجی زندگی کا زمانہ بہت مختصر تھا کیونکہ جناب عبدؑ اللہ کی وفات پیغمبرؐ کی ولادت با سعادت سے قبل ہو چکی تھی اور جناب آمنہؑ شوہر کے سوگ میں تھیں ۔

جناب آمنہؑ نے اپنے عزیر فرزند کو چند دنوں دودھ پلایا تھا کہ عربوں کی رسم کے مطابق پیغمبرؐ کو جناب حلیمہؒ کی نگہداری میں دیدیا گیا، پانچ سال تک آنحضرتؐ جناب حلیمہؒ کے پاس رہ کر مادر گرامی جناب آمنہؑ کے پاس واپس آگئے، جناب آمنہؑ جو برابر چاہتی تھیں کہ اپنے جوان شوہر کی آخری آرامگاہ کی یثرب (مدینہ) میں زیارت کریں تو فرزند عزیز کی واپسی کے بعد ام ایمنؒ کو ساتھ لے کر یثرب کی جانب روانہ ہوئیں ، اپنے عزیزوں سے ملاقات اور جناب عبدؑ اللہ کی قبر کی زیارت کر کے واپس ہو رہی تھیں کہ مقام ابواؔء میں ان کی وفات ہو گئی۔

(جناب حلیمہ کا تذکرہ پرورش پیغمبرؐ کے ذیل میں کیا جاتا ہے اور ان کے فضائل و خصوصیات کا تذکرہ بھی ہوتا رہتا ہے لیکن انبیاءؑ و مرسلینؑ کی تربیت و پرورش کا الہی طریقہ جو انبیاؑء کے حالات کے ذیل میں بیان ہوا ہے اس سنت الٰہی پر اگر غور کیا جائے۔ (خاص طور پر جناب موسیٰؑ کی پرورش کا ذکر جو قرآن کریم میں ہے۔) تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حلیمہ کا وجود تو ملتا ہے لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حلیمہ خود جناب آمنہؑ کا لقب تھا «کَاْنَتْ آمِنَةٌ حَلِيْمَةٌ» ممکن ہے اس لفظ سے استفادہ کرتے ہوئے جناب حلیمہ کو ایک ذات تسلیم کر لیا گیا ہو اور بعد میں دوسرے واقعات اسی پر مرتب کر دئے گئے ہوں ، تحقیق کی ضرورت ہے۔)

ائمۂ معصومینؑ و جناب معصومہؑ کی جدہ ٔماجدہ اور پیغمبر اکرمؐ کی والدہ گرامی مرتبت جناب آمنہؑ ہیں ان کیلئے یہ نام زیب دیتا ہے اوراس میں عظیم خصوصیات پائے جاتے ہیں کیونکہ بزرگ ترین امانت الٰہی اور ہادی بشر کی بے مثل و بے نظیر ماں ہیں وہ تخلیق عالم کے راز کی حامل و محافظ ہیں ایسے فرزند کی ماں ہیں کہ زمانہ کے مسلسل متغیّر ہونے کے باوجود ان کے حیات بخش اور زندگی ساز مکتب کو کروڑوں انسان ہر جگہ تسلیم کر رہے ہیں ان کی نجابت اور خوبی سے انکار ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ پیغمبر اکرم ؐکی ماں ہونے کے لائق تھیں تو خدا نے انہیں اس عظیم نعمت سے سرفرازفرمایا۔

مؤرّخین و محدّثین نے بغیر کسی اختلاف کے والدۂ پیغمبر اسلام ؐ کیلئے صرف ایک نام آمنہؑ تحریر کیا ہےوہ وہبؔ بن عبد منافؔ بن زہرہؔ بن کلابؔ بن مرہؔ بن کعبؔ بن لویؔ بن غالبؔ بن فہرؔ کی بیٹی تھیں ۔ آپ کی والدہ کا نام برّہؔ بنت عبد العزّیٰؔ بن عثمانؔ بن عبد الدارؔ بن قصیؔ بن کلابؔ بن مرہؔ ہیں اور برّہؔ کی ماں یعنی جناب آمنہؑ کی نانی امّ حبیب بنت اسدؔ بن عبد العزّیٰ بن قصیؔ بن کلابؔ ہیں ۔([1])

جناب آمنہؑ کا ازدواج جناب عبد اللہؑ بن عبد المطّلبؑ سے ہواجن سے صرف ایک فرزند پیغمبر اکرمؐ کی ولادت با سعادت ہوئی ۔([2])

پیغمبر اکرمؐ کی والدۂ ماجدہ جناب آمنہؑ کا انتقال تیس سال کی عمر میں مقام ابواء (مکّہ) میں ہوا اور وہیں مدفون ہیں ۔([3])

جناب آمنہؑ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھیں اس لئے مؤرّخین کے درمیان مشہور ہے کہ پیغمبرؐ کے کوئی ماموں اور خالہ نہ تھیں ۔([4])

یہ وہ بدترین زمانہ تھا جب عربوں کیلئے لڑکی باعث ننگ و عار سمجھی جاتی تھی وہ لڑکیوں کو زندہ در گور کردیا کرتے تھے لیکن جناب آمنہؑ اس زمانہ میں بھی اپنی قوم اورخانوادہ میں مخصوص احترام اور عزّت کی حامل تھیں ۔ ([5])

 جناب آمنہ ؑکی عظمت کتب آسمانی میں :

راوی کا بیان ہے کہ ابو اسحاق کعب بن مانع جو یمن کا رہنے والااور اہل کتاب کے عظیم علماء میں سے تھا،وہ معاویہ کے پاس موجود تھا، راوی کہتا ہے کہ میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے پیغمبر ختمیؐ مرتبت کی ولادت کے تذکرہ کو اپنی کتابوں میں کس انداز سے پایا ہے اوراسکے خاندان کی فضیلت کس طرح سےبیان ہوئی ہے؟ کعب نے معاویہ کی جانب رخ کر کے معاویہ کا منشااور نظریہ جاننا چاہا، خداوند عالم نے معاویہ کی زبان پر یہ جملے جاری کر دئے، اے ابو اسحاق جو کچھ تم جانتے ہو اسے بیان کروخدا تم پررحم کرے، کعب نے بیان کیا کہ میں نے بہتر آسمانی کتابوں اور دانیال ؑکےصحیفوں کو پڑھا ہے سب میں پیغمبر ؐ کی ولادت کا تذکرہ ان کے نام کے ساتھ موجود ہے کسی پیغمبر کی ولادت کے موقع پر فرشتے نہیں نازل ہوئےسوائے جناب عیسیٰؑ اور احمدؐ کی ولادت کے، کسی شخص کیلئے بہشتی حجاب نہیں کھینچے گئے سوائے جناب مریمؑ اور آمنہؑ کے، کسی حاملہ عورت پر فرشتہ مقرر نہیں کیا گیا سوائے مادرِ جناب عیسیٰ ؑاور مادرِجناب پیغمبرؐ کے، جناب آمنہؑ کے حمل کی ایک علامت یہ تھی کہ شبِ حمل ایک منادی نے ساتوں آسمان میں ندا کی مژدہ ہو کہ آج کی رات جناب محمدؐکا حمل منعقد ہو گیا زمین میں بھی ایسی ندا دی ، شب ولادت یہی آواز کعبہ سے لوگوں نے سنی، اے خاندان قریش بشیر و نذیر تمہارے لئے آیا جس کیلئے ابدی عزت و عظیم فائدہ ہے، وہ خاتم المرسلینؐ ہے ہماری کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ اس کے بعد اس کے خاندان کے لوگ بہترین انسان ہیں اورجب تک ان کی عترت کی ایک فرد بھی باقی رہے گی لوگ عذاب سے امان میں ہوں گے۔([6])

 روایات میں جناب آمنہؑ کا ذکر:

شیعہ روایات کی کتابوں میں خاندان پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں نیز مادر پیغمبرؐکے تعلق سے زیادہ روایات پائی جاتی ہیں جو ان کے ایمان اور عقیدۂ وحدانیت کو واضح کرتی ہیں ، شیخ صدوق ؒ نے امالی میں نقل کیا ہے کہ امام صاؑدق نے فرمایا کہ جبریل ؑ پیغمبرؐ کے پاس آئے اور کہا خداوندعالم آپ سے سلام کے بعد کہتا ہے ،میں نے آگ کو آپ کے والد عبد اللہؑ ماں آمنہؑ اوراہل خانہ پر جس نے آپ کی کفالت و سرپرستی کی ہے (جناب ابوطالبؑ) حرام قرار دیا ہے۔([7])

حضرت محمدؐ کا ارشاد ہے کہ خداوندعالم نے مجھ کو بہترین پدر کی پشت (عبد اللہ بن عبد المطّلبؑ) اور بہترین ماں (آمنہ ؑبنت وہب) کے رحم میں قرار دیا تاکہ شرک کی نجاست اور کفرکی رذالت مجھ تک نہ پہونچے۔([8])

علامہ کلینیؒ نے امام صاؑدق کا جامع خطبہ اسی سلسلہ میں نقل کیا ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبرؐاسلام کی خلقت میں کوئی ناجائز ذریعہ نہیں آیا ان کی ماؤں میں کوئی گندگی نہیں تھی خداوند عالم نے ان کو محفوظ ترین حمل اور امین ترین دامن سے پیغمبری کیلئے منتخب کیا۔([9])

امیر المومنین علیؑ نے فرمایا کہ پیغمبرؐکا ارشادہے کہ خدا نے ہم کو کریم صلبوں اور پاکیزہ رحموں میں قرار دیا ہم میں سے کوئی (نا جائز ذریعہ) سے وجود میں نہیں آیا۔([10])

کتاب اسرار آل محمدؐ میں بیان ہوا ہے کہ رسول اکرمؐنے فرمایا کہ خداوند عالم ہم کو بہترین معادن اصل و طبع اور بہترین کشتزار پدر و مادر سے وجود میں لایا۔([11])

ان مذکورہ روایات اور دوسری دسیوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐ کی مادر گرامی ارحام مطہّر میں سے ہیں جو حمل پیغمبرؐ کے لائق تھیں ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کی ایک زیارت میں ان پربھی سلام کا ذکر ہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ وَعَلَیٰ اُمِّكَ آمِنَة بنت وَھَب۔([12])

علماء شیعہ کی نظر میں جناب آمنہ ؑکی منزلت:

شیخ مفیدؒ نے اوائل المقالات میں نقل کیا ہے کہ پیغمبر ؐ نے فرمایا کہ خداوندعالم نے ہمیشہ مجھ کو پاکیزہ ماؤں کے رحم میں قرار دیا یہاں تک کہ میں اپنی ماں آمنہؑ سے وجود میں آیا ، شیخ مفیدؒ کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کے درمیان اجماع ہے کہ آمنہؑ بنت وہبؔ توحید پر ایمان رکھتی تھیں اور مومنین کے گروہ میں محشور ہوں گی۔([13])

شیخ صدوقؒ نے بیان فرمایا : ہمارا عقیدہ آباء و اجداد نبیؐ کے بارےمیں یہ ہے کہ جناب آدم ؑ سے لے کر آپ کے والد عبد اللہؑ تک سب مسلمان ہیں جناب ابو طالبؑ مسلمان تھے آمنہؑ بنت وہب بن عبد مناف مادر رسول ؐاکرم بھی مسلمان تھیں ۔([14])

علامہ مجلسی ؒ فرماتے ہیں : علماء امامیہ کا اجماع ہے کہ رسول اکرمؐ کے ماں باپ اور تمام اجداد پیغمبر ؐ حضرت آدمؑ تک مسلمان تھے آپ کا نور کسی مشرک کے صلب و رحم میں قرار نہیں پایا آنحضرتؐ اور ان کے آباء و اجداد و مادران کے نسب کے بارے میں کوئی شبہہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔([15])


علامہ مامقانیؒ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب کے ضروریات میں سے یہ ہے کہ نبی اکرمؐ کے والدین سے لے کر اجداد تک کوئی شرک سے ملوث نہیں تھا وہ سب کے سب جناب آدمؑ تک موحّد تھے۔([16])

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ جناب عبد اللہؑ اور آمنہؑ کی قبر پر تشریف لائے ان دونوں کو (باعجاز و بحکم خدا) زندہ کیا اور ولایت علیؑ کی گواہی کے بعد واپس لوٹایا۔

علامہ مجلسیؒ کہتے ہیں کہ ان روایات کا ظاہر بتاتا ہےکہ جناب آمنہؑ و عبد اللہؑ شہادتین پر ایمان رکھتے تھے ان کو زندہ کرنا صرف ان کے ایمان کی تکمیل کیلئے ولایت علیؑ کی گواہی کے ذریعہ تھا۔([17])

 جناب آمنہؑ کی منزلت اہلسنت کے نزدیک:

اہلسنت حضرات نے خاندان پیغمبر اسلام ؐ کے ساتھ نا انصافی سے کام لیا ہے اہلسنت کے روایتی منابع میں ایسی روایات موجود ہیں جو خاندان پیغمبرؐ کے مشرک ہونے کو بتاتی ہیں اور انہیں روایات کو سند قرار دیتے ہوئےبعض بزرگ اہلسنت نے خاندان پیغمبرؐ کو مشرک سمجھا ہے۔

کتاب مستدرک الصحیحین میں عبد اللہ بن مسعود کی روایت منقول ہے کہ پیغمبر ؐاسلام قبروں کی جانب گئے ہم بھی ان کے ہمراہ تھے آپ نے ہم کو حکم دیا کہ بیٹھ جاؤ آپ ؐ قبروں کے اوپر چلتے ہوئےایک قبر کے پاس بیٹھ گئے اور زیادہ دیر تک مناجات کی، پیغمبرؐ کے گریہ کی آواز بلند ہوئی ہم بھی رونے لگے پیغمبرؐ ہمارے پاس آئے عمر بن خطاب پیغمبرؐ کے قریب گئے اور عرض کیا پیغمبرؐ آپ کو کس چیز نے رلایاکہ آپ کےگریہ سے ہم بھی رونے لگے۔

پیغمبرؐ اسلام نے فرمایا کہ جس قبر کو تم دیکھ رہے ہو میں اس پر مناجات کر رہا تھاوہ میری والدہ آمنہ ؑبنت وہب کی قبر تھی میں نے اس قبر کی زیارت کی اجازت خداوند عالم سے طلب کی خدا نے اجازت دی میں نے والدہ کیلئے استغفار طلب کرنے کی اجازت چاہی تو اجازت نہیں دی اور یہ آیت نازل ہوئی : مَا کَانَ لِلنَّبِیَّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَن یَستَغفِرُوا لِلمُشرِکِینَ وَلَو کَانُوااُولِی قُربیٰ مِن بَعدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُم أَنَّہُم أَصحَابُ الجَحِیمِ۔ ([18])

پیغمبر اور مومنین ، مشرکین کیلئے طلب مغفرت کا حق نہیں رکھتے ہیں .....اسکے بعد پیغمبرؐ نے فرمایاکہ اس کے بعد مجھ پر اسی طرح کی رقت طاری ہو گئی جو ایک فرزند پر والدین کیلئے ہوتی ہے۔ ([19])

ابو ہریرہ سے منقول ہے کہ پیغمبر ؐ نے ماں کی قبر کی زیارت کے موقع پر گریہ کیا اور جو لوگ ان کے قریب تھےانہوں نے بھی گریہ کیا اس وقت رسولؐ نے فرمایامیں نے خداسے اجازت طلب کی کہ ماں کیلئے طلب مغفرت کروں تو اجازت نہیں ملی ، میں نے قبر مادر کی زیارت کی اجازت طلب کی تو اس درخواست کو قبول کیا۔جناب عبد اللہ ؑکے بارے میں بھی ایسی روایات ملتی ہیں ۔([20])

مذکورہ بالا ان روایات کے مقابلہ میں اہلسنت ہی کے منابع میں کثیر روایات موجود ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ خاندان عبد المطلبؑ موحد تھا ان میں جناب عبد اللہ ؑ و آمنہؑ بھی ہیں ۔

۱۔ پیغمبر ؐاسلام نےفرمایا : میں دنیا میں نکاح کے ذریعہ آیا یہ سلسلہ نکاح جناب آدم ؑ تک ہے ، جاہلیت کی گندگی ہم تک نہیں پہونچی۔([21])

۲۔ حضرت علی ؑ نے بیان کیا کہ پیغمبر ؐنے فرمایا: میں نکاح کے طریقہ سے دنیا میں آیا ہوں ،اب تک کوئی گندگی مجھ میں راہ نہیں پا سکی ہے۔([22])

۳۔ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ پیغمبر ؐ نے فرمایا: میں دنیا میں نہیں آیا ، مگر اسی نکاح کے طریقہ سے جو اسلام کا طریقۂ نکاح ہے۔([23])

۴۔ ابن سعد سے منقول ہے کہ ابن عباسؓ نے آیۂ وَ تَقَلُّبَكَ فِی السَّاجِدِینَ ([24]) کی تفسیر میں بیان کیا ہیکہ اس آیہ کا مقصود یہ ہے کہ اے پیغمبر ؐ!خداوند عالم نے آپ کو پیغمبروں ؑ کی صلبوں سے دوسرے پیغمبروں ؑ کی صلبوں تک منتقل کیا ہے۔([25])

ان روایات میں زمانۂ جاہلیت کی گندگی جیسے زنا وغیرہ کی پیغمبرؐ کے ماں باپ کے بارے میں نفی کی گئی ہے ۔ دوسری روایت پر توجہ کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شرک جو بدترین گندگی ہے وہ بھی پیغمبرؐ کے آباء و امہات میں نہیں آیا۔

جو روایات خاندان پیغمبرؐ کے مشرک ہونے کے بارے میں ہیں ان میں بہت زیادہ اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔([26]) پر پانچ روایات اس بارےمیں مختلف متن کے ساتھ اور اس کے برعکس ذکر ہوئی ہے۔

جو روایت ابن مسعود نے نقل کی ہے کہ وہ سورہ توبہ کی آیت ۱۱۳اور۱۱۴ کی شان میں وارد ہوئی اسی طرح کی روایت تفسیر کبیر فخرالدین رازی میں ابن عباس سے منقول ہے کہ جب خدا نے پیغمبرؐ کیلئے فتح عطا کی تو آنحضرتؐ نے اپنے والد اور والدہ کی قبر کا نشان معلوم کیا تاکہ ان سے تجدید عہد کریں ، قبر مادر کی لوگوں نے نشاندہی کی پیغمبرؐ نے چاہا کہ ماں کیلئے طلب مغفرت کریں اس وقت یہ دونوں آیات نازل ہوئیں ۔([27])

کیا پیغمبر ؐ کو یہ معلوم نہ تھا کہ والد کی قبر مدینہ میں اور والدہ کی قبر ابواء میں ہے، اگر معلوم تھا تو مکہ کے لوگوں سے اس کا پتہ کیوں معلوم کر رہے تھے اس لئے ان احادیث پر اعتماد نہیں کیا جا سکتاہے۔

ابو ہریرہ سے منقول روایت کے بارے میں یہی بات کافی ہےکہ ابو ہریرہ کے بارے میں اہلسنت کے بزرگ علماء کے نظریات کو معلوم کرلیا جائے،چنانچہ:

(۱) ذہبی کا بیان ہے کہ جب معاویہ ابوہریرہ کو کچھ عطا کردیتا تھا تو وہ آرام سے بیٹھ جاتا تھا اور جب کچھ نہیں دیتا تھا تو وہ معاویہ کے خلاف تبلیغ کرتا تھا۔([28])

(۲) ابن کثیر کہتا ہے: ہمارے اصحاب (علماء) ابو ہریرہ سے دوری اختیار کرتے تھے کیونکہ ابوہریرہ جو کچھ پیغمبرؐ سے سنتا تھا اسے کعب سے سنی ہوئی باتوں سے مخلوط کردیا کرتاتھا۔([29])

(۳) ابن ابی الحدید معتزلی شافعی کہتا ہے :ابو ہریرہ کی روایات ہمارے بزرگ علماء کے نزدیک قابل قبول نہیں تھی۔([30])


 

(۴) ابو یوسف کا بیان ہے کہ میں نے ابو حنیفہ سے سوال کیا کہ ایک خبر پیغمبرؐ کی جانب منسوب مجھ سے بیان کی گئی ہے جو ہمارے قیاس کے خلاف ہے، میں کیا کروں ؟

ابو حنیفہ نے کہا کہ اگر خبر مؤثق لوگوں کے ذریعہ نقل ہو تو اس پر عمل کریں گے تمام اصحاب مؤثق ہیں سوائے ابو ہریرہ اور انس بن مالک کے ۔([31])

ان مذکورہ علماء اہلسنت کے بیانات کی روشنی میں ابوہریرہ کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں اس امر کی مکمل وضاحت کیلئے بعض بزرگان اہلسنت نے امامیہ علماء کی طرح خاندان پیغمبر ؐ کی طہارت کا عقیدہ قائم کیا ہے ان میں سے دو افراد کی گفتگو نقل کی جا رہی ہے۔

(۱) امام سبکی کا بیان ہے :وہ نکاح جو نسب پیغمبرؐ کے سلسلہ میں واقع ہوئے ہیں پیغمبرؐ سے لے کر جناب آدمؑ تک تمام صحیح شرائط پر ہوئے ہیں ،وہ انہیں نکاحوں کے طریقہ پر ہیں جو اسلام میں موجود ہیں اس بات پر قلبی اعتقاد رکھنا چاہئے اس سے عدول صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر عدول کیا (اس کے خلاف عقیدہ بنایا) تو دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھاؤگے۔([32])

(۲) ماوردی کا بیان ہے : اگر نسب پیغمبرؐ سے آگاہ ہونا چاہتے ہو تو جان لو کہ پیغمبر ؐ کریم آباء کی اولاد میں ہیں ان کے اندر رذالت اور پستی کا وجود نہیں تھا بلکہ سب کے سب رہبرتھے اور طہارت کے حامل تھے یہ بھی جان لو کہ طہارت ولادت شرائط نبوت میں ہے۔([33])

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے خاندان پیغمبرؐکےمشرک ہونے کی روایت گھڑی ہیں انہوں نے یہ چاہا ہےکہ اپنے خاندان کے مشرک ہونے کا جبران رسولؐ اکرم کے آباء و امہات کو مشرک قرار دینے سے کر لیں ۔([34])

 جناب عبد اللہؑ و آمنہؑ کا حال:

جناب عبد اللہؑ و آمنہؑ باہم عزیز تھے ایک ہی محلہ میں زندگی بسر کر رہے تھے۔([35])

یہ لوگ بچپن میں ایک دوسرے سے ملاقات بھی کرتے رہتے تھے جناب آمنہؑ جب سن بلوغ کو پہونچیں تو وہ گھر کے اندر رہتی تھیں کوچہ و بازار میں نہیں جاتی تھیں تاکہ نامحرم کی نگاہ ان پر نہ پڑے؛ لیکن خداوندعالم نے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ دونوں پاک و پاکیزہ جوان با ایمان عقد ازدواج کے ذریعہ ایک چھت کے نیچے رہ کر معنویت اور توحید کی بنیادوں کو بلند کریں اور وہ دن مقدر سے آبھی گیا۔

 مقدمۂ ازدواج:

کچھ یہودی علماء نے مشاہدہ کر لیا تھا کہ نور محمدؐ جناب عبد اللہؑ کے چہرہ سے نمایاں ہے تو انہوں نے جناب عبد اللہ کے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔([36])

وہ برابر موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ کسی طرح اپنے ارادہ کو عملی جامہ پنہاویں یہاں تک کہ ایک روز جناب عبد اللہؑ اکیلے شکار کے قصد سے اطراف مکہ کے ایک درّہ میں گئے، یہودی تلواروں کو اپنےلباس میں چھپا ئے ہوئے جناب عبد اللہؑ کا تعاقب کرنے لگے جب وہ عبد اللہ ؑکے قریب پہونچے وہ شکار کو ذبح کررہے تھے تو یہودیوں نے ہر جانب سےمحاصرہ کر لیا عبد اللہؑ نے ان سے کہا کہ میری جان سے تمہاری کیا خواہش ہے؟ میں نے تمہیں کیا نقصان پہونچایا ہے؟

یہودیوں نے ہر جانب سے جناب عبداللہؑ پر حملہ کیا عبداللہؑ نے خود کو ایک پتھر کے پیچھے پہونچایا اور چار یہودیوں کو قتل کیا۔

وہب جناب آمنہ ؑکے پدر بزرگوار یہودیوں کے بزدلانہ حملہ اور جناب عبد اللہؑ کے دفاع کو دیکھ رہے تھے عبد اللہؑ کی مدد کیلئے اٹھے ناگاہ کچھ لوگ آسمان سے زمین پر آئے جو زمین کے لوگوں کے مشابہہ تھے انہوں نےیہودیوں پر حملہ کیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ، وہب فوراًجناب عبد المطلبؑ کے پاس گئے اور واقعہ بیان کیا جناب عبد المطلبؑ نہایت تیزی سے اپنے دوسرے فرزندوں کے ساتھ عبد اللہؑ کے پاس پہونچے جب انہوں نے جناب عبد اللہؑ کو صحیح و سالم پایا تو انہیں سینہ سے لگا کر بوسہ دیا اور سب کے سب گھر واپس آگئے۔([37])

جناب وہب کی پیشنہاد (تجویز):

جب وہب گھر واپس آئے تو جناب عبد اللہ کی شجاعت کا ذکر اپنی زوجہ سے کیا کہ یہ جوان کتنا خوبصورت ہےاس کے چہرے سے نور ساطع ہے گویا ان کی پیشانی نور افشانی کر رہی ہے۔ اے بیوی جاؤ ان کے والد کے پاس ہماری لڑکی آمنہؑ کی اس جوان سے ہمسری کیلئے گذارش کرو ہو سکتا ہے وہ ہماری بیٹی کو قبول کر لیں تو یہ ہمارے لئے عظیم سعادت اور بڑا فخر ہو گا۔


 

وہب کی زوجہ برّہ کو معلوم تھا کہ مکہ کے بڑے بڑے لوگوں نے خواہش کی ہے کہ جناب عبد اللہؑ ان کے داماد ہو جائیں ، عبد اللہؑ و عبد المطلب ؑنے سب کی درخواستیں رد کر دیں ہیں ، برّہ نے اپنی شوہر سے کہا: وہب!آپ کو معلوم ہے کہ جب عبد اللہؑ مکہ کے نامور اور بزرگ سرداروں کی بیٹیوں کو قبول نہیں کر رہے ہیں تو ہماری بیٹی کو بھی قبول نہ کریں گے۔ وہب کے مسلسل اصرار پر برّہ نے لباس فاخرہ پہنا اور جناب عبد المطلب کے گھر کی جانب روانہ ہوئیں ۔ برّہ جس وقت خانۂ جناب عبد المطلبؑ میں پہونچیں تو عبد المطلبؑ اسی واقعہ کو اپنے عزیزوں سے بیان کر رہے تھے کہ یہودیوں نے جناب عبد اللہ ؑپر حملہ کیا تھا۔

وہب کی زوجہ نے سلام کیا عبد المطلب ؑنے جواب سلام کے بعد وہب کا شکریہ ادا کیا فرمایا کہ تمہارے شوہر کا مجھ پر بڑا حق ہے کیونکہ مجھے خبر دینے کے ذریعہ عبد اللہؑ کو نجات دی اپنے شوہر سے کہہ دینا کہ جوحاجت رکھتے ہوں میں اسے پورا کروں گا،وہب کی زوجہ نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے کہا ہماری خواہش یہ ہے کہ عبد اللہ ؑہمارے داماد ہو جائیں ، عبد المطلب ؑنے جناب عبد اللہؑ کے چہرے پر نگاہ کی کسی طرح کی ناپسندیدگی کی علامت نہیں دیکھی کیونکہ اس سے پہلے جتنے لوگوں نے درخواست کی تھی تو جناب عبد اللہؑ کے چہرے سے ناراضگی کے آثار نمایاں ہوئے تھے۔([38])

جناب عبد اللہؑ اس ازدواج سے راضی ہوگئے انہیں معلوم تھا کہ ان کے صلب میں ایسا نور ہے جس کے حمل کی لیاقت ہر لڑکی میں نہیں پائی جاتی اس لئے پہلے کی تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔

جناب عبد المطلبؑ نے فرزند سے کہا:فرزند! بخدا مکہ کی لڑکیوں میں آمنہؑ جیسی کوئی لڑکی نہیں ہے کیونکہ صاحب ِعزّت ،شخصیت ِپاکیزہ کی حامل ، عاقل اور دیندار ہے۔([39])

یہ طے پایا کہ جناب عبد اللہ ؑکی والدہ وہب کے گھر جائیں اور آمنہؑ کے دیدار کے ضمن میں خواستگاری کا وقت معین کر لیں ، جب فاطمہ (مادر جناب عبد اللہؑ) وہب کے گھر پہونچیں تو آمنہؑ اور اس کی ماں نے نہایت گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا ، جناب فاطمہؑ زوجۂ جناب عبد المطلب ؑنے آمنہؑ سے مختصر سی گفتگو میں سمجھ لیا کہ وہ شخصیت اور کمال کی حامل ہے اور جناب آمنہ ؑکی ماں سے کہا: مجھے آمنہؑ کی درایت عقل و ہوش پر تعجّب ہے، کیسے مجھے اس کی خبر نہ ہوئی؟ جناب فاطمہؑ نےگھر واپس آکر جناب عبد اللہؑ سے کہا: فرزند!یقیناً عرب کی لڑکیوں میں آمنہؑ جیسی کوئی لڑکی نہیں ہے، میں نے اسے پسند کیا خداوندعالم تمہارے اس نور کو آمنہ کے علاوہ کسی اور کو عطا نہیں کرے گا ۔([40])

 رسم خواستگاری:

جناب عبد المطلبؑ جناب عبد اللہؑ اور قوم کے چند لوگوں کے ساتھ آمنہؑ کی خواستگاری کیلئے وہب کے گھرگئے عبد المطلبؑ نے خطبۂ عقد اس طرح پڑھا! ”میں حمد کرتا ہوں اس خدا کی جس نے ہمیں یہ عطا کیا اور ہمیں اپنےگھر کے پڑوس میں قرار دیا ، وہ خدا جس نے ہماری محبت بندوں کے دل میں ڈال دی اور ہمیں تمام امت کے مقابلہ میں شرف سے سرفراز کیا“۔ اس کے بعد وہب سے فرمایا: میرا فرزند تمہاری بیٹی آمنہؑ کی خواستگاری کر رہا ہے معیّن مہر کے ساتھ کیا تم راضی ہو؟ وہب نے کہا کہ میں راضی ہوں میں نے قبول کر لیا ، اس کے بعدجناب عبد المطلبؑ نے موجود لوگوں کو گواہ بنا یا اور چاردن تک ولیمہ کھلایا۔([41])

 ابن ہشام کا بیان ہے کہ عبد المطلبؑ نے جناب آمنہؑ بنت وہب کا انتخاب جناب عبد اللہؑ کیلئےکیا جو قریش کی عورتوں میں نسب میں شریف ترین تھیں اور عروسی وہب کے گھر پر انجام پائی۔([42])

 نورمحمدی کا جناب آمنہؑ تک منتقل ہونا:

جب تک نور جناب عبد اللہؑ کی پیشانی سے جناب آمنہؑ تک منتقل نہیں ہوا تھا ورقہ بن نوفل کی بہن خود کو جناب عبد اللہؑ کیلئے پیش کر رہی تھی وہ کہتی تھی اگر تم مجھ سے جنسی تعلق پیدا کرو تو وہ تمام سو اونٹ جو تمہاری نجات کیلئے قربانی کئے گئے ہیں میں عطا کروں گی، عبد اللہؑ اس کی جانب کوئی توجہ نہیں کرتے تھے جناب آمنہؑ سے رشتہ کے بعد تعلق ہوا اور نور جناب آمنہؑ تک منتقل ہو گیا ، ایک دن بعد جناب عبد اللہؑ جناب آمنہؑ کے گھر سے نکلے راستے میں ورقہ بن نوفل کی بہن کا سامنا ہوگیا لیکن اس نے کوئی توجہ جناب عبداللہؑ کی جانب نہیں کی، جناب عبد اللہؑ نے اس سے پوچھا تم نے گذشتہ کل تک کی خواہش کی تکرار نہیں کی؟اس نے کہا کہ جو نور کل تک تمہارے چہرہ میں تھا وہ اب نہیں ہے اس لئے اب مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔([43])


 

جناب آمنہؑ کا بیان ہے کہ جب نور محمدی جناب عبد اللہؑ سے مجھ تک منتقل ہوا تو میرے چہرہ سے نور ساطع ہوتا تھاجب مکہ کے لوگ اس نور کو دیکھتے تھے تو مجھے اور میرے فرزند کے درخشندہ مستقبل کی مبارک باد دیتے تھے۔([44])

کئی سال سے عرب کے لوگ شدید قحط میں مبتلا تھے جب یہ نور جناب آمنہؑ تک منتقل ہوا تو بارش ہوئی اور لوگ نعمتوں سے مالا مال ہوئے اسی لئے اس سال کا نام سال فتح رکھا گی۔([45])

خداوندعالم نے جناب آمنہؑ کوبارہا بشارت دی، ہوشیار رہو کہ جو گراں بہا بار اپنے رحم میں رکھتی ہویہ انسانوں کا سید و سردار اور راہنما ہے۔([46])

عباس بن عبد المطلبؑ کا بیان ہے کہ جب جناب عبد اللہؑ کی پیدائش ہوئی تو ان کے چہرہ میں نور تھا جو چمک رہا تھا میرے والد نے کہا کہ اس فرزند کا ،مقام و مرتبہ بلند ہوگا یہاں تک کہ خوبصور ت ترین قریش کی لڑکی جناب آمنہؑ سے ان کا ازدواج ہوا تو یہ نور جناب آمنہؑ تک منتقل ہو گیا۔([47])

 

 رحم مادر میں نور محمدیؐ:

سب سے عظیم عطیۂ الٰہی جو جناب آمنہؑ کو ملاوہ یہ کہ خداوندعالم نے انہیں نور محمدی کا حامل اور ان کی پرورش کے لائق بنایا،جناب آمنہؑ کہتی ہیں کہ جب میں باردار ہوئی توحمل کا کوئی اثر اپنے اندر نہیں پایا جو حالات حاملہ عورتوں کے ہوتے ہیں وہ مجھ میں نہ تھے ایک شب خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص میرےپاس آیا اور کہا کہ تم بہترین انسان سے حاملہ ہو تو وضع حمل میرے لئے آسان ہو گیا اور مجھے کسی طرح کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔

یہ بھی بیان ہوا کہ جب جناب آمنہؑ حاملہ تھیں تو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ تم بہترین انسان سے حاملہ ہوئی ہو۔ ([48])

یہ بھی روایت میں آیا ہےجناب آمنہؑ نے کہا کہ حمل کے چھ ماہ بعد، خواب میں دیکھا کوئی کہہ رہا ہے:اے آمنہؑ !تمہارے اندر بہترین انسان کا حمل ہے۔([49])

یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جناب آمنہؑ بنت وہب نے کہا کہ جب میں رسولخداؐ سے باردار ہوئی تو مجھ سے کہا گیا کہ تم اس امت کے سردار سے باردار ہوئی ہو، جب وہ پیدا ہو تو اس سے کہنا اس کو ہر حاسد کے شر سے خدائے واحد کے حوالہ کرتی ہوں ، جب میں حاملہ تھی تو ایک نور مجھ سے جدا ہواجس سے میں نے شہر بصریٰ کے قصروں کو شام میں دیکھا۔([50])


 

 جناب عبد اللہؑ کا سفر:

ازدواج کے چنددنوں کے بعد تاجروں کے قافلہ کی شام کی جانب روانگی کا ڈنکا بجا جناب عبد اللہؑ نےاس قافلہ کے ساتھ جانے کا ارادہ کیاانہوں نے ضعیف باپ اور زوجہ کو خدا حافظ کیا،آمنہؑ اسےبرداشت نہ کر سکیں اور جناب عبد اللہؑ کے پیچھے پیچھے چل پڑیں جناب عبد اللہؑ نے واپس ہو کر دیکھا کہ جناب آمنہؑ کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے ٹپک رہے ہیں تو اس تجارتی سفر سے پلٹنے کا ارادہ کیا لیکن قافلہ والوں سے عہد و پیمان کیا تھا وہ ارادہ کو بدلنے سے روک رہا تھا۔

آخری بار انہوں نے جناب آمنہؑ کو خدا حافظ کہا جسم جنابِ عبد اللہؑ شام کی جانب جا رہا تھا لیکن روح جناب آمنہؑ کے قریب تھی جناب آمنہؑ کی تصویرعبد اللہؑ کی نگاہوں کے سامنے آتی جاتی تھی آمنہ ؑرہ گئی تھیں ان کا جانسوز گریہ اور لطیف روح جناب عبد اللہؑ کے ساتھ قافلہ کے ساربان کی نغمہ خوانی پر کان لگائے تھی جناب عبد اللہؑ کے ساتھ گزارے ہوئے شیرین زمانے کی یاد برابر ذہن میں آتی جارہی تھی۔

جناب عبد اللہؑ زوجہ کو تنہا چھوڑ کر چلے گئے اگر چہ یہ بالکل تنہائی نہ تھی بلکہ بچہ شکم میں موجود تھا دن رات گذرتے گئے اور ولادت فرزند کا زمانہ قریب آتا گیا انہیں جناب عبد اللہؑ کی یاد زیادہ آنے لگی اور حسرت فراق میں اضافہ ہوتا گیا اس فراق کی زحمت کو اگر کوئی چیز آسان بنانے والی تھی تو وہ صرف یہ کہ جب جناب عبد اللہؑ سفر سے واپس آئیں گےتو انہیں باپ ہونے کی خوشخبری دیں گی، چند ماہ انتظار کے بعد قافلہ کے وارد ہونے کی خبر مکہ میں ہوئی کچھ لوگ اپنے عزیزوں کے استقبال کیلئےمکہ کے باہر گئے جناب عبد المطلبؑ فرزند کے انتظار میں تھے جناب آمنہؑ گھر کے در پر بیٹھی تھیں اور قافلہ میں نگاہ جناب عبد اللہؑ کو ڈھونڈھ رہی تھی لوگوں سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ جناب عبد اللہؑ واپسی میں یثرب میں بیمار ہوگئے اور اپنے عزیزوں کے پاس رہ گئے اس خبر سے جناب آمنہؑ پر غم و اندوہ کی کیفیت طاری ہو ئی، جناب عبد المطلبؑ نے اپنے بڑے فرزند حارث کویثرب جانے کاحکم دیا کہ جناب عبد اللہؑ کو اپنے ساتھ لے آئیں ، جب حارث مدینہ پہونچے تو جناب عبد اللہؑ دنیا سے کوچ کر چکے تھے اور انہیں دفن کیا جا چکا تھا حارث نے واپس آکر بھائی کے دنیا سے گزرجانے کی خبر باپ کو دی۔([51])

 جناب عبد اللہؑ نے دنیا چھوڑ دی جناب آمنہؑ اور ان کے فرزند رہ گئے گویا مصلحت خدا یہی تھی کہ جناب عبد اللہؑ دنیا سے چلے جائیں اور یہ فرزند یتیم دنیا میں آئے تاکہ آئندہ یتیموں کی غمگساری کرتا رہے فَأَمَّا الیَتِیۡمَ فَلَا تَقۡہَرۡوہ اگرچہ یتیم تھا لیکن خدا کی پناہ میں تھا أَ لَم یَجِدْكَ یَتِیۡمًا فَآوَیٰ.

 جناب عبد اللہؑ کی عمر:

جناب عبد اللہؑ کی عمر کے بارے میں اختلاف ملتا ہے، مشہور قول کی بنا پر ۲۵ سال کی عمر تھی اور بعض لوگوں نے مدت عمر ۱۷ سال بتایا ہے۔([52])

اسی طرح پدر بزرگوار کی رحلت کے وقت پیغمبرؐ اسلام کی عمر کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔

(1)             ان کے حمل کو دو ماہ ابھی ہوئے تھے کہ ان کے والد کی وفات ہو گئی۔

(2)            آنحضرت ؐکی ولادت سے دو ماہ قبل والدبزرگوار کی وفات ہوئی۔

(3)            ولادت آنحضرتؐ کے دو ماہ بعد والد کی وفات ہوئی۔

(4)            ولادت کے سات مہینہ بعد والد کی وفات ہوئی۔

(5)            ولادت آنحضرت ؐکے نوماہ بعد والد کی وفات ہوئی۔

(6)            ولادت آنحضرت ؐکے اٹھارہ ماہ بعد والد کی وفات ہوئی۔

آیتی لکھتے ہیں کہ جناب عبد اللہؑ پدر رسولخداؐ نے پچیس سال کی عمر میں مدینہ میں مشہور گھر دار نابغہ میں وفات پائی اور مشہور قول کی بنا پر ان کی وفات رسولخداؐ .کی ولادت سے پہلے ہوئی۔([53])

یعقوبی کا بیان ہے کہ مؤرّخین کا اجماع ہے کہ جناب عبد اللہؑ کا انتقال پیغمبرؐ کی ولادت کے بعد ہوا ہے۔([54])

 طلوع خورشید مکہ:

حضرت پیغمبر ؐاسلام کی ولادت با سعادت ۱۷ ربیع الاول ۰۰۰۱؁عام الفیل روزجمعہ بوقت طلوع صبح صادق ہوئی آپ کی والدہ جناب آمنہؑ وضع حمل کے بارے میں بیان کرتی ہیں :” مجھ پر چند روز ایسے گزرے تھے کہ میں زحمت میں تھی جس سے معلوم ہو تا تھا کہ زمانۂ وضع حمل آرہا ہے اس دن وقت غروب درد میں کچھ زیا دہ اضافہ ہو گیا میں یکہ و تنہا کمرہ میں پیٹھ کے بل لیٹی ہوئی اور اپنے شوہر کی جوان موت اور اپنی تنہائی کے بارے میں سوچ رہی تھی“۔ ([55])

جناب آمنہ کا بیان ہے: میں دھیرے دھیرے آنسو بہا رہی تھی اس کے ساتھ یہ خیال بھی آرہا تھا کہ اٹھ کر جناب عبد المطلب کی لڑکیوں کو درد ولادت کی خبر دوں ، ناگاہ میرے کانوں میں آواز آئی جس سے میرا دل خوش ہوا چند عورتوں کی آواز سنی جو میرے سرہانے بیٹھی ہیں اور باہم محو گفتگو ہیں ،وہ میرے سلسلہ میں بات کر رہی تھیں ان کی خوش کن اور دلپذیر آواز سے اتنا سکون مل گیا کہ میں اپنا درد بھول گئی میں نے سر اٹھا کر دیکھنا چاہا کہ وہ کونسی عورتیں ہیں جو میرے سرہانے بیٹھی ہیں یہ کہا ں سے آئی ہیں ،میرا ان سے کیا رابطہ ہے؟یہ کتنی خوشرو اور پاکیزہ ہیں کہ درد سے نور کی چمک ہو رہی ہے، مجھے خیال ہوا کہ قریش اور مکہ کی بزرگ عورتیں ہوں گی، مجھے اس پر حیرت تھی کہ کیسے بے خبری کے ساتھ کمرہ میں آگئیں کس نے میری حالت کے بارے میں انہیں بتایا ہے؟([56])

عرب کے دستور کے مطابق میں ان کے احترام میں اٹھی اور نہایت گرم و نرم لہجہ میں کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں آپ کہاں سے آئی ہیں کون لوگ ہیں ؟ جو عورت میرے داہنی جانب بیٹھی تھیں انہوں نے کہا کہ میں مرؑیم مادر عیسیٰؑ ہوں ، دوسری عورت نے کہا کہ میں آسیہ زن فرعون ہوں اور دو مزید جنتی فرشتے تھے میرے گھر میں آئے تھے جو میرے پہلو میں تھے میرا درد ختم ہو گیا ،صبح کو جب میں نے دیکھا تو نہ کوئی چیز تھی نہ آواز، چند لمحہ یہ کیفیت طاری رہی کہ نور روحانی عطا ہوا اس نور ملکوتی فرزند کو اپنے دامن میں پایا جو پیشانی عبادت کیلئے زمین پر رکھے تھا اور غیر معلوم نجویٰ میرے کانوں کو محسوس ہو رہا تھا جب کہ کوئی بولنے والا نہ تھا،نہ نجویٰ کا مطلب سمجھ پارہی تھی، میری خوشی بڑھتی رہی کچھ لمحہ زبان بند رہی پھر زبان کھلی تو میں نے فریاد کی ام عثمان ، ام عثمان (یہ جناب عبد المطلبؑ کی زوجہ کی کنیت ہے) میں اس سے مدد طلب کرنا چاہتی تھی ناگہاں میں نے دیکھا کہ میرا فرزند میری آغوش میں ہے۔([57])

جناب عبد المطّلب کو بشارت:

خداوندعالم کی عظیم امانت جناب آمنہؑ کے ذریعہ دنیا میں آئی،شوہر کے انتقال سے جناب آمنہؑ کا دل جس قدر زخمی ہوا تھا فرزند کی ولادت سے زخم بھر گیا اور امید کی دوسری کرن کا دروازہ بھی کھل گیا دل کو سکون ملا شکر خدا ادا کیا جناب عبد اللہؑ کی جگہ بھر گئی بلکہ نو مولود نے جناب عبد اللہؑ کی حیات کو قیامت تک کیلئےدائمی بنا دیا جناب آمنہؑ نے ایک شخص کو جناب عبد المطلبؑ کے پاس خوشخبری دینے کیلئے بھیجاکہ آپ کا پوتا دنیا میں آگیا ہے۔

عبد المطلبؑ سراسیمہ جناب آمنہؑ کے گھر آئےجناب آمنہؑ نے جوکچھ کرامات و معجزات بارداری اور وضع حمل کے موقع پر اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے جناب عبد المطلبؑ سے بیان کیا، جناب عبد المطلبؑ بچہ کو ہاتھ میں لےکر کعبہ کے اندر آئے اور خدا کی بارگاہ میں اس ہدیہ آسمانی کاشکر ادا کیا پھر بچہ کو ماں کے پاس واپس کیا۔([58])

 جناب آمنہؑ کا سفر:

جناب آمنہؑ بچہ کیلئے باپ کی حیثیت بھی رکھتی تھیں اور ماں بھی، فرزند عبد اللہؑ کبھی کبھی ماں سے پوچھتے تھے ، میرے والد کہاں ہیں ؟ جناب آمنہؑ فہیم اور با شعور خاتون ہونے کی بنا پر بچہ کو ایسا جواب دیتی تھیں جس سے وہ مطمئن ہو جاتا تھا۔

جناب آمنہؑ کا لال چھ سال تین ماہ کا ہو گیا تو آمنہؑ نے ارادہ کیا کہ بچہ کے ہمراہ اپنے عزیزوں کے دیدار اور جناب عبد اللہؑ کی قبر کی زیارت کیلئےمدینہ کا سفر اختیارکریں وہ جناب عبد المطلبؑ کے پاس گئیں اور اجازت حاصل کی، جناب آمنہؑ بچہ اور ام ایمن کے ساتھ مدینہ کی جانب روانہ ہوئیں جناب آمنہؑ اپنے عزیزوں کے گھر مدینہ میں گئیں اورجناب عبد اللہؑ کی قبر کے بارے میں معلوم کیا انہوں نے اپنے فرزند کا ہاتھ پکڑا اور قبرجناب عبد اللہؑ کی زیارت کیلئے گئیں ،غم و حزن گلوگیر تھا، گریہ کی آواز بلند نہیں ہو رہی تھی لیکن آنکھوں میں آنسو تھے، عالم حیرانی میں شوہر کی قبر کو دیکھے جا رہی تھیں ، بچہ نے ماں سے سوال کیا :مادر گرامی! یہ کس کی قبر ہے؟جسےآپ اس طرح حیرت سے دیکھ رہی ہیں ، آہ و نالہ کی صدا بلندہوگئی اور آنکھوں سے آنسوؤں کا آبشار جاری ہو گیا اور کہا:فرزند ! یہ تمہارے باپ عبد اللہؑ کی قبر ہے جس نے تجھے دیکھے بغیر دنیا سے کوچ کیا۔

آہ آہ میری آنکھیں کس قدرمشتاق دیدار ہیں ، محمدؐ نے اپنے چھوٹے ہاتھوں کو بلند کیا اور ماں کی آنکھوں سے آنسوؤں کو پونچھا اور کہا: ماں ! صبر کیجئے، جلدی ہی ہم اور آپ انہیں آنکھوں کےساتھ ان سے ملاقات کریں گے۔

یہ سفر پیغمبرؐ کیلئے نہایت دلدوز اور نا قابل فراموش تھا کہ پچاس سال کے بعد ۰۰۱۳؁ بعثت میں آپؐ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی جیسے ہی محلہ بنی نجّار کو دیکھا تو فرمایا کہ یہیں میری مادرگرامی آئی تھیں اور اسی گھر میں جناب عبد اللہؑ کی قبر ہے۔([59])

 جناب آمنہؑ کی پیشن گوئی:

چند دن کے بعدجناب آمنہؑ نے پیغمبر ؐ اور ام ایمن کے ساتھ مکہ کے ارادہ سے مدینہ کو ترک کیا، درمیان راہ مقام ابواء میں بیمار ہوئیں اور مرض نے اتنی شدت اختیار کی کہ چلنے کی طاقت نہ رہی ، پیغمبرؐ اور ام ایمن ان کی تیمارداری کرتے رہے لیکن دن بدن حالت میں کمزوری آتی گئی، جناب آمنہؑ نے اپنے فرزند کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ان کے چہرۂ زیبا پر نگاہ کی اور یہ اشعار پڑھے:

اِن صَحَّ مَا اَبصَرتُ فِی المَنَامِ

فَأَنتَ مَبعُوثٌ اِلیٰ الأَنَامِ

تبعَث فِی الحِلِّ وَ الحَرَامِ

مِن عِندِ ذِی الجَلَالِ وَ الاِکرَامِ

تبعَث بِالتَّوحِیدِ وَ الاِسلَامِ

دِینُ أَبِیكَ البِرِّ اِبرَاہَام

فَاللہُ أَنہَاكَ عِنِ الأَصنَامِ

أَن لَا تَوَالَیهَا مَعَ الأَقوَامِ


 

اےفرزند جو کچھ میں نے خواب دیکھا ہے اگر وہ صحیح ہے تو تم تمام مخلوق کی جانب مبعوث ہو گے،تمہیں مبعوث کیا جائے حل و حرم میں (تمہاری نبوت کسی خاص علاقہ کیلئےنہیں ہوگی بلکہ عالمی ہوگی) خداوند ذوالجلال کی جانب سے،تم مبعوث ہو گے توحید اور اسلام کے ساتھ یہی تمہارے پدر بزرگوار ابراہیمؑ کا دین ہے،فرزند !خدا نے تمہیں بت پرستی سے روکا ہے تم دوسروں کے ساتھ بت کے قریب نہ جاؤ۔

جناب آمنہؑ کے ان اشعار سے معلوم ہوتا ہی کہ وہ قادر الکلام شاعر اور دین حنیف ابراہیمؑ کی پیروتھیں ۔

اس کے بعد جناب آمنہ ؑنے کہا:کُلُّ حَیّ مَیَّت وَ کُلُّ جَدِید بَال کُلّ کَثِیر یفنی وَأَنَا مَیِّتَةٌ وَ ذِکرِی بَاقٍ وَ قَد تَرکت خَیراً وَ ولدت طُہراً۔([60])

ہر زندہ کیلئے موت ہے اور ہر جدید کیلئے کہنگی، ہر کثیر فنا ہو گا،میں بھی مرجاؤں گی لیکن میرا ذکر باقی رہے گا کیونکہ میں نے باقی رہنے والا خیر چھوڑا ہے اور پاکیزہ فرزند دنیا میں لائی ہوں ۔

اگر مذکورہ جملوں کو دقت نظر سے دیکھا جائے تو جناب آمنہ کا ایمان ، پیغمبر ؐ اور ان کی بعثت اور معاد پر ثابت ہوتا ہے، انہوں نے جاہلیت کے ماحول میں زندگی گذاری تھی لیکن جناب ابراہیمؑ کے طریقہ پر تھیں کیونکہ انہوں نے اپنے فرزند سے کہا کہ تم طریقۂ ابراہیمی کو طے کر رہے ہو اور ان کے دین کو زندہ کر رہے ہو۔

پیغمبرؐ اور فراق مادر:


پیغمبر ؐاسلام کی عمر مبارک ابھی صرف چھ سال کی تھی مادر گرامی نے معبود حقیقی کی بارگاہ میں کوچ کیا،وفات کے بعد ام ایمن نے پیغمبر ؐاسلام اور کچھ ابواء کے لوگوں کی مدد سے انہیں مقام ابواء میں دفن کیا اورپیغمبر ؐاسلام کو لےکر ام ایمن مکہ آگئیں ۔([61])


 



([1])- المقنعہ، ص:۴۵۹ ، البدایۃو النہایۃ، ج:۱ ، ص:۲۴۹ ، تاریخ یعقوبی، ج: ۲، ص: ۱۰، السّیرۃ الحلبیۃ ، ج: ۱، ص:۳۹ ،السّیرۃ النبویّۃ ، ج: ۱، ص:۷۰، الطّبقات الکبریٰ، ج:۱، ص:۵۹ ، اعلام الوریٰ، ص:۶۔

([2])- السّیرۃ الحلبیۃ، ج: ۱، ص:۵۱۔

([3])- تاریخ یعقوبی، ج: ۲، ص: ۱۰ ، قرب الاسناد ، ص:۲۷۔

([4])- اعلام الوریٰ، ص:۱۴۵۔

([5])- البدایۃو النہایۃ، ج:۱ ، ص:۲۴۹۔

([6])- امالی صدوق و مناقب آل ابیطالبؑ، ج: ۳، ص:۳۴۰۔

([7])- امالی صدوق، ص: ۶۰۶ و اصول کافی ، ج:۱،ص:۴۴۴۔

([8])- دلائل الامامۃ، ص: ۵۹ ،جامع الاخبار، ص:۱۵۔

([9])- اصول کافی ، ج:۲،ص:۴۴۷۔

([10])- کمال الدّین، ج: ۱ ، ص:۳۹۱۔

([11])- اسرار آل محمدؑ ، ص: ۲۳۷۔

([12])- اقبال، ص:۶۰۴۔

([13])- اوائل المقالات، ص:۴۶.

([14])- اعتقادات صدوقؒ، ص:۱۱۰۔

([15])- حیاۃ القلوب، ج:۳ ، ص: ۵۱۔

([16])- ریاحین الشریعۃ،ج: ۲،ص:۳۶۹۔

([17])- حیاۃ القلوب، ج:۳ ، ص: ۹۱۔

([18])- توبہ: ۱۱۳۔

([19])- مستدرک الصحیحین، ج: ۲ ، ص: ۳۳۶۔

([20])- صحیح مسلم ، ج:۳ کتاب الجنائز، باب استیذان النبی ربہ فی الزیارۃ قبر امّہ۔

([21])- الطبقات الکبریٰ، ج: ۱، ص:۶۰۔

([22])- مجمع الزوائد و منبع الفوائد، ج:۸ ، ص: ۲۱۴۔

([23])- حوالۂ بالا و حاشیۂ السیرۃ الحلبیۃ، ج:۱ ، ص:۳۳۔

([24])- شعراء :۲۱۹۔

([25])- الطبقات الکبریٰ، ج: ۱، ص:۲۴۔

([26])- البدایۃ، ج: ۲، ص:۱۸۔

([27])- تفسیر کبیر ، ج:۶ ، ص:۲۱۴۔

([28])- سیر اعلام النبلاء، ج: ۲، ص:۶۱۵۔

([29])- البدایۃ و النہایۃ، ج:۸ ، ص:۱۰۹۔

([30])- شرح نہج البلاغۃابن ابی الحدید، ج: ۴، ص: ۳۶۰۔

([31])- شرح نہج البلاغۃابن ابی الحدید، ج: ۴، ص: ۳۶۰۔

([32])- السیرۃ الحلبیۃ، ج:۴ ، ص:۴۲

([33])- حوالہ صدر۔

([34])- سیری در صحیحین،ص: ۲۱۸۔

([35])- اسد الغابۃ،ج:۱، ص:۱۳۔

([36])- ریاحین الشریعۃ، ص:۲۹۱۔

([37])- ریاحین الشریعۃ، ص:۲۹۳۔

([38])- ریاحین الشریعۃ، ص:۲۹۳۔

([39])- بحار الانوار، ج:۱۵ ، ص:۹۹۔

([40])- بحار الانوارایضاً۔

([41])- اسد الغابۃ، ج:۱، ص:۱۳ و بحار الانوار، ج:۱۵ ، ص:۱۰۳۔

([42])- السیرۃ النبو یۃ، ص: ۱۰۳۔

([43])- السیرۃ النبویۃ،ج:۱،ص:۱۰۳۔

([44])- الانوار فی مولد النبی،ص:۱۲۶ ، اثبات الوصیۃ،ص:۱۹۵۔

([45])- البدایۃ و النہایۃ، ج: ۱، ص: ۲۴۹۔

([46])- اعلام الوریٰ، ص:۵۵۔

([47])- امالی صدوق،ص:۲۶۳۔

([48])- بحار،ج:۱۵، ص:؟۔

([49])- السیرۃ الحلبیۃ،ج:۱،ص:۴۶۔

([50])- السیرۃ النبویۃ،ج:۱،ص:۱۰۴۔

([51])- السیرۃ الحلبیۃ، ج:۱ ، ص:۵۰ ، فروغ ابدیت، ص:۱۱۸۔

([52])- قرب الاسناد، ص:۱۷۔

([53])- تاریخ پیامبر اسلام، ص:۱۹۔

([54])- تاریخ یعقوبی، ج: ۲، ص: ۱۰

([55])- اثبات الوصیۃ، ص:۲۰۶۔

([56])- آمنہ مادر پیامبرؐ، ص:۱۱۹۔

([57])- السیرۃ الحلبیۃ، ج:۱، ص:۶۵، روضۃ الواعظین، ص:۶۸، دیار عاشقان، ج:۲، ص:۶۴۔

([58])- السیرۃ الحلبیۃ،ج:۱ ، ص:۱۰۵،العدد القویۃ رضی الدین، ص: ۱۱۸، امالی شیخ صدوق، ص:۲۸۶۔

([59])- السیرۃ الحلبیۃ،ج:۱، ص:۵۰،تاریخ یعقوبی، ج:۲، ص:۹۰۔

([60])- حاشیۂ سیرۂ حلبیہ،ج:۱، ص:۵۷۔

([61])- تاریخ یعقوبی ، ج:۲، ص: ۱۰ ، تاریخ پیغمبر اسلام ، ص:۲۱۔

#Islamic#Real_islam#Shia#Prophet#Muhammad#lifestyle#hadith#karbala#najaf#ashura#muharram#ااسلامی

#اسلام ناب#الشیعہ#العتبۃ#آداب اسلامی#احادیث#کربلا#نجف#عاشورا#محرم#فلسطین

اسلامی طرز زندگی(۴)islamic life style(4)

آداب نماز شب 

 نماز شب کیلئے پہلے مسواک کرے پھر عطر لگائے، اس نماز کا وقت نصف شب سے شروع ہو کر طلوع فجر صادق تک ہے، فجر صادق سے جتنا قریب ہو بہتر ہے۔ نماز شب کی فضیلت کیلئے یہی کافی ہے کہ کہا گیا ہے کہ اگر چہار رکعت پڑھ لیا ہے 
اور فجر صادق طلوع کر جائے تو نماز شب کو جاری رکھے خواہ صبح طلوع ہوجائے۔ 



 ٭نماز شب پڑھنے کا طریقہ

 ۱۔نماز شب گیارہ رکعت ہے جس میں دس رکعت دو، دو رکعت کر کے پڑھی جائے گی اور ایک رکعت جداگانہ پڑھی جائے گی۔۲۔اس میں سے آٹھ رکعت نماز شب کی نیت سے پڑھی جائے گی اور پھر دو رکعت نماز شفع اور ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے ادا ہوگی۔۳۔نماز شفع و نماز وتر کی فضیلت ان آٹھ رکعت سے زیادہ ہے جو نماز شب کی نیت سے ادا ہوتی ہے۔۴۔صرف نماز شفع و نماز وتر پر اکتفاء کرسکتے ہیں اور نماز شب کو ترک کرسکتے ہیں۔ ۵۔اگر نماز شب کا وقت تنگ ہو جائےتو صرف نماز وتر پر اکتفا کر سکتا ہے۔۶۔یوں تو نماز شب اول شب سے صبح صادق کے طلوع ہونے تک پڑھ سکتے ہیں لیکن افضل یہ ہے کہ سحر کے وقت پڑھےاور سحر کا اطلاق رات کے آخری ثُلث کا حصہ ہےنماز صبح سے جتنا قریب ہو بہتر ہے۔۷۔جو انسان نصف شب کے بعد نماز شب پڑھنے سےکسی وجہ سے معذور ہو تو نصف شب سے پہلے بھی ادا کر سکتا ہے۔۸۔وہ جوان جس کو خوف ہے کہ بیدار نہیں ہو پائے گا وہ نصف شب سے پہلے بھی نماز شب ادا کر سکتا ہے۔۹۔اگر کسی کی نماز شب فوت ہو جائے نیند کے سبب یا کسی اور عذر کی وجہ سے تو اسکی قضا دوسرے روز بجا لا سکتا ہے۔۱۰۔نماز وتر میں سورہ حمد کے بعد قنوت کیلئے ہاتھوں کو بلند کرے اور پہلے چالیس مومنین کی مغفرت طلب کرے : أَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِفلان وَفلان کہہ کر چالیس مومنین میں اعزاء و احباب کے مردوں کا نام یکے بعد دیگرے ذکر کرے بہتر ہے اسماء کاغذ پر لکھ لے اور دیکھ کر پڑھے اورپھر ستر بار أَسْتَغْفِرُ اللہَ رَبِّی وَ أَتُوْبُ إِلَیْہکہے، اسکے بعد سات مرتبہ ھذَاْ مَقَاْمُ الْعَاْئِذِ بِکَ مِنَ النَّاْر زبان پر جاری کرے، پھر تین سو مرتبہ أ َلْعَفْو أَلْعَفْو کہے اور پھر کہے: رَبِّ اغْفِرْ لِی إِرْحَمْنِیْ وَ تُبْ عَلَیِّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّاْبُ الرَّحِیْم۔ یہ نماز شب کا تفصیلی طریقہ ہے لیکن ہمیں اختیار ہے کہ حتی المقدور اعمال انجام دیں اور اگر صرف أَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاْت پر ہی اکتفا کر لے تب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭عورتوں کی نماز کے آداب ۱۔خود کو زیورات سے آراستہ کرے۔۲۔خضاب لگائے۔۳۔ہلکی آواز میں پڑھے۔ ۴۔قیام کی حالت میں دونوں پیر کو ملا کر کھڑی ہوں۔۵۔حالت رکوع میں دونوں ہاتھ ران پر رکھے۔۶۔سجدہ میں جانے سے پہلے بیٹھے۔۷۔چار زانوں ہوکر بیٹھے۔۸۔تشہد پڑھتے وقت دونوں ران کو ملا کر بیٹھے۔ ۹۔سیاہ لباس و نقاب ، تنگ و گندے کپڑے میں نماز نہ پڑھے ۔۱۰۔سفید لباس میں نماز پڑھے۔ ۱۱ ۔بیٹھتے وقت اور سجدہ میں جاتے وقت پہلے زمین پر پیروں ٹکائے۔

#Islamic#Real_islam#Shia#Prophet#Muhammad#lifestyle#hadith#karbala#najaf#ashura#muharram#ااسلامی

#اسلام ناب#الشیعہ#العتبۃ#آداب اسلامی#احادیث#کربلا#نجف#عاشورا#محرم#فلسطین


islamic life style(3)اسلامی طرز زندگی


 

نماز پڑھنے کے آداب

            ۱۔عقیق کی انگوٹھی پہنے ۔۲۔پاک و پاکیزہ ، صاف ستھرا لباس پہنے۔۳۔بالوں کو کنگھی کرنا۔۴۔نماز سے پہلے مسواک کرنا۔۵۔خوشبو لگانا۔۶۔اول وقت نماز پڑھنا۔۷۔خضوع و خشوع کے ساتھ نماز پڑھے۔۸۔با جماعت نماز پڑھے۔۹۔اذان و اقامت کہے۔۱۰۔سر پر عمامہ باندھ کر نماز پڑھے۔۱۱۔ سفید لباس اور عبا پہنے۔۱۲۔مسجد میں نماز ادا کرنا۔۱۳۔نماز سے پہلے بآواز بلند اَعُوْذُ بِاللہ کہے۔۱۴۔بسم اللہ بلند آواز سے پڑھے۔۱۵۔نماز کے بعد تسبیحات حضرت زہرا پڑھے۔ ۱۶۔نماز کو اس طرح پڑھے گویا آخری نماز ہے۔۱۷۔تدبر و معرفت کے ساتھ نماز پڑھے۔۱۸۔داہنے اور بائیں چہرہ نہ پھرے۔۱۹۔آنکھ بند کرکے نماز نہ پڑھےکہ یہ عمل کراہیت رکھتا ہے۔۲۰۔داڑھی سے نہ کھیلے۔ ۲۱۔کسالت کے عالم میں اور خواب آلود کیفیت میں نماز نہ پڑھے۔۲۲۔تنگ موزہ کا استعمال نہ کرے۔  ۲۳۔نقش و نگار بنے کپڑوں کا استعمال نہ کرے۔۲۴۔اپنے لباس کا بٹن بند رکھے۔  ۲۵۔ان مقامات پر نماز نہ پڑھے : حمام ،شورہ زار زمین جادہ وسڑک، آگ کے روبرو، قبرستان ، کوڑا پھینکنے کی جگہ ، مجسمہ و تصویر کے سامنے، جانور ذبح کرنے کی جگہ پر ، جس کمرہ میں مجنب ہو۔۲۶۔گندے (میلے)کپڑوں میں نماز نہ پڑھے ۔ ۲۷۔مہمان کو نماز پڑھنے کی وجہ سے معطل نہ کرو۔۲۸۔بیٹھتے وقت اور سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے ہاتھوں کو زمین پرٹیکے۔


#Islamic#Real_islam#Shia#Prophet#Muhammad#lifestyle#hadith#karbala#najaf#ashura#muharram#ااسلامی

#اسلام ناب#الشیعہ#العتبۃ#آداب اسلامی#احادیث#کربلا#نجف#عاشورا#محرم#فلسطین


اسلامی طرز زندگی (۲)آداب زیارتislamic life style

آداب زیارت

 ۱۔با وضو اور غسل کر کے صلوات کے ذریعہ اپنے دہن کو معطر کریں۔۲۔پاک و پاکیزہ لباس، خوشبو لگا کر ، حرم میں داخل ہوں ۔۳۔حرم جاتے ہوئے خضوع و خشوع وقار و اطمینان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم سے حرکت کرے اور ذکر کرتا رہے ۔۴۔لغو کلام اور بیہودہ گفتگو سے پرہیز کرے۔۵۔اذن دخول پڑھ کر در حرم کو بوسہ دے اور با احترام وارد ہو ۔ ۶۔اگر ضریح سے قریب ہونا چاہتے ہوں کو اس طرح سے ضریح کے قریب جائے کہ کسی کو اذیت نہ ہو ۔۷۔حتی الامکان کھڑے ہوکر زیارت پڑھیں۔۸۔تلاوت قرآن اور پھر ارواح کو ہدیہ کرنے سے دریغ نہ کرے ۔ ۹۔زیارت سے فارغ ہو کر جب حرم سے نکل رہا ہو تو شوق دیدار شعلہ ور رہے۔۱۰۔داہنے پیر سے داخل ہو اور باہیں پیر کو پہلے خارج کرے ۔۱۱۔چہرہ ضریح کی طرف ہو اور پشت قبلہ کی طرف ہو۔ ۱۲۔صاحب قبر کو شافع قرار دے۔۱۳۔زیارت کے بعد دو رکعت نماز زیارت پڑھے۔۱۴۔دعائے وداع بھی پڑھے۔ ۱۵۔تلاوت قرآن کرے اور صاحب قبر کو ہدیہ کریں۔۱۶۔حرم سے باہر نکلتے وقت چہرہ ضریح کی طرف ہو اور پشت کی طرف سے باہر نکلے۔۱۷۔مجنب و حائضہ کا حرم ائمہ اطہارؑ میں داخل ہونا حرام ہے لیکن امامزادوں کے حرم یا حسینیہ جات میں داخل ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔۱۸۔جیسے قبہ مبارکہ کو دیکھے اَللہُ أَکْبَر کہے۔ ۱۹۔دو رکعت نماز زیارت پڑھے جس کا طریقہ یہ ہے : پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ یس اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ رحمن پڑھے۔ ۲۰۔زیارت پڑھتے وقت مردہ و زندہ افراد کو پیش نظر رکھے ۔۲۱۔ضریح کی طرف پشت کرکے نماز نہ پڑھے۔ #Islamic#Real_islam#Shia#Prophet#Muhammad#lifestyle#hadith#karbala#najaf#ashura#muharram#ااسلامی #اسلام ناب#الشیعہ#العتبۃ#آداب اسلامی#احادیث#کربلا#نجف#عاشورا#محرم#فلسطین

اسلامی طرز زندگی islamic life style(1)

زیارت بیت اللہ کے آداب

 ۱۔ اخلاص نیت، صرف حکم خداکی انجام دہی کی نیت کرے۔ ۲۔ گناہوں سے توبہ کرے اور لوگوں کے حقوق کو ادا کرے۔۳۔ خمس و زکات ادا کر کے اپنے مال کو پاک و پاکیزہ کر لے اور یہ تصور ذہن میں رہے کہ اس سفر سے واپس نہیں لوٹے گا۴۔جب اس سفر کا ارادہ کرے تو عظمت الٰہی کو مد نظررکھے اور یہ فکر دماغ میں رہے کہ یہ سفر دوسرے سفر جیسا نہیں ہے۔۵۔ دل کو ہر اس چیز سے پاک صاف کر لے تو مقصد کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے، افکار کو مضطرب کرسکتی ہے مثلاً خرید و فروخت ، امور تجارت وغیرہ۔۶۔زاد راہ، رفت و آمد کے اخراجات کو حلال ذریعہ سے مہیا کرے۔۷۔اثنائے سفر مالی نقصان و جسمانی ایذاء پر شادماں رہے کہ یہ قبولیت حج کی علامت ہے۔۸۔رفقائے سفر کے ساتھ خوش اخلاقی و کشادہ روئی سے پیش آئے اور شیرین کلامی کو فراموش نہ کرے۔ ۹۔گرد آلود رہے اور باعث افتخار اسباب سےاجتناب کرے۔ ۱۰۔اگر ممکن ہو تو مشاعر معظمہ میں پیدل چلے ۔۱۱۔رفقائے سفر کی خدمت کرے۔ ۱۲۔قضاء و قدر الٰہی پر سر تسلیم خم کئے رہے۔۱۳۔بندگان خدا کے حقوق ادا کردے اور بار قرض سے سبکدوش کرلے۔۱۴۔عبادات اور اسکے مقررہ اوقات کی رعایت کرے نیز سنت پیغمبرؐ کی رعایت کرتا رہے۔ ۱۵۔ہر حال میں ادب کا خیال رکھے ، نا مناسب امور کو برداشت کرتا رہے۔۱۶۔توبہ کے آب زلال سے گناہوں کی کثافت کو دھولے۔ ۱۷۔جامہ صدق و صفا ، پیراہن خشوع و خضوع کو زیب تن کر لے۔۱۸۔جامہ احرام پہنتے وقت ہر اس چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دے لے جو ذکر خدا سے اوربارگاہ الٰہی سے دور کر دینے والی ہوں۔ ۱۹۔مطاف میں جب تمام مسلمانوں کے ساتھ خانہ خدا کا طواف کر رہا ہو تو دل کو صف ملائکہ کے ساتھ عرش و بارگاہ الٰہی کے طواف میں مشغول رکھے۔ ۲۰۔جب مکہ سے سرزمین آرزو مِنَیٰ کی طرف کوچ کرے تو خطاء و لغزشوں سے پاک ہو تاکہ آرزوؤںاور تمناؤں کے مقام پر کوئی غلط آرزو و تمنا پیدا نہ ہوسکے۔۲۱۔مزدلفہ و مشعر الحرام کی مقدس سرزمین پر قدم رکھتے وقت گناہوں سے پرہیز کرے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرے جو نامناسب ہیں۔۲۲۔جبل رحمت پر پہونچے تو عالم رحمت اور مغفرت کے عظیم مقام میں خود کو تصور کرے۔۲۳۔جب قربانی کے جانور کی شہہ رگ حیات کو کاٹ رہا ہو اس وقت حرص و آز کی گردن کو بھی کاٹ دے اور شہوت و فسادسے دستبرداری کا اعلان کرے۔ ۲۴۔رمی جمرات کے ذریعہ جیسے شیطان سے بیزاری کا اعلان کرتاہے ویسے ہی ہر قسم کی برائی ، شہوت، رذالت کو دور کرے اور روح کو اخلاقی آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ کر لے۔۲۵۔جب سر کے بالوں کو تراش کر گندگیوں کو خود سے جدا کر رہا ہوتو اپنے عیوب کی بھی اصلاح کرے عیوب کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے۔۲۶۔حرم الٰہی میں داخل ہو کر امن و امان، الطاف الٰہی کے زیر سایہ تصور کرے موہومات و باطل ارادہ سے منصرف ہوجائے۔۲۷۔خانہ کعبہ میں داخل ہوتے وقت جلالت عظمت الٰہی پیش نظر رکھےاسکی معرفت کے مدارج کو نگاہ میں رکھے۔۲۸۔حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت یہ تصور رہے کہ بوسہ دینا رضا و خوشنودی خدا ، قضائےالٰہی پر راضی ہونے کی علامت اور خضوع و اطاعت ربانی کی نشانی ہے لہٰذا امر الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دے ۔ ۲۹۔طواف کعبہ کے وقت غیر خدا سے خود کو دور کر لے ۔ ۳۰۔کوہ صفا پرپہونچ کر روز قیامت جمال الٰہی کے دیدار کیلئے اپنی روح کو پاک و پاکیزہ کر لے ۔ ۳۱۔کوہ مروہ پر پہونچ کر خود کو پیش نظر خدا تصور کرتے ہوئے ہر ناپسندیدہ شئے سے پر ہیزکرے۔۳۲۔حج کے ذریعہ کئے گئے عہد و پیمان پر ثابت قدم رہے ، گناہ و نافرمانی سے اسکو توڑنہ دے۔۳۳۔جان لو کہ اللہ نے حج کی طرح کسی اطاعت کی نسبت اپنی طرف نہیں دی ہے اور پیغمبر اکرمؐ نے بھی کسی عبادت کا اس طرح حکم نہیں دیا ہے مگر صرف اسلئے کہ اسکے اعمال و ارکان میں کچھ اشارے اور تذکرات ہیں صاحبان عقل وخرد کیلئے اہل بصیرت کیلئے پند و نصائح ہیں جن کی طرف توجہ سے عالم مرگ قبر و حساب اہل بہشت و دوزخ کے حالات کی نشاندہی ہوتی ہے اور اس حقیقت کو صرف صاحبان عقل و بصیرت در ک کر پاتے ہیں ۔ #Islamic#Real_islam#Shia#Prophet#Muhammad#lifestyle#hadith#karbala#najaf#ashura#muharram#ااسلامی #اسلام ناب#الشیعہ#العتبۃ#آداب اسلامی#احادیث#کربلا#نجف#عاشورا#محرم#فلسطین

Tuesday, 5 December 2023

مصحف جناب فاطمہ بزبان ائمہ معصومین علیہم السلام

مصحف جناب فاطمہ ائمہ اطہار علیہم السلام کی نظر میں
وفات رسالتمآب حضرت محمد مصطفی کے بعد اہل مدینہ  نے پیغمبر اکرم کی اکلوتی بیٹی جناب فاطمہ زہرا سے منھ پھیر لیا،سقیفہ کی لگائی ہوئی آگ کے شراروں  میں جذبات واحساسات جل کر راکھ ہوگئے،آدمیت وانسانیت سقیفائی آگ کی لپٹوں سے اپنا دامن بچاکر مدینہ سے کوچ کر گئی[علاوہ چند افرادکے]اسلامی سماج کے اندر افتراق  واختلاف کی خلیج گہری ہوتی چلی گئی،ایک طرف بنی ہاشم تجہیز وتکفین کے مقدمات فراہم کررہے تھے تو دوسری طرف شرارتی طبیعتوں کے مالک مسند خلافت کو للچائی نظروں سے دیکھ کر منصوبہ بند سازشوں کے تانے بانے بننے میں مصروف ہوگئے۔
ایک طرف باپ کی جدائی کا غم تودوسری طرف اہل مدینہ کی بے رخی کا الم جو فراق پدر کے غم کو مزید کربناک بنا رہاتھا ،طرفہ تماشا مدینہ کے کچھ باشندے تعزیت کے بجائے اعتراضات،تسلیت کی جگہ تکلیف،تشفی کے عوض بیعت کا مطالبہ کرنے در بیت الشرف بنت رسول پر آگئے،تاریخی شواہد سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ آنے والوں نے بیعت لینے کے لئے ہر وہ اقدام کئے جو عام سیاسی لیڈران اپنی کرسی اقتدار کے تحفظ وبقا کی خاطر کرتے رہتے ہیں،عصبیت،غصب ونہب،اقرباپروری،تعلقات کاغلط استعمال یہ وہ امور تھے جنکا چلن روز بروز عام سے عام تر ہوتاجارہاتھا،ایسے پرہول حالات  اور ہمت شکن ماحول نے بنت رسول کے مصائب وآلام کو دوچند کردیا جس کے سبب حزن وملال،غم والم نے زندگی کے ہر قدم پر بسیرا کرلیا،خلاق نور زہرا جناب فاطمہ زہرا کے غم کو غلط کرنے کے لئے ایک فرشتہ کو بھیجتا جو آپ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوکر تسلی وتشفی دیتااور مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات وحادثات کو بیان کرتا جسکو شہزادی دوعالم بغور سنتیں اور پھر شوہر نامدار حضرت علی ابن ابی طالب سے بیان فرماتیں،آنحضرت ان تمام باتوں کو تحریری جامہ عطا کرتے تھے یہ مجموعہ بعد میں مصحف فاطمہ کے نام سے مشہور ہوا۔
حقیقت مصحف فاطمہ  بزبان ائمہ علیہم السلام:
مصحف فاطمہ کیا ہے؟کس نے ترتیب دیا؟کون کون سے مطالب درج ہیں؟بقول وہابیت مصحف فاطمہ شیعوں کا دوسرا قرآن ہے؟یہ صحیفہ ومصحف اب بھی ہے یا مرور ایام کی نظر ہوگیا؟یہ وہ سوالات ہیں جو بار بار صفحہ ذہن پر ابھرتے رہتے ہیں اور معاندین اہل بیت کی طرف سے اٹھائے جاتے رہے ہیں جبکہ شواہد وقرائن میں غور وفکر کرنے والا ان سوالات کے تشفی بخش جوابات بھی پالیتاہےشرط ہے چشم بینا وگوش شنوا رکھتا ہو۔
مصحف فاطمہ الہام الہی کا مجموعہ،اسرار علوم ربانی کا خزانہ،معارف نورانی کاذخیرہ ہے جو ذات اقدس حضرت زہرا پر فرشتے کے ذریعہ الہامی شکل میں نازل ہوا اور دست عصمت وامامت حضرت علی ابن ابی طالب سے رشتہ تحریر میں آیا جسمیں رسول خدا کے مقام بہشتی،مستقبل میں پیش آنے والے واقعات وحالات کا تذکرہ ہے،یہ مصحف عام لوگوں کی دسترس سے دور ائمہ طاہرین کے پاس یکے بعد دیگرے منتقل ہوتا رہا اور آج بھی فرزند زہرا حضرت حجت کے پاس موجود ہے جسکی تائید متعدد روایات سے ہوتی ہے:
سمعت اباعبد اللہ یقول تظھر الزنادقۃ فی سنۃ ثمان وعشرین ومائۃ وذلک انی نظرت فی مصحف فاطمۃ قال قلت وما مصحف فاطمۃقال ان اللہ تعالی لما قبض نبیہ دخل علی فاطمۃ من وفاتہ من الحزن مالایعلمہ الااللہ عزوجل فارسل الیھا ملکا یسلی غمھا ویحدثھا فشکت ذلک الی امیر المومنین فقال اذا احسست بذلک وسمعت الصوت قولی لی فاعلمتہ بذلک فجعل امیر المومنین یکتب کل ماسمع حتی اثبت من ذلک مصحفا قال ثم قال اما انہ لیس فیہ شی من الحلال والحرام ولکن فیہ علم مایکون[الکافی،ج۱،ص۲۴۰]
راوی  بیان کرتاہے کہ میں نے امام جعفر صادق سے سنا سنہ ۱۲۸ ھ میں مخالفین وباطل کے داعی سر اٹحائیں گے یہ بات مصحف فاطمہ میں دیکھاہے،راوی نے دریافت کیا مصحف فاطمہ کیا ہے؟ امام نے فرمایا وفات رسول خدا کے بعد غم وآلام نے دختر رسول کو گھیر لیا جس کا اندازہ ذات باری کے علاوہ کسی کے پاس نہیں تھا اس لئے اللہ نے ایک ملک بی بی زہرا کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ آپ سے گفتگو کرے اور غم والم کا ہلکا کرے اس بات سے جناب زہرا نے حضرت علی کو باخبر کیا حضرت علی نے فرمایا جب آئے اور اس کی آواز سنو تو مجھے بتانا شہزادی فرشتے کی آمد سے حضرت علی کو باخبر کرتیں اور آنحضرت کو کچھ سنتے اسکو قلم بند کرلیتے آخر کار ایک کتابی شکل اختیار کرگیا۔پھر امام صادق نے فرمایااسمیں حلال وحرام میں سے کچھ بھی نہیں ہے بلکہ مستقبل کے حادثات وواقعات کی خبریں ہیں۔
ایک دوسری حدیث میں صادق آل محمد نے ان واقعات کے حوالہ سے اس بات کی وضاحت بھی فرمایا ہےکہ آپ ذریت طیبہ کے ساتھ پیش  آنے والے واقعات بھی  اس میں بیان ہوئے ہیں ارشاد ہوتاہے:
عن ابی عبیدہ قال سال اباعبد اللہ بعض اصحابنا عن الجفر………….قال فسکت طویلا ثم قال انکم تبحثون عما تریدون وعما لاتریدون ان فاطمۃ مکثت بعد رسول اللہ خمسۃ وسبعین یوما وکان دخلھا حزن شدید علی ابیھاوکان جبرئیل یاتیھا فیحسن عزائھا علی ابیھا ویطیب نفسھا ویخبرھا عن ابیھا مکانہ ویخبرھا بمایکون بعدھا فی ذریتھا وکان علی یکتب ذلک فھذا مصحف فاطمۃ[الکافی،ج۱،ص۲۴۱]
بعض شیعوں نے امام جعفرصادق سے کچھ سوالات کئے انمیں سے ایک یہ تھا :مصحف فاطمہ کیاہے؟آنحضرت نے کچھ دیر سکوت کے بعدفرمایا تم ان چیزوں کے بارے میں گفتگو کررہے ہو جو چاہتے بھی ہو اور نہیں بھی چاہتے ہو{یعنی کچھ سوالات سمجھنے کے لئے نہیں ہیں یا تمہارے کام آنے والے نہیں ہیں}جناب فاطمہ نبی اکرم کی وفات کے بعد پچہتر دن نہایت غم واندوہ کے عالم میں زندہ رہیں جبرئیل آتے اور انھیں تسلیت وتعزیت پیش کرتے ،خوشحال کرنے کی کوشش کرتے ،آپ کے والد بزرگوار کے مقام وحالات کو بیان کرتے آپ کے بعد آپ کی ذریت پر جو کچھ گزرنے والاتھا اسکو بیان کرتے اسکوحضرت علی تحریرکرتے جو مصحف فاطمہ کے نام سے جاناجاتاہے۔
متذکرہ بالا دونوں روایات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مصحف فاطمہ کا الہام حضرت رسول خدا کی وفات کے بعد شہادت جناب فاطمہ سے قبل کے درمیانی وقفہ میں جبرئیل امین کے ذریعہ ہوا جس کو حضرت علی کے عصمتی ہاتھوں نے صفحہ قرطاس کی زینت بنایا ،اس میں اجمالی طور پر ان حالات کا خاکہ بیان کیا گیا ہے جو ذریت فاطمہ زہرا کے ساتھ پیش آنے والے تھے ،نہ اس میں حلال شرعی کا بیان ہے اور نہ ہی حرام کو درج کیا گیا ہے۔
صادق آل محمد نے مروی ایک روایت میں صاف لفظوں میں یہ بیان ہواہے کہ قرآن مجید اور مصحف فاطمہ دو الگ الگ تحریری مجموعہ ہے اور شیعہ عقیدہ کے مطابق مصحف فاطمہ دوسرا قرآن نہیں ہے جس کا تذکرہ سواد اعظم کے بے سواد علماء بار بار کرتے رہے ہیں کہ شیعوں کے پاس ایک اور قرآن ہے جو قرآن کریم کے علاوہ ہے ۔اگر ان مفاد پرست علماء نے ان حقائق پر غور کیا ہوتا تو انھیں یقین کامل ہوجاتا کہ مذہب شیعہ ایسے بے ہودہ عقائد سے پاک ومبرا ہے۔ارشاد ہوتا ہے:
ان عندنا لمصحف فاطمۃ ومایدریھم مامصحف فاطمۃقا ل فیہ مثل قرآنکم ھذا ثلاث مرات واللہ مافیہ من قرآنکم حرف واحد انما ھوشی املاہ اللہ علیھا واوحی الیھا [بحار الانوار ،ج۲۶،ص۳۹]
ہمارے پاس مصحف فاطمہ ہےاور تم لوگ کیا جانتے ہو کہ مصحف فاطمہ کیا ہے؟یہ مروجہ قرآن کے تین برابر ہے بخدا اسمیں قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہےیہ اللہ نے املاء کیا ہے اور وحی کیا ہے جناب فاطمہ زہرا پر۔
مضامین مصحف بزبان عصمت:
کتب روائی شیعہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ائمہ معصومین کے پاس تین عظیم ترین اور گرانقدر کتب تھیں جو بعنوان میراث یکے بعد دیگرے اماموں کے پاس منتقل ہوتی رہیں ایک کا نام الجامعہ تھا جسمیں احکام حلال وحرام درج تھے دوسری الجفر تھی جس میں ان ادوار کے واقعات وحوادث بیان ہوئےتھے تیسری کتاب مصحف فاطمہ جسمیں مستقبل کے حالات کی خبریں تھیں۔
مصحف فاطمہ سے متعلق جو فرامین ائمہ معصومین اور ارشادات ہادیان دین ہم تک پہونچے ہیں انکا بنظر غائر مطالعہ مصحف میں درج شدہ مطالب کی نشاندہی کرتے  ہیں ،حاصل مطالعہ نکات اجمالا درج کئے جارہے ہیں:
۱۔مستقبل میں رونماہونے والے حوادث اور حکمراں کے نام:امام صادق کی حدیث میں ذکر ہواہے:واما مصحف فاطمۃ ففیہ مایکون حادث واسماء من یملک الی ان تقوم الساعۃ[بحارالانوار ج۲۹،ص۱۸۔الاحتجاج،ج۲،ص۳۷۲]
صبح قیامت تک رونما ہونے والے حادثات اور منصب سلطانی پر فائز ہونے والے حکمراں کے نام اس مصحف میں درج ہیں
۲۔انبیاء واوصیاء کے اسماء: مامن نبی ولا وصی ولاملک الا وھو فی کتاب عندی یعنی مصحف فاطمۃ[بحار الانوار،ج۷۴،ص۴۷]
ہر نبی ،وصی اور حاکم کا نام اس کتاب میں جو ہمارے پاس ہے یعنی مصحف فاطمہ میں مرقوم ہیں
۳۔مدت حکومت:قال لی ابو عبد اللہ یا ولید انی نظرت فی مصحف فاطمۃ قبیل فلم اجد لبنی فلان فیھا الا الغبار النعل[بحار الانوار،ج۴۸،ص ۱۵۶]
امام صادق نے ولید سے فرمایا اے ولید کچھ دیر قبل میں مصحف فاطمہ دیکھ رہا تھا لیکن بنی فلاں کی حکومت کو اس غبار سے زیادہ نہ پایاجو گھوڑے کی نعل سے اڑتا ہے
۴۔وصیت جناب زہرا:قال ابو عبداللہ…….مصحف فاطمۃ فان فیہ وصیۃ فاطمۃ ومعہ سلاح رسول اللہ[حوالہ سابق]
مصحف فاطمہ میں جناب زہرا کی وصیت اور اس کے ہمراہ رسول خدا کا اسلحہ ہے
۵۔تفسیر وتاویل قرآن: ائمہ معصومین نے مصحف فاطمہ کی روشنی میں قرآنی آیات کی تاویل وتفسیر بیان فرمایا ہے چنانچہ سورہ معارج کی آیہ کریمہ سال سائل بعذاب واقع کی تفسیر کے ضمن میں فرمایا کہ ولایت علی ابن ابی طالب کا منکر عذاب کا مستحق قرار پایا ہے اور اسکو مصحف فاطمہ سے ثابت کیا ہے راوی روایت ابو بصیر جیسا جلیل القدر صحابی ہے[تفسیر کنزالدقائق ،ج۱۳،ص۴۳۰]
۶۔قرآن کے احکام نہیں ہیں:امام موسی کاظم کے بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ مصحف آپ کے پاس تھا اور اس میں قرآنی احکام میں سے کچھ بھی درج نہیں ہے آپ نےفرمایا: میرے پاس مصحف فاطمہ ہے لیکن اس میں قرآنی احکام میں سے کچھ بھی نہیں ہے[بصائر الدرجات،ص۱۵۴]
۷۔ مروجہ علوم ودانش سے کچھ بھی نہیں ہےبلکہ مستقبل کے واقعات وحادثات کا مجموعہ ہے جس کا علم صرف ائمہ معصومین کے پاس ہے ،مصحف منبع علم وآگہی،سرچشمہ دانش وبینش ہے جس سے ائمہ نے ہمیشہ استفادہ کیا یہ مصحف میراث کے عنوان سے ایک کے بعد دوسرے امام کے پاس محفوظ رہا ،امام محمد باقر نے ارشادفرمایا:یااباعبیدۃ من کان عندہ سیف رسول اللہ ودرعہ ورایتہ المغلبۃ ومصحف فاطمۃ قرت عینہ[بصائر الدرجات،ص۱۸۶]
اے ابو عبیدہ اس امام کی آنکھیں روشن ہوں جس کے پاس پیغمبر اکرم کی شمشیر،زرہ،پیروزمند پرچم اور مصحف فاطمہ ہو
ابو بصیر نے روایت کیا ہے:سمعت ابو عبداللہ یقول مامات ابو جعفر حتی قبض ابو عبداللہ مصحف فاطمۃ[بصائر الدرجات،ص ۱۵۸]
میں نے امام جعفرصادق سے سنا ہے کہ امام محمد باقر کی رحلت نہیں ہوئی مگر یہ کہ مصحف فاطمہ کو امام صادق نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔
جابر ابن عبد اللہ انصاری وہ عظیم المرتبت وجلیل القدر صحابی تھے جنھیں پانچ اماموں سے ملاقات کا شرف حاصل رہا ،فریقین کے علماء آپ کی جلالت وعظمت کے معترف ہیں آپ سے امام محمد باقر نے مصحف فاطمہ کے حوالہ سے ایک گفتگو کیا تھا جسمیں جابر نے نہایت ہی واضح لفظوں میں مصحف کے کوائف وحالات بیان کئے ہیں،امام باقر نے جابرسے دریافت کیا کہ وہ لوح جو ہماری مادر گرامی کے دست مبارک میں دیکھا تھا کیسی تھی ؟اس کے بارے میں کیا سنا ہے؟جابر نے قسم کھاکر بیان کیا :ولادت امام حسین کی تبریک وتہنیت کےلئے حاضر ہوا تو سبز رنگ کی لوح دیکھا جو زمرد کی مانند چمک رہی تھی،تحریر سفید رنگ تھی جو نور آفتاب کی طرح نگاہوں کو جذب کررہی تھی میں نے عرض کیا میرے مان باپ آپ پر فدا ہوں اے بنت رسول یہ لوح کیا ہے اس پر کیا لکھا ہواہے ؟شہزادی نے فرمایا یہ لوح اللہ کی جانب سے پیغمبر کےذریعہ مجھے ہدیہ دی گئی ہے اس میں رسول خدا،میرے شوہر امیر المومنین اور میرے دونوں بیٹوں کے اسماء درج ہیں میں نے اس کی نسخہ برداری کیاتھا نام پیغمبر اور حضرت علی سے لیکر حضرت حجت تک کے اسماء کو والد اور والدہ کے نام کے ساتھ لکھاتھا نقل کیا۔امام باقر نے فرمایا اے جابر مجھے پڑھکر سناو جابر نے وہ نسخہ امام کے سامنے رکھدیاامام نے بغیر اس لوح کو دیکھے تمام باتوں کو سنایا جابر کہتے ہیں کہ میں نے دونوں مطالب کا موازنہ کیا تو حرف بحرف دونوں ایک تھے کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں تھا[فرائد السمطین،ج۲،ص۱۳۶]
متذکرہ بالا مطالب سے علماء سواد اعظم کیطرف سے مصحف فاطمہ کے حوالہ سے جو شکوک وشبہات پیدا کرنے کی ناکام کوششیں ہوتی رہی ہیں وہ سب بے بنیاد اور تحقیق کے راہنما اصولوں سے بے توجہی کا نتیجہ ہیں ۔تعجب ہوتاہےصاحب مواقف ایجی اور جرجانی جیسے اکابرین نے بھی چشم پوشی کیا اور حقائق سے کوسوں دور چلےگئے،مصحف فاطمہ کو شیعوں کا قرآن بتا نے سے بھی گریز نہیں کیا،عداوت کے صحرا میں سرگرداں پھرتے رہے،عصبیت کی عینک نے حقیقی نگاہوں کو اتنا کمزوروناتواں بنادیا کہ لطیف اشیاء نظر نہ آئیں،فرامین وارشادات معصومین، کتب احادیث میں بکھرےہوئے عصمتی گوہرہای آبدار بھی نگاہوں سے پوشیدہ رہ گئے ،میدان تحقیق اور اقلیم تصانیف کے خود ساختہ شہسوار چمنستان حق وحقیقت کے گل بوٹوں سے محروم اپنی حرماں نصیبی پر پردہ ہی ڈال سکتے تھے اور کچھ نہیں کرسکتے تھے جس کا نتیجہ اتہامات وافتراء کی شکل میں صفحات قرطاس پر آج بھی موجود ہے۔
از منھال رضا خیرآبادی
#مصحف#فاطمہ#زہرا#رسول#شیعہ#جمادی الآخر#ایام#عزاء#فاطمیہ#اسلام
#shia#mushaf#islam#rasool#fatima#zahra#ayyam#azae#fatmiya#

Saturday, 11 November 2023

صادق آل محمد علیہ السلام کا فرھنگی انقلاب

صادق آل محمد کا فرہنگی انقلاب
پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفےٰ نے اپنی ترسٹھ سالہ حیات طیبہ میں علم وفرہنگ کی تخم ریزی عرب کے ریگزار میں حوصلہ شکن ومشکل ترین حالات کے باوجود کیا تھا تاکہ بشریت کو جادہ علم وعرفان،فرہنگ وتمدن سے آشنا کیا جاسکے ، اس پودے  کو خون جگر سے سیراب کرکے حیوان صفت افراد کو انسان اور درندہ خو روسا ئ قبائل کے دلوں میں راٗفت وعطوفت کو جاگزین فرمایا تھا ،وصال پیغمبر اکرم کے فورا بعد جہالت وجاہلیت کے خوگروں کے ہاتھوں قتنہ وفساد کے باد سموم میں پودہ مرجھانے لگا تھا گرچہ عالم اسرار ربانی،عالم علم لدنی ،مظہر صفات وکمالات الہی،نفس رسالت خداوندی حضرت علی نے اپنی عصمتی تدابیر سے سوکھنے اور مرجھانے نہیں دیا وقتا فوقتا اسکی آبیاری کرتے رہے۔
تاریکیوں کے دلدادہ چند گنے چنے افراد نے علم وفرہنگ کے اختر تاباں پر خلافت وملوکیت کی گرد ڈالکر اسکی روشنی کو مدھم کرنے کی انتھک کوششیں کیا مگر خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے،علم ودانش ،فرہنگ وثقافت کی عطر آگین فضا کو متعفن کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں مگر’ینحدر عنی السیل ولایرقی الی الطیر ‘(مجھ سے علم وعرفان کے چشمے پھوٹتے ہیں طائران فکر وخیال کی میرے ایوان عظمے کی اونچائی تک رسائی نہیں ہے)کا حامل اپنے علم وعرفان کی خوشبو سے فضائے عالم کے تعفن کو ختم کرتا رہا۔
فتنہ وفساد کے رسیا تانے بانے بنتے رہے مگر فرہنگ وثقافت اور علم ودانش کی اس آفاقی تحریک جسکی تشکیل وتاسیس دست رسالت کے ذریعہ عمل میں آئی تھی اس کے اثرات وبرکات کو محو نہ کرسکے ،ہاں وقتی طور پر اس کی گرفت کمزور ہوئی جس کے نتیجہ میں خوف وہراس،حقائق ومعارف سے دوری،انسانی کمالات وفضائل سے عاری ایک گروہ تیار ہوگیا جس کے آثار شوم آج بھی عالم اسلام میں گاہے بگاہے نظر آتے رہتے ہیں ۔اس دور میں بنی ہاشم اور چند مخلص ومتدین افراد کے علاوہ ہر ایک اس فتنہ سے متاثر ہوگیا کچھ اس فتنہ کاحصہ بن گئے کچھ کو خرید لیا گیا کچھ سادہ لوح افراد کو دھوکے کے ذریعہ اس فتنہ کی آگ کو شعلہ ور کرنے کیلئے اس کا حصہ بنا دیا گیا اور اس طرح بشریت کو دھیرے دھیرے زوال وانحطاط کے کھنڈر میں ڈھکیل دیا گیا۔
امیر کائنات حضرت علی ابن ابی طالب نے اس فتنہ کے وسیع ہونے کے اسباب وعلل کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: لَمْ يَسْتَضِيئُوا بِأَضْوَاءِ الْحِكْمَةِ - ولَمْ يَقْدَحُوا بِزِنَادِ الْعُلُومِ الثَّاقِبَةِ - فَهُمْ فِي ذَلِكَ كَالأَنْعَامِ السَّائِمَةِ - والصُّخُورِ الْقَاسِيَةِ قَدِ انْجَابَتِ السَّرَائِرُ لأَهْلِ الْبَصَائِرِ - ووَضَحَتْ مَحَجَّةُ الْحَقِّ لِخَابِطِهَا - وأَسْفَرَتِ السَّاعَةُ عَنْ وَجْهِهَا - وظَهَرَتِ الْعَلَامَةُ لِمُتَوَسِّمِهَا - مَا لِي أَرَاكُمْ أَشْبَاحاً بِلَا أَرْوَاحٍ - وأَرْوَاحاً بِلَا أَشْبَاحٍ - ونُسَّاكاً بِلَا صَلَاحٍ - وتُجَّاراً بِلَا أَرْبَاحٍ - وأَيْقَاظاً نُوَّماً - وشُهُوداً غُيَّباً - ونَاظِرَةً عَمْيَاءَ - وسَامِعَةً صَمَّاءَ - ونَاطِقَةً بَكْمَاءَ(نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۰۸)
ان ظالموں نے حکمت کی روشنی سے نور حاصل نہیں کیا اور علوم کے چقماق کو رگڑ کرچنگاری نہیں پیدا کی۔اس مسئلہ میں ان کی مثال چرنے والے جانوروں اور سخت ترین پتھروں کی ہے۔بے شک اہل بصیرت کے لئے اسرار نمایاں ہیں اورحیران و سرگرداں لوگوں کے لئے حق کا راستہ روشن ہے۔آنے والی ساعت نے اپنے چہرہ سے نقاب کوالٹ دیا ہے اور تلاش کرنے والوں کے لئے علامتیں ظاہر ہوگئی ہیں آخر کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں بالکل بے جان پیکر اور بلا پیکر روح کی شکل میں دیکھ رہا ہوں۔تم وہ عبادت گذار ہوجو اندر سے صالح نہ ہو اور وہ تاجر ہو جس کو کوئی فائدہ نہ ہو۔وہ بیدار ہو جو خواب غفلت میں ہو اوروہ حاض ہوجو بالکل غیر حاضر ہو۔اندھی آنکھ ' بہرے کان اور گونگی زبان'
سیاسی بازیگر اور صاحبان مسند نے فتنہ گروں کی ہمہ جہت حمایت وتائید کے ذریعہ اپنے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کی ہر ممکن کوشش کیا،اجماع،شوری،استخلاف جیسے کھوکھلے قوانین کے سہارے علم وعرفان کے سیل رواں پر سد سکندری باندھنے کیلئے زبان وقلم ،فکر وخیال کی خرید وفروخت سے لیکر قید وبند،قتل وغارتگریجیسے گھنائونے اور انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب سے بھی گریز نہیں کیا،دار ورسن ،تبعید ودربدر ،آزار واذیتمظلم وستم روا رکھا گیا۔علم وفرہنگ کا جہاں کہیںں ایک بھی چراغ سحری نظر آجاتا اسکو بجھانے کے ہزار جتن کئے جاتے تاکہ حقائق پر تاریکی کی چادر اتنی دبیز ہوجائے کہ جنھوں نے ابھی صحن اسلام میں آنکھیں کھولی ہیں انھیں حقیقت نظر نہ آئے اور کچھ باطل دھندھلکے سایہ ہی حقائق کا روپ دھار لیں بظاہر اس شاطرانہ چال میں انھیں کامیابی بھی ملی مگر یہ حقیقت بھی ہر چشم بینا کےلئے روشن ہے کہ معدودے چند ہی چراغ علم وعرفان سہی تھے ضرور۔جنکی روشنی ارباب بصیرت ،طالبان حق وحقیقت کی زندگیوں کو منور کرتی رہی۔
تاریخ کا ہر انصاف پسند طالبعلم اس حقیقت سے باخبر ہے کہ اندھیروں کے ان سوداگروں ،تاریکیوں کو پھیلانے والے اس گروہ میں بھی مرور ایام کے ساتھ دراڑیں پڑتی نظر آنے لگیں ،مدت مدید تک اندھیروں کا راج ضرور رہا مگر گھٹاٹوپ اندھیروں میں نور علم وفرہنگ کی کرن کہیں کہیں ضرور پردہ بصارت سے ٹکرا کر اپنے وجود کا پتہ دیتی رہی اور حق جووحقیقت طلب ذہنوں،فکروں اور شعور کو منور کرتی رہی۔
علم وجہل،نور وظلمت ،اندھیرے اجالے کی باہمی کشمکش کا جو سلسلہ وفات مرسل اعظمﷺ کے بعد شروع ہواتھا وہ روز بروز بڑھتا رہا مگر ہر عروج کو زوال اور ہر ترقی کا انحطاط بھی مسلمہ حقیقت ہے جو اس سلسلہ میں بھی نظر آتا ہے بنی امیہ کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اور بنی عباس تواناوتندرست ہورہے تھے دونوں گروہ میں سیاسی چپقلش ،جنگ وجدال کا رخ اپنا رہی تھی ایسے حالات میں امام محمد باقر وامام جعفر صادق علیہم السلام نے موقعہ وفرصت کو ہاتھ سے جانے نہ دیابلکہ علم وفرہنگ پر پڑی برسوں کی دبیز گرد کو اپنے تیشہ حکمت سے کھرچ کر صاف وشفاف بنانے کا مستحکم منصوبے کو عملی جامہ پہنایا اندھیروں کا راج ختم ہوتا گیا اجالے کی حکمرانی قائم ہوگئی جہالت کافور اور علم کا بول بالا ہوگیا۔
امام جعفر صادق نے حالات کی سیاسی ابتری سے خوب استفادہ کیا اور اساسی وبنیادی اقدامات انجام دیئے ،دین فروش علما اور نامرفاد وناکام حکام وسلاطین  کے ذریعہ فرہنگ ناب اسلامی کی تحریف کا عمل جو برسوں سے چلا آرہا تھا اسکی اصلاح ،حقیقی فرہنگ کی تبیین وتشریح،تبلیغ وترویج کا عمل انجام دیا اور ایک ناقابل یقین فرہنگی انقلاب برپا کیا جسکا اعتراف ہر علم دوست،منصف مزاج کرتا ہو انظرآتاہے۔
مورخین وسیرت نگاروں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ امام کے ذریعہ لائے گئے گرہنگی انقلاب کی تقویت وہمہ گیری کا ایک سبب اور راز یہ تھا کہ دوسری اور تیسری صدی ہجری میں اسلامی فرہنگ کا غیر اسلامی فرہنگ سے صمیمانہ رابطہ قائم ہوا جس کے بعد بیت الحکمت(یہ ایک علمی مرکز تھا جو مامون عباسی کے ذریعہ بغداد میں قائم ہوا،ایک عظیم کتابخانہ کی تاسیس عمل میں آئی جسمیں مترجمین کے ایک گروہ کی مدد سے کتابوں کا ترجمے کا کام انجام پاتا۔تفصیلات کیلئے لغتنامہ دھخدا کا مطالعہ کریں)کی تاسیس عمل میں آئی عربی زبان میں کتابوں کے ترجمے ہوئے،جدید نسل جو ابھی ابھی دائرہ اسلام میں آئی تھی وہ مختلف اقوام وملل سے رابطہ مین تھی جس کے نتیجہ میں انکے فکری وعلمی مواد عالم اسلام میں وارد ہورہے تھے گرچہ اس فکری وفرہنگی تبدیلی کے مثبت اثرات بھی تھے لیکن منفی اثرات زیادہ تھے مسلمانوں میں اغیار کے افکار کا نفوذ جس کے سبب مختلف مکاتب فکر نے جنم لینا شروع کردیا جو عالم اسلام کیلئے بہت عظیم خطرہ بنتا جارہاتھا۔ایک طویل عرصہ تک مسلمانوں کی نئی نسل فضائے عالم پر چھائی ہوئی خوف وہراس کی دبیز چادر کے باعث،اسلامی معاشرہ میں غیر معقول سیاسی حکمرانی اور حقائق کی تبیین وتشریح کی مسدود راہوں نے حقیقی اسلام کے مبادیات کو بھی ذہنوں سے دور کردیا تھا حالات اتنے ابتر تھے کہ پہلے خلیفہ عباسی کے تخت حکومت پر بیٹھنے کے بعد شام کا ایک گروہ مبارکباد کیلئے دربار میں حاضر ہوا تو قسم کھاکر کہتا ہے ہمیں نہیں پتہ تھا کہ بنی امیہ کے علاوہ بھی نبی اکرمﷺکا کوئی قرابتدار ورشتہ دار  ہے لیکن جب آپ نے قیام کیا تو ہمیں معلوم ہوا(مروج الذھب ج۳،ص۳۳) 
اسلامی معاشرہ پر چوطرفہ فرہنگی حملہ ہورہا تھا ،علمی مباحثات،مناظرہ کلامی کا بازار گرم تھا،ہر صبح ایک نئے مکتبہ فکر کے ساتھ طلوع ہورہی تھی،ہر مکتبہ فکر اپنے عقائد وافکار کی ترویج کیلئے علمی مسندیں سجائے ہوئے تھا،مجادلہ کا اسلوب عام ہوگیا تھا امام نے محسوس کیا علم کی مستحکلم وجامع تحریک چلانا لازم وضروری ہے کیونکہ عصر امام صادق میں سر اٹھانے والافتنہ ماضی کے فتنہ سے زیادہ خطر ناک تھا یہ زمانہ افکار وعقائد کی جنگ کا زمانہ تھا ،فرق ومذاہب کے ٹکراو کا دور تھا ،قرآنی مباحثات پر دور گروہ باہم دست وگریباں تھے،تفسیر وتاویل پر مختلف نظریات متصادم ،نام نہاد علما کرسی فقاہت پر براجمان تھے جو خود ساختہ وجعلی روایات کے سہارے فقہی مسائل بیان کررہے تھے ،قیاس واستحسان کو دلیل شرعی سمجھاجانے لگاتھا ،شہروں اور کوچوں میں ایسے فقہا کی بھیڑ نظر آتی
 تھی،حنفی،مالکی،شافعی،حنبلی فقہ کے علاوہ حسن بصری،سفیان ثوری جیسے افراد رہبران مذہب کے نام سے پہچانے جاتے تھے جن کے چشم وابرو کے اشارے پر مرید گردش پرکار بنے ہوئے تھے،علم کلام کے مسائل پر ہیجان انگیز بحث ومباحثے عام تھے جسکا اثر معتزلہ،اشاعرہ،مرجئہ ودیگر ٹکڑوں کی صورت میں اسلامی سماج میں پنپ رہاتھا،زندیق کے مردہ پیکر میں تازہ روح پھونکنے کی سعی ناکام ہورہی تھی(سیری در سیرہ ائمہ اطہار مولفہ شہید مطہری،ص۱۴۶)ان ناگفتہ بہ حالات میں امام جعفر صادق نے جو اقدامات کئے انکا جائزہ ہمیں اس نتیجہ پر پہونچاتاہے کہ اگر امام کی عصمتی نگاہیں نہ ہوتیں تو شیرازہ اسلام ایسا بکھر جاتا کہ پھر اکٹھا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ مشکل ودشوارہوتا۔
امام جعفر صادق اور فرہنگی اقدامات:
صادق آل محمد نے دین اسلام کے دفاع اور اسکی تبلیغ وترویج کی خاطر مختلف النوع ذرائع کو اختیار فرمایا،مناظرہ،علمی مباحثات،مستحکم ومتقن دلائل وبراہین کے ذریعہ ریت پر قائم مذاہب ومکاتب کی بنیادوں کو تہس نہس کردیا اسلامی معاشرہ میں علمی وفکری انقلاب ایسا برپاکیا کہ تشنگان علوم ومعارف کا ایک جم غفیر اکٹھا ہوگیا اور چشمہ زلال معارف الہیہ سے گھونٹ گھونٹ پیکر سیراب ہونے لگا۔
امام نے مختلف علوم وفنون کے مردہ اجسام میں تازہ روح پھونک دیا علوم قرآن ،تفسیر وحدیث،فقہ وکلام،طب وفلسفہ،نجوم وریاضیات کے بنیادی اصولوں کو زندگی عطا کیا اور ایسی تبدیلی پیدا کیا کہ جس سماج ومعاشرہ میں علم ودانش کی باتیں عجوبہ سمجھی جاتی تھی اسی سماج وسوسائٹی میں فکری وعلمی سرمایہ داروں کی بھیڑ نظر آنے لگی،علم وعرفان کا بازار سج گیا اور متاع فکر وفرہنگ کے قدر داں کی رفت وآمد شروع ہوگئی برسوں سے ویران پڑی مسجد نبوی تشنگان علوم سے چھلک اٹھی شاگردوں کا ایک عظیم لشکر تیار کیا جو ہر محاذ علمی پر ایک ماہر فن بنکر مقابلہ کیلئے ڈٹ گیا تاریخ آدمیت میں علم وفن کا ایسا سنہرا دور نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔
مکتب صادق کے تربیت یافتہ ہشام بن حکم،مومن طاق،محمد بن مسلم اور زرارہ بن اعین وہ روشن ستارے ہیں جنکی روشنی جہالت کی گہرائی وگیرائی نیز وسعتوں کو ناپنے کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں،علم وفرہنگ کا یہ سیلاب نہ جغرافیائی حد بندیوں میں قید کیا جاسکا نہ سازشی تانے بانے روک سکے دیکھتے دیکھتے پورے عالم انسانیت سے جہالت وجاہلیت کے خس وخاشاک کو وادی نسیاں کی زینت بنا گئے علم وفرہنگ کا چراغ آج بھی روشن وتابندہ ہے۔
خوف طوالت کے پیش نظر ہم اس مضمون میں امام کے چند اہم اقدامات کا فہرستوار تذکرہ ہدیہ ناظرین کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں:
۱۔امامت کی عظمت رفتہ کی بازیابی:اسلامی سماج میں اموی وعباسی خلفا کی غلط پالیسیوں کے باعث مقام امامت متروک اور عظمت منصب خلافت پائمال ہورہی تھی درباری علما کو عوام میں متعارف کراکے عوام کو ائمہ معصومین سے دور کیا گیا مگر وہ عظمت رفتہ پھر عصر امام صادق میں اہلبیت کی لوٹی امام صادق نے مختلف مواقع پر مسئلہ امامت کی اہمیت وافادیت کو پیش کرکے ذہنوں میں راسخ کیا ،عمرو بن ابی مقدام بیان کرتا ہے نویں ذی الحجہ روز عرفہ میدان عرفات مین خلائق کا اژدحام ان خاص اعمال کو انجام دینے کےلئے دنیا کے گوشہ وکنار سے جمع ہواتھا امام نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیغام دیا: ایھاالناس ان رسول اللہ کان الامام ثم کان علی بن ابی طالب ثم الحسن ثم الحسین ثم علی بن الحسین ثم محمد بن علی ثم ۔۔۔۔۔۔۔(بحار الانوار ،ج۴۷،ص۵۸)اے لوگو! اللہ کی طرف سے امام نبی تھے پھر علی پھر حسن پھر حسین پھر علی ابن الحسین پھر محمد ابن علی علیہم السلام 
امام نے بآواز بلند فرمایا آواز اتنی بلند تھی گویا ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کردیااور حجاج کے عالمی اجتماع کے ذریعہ اپنا پیغام دنیا کے گوشہ وکنار تک پہونچایا،روایت کی لفظوں سے پتہ چلتاہے کہ امام نے تین مرتبہ اس پیغام کی تکرار کیا اور ہر سمت رخ بدل بدل کر تین بار پیغام سنایا جو خود اپنے آپ میں پیغام کی اہمیت وعظمت کا پتہ دیتاہے
۲۔شاگردوں کی تعلیم وتربیت:سیاسی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور سماج کی ضرورتوں کے پیش نظر جس علمی وفرہنگی تحریک کی بنیاد امام محمد باقر نے رکھی تھی اس کے استحکام،توسیع،اور جامعیت وہمہ گیریت کے تمام مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا چنانچہ اہل سنت کے چاروں فقہی مذاہب کے ائمہ بالواسطہ یا بلا واسطہ آپ کی شاگردی میں رہے ،لولا السنتان لھلک النعمان آج تک آپ کی علمی جلالت کا بزبان دشمن زندہ قصیدہ ہے۔اس کے علاوہ شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے جسمیں ہر ایک اپنے فن کا نابغہ نظر آتا ہے۔
۳۔معاشرتی اخلاق کی ترویج ومسالمت آمیز طرز معاشرت:ائمہ معصومین نے ہمیشہ سماجی اصولوں اور اجتماعی اخلاق کے دنیوی واخروی فوائد وبرکات کا تذکرہ اور تاکید فرمائی ہے اپنے چاہنے والوں سے ہمیشہ یہی مطالبہ کرتے کہ حتی المقدور برادرانہ انداز،صلح وصفا کے ساتھ زندگی بسر کریں امام صادق نے فرمایا تھا :اللہ مدارات کرنے والاہے اور مدارات کو دوست رکھتا ہے اور لوگوں کی مدارات کی راہ میں امداد کرتاہے(وسائل الشیعہ،ج۱۵،ص۲۷۱)
امام نے ہمیشہ شیعوں کو اس بات کی تاکید فرمایا کہ سماج میں بسنے والے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مسالمت آمیز رویہ اختیار کرو تاکہ شیعہ سماج اکثریت سے الگ تھلگ نہ ہونے پائے۔
۴۔تجلیل علم وتکریم علما:امام جعفر صادق نے اپنے شاگردوں کو تحصیل علم ومعرفت کا شوق دلایا ان سے فرماتے تھے میں جوانوں کو دو حالت میں سے ایک حالت میں دیکھنا چاہتاہوں یا عالم ہو یا طالبعلم ،ورنہ دونوں مقصر ہوں گے اور ہر تقصیر کرنے والا گمراہ اور ہر گمراہ گنہگار ہے(صفحاتی از زندگانی امام جعفر صادق ،محمد حسین مظفر،ص ۲۲۰)
کائنات امام جعفر صادق کی اس علمی تحریک کی مدیون ہے جس نے معارف الہیہ کے مرجھاتے ہوئے باغ کو سبزہ زار بنادیا،انوار علم وعرفان سے کائنات روشن ہوگئی ،اوہام وباطل عقائد کا گھروندا تہس نہس ہوگیا اس عظیم تحریک کی جامعیت ،افادیت ،فوائد وبرکات نیز اثرات دیکھکر دنیا دم بخود ہے  جہالت کے پروردہ کف افسوس مل رہے ہیں وعدہ پروردگار تبسم ریزی کررہاہے دشمن اسلام وقرآن حسرت ویاس سے تک رہے ہیں۔
یہ چند سطریں مشتی نمونہ از خروارہ کے عنوان سے قلم بند کردیا ہے ورنہ اس عنوان کے چند صفحات ناکافی ہیں اور مجھ سے طالبعلم کی سطح علمی سے بہت بالاتر ۔خدایا ہمیں انھیں انوار کے طفیل اپنے معارف کی روشنی عطا کر۔
منہال رضا خیرآبادی
جامعہ حیدریہ مدینۃ العلوم خیرآباد ضلع مئو 

#الشیعہ#قرآن#حدیث#امام_صادق#اسلامیات#فرھنگ#انقلاب
#shia
#quran#imam
#sadiq#islamic#culture
#iran#iraq#karbala
#qom#mashad

عزاداری امام حسین ع اہل سنت کی نظر میں

عزاداری اہلسنت کی نگاہ میں
منہال رضا خیرآبادی 

عزاداری یعنی تسلی و تشفی کا سامان فراہم کرنا، صبر و تحمل کی تلقین کرنا، اسلامی سماج و معاشرہ میں عزاداری ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے، ائمہ معصومینؑ، بزرگان دین، شہدائے راہ اسلام پر ڈھائے گئے مظالم کی یاد، ان کے اہداف کی بقاء اور احیاء کیلئے مراسم عزا کا انعقاد کرنا، گریہ و زاری، غم و الم کی کیفیت، مصیبت دیدہ افراد سے ہمدردی کا اظہار عزاداری کے اجزاء ہیں گرچہ مرور ایام کے ساتھ لفظ عزاداری ماہ محرم الحرام میں امام حسینؑ اور ان کے با وفا اصحاب کی عدیم المثال قربانی کی یاد سے مختص ہو گیا ہے جس کے اہداف و مقاصد پر غور و فکر سے اس یاد کی اہمیت، وسعت و جامعیت سے کسی با شعور کے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے، رہبران دینی کی حقیقی معرفت، جذبہ مودت اہلبیتؑ میں استحکام، حقائق و معارف الہیہ سے باخبر ہونا، نہضت حسینی کی صحیح تفسیر و تشریح، خاندان رسالت سے ہمدردی و ہمدلی کو تقویت پہونچانا اہمترین مقاصد عزاداری میں سے ہیں۔ 
عزاداری نہ کسی قوم و ملت، مذہب و مسلک سے مختص ہے نہ کسی علاقہ سے، ہر دور اور ہر زمانہ میں عزاداری مختلف اقوام و قبائل میں اپنے اپنے طریقہ پر رائج رہی ہے، ابتدائے انسانیت سے عزاداری کا رواج تاریخی شواہد کی بنیاد پر ملتا ہے، قتل جناب ہابیل پر حضرت آدمؑ ابو البشر کی عزاداری کا تذکرہ صفحات قرطاس پر آج بھی ثبت نظر آتا ہے، اس بنیاد پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ عزاداری کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی تاریخ انسانیت ۔ظلم و استبداد سے نفرت رکھنے والے غیر مسلم برادران وطن بھی عزاداری کے پروگرام میں بڑے انہماک سے سرگرم عمل نظر آتے ہیں، وطن عزیز ہندوستان کے مختلف شہروں، دیہاتوں میں تعزیہ داری، ماتم، نوحہ و سینہ زنی کی صفوں میں برادران نہایت تزک و احتشام، عقیدت و محبت سے نہ صرف یہ کہ شامل ہوتے ہیں بلکہ اپنے لئے افتخار سمجھتے میں، سیاہ لباس میں ملبوس، گھروں میں شبیہیں سجائے، گھروں پر علم لگانے کی روایت بہت قدیمی ہے تعزیہ بنانے والے فنکار ہوں یا نوحہ خوان، کاندھوں پر ضریح اٹھانے والے عقیدتمند ہوں یا علم و گہوارے کے سامنے سر عقیدت جھکانے والے افراد ہر ایک صف میں صرف ہمارے مسلمان بھائی نہیں بلکہ غیر مسلم برادران وطن بھی نہایت ہی پر جوش انداز میں نظر آتے ہیں۔
واقعہ کربلا کی عظیم قربانی نے دنیا و انسانیت کے ہر حق پسند سماج اور منصف مزاج معاشرہ، دردمند ثقافت کو متاثر کیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف کلمہ گو نہیں بلکہ وہ افرادجو کفر و الحاد کے صحرا میں سرگرداں ہیں ان کی جبین عقیدت بھی در حسینؑ پر جھکی نظر آتی ہے، ہندوستان کی قدم سلطنتوں اور ریاستوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کہ والیان ریاست نے نہ صرف اس تحریک حریت کی یاد منائی بلکہ اس یاد کو آئندہ نسل تک پہونچانے کیلئے اقتصادی، سیاسی و سماجی محکم لائحہ عمل تیار کیا تا کہ صدائے حریت کی بازگشت کمزور نہ ہونے پائے اور بشریت درس حریت سے فیض حاصل کرتی رہے۔ چنانچہ کشمیر سے کنیاکماری تک فلک پر ہلال محرم کے نمودار ہوتے ہی عزاداری، جلوس و مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے نمونہ دکھائی دیتـے ہیں۔ سچ کہا ہے عـ؎
در حسینؑ پر ملتے ہیں ہر خیال کے لوگ   یہ اتحاد کا مرکز ہے آدمی کیلئے
عزاداری روز عاشورا اس نقطہ پر کار کا نام ہے جس کے گرد واعظ و رند، ادیب و ملا، شاعر و خطیب، پنڈت و پادری، شاہ و گدا، بلا تفریق مذہب و مسلک پروانہ وار ایک رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے ہیں، تقسیم ہندوستان سے پہلے کے شواہد سے پتہ چلتا ہے ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی عزاداری میں برادران اسلام کے شانہ بشانہ ہوتے تھے، سروجنی نائیڈو، دھرمندر ناتھ، ماتھر لکھنوی وغیرہ جیسے قدرآور علمی و ادبی شخصیات کے نذرانہ ہای عقیدت جیتی جاگتی تصویر ہے۔
ادھر کچھ عرصہ سے ایک یزید نواز گروہ نجدی حمایت سے ظاہر ہوا جو عالم اسلام میں مختلف مسائل اور متعدد مواقف کے حوالہ سے بے بنیاد وار یعنی گفتگو اور فتوؤں سے انتشار پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، بدعت کے تیر سے قلوب عزادار کو مجروح اور یزید کی ناپاک روح کو شاد کرنے کی پیہم کوشش کر رہا ہے چند شر پسند عناصر کے ایک گروہ کے ذریعہ اسلامی سماج کے امن و سکون کو غارت کر رہا ہے، خوارج کی پالیسی، اموی ناپاک عزائم کی تکمیل، آثار متبرکہ و مقدسہ کی تاراجی اس کا بنیادی مشن ہے اس راہ میں وہ کسی سمجھوتہ کیلئے تیار بھی نظر نہیں آتا ہے، اپنے مشن کو کامیاب بنانے کیلئے ہر قسم کا اقدام کرتا نظر آتا ہے۔ ادھر ہلال محرم فلک کائنات پر ظاہر ہوا دوسری طرف بنی امیہ کے نجس دسترخوان کے زلہ خوار، دین فروش ملا، وادی جہل و جہالت میں حیران و سرگردان پھرنے والے مفتیوں کی زبانیں کھل جاتی ہیں، بدعت، شرک، حرمت کے فتوے گلا پھاڑ پھاڑ کربیان کرنے لگتے ہیں، سال بھر ہاتھ میں لوٹا، بغل میں چٹائی لپیٹ کر، کولہو کے بیل کی مانند گھومنے والے خود ساختہ متدین، مصلح نما مفسدین مفتیوں کے جاہلانہ فتوؤں پر جھومتے نظر آتے ہیں، کون بتائے ان بے چاروں کو تم اپنے عمل سے اپنے اسلاف کے کردار و عمل کو نشانہ بنا رہے ہو، چند روزہ دنیوی، مقام و مرتبہ کی خاطر آخرت کو تباہ کر رہے ہو۔ کیوں اپنے جاہل آقاؤں کی لچھے دار باتوں سے اپنے ایمان کو خراب کر رہے ہو، کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ دین و شریعت پہونچانے والے نبیؐ آخر الزمان نے عزاداری کیا ہے؟ اگر یہ عمل خلاف دین و شریعت تھا تو نبی مکرمؐ نے کیوں انجام دیا؟ یا تم کچھ زیادہ دین و شریعت کا علم رکھتے ہو اور نبی کو کم تھا؟ ہاں! تم کہہ سکتے ہو کیونکہ تمہاری تقویۃ الایمان نامی کفریہ عقائد پر مبنی کتاب کی رو سے نبی اور عام بشر میں کوئی امتیاز نہیں ہے، غلطی و اشتباہ، خطا و نسیان سب کچھ عارض ہو سکتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے موسس سید ابو الاعلی مودودی نے امام حسینؑ کو صبح قیامت تک کیلئے نمونہ بتایا ہے وہ تحریر کرتے ہیں: جو لوگ اپنی آنکھوں سے خدا کے دین کو کفر سے مغلوب دیکھیں جن کے سامنے حدود الہی پائمال ہی نہیں بلکہ کالعدم کر دی جائیں، خدا کا عملا ہی نہیں باضابطہ منسوخ کر دیا جائے، خدا کی زمین پر خدا کا نہیں بلکہ باغیوں کا بول بالا ہو۔ ..... اور یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ان کے دلوں میں نہ کوئی بے چینی ہو، نہ اس حالت کو بدلنے کیلئے کوئی جذبہ بھڑکے بلکہ اس کے بر عکس وہ اپنے نفس کو اور عام مسلمانوں کو غیر اسلامی نظام کے غلبہ پر اصولا و عملامطمئن کر دیں اس کا شمار محسنین میں کس طرح ہو سکتا ہے؟ ..... وہ چاشت، اشراق اور تہجد کے نوافل پڑھتے رہے جزئیات فقہ کی پابندی اور چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اتباع کا سخت اہتمام کرتے رہے ..... مگر ایک نہ تھی وہ حقیقی دینداری جو "سر داد، نداد دست در دست یزید" کی کیفیت پیدا کرے اور بازی اگر چہ پا نہ سکا سر تو کھو سکا کے مقام وفاداری پر پہونچا دے۔ (اسلامی زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، ص ۱۵۶ و ۱۵۷)
غور فرمائیں ناظرین محترم علامہ مودودی نے صاف لفظوں میں یہ بات واضح کر دیا کہ دور امام حسینؑ میں ایسے مسلمان ضرور تھے جو واجبات و نوافل کیلئے حد درجہ اہتمام کرتے تھے مگر الہی فرامین سے بغاوت کرنے والوں، احکام الہی کا مذاق بنانے والوں کے مقابل کھڑے ہونے کی ہمت مفقود تھی اور جو باغیوں اور سرکشوں کے مقابل ڈٹ جائے اس کو مودودی صاحب محسن مانتے ہیں اور محسنین کیلئے ارشاد الہی ہے اللہ "محسنین کو دوست رکھتا ہے" اور جو اللہ کا دوست ہو اس کی یاد منانا خلاف شرع کیسے ہو سکتا ہے!
ہم عصر فاضل نبیل علامہ طاہر القادری کا بیان ملاحظہ فرمائیں: یاد رکھ لیں کہ ان ہستیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ان کی شان، عظمت، عزم و استقامت، صبر و استقلال اور ان کے اس پورے اقدام کی غرض و غایت کو یاد رکھنا یہ ایمان میں استحکام کا باعث ہے، اس سے محبت میں مضبوطی نصیب ہوتی ہے۔ محبت کو جلا ملتی ہے ایمان کو زندگی اور تازگی نصیب ہوتی ہے لہذا طبیعتوں میں یہ رجحان پیدا کریں کہ جب ان کا ذکر سنیں ان سے محبت کریں ان کا پیغام سنیں تو جتنا ہو سکے ان کے پیغام کو زندگی میں نافذ کریں اس طرح محبت سے شروع ہونے والا سفر اتباع پر ختم ہوتا ہے یعنی محبت حسینؑ اور اتباع حسینؑ دونوں یکجا ہوں تو اس کا ذکر مقصود پورا ہوتا ہے۔ (ماہنامہ منہاج القرآن، اکتوبر ؁۲۰۱۵ء)
کہاں ہیں خارجیت و ناصبیت کے دلدادہ، مادیت اور بے دینی کے رسیا کیوں عقائد حقہ کی اصلی تصویر کو دھندلا کر کے امت اسلامیہ کے صاف و شفاف ذہنوں کو مکدر کر کے صفحہ ذہنی پر خارجیت و ناصیبت کے کانٹے اگانے کی ناپاک کو ششیں کی جارہی ہیں؟
ان دو اقتباس کے بعد اب ہم چند اقتباس علمائے اہلسنت کی کتابوں سے درج کرنے پر اکتفا کریں گے تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ ہر دور کے حق پسند، منصف مزاج افراد نے امام حسینؑ کی یاد نہ صرف منایا ہے بلکہ منانے کی عملی تاکید بھی فرمایا ہے۔
۱۔ عبد الرحمن جزائری، کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں تحریر کرتے ہیں:
مالکی و حنفی نقطہ نظر سے بآواز بلند گریہ کرنا جبکہ فریاد و ضجہ کے ساتھ ہو حرام ہے لیکن شافعی و حنبلی مسلک میں مباح ہے آنسو بہانا، بغیر آواز کے گریہ کرنا جبکہ اس کے ہمراہ داد و فریاد نہ ہو تمام علمائے اہلسنت نے مباح قرار دیا ہے۔
اسی سے مشابہہ مضامین اہلسنت کی دیگر کتب من جملہ فتاوی الہندیۃ و فتاوی الغیاثیۃ میں بھی درج ہیں۔
۲۔ ابن عماد حنبلی عظیم عالم اہلسنت نے واقعہ کربلا کو نقل کرتے ہوئے تحریر کیا:
قاتل اللہ فاعل ذلک واخزاہ و من امر بہ او رضیہ ..... (شذرات الذہب، ج ۱، ص ۶۶)خدا قتل کرے اس کو جس نے امامؑ کو قتل کیا اور خاندان اہلبیتؑ کو اسیر کیا اور جو اس عمل پر راضی رہا۔
آلوسی متعصب ترین اہلسنت عالم جو دانستہ یا نادانستہ طور پر کبھی کبھی استعمار کی اولاد ناصبیت کی تائید و حمایت سے دریغ نہیں کرتا ہے لیکن جب یزید کے توبہ کرنے کے سلسلہ میں سوال کیا گیا تو جواب میں لکھا:
الظاہر انہ لم یتب واحتمال توبتہ اضعف من ایمانہ ویلحق بہ ابن زیاد و ابن سعد و جماعۃ فلعنۃ اللہ عز وجل علیہم اجمعین وعلی انصارہم واعوانہم وشیعتہم ومن مال الیہم الی یوم الدین ما دمعت عین علی ابی عبد الحسینؑ (روح المعانی، ج ۱۳، ص ۲۲۸)  بظاہر یزید نے توبہ نہیں کیا تھا توبہ کا امکان اس کے ایمان سے بھی زیادہ ضعیف ہے، ابین زیاد و ابن سعد اسی سے ملحق ہوں گے ان سب پر ان کے حامیوں اور چاہنے والوں پر اس وقت تک اللہ کی لعنت ہو جب تک آنکھیں امام حسینؑ پر آنسو بہاتی رہیں گی۔ 
۴۔ حضرت مولانا شاہ عبد العزیر دہلوی کا بیان ملاحظہ ہو:
پورے سال میں صرف دو مجلسیں منعقد ہوتی تھیں ایک وفات شریف کے ذکر کی (رسولخداؐ کی وفات) دوسری شہادت امام حسینؑ کے ذکر کی عاشورا کے دن یا اس سے ایک دو روز قبل چار سے پانچ سو افراد کبھی کبھی ایک ہزار تک تعداد پہونچ جاتی لوگ جمع ہو کر درود پڑھتے اور جب فقیر باہر آتا اور بیٹھتا تو امام حسینؑ کے فضائل و مناقب کے حوالہ سے مذکور احادیث بیان ہوتیں، ان بزرگوں کی شہادت اور ان کے قاتلوں کی بد انجامی سے متعلق اخبار و احادیث میں جو کچھ وارد ہوا ہے بیان ہوتے اور وہ مرثیے بھی پڑھے جاتے جنہیں حضرت ام سلمہ اور دیگر صحابہ کرام نے جنوں اور پریوں سے سنا ہے اس کے بعد ختم قرآن اور پنج سورہ پڑھا جاتا اور ماحضر پر فاتحہ دیا جاتا اس وقت اگر کوئی خوش الحان شخص سلام یا مرثیہ شروع کرتا تو اس کے سننے کا اتفاق ہوتا اور ظاہر ہے اس حالت میں اکثر حاضرین مجلس اور خود فقیر پر گریہ طاری ہو جاتا اگر چہ یہ چیزیں فقیر کے نزدیک اس طرح سے جائز نہ ہوتیں تو کبھی ان پر اقدام نہ ہوتا اور دوسرے جو غیر شرعی امور ہیں ان کے بیان کی حاجت نہیں۔ (اقتباس از فتاوی عزیزیہ، ج ۱، ص ۱۰۴، مطبوعہ مجتبائی پریس)
۵۔ مولانا عبد الواحد فرنگی محلی:
اس زمانہ کے علمائے صالح نے تعزیہ داری کو شعائر اسلام سمجھتے ہوئے اس کی ترویج و بقا کیلئے فتوے دیئے ہیں لہذا اس دور کے صالح علما نے تعزیہ داری کا جو فتوی دیا تھا بالکل درست تھا اور تعزیہ داری کی ترویج ثواب و اجر عظیم کا سبب ہے مولانا نظام الدین، مولانا عبد العلی، مولوی مجید الدین، مولوی انوار الحق، مولوی نور الحق اور دیگر عملمائے فرنگی محل اور اطراف ہند کے علما جب تعزیہ دیکھتے تو تعظیم کیلئے کھڑے ہو جاتے اور دونوں ہاتھ تعزیہ کی طرف دراز کر کے نہایت خضوع و خشوع اور عجز و انکساری کے ساتھ فاتحہ پڑھتے تھے۔ (تقریب نیوز بحوالہ رسالہ ازالۃ الاوہام)
۶۔ مولانا محمد نعیم اللہ قادری گورکھپوری:
ہزاروں عالم و افاضل گزرے کسی نے اس تعزیہ کو منع نہ کیا اور برابر اس کو اچھا سمجھتے رہے پس جب ہوا زمانہ وہابیوں کا اس کو ناجائز قرار دیدیا اس کو بت بتا دیا اور یہ ان سے بعید بھی نہیں ہے کیونکہ روضۂ رسولؐ کو بڑا بت خانہ کہا گیا، عبد الوہاب نے جس سے نکلا ہے مذہب وہابی۔ (ارشاد النعیم لدفع اللئیم، ص ۲۳، مطبوعہ لکھنؤ) 
متذکرہ بالا اقتباسات پر بغیر کسی تبصرہ کے ہم آخر کلام میں دو بہت ہی اہم تاریخی و ادبی دستاویز ہدیہ قارئین کرنے کی کوشش کریں گے، جس سے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ بدعت کے فتوے استعماری اشارہ پر نجدی آغوش میں پروان چڑھے یہودیت کے لے پالک اور سیاسی اولاد نے صادر کئے اور اس کے ناعاقبت اندیش بہی خواہوں کی بھیڑ نے خوب پھیلایا تا کہ نہ تذکرۂ کربلا ہو گا نہ ان کے آقاؤں کے چہرہ سے نفاق کی چادر ہٹے گی اور جرائم سامنے آئیں گے۔
ابن جوزی نے اپنی کتاب التبصرہ میں روز عاشورا کے حوالہ سے مفصل مجلس کو نقل کیا ہے: المجلس الاول فی ذکر عاشورا والمحرم اخوانی باللہ علیکم ..... مستغیثا من ذلک ..... (التبصرہ، ج ۲، ص ۵ تا ۱۷)
برادران تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کوئی یوسفؑ پر زبان اعتراض وا کر دیتا ہے کہ کیسے دیدار یعقوبؑ کیلئے جائیں؟ جب عباس روز بدر اسیر ہوئے اور پیغمبر اکرم نے ان کا نالہ و فغاں سنا تو نیند اڑ گئی کیا حال ہوتا اگر حسینؑ کی فریاد سن لیتے؟ جس وقت قاتل جناب حمزہؑ ایمان لایا پیغمبرؐ نے اس سے کہا کہ میرے سامنے نہ آنا اپنا چہرہ مجھ سے پوشیدہ رکھنا جبکہ اسلامی دستور کے مطابق اسلام لانے کے بعد ماضی کے جرائم سے پاک ہو جاتے ہیں۔ اگر رسولخداؐ امام حسینؑ کے قاتل کو دیکھ لیتے تو کیا کرتے؟ کتنا ظلم حسینؑ پر ڈھایا گیا ..... حسینؑ پشت فرس سے زمین پر آئے دشمنوں نے گھیر لیا تلواروں کے حملہ سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ..... ایسے حالات میں پیغمبر اکرمؐ اگر اس کو دیکھتے تو نالہ و فریاد کرتے، استغاثہ بلند کرتے .....
اسماعیل بن عمر ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ، ج ۱۳، ص ۲۲۷ پر لکھا ہے: 
بلغنی ان الشافعی  انشد تاوب ہمی والفواد کئیب ۔۔۔ وارق عینی الرقاد غریبو مما نفی نومی وشیب لمتی ۔۔۔ تصاریف  ایام لہن خطوبتزلزلت الدنیا لآل محمد ۔۔۔ وکادت لہم صم الجبال تذوبوغارت نجوم واقشعرت ذوائب  ۔۔۔ وہتک اسباب وشق جیوب فمن مبلغ عنی الحسین رسالۃ ۔۔۔ وان کرہتہا انفس وقلوب قتیل بلا جرم کان قمیصہ ۔۔۔ صبیغ بماء  الارجوان خضیب نصلی علی المختار من آل ہاشم ۔۔۔ وتعزی بنوہ ان ذا لعجیب لئن کان ذبنی حب آل محمد ۔۔۔ فذلک ذنب لست عنہ اتوب نعم ۔۔۔ شفعائی یوم حشری وموقفی ۔۔۔
مجھے معلوم ہوا کہ امام شافعی نے اس طرح نظم کیا ہے۔ دل رنجیدہ قلب دردمند ہے۔ آنکھیں اشک برسا رہی ہیں میں تنہا ہوں اور نیند آنکھوں سے غائب، پیری عارض ہے۔ ان گزرے ہوئے ایام کے واقعات سے جس نے دنیا کو آل محمدؐ کیلئے ہلا دیا ہے۔ قریب تھا پہاڑ جڑوں سے اکھڑ جائیں ستارے ہجوم کر دیں اور انکی پشت پر جوستارے ہیں وہ لرز جائیں،خیموں کی حرمت تارتار ہوگئی،گریبان چاک ہے،کیا کوئی میراخط امام حسین تک پہونچاسکتاہےاور اگرکچھ لوگ اس امر سے ناخوش ہوں تو ہوں لیکن جیسے بے جرم و خطا قتل کیا گیا اور ان کا لباس ارغوانی رنگ (مجنٹا کلر) میں رنگ گیا۔ پیغمبر اکرمؑ پر جو خاندان بنی ہاشم کے برگزیدہ ہیں درود بھیجتا ہوں۔ لیکن ان کی اولاد داغ دیدہ ہے یہ تعجب خیز امر ہے اگر میرا گناہ محبت آل محمدؐ ہے تو یہ ایسا گناہ ہے جس سے توبہ نہیں کروں گا، ہاں روز جزا و سزا کے شفاعت کرنے والے وہی آل محمدؐ ہیں۔ روز حساب ان کی محبت شفاعت کرے گی۔
ناظرین غور فرمائیں کتنا درد بھرا کلام ہے امام شافعی نے بغیر کسی رواداری اور جانبداری کے حقائق کو نظم کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ائمہ اہلسنت نے بھی عزاداری امام حسینؑ کا اہتمام کیا تھا علما و اکابرین نے ائمہ فقہ کی پیروی کرتے ہوئے نہ صرف عزاداری کا انعقاد کیا بلکہ مختلف نوعیت سے اس غم میں غمزدہ رہ کر قلب نازنین حضرت زہراؑ کیلئے مرہم زنگار فراہم کرنے کی سعی ناچیز فرمایا ہے۔
تاریخی بیانات و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانہ میں برادران اہلسنت کے افاضل، ادبا، شعرا و علما نے تقریر و تحریر کے ذریعہ امام حسینؑ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور کر رہے ہیں، موجودہ دور میں اگر ذرا سا انسان وقت نکال کر ایام عزا میں سوشل میڈیا سے جڑ جائے تو اس کو یہ سمجھنے میں ذرا سی بھی دقت نہ ہوگی کہ کائنات اگر ایک نقطۂ مرکزی پر بلا تفریق مذہب و ملت، نسل و قوم جمع ہو سکتی ہے تو اس مرکزی نقطہ کا نام ہے عزائے امام حسینؑ۔ 
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
E-mail: yalateef786@gmail.com 
#عزاداری_اھل سنت#امام_حسین #کربلا#اربعین#شیعہ#جلوس#امام#شھادتazadari#
#shia#imam
#arbaeen#karbala
#mashi#sunni

امام محمد باقر علیه السلام مؤسس انقلاب فرهنگ

امام محمد باقرؑ مؤسس انقلاب فرہنگی
تحریر: آیۃ اللہ محمدی اشتہاردی
ترجمہ: منہال رضا خیرآبادی جامعہ حیدریہ مدینۃ العلوم خیرآباد
• اشارہ:
خاندان نبوت کے بارہ ائمہ میں امام محمد باقر کو خاص امتیازات حاصل تھے آپ کی مادر گرامی فاطمہ سلسلہ امامت کی دوسری کڑی امام حسن کی بیٹی تھیں لہذا ماں باپ دونوں طرف سے آپ عظمت پیغمبر اکرم کے وارث سمجھے جاتے تھے ،اک معتبر حدیث میں جو حدیث لوح کے نام سے مشہور ہے پروردگار عالم نے آپ کی عظمت شان کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:وابنہ شبہ جدہ المحمود محمد،الباقر علمی والمعدن لحکمتی(۱)امام سجاد کے فرزند اپنے محبوب جد بزرگوار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شبیہ یعنی امام باقر میرے علم کو شگافتہ کرنے اور میری حکمت کے معدن ہیں۔
امام جعفر صادق نے فرمایا:ان لابی مناقب لیست لاحد من آبائی(۲)میرے پدر بزرگوار امام باقر کےلئے ایسے فضائل ومناقب ہیں جو دیگر آبا واجداد کو حاصل نہیں ہیں۔
انھیں وجوہات کی بنا پر امام خمینیؒ نے اپنے سیاسی والہی وصیت نامہ میں امام محمد باقر کی مخصوص عظمت کو یاد کرتے ہوئے تحریر فرمایا:ہمیں فخر ہے کہ ترایخ کی عظیم ترین شخصیت جس کے مقام ومرتبہ کو خدا ورسول اور ائمہ اطہار کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں ہے وہ باقر العلوم ہمارے پاس ہے(۳)
اب ہم ان کلمات کے اسرار ورموز کی توضیح وتشریح اس امید کے ساتھ بیان کریں گے کہ کچھ امام باقر کی سیرت کے زندگی ساز اسباق سیکھ سکیں۔
• عصر امام باقر ؑ  :
معاویہ اور اس کے بعد فضائل کو محو کرنے والے ظالم وجابر حکمرانوں کے دور حکومت میں حقیقی اسلام مکمل متروک ہورہاتھا،زندگی کا ہر شعبہ تاریک،جہل ،عصبیت،فریب،زروجواہر،طاقت وقوت،اور مختلف النوع کجروی وپلیدی میں عالم اسلام غوطہ زن تھا بنی امیہ نے فکروں کو مسموم اور فرہنگی حملوں سے عقل وشعور کا اغوا کرلیا تھا یزید اور شرک ونفاق کے رسیا نے جگر گوشہ رسول امام حسین اور انکے باوفا اصحاب کو نہایت ناگفتہ بہ حالات میں قتل کردیا اسلامی اقدار تارتارہوگئے غیر آئینی حکومت چلتی رہی،شراب وشباب،رقص وسرور کی محفلیں سجائے رہے،اسلام کے نام پر تعلیمات محمدی وعلوی کا اپنے ناپاک عزائم کی بھینٹ چڑھاتے رہے،حالات اتنے دگر گوں ہوگئے تھے کہ امام حسین کا نام لینے پر قدغن لگا دی گئی،خاندان رسالت ونبوت کے بابرکت آثار مٹانے کی ہر ممکن کوششیں ہوتی رہیں۔
کربلا کے خونچکاں واقعہ کے بعد امام سجاد کی مظلومیت کا عالم یہ تھا کہ مدینہ میں چار افراد آپ کے پاس آتے تھے جبکہ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ آپ کے درس میں لوگوں کا اژدحام ہوتااور آپ کے فیوض سے مستفیض ہوتے امام جعفر صادق نے ان حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:ارتد الناس بعد الحسین الا اربعۃ ابو خالد الکابلی ویحیی بن ام الطویل وجبیر بن مطعم وجابر بن عبد اللہ انصاری ثم ان الناس لحقوا وکثروا(۴)شہادت امام حسین کے بعد سارے افراد جادہ حسینی سے منحرف ہوگئے سوائے چار افراد کے:ابو خالد کابلی،یحیی بن ام طویل،جبیر بن مطعم وجابر بن عبد اللہ انصاری،پھر دھیرے دھیرے لوگ ان سے ملحق ہوتے گئے اور تعداد بڑھتی گئی۔
شہادت حسینی کے بعد اموی سلاطین کی ڈکٹیٹر شپ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خوف وہراس،جہل ودنیا پرستی،ودیگر وجوہات کی بنیاد پر خاندان رسالت سے دوریہ بنا لی گئی،کچھ تو دشمنان آل کی صف میں جاکھڑے ہوئے اور کچھ کا رویہ غیر منصفانہ تھا بعض حیرانی واضطراب کے دریا میں ہچکولے لے رہے تھے کچھ وہ بھی تھے جنھوں نے زبان اعتراض کھولدیا کہ کیوں قیام کیا؟اس کا کیافائدہ ہوا؟انکی جہالت اور تیرگی قلب ودماغ اس مقام پر تھی کہ وہ مچھر کے خون کی نجاست وطہارت کو جاننا چاہتے لیکن شہدائے کربلا کا خون بے دریغ کیوں بہایا گیا ،کس نے بہایا؟اس کو جاننے کی مطلق فکر نہ تھی ۔مروی ہے کوفہ کے ایک شخص نے اس دور کے دانشمند ابن عمرو سے مچھر کے خون کا فقہی حکم جانا چاہا تو اس نے حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے کہا اس کوفی کو دیکھو مجھ سے مچھر کے خون کے بارے میں دریافت کررہاہے لیکن فرزندرسول حضرت امام حسین کو قتل کیاگیا اس سلسلہ میں نہیں پوچھتاہے(۵)
ان روایات سے یہ بات بہر حال واضح ہوجاتی ہے کہ اکثریت دین وخاندان رسالت سے دور ہوچکی تھی صرف چار ہی افراد امام سجاد کی بارگاہ میں باقی رہ گئے تھے ایسے حالات میں سب سے پہلے ایک وسیع وعمیق فرہنگی انقلاب کی ضرورت محسوس ہورہی تھی تاکہ لوگوں کو محمدی وعلوی اسلام اور بنی امیہ کے جابر وظالم حکام کے خود ساختہ اسلام کا باہمی فرق معلوم ہوجائے اور حقیقی اسلام کو تاریکیوں سے نکالکر شاہراہ روشن پر لے آیا جائے نور ولایت ائمہ معصومین سے دنیا روشن ومنور ہوجائے یہ عظیم کام اسی وقت ممکن تھا جب ایک جامع ووسیع فرہنگی انقلاب برپا ہو۔
• انقلاب فرہنگی کی راہیں ہموار کرنا:
امام سجاد نے موقع سے فائدہ اتھاتے ہوئے خون شہدائے کربلا کے عہد آفرین پیغام کے زیر سایہ ایک فرہنگی انقلاب کی راہیں ہموار کیا لیکن اس زمینہ سازی کے عمل میں خاندان نبوت کی ایک عظیم ہستی کی قیادت وسرپرستی ضروری تھی تاکہ انکی حمایت وتائید سے ایک یونیورسٹی کی تاسیس کی راہ آسان اور تربیت افراد کا کام سہل ہوجائے پردے چاک ہوں حقیقی اسلام کے علوم ومعارف آشکار ہوجائیں دنیا کی نگاہیں دیکھ لیں وہ عظیم ہستی جس کو اللہ نے اس وسیع انقلاب کیلئے ذخیرہ کیا تھا امام محمد باقر کی ذات والا صفات تھی ،چار برس کی عمر میں کربلا میں موجودگی اور واقعہ کربلا کے چشم دید گواہ ،مخدرات عصمت وطہارت کے ہمراہ اسیر ہوکر کوفہ وشام کا سفر کیا اپنے پدر بزرگوار امام سجاد،پھوپھی جناب زینب وام کلثوم کے خطبات سنے اور اس بات کا بخوبی اندازہ کرلیا تھا کہ تاریخ اسلام ماضی کی تاریکی کی طرف لوٹ گئی ہے اب شہدائے کربلا کی نصرت کیلئے اٹھنا چاہئے اور انکے بلند وبالا مقصد ’اسلام کی بالادستی‘کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے۔
پیغمبر اکرم نے بارہا آپ کو باقر العلوم (علوم کو شگافتہ کرنے والے)کے لقب سے یاد فرمایا ،مشہور ومعروف صحابی جابر بن عبد اللہ انصاری نے متعدد بار پیغمبر اسلام کی حدیث لوگوں سے بیان کیاتاکہ ذہنی طور پر بیدارہوجائیں اور پروانہ وار شمع علوم ومعارف امام باقر کے گرد جمع ہوکر حقیقی چشمہ سے آب زلال اسلام گھونٹ گھونٹ پی سکیں،نبی اکرم نے جابر سے فرمایاتھا:انک ستدرک رجلا منی اسمہ اسمی وشمائلہ شمائلی یبقر العلم بقرا(۶)میرے خاندان کی اس فرد سے ملاقات کروگے جو میرا ہم نام وہم شکل ہوگا وہ علوم کو شگافتہ کرے گا ،علم ودانش کی توضیح وتشریح کرے گا۔
اللہ نے جناب جابر کو طولانی عمر عطا فرمایا امام باقر کی ولادت ہوئی عالم طفلی تھا کہ جناب جابر امام سجاد کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کو دیکھکر فرمایا:بابی انت وامی ابوک رسول اللہ یقرئک السلام ویقول ذلک۔۔۔۔۔(۷)میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کے جد بزرگوار رسول خدا نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور اسطرح فرمایاہے۔۔۔۔
صحابی رسول جابر نے کئی بار امام باقر سے ملاقات کیا اور نبی کی حدیث اور سلام کہلانے کی بات دھراتے رہے ’باقر العلوم‘کی تکرار کرتے رہے تاکہ زبان زد ہوجائے،لوگوں کے دل انکی باتوں کو قبول کرنے اور فرہنگی انقلاب کےلئے آمادہ وتیار رہیں۔
ایک روز امام باقر کے پاس آئے اور عرض کیا: یا باقر اشھد باللہ انک قد اوتیت الحکم صبیا اے علوم کو واضح کرنے والے میں اللہ کو گواہ بناتاہوں کہ آپ کو خرد سالی میں حکمت ودانش سے سرفراز کیا گیاہے۔
دوبارہ امام محمد باقر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا:یا باقر انت الباقر حقاان ت الذی تبقر العلم بقرا(۸)اے باقر آپ واقعا علوم کو شگافتہ کرنے والے ہیں،علم کی گہرائی میں عمیق شگاف پیداکرنے والے،علم کے پوشیدہ اسرار ورموز کو واضح کرنے والے ہیں۔
ان تمام باتوں کا تعلق زمانہ آئندہ سے تھا جس کے ذریعہ دلوں کو آمادہ اور توجہات کو مبذول کرانا مقصود تھا تاکہ اسلامی سماج میں بسنے والے افراد آپ کی ملکوتی،علمی شخصیت وجلالت کو پہچان لیں اور جس فرہنگی انقلاب کی کرن پھوٹنے والی ہے اس کےلئے تیار رہیں۔
• اور کرن پھوٹ گئی:
امام محمد باقر نے بنی امیہ اور بنی عباس کی باہمی رقابت ،حصول حکومت کی تگ ودو سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک یونیورسٹی کی تاسیس اور تربیت افراد کا عمل شروع کردیا جو بعد میں ایک وسیع وعمیق فرہنگی انقلاب کی بنیاد قرار پایا،عصر امام  صادق میں اس یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد چار ہزار سے متجاوزہوگئی(۹)
امام محمد باقر نے محمد بن مسلم،زرارہ،ابو بصیر،جابر بن یزید جعفی،ابان بن تغلب،حمران بن اعین،سدیر صیرفی،ابو صباح کنانی،عبداللہ بن ابی یعفور،و۔۔۔۔۔جیسے عظیم المرتبت شاگردوں کی ایک فوج تیار کیا جسمیں جلیل القدر فقیہ،ماہر محدث،دل آگاہ عرفا نظر آتے ہیں جنھوں نے حقیقی اسلام وفرہنگ تشیع کی نشر واشاعت میں اہم کردار اداکیا۔جابر جعفی کا بیان ہے : اٹھارہ سال سردار انسانیت حضرت امام باقر کی خدمت پر فیض میں رہ کر آپ کے خرمن فیض سے خوشہ چینی کرتا رہا جب مدینہ سے کوفہ کی جانب لوٹنے کے ارداہ سے خدا حافظی کا وقت آیا تو امام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا مولا کچھ فیض عطا کردیں امام نے فرمایا اٹھارہ برس کافی نہیں؟میں نے عرض کیا مولا آپ تو ایسا بحر ذخار ہیں جسکا پانی کم نہیں ہوتا جسکی گہرائی وگیرائی تک رسائی محال ہے امام نے فرمایا:بلغ شیعتی عنی السلام واعلمھم انہ لاقرابۃ بیننا وبین اللہ ولایتقرب الیہ الا بالطاعۃ لہ یا جابر من اطاع اللہ واحبنا فھو ولینا ومن عصیٰ اللہ لم ینفعہ حبنا۔میرے شیعوں کو میرا سلام کہنا اور انھیں بتادینا ہمارے اور خدا کے درمیان کسی قسم کی قرابتداری ورشتہ داری نہیں ،اللہ سے نزدیک صرف اطاعت وعمل کے ذریعہ ہوسکتے ہیں اے جابر جو اللہ کا مطیع اور ہمارا محب ہوگا وہی ہمارا دوست ہوگا جو اللہ کی نافرمانی کرے گا اسکو ہماری محبت ودوستی فائدہ نہیں پہونچائے گی۔
بیان کیا جاتاہے کہ جابر نے ستر ہزار(۷۰۰۰۰)احادیث امام محمد باقر سے یاد کیا تھا(۱۰)
ابان ابن تغلب امام محمد باقر کے جلیل القدر صحابی جن سے امام نے فرمایا تھا: اجلس فی المسجدالمدینۃ وافت الناس فانی احب ان یریٰ فی شیعتی مثلک(۱۱)مسجد مدینہ میں بیٹھکر لوگوں سے فتویٰ بیان کرو کہ میں اپنے شیعوں میں تم جیسے افراد دیکھنا پسند کرتا ہوں۔
مدینہ میں امام محمد باقر کی علمی نشست،فکری تحریک اور جلسات درس وبحث اس بلندی پر تھے کہ اس دور کے اعاظم علما ودانشور ہیچ اور بونے نظر آتے تھے انمیں سے حکم ابن عتیبہ ایک تھا ،عطانامی دانشمند بیان کرتا ہے:رایت الحکم عندہ کانہ عصفور مغلوب(۱۲)حکم ابن عتیبہ کو بارگاہ امام باقر میں ہزیمت خوردہ چریئے کے مثل دیکھا۔
عصر امام باقر کے عظیم سنی عالم دین عبد اللہ ابن عطا مکی کا بیان ملاحظہ کریں:حکم ابن عتیبہ کو اپنی تمامتر علمی جلالت وسطوت جو اپنی قوم میں رکھتا تھا امام کے حضور ایک بچہ کی مانند زانوئے ادب تہ کئے زمین پر بیٹھا پاتاہوں جو امام کی شخصیت سے مرعوب اور کلام کا شیفتہ وشیدائی ہو(۱۳)
امام باقر کی بنا کردہ یونیورسٹی کے علمی،اخلاقی،سیاسی،سماجی اثرات واضح وعمیق تھے جس کے معترف سارے افراد نظر آتے ہیں کہ رسول خدا نے صحیح فرمایاتھا کہ امام باقر علم ودانش کے شگافتہ کرنے والے ہیں۔
امام نے حق بیانی،مسائل کی وضاحت کے حوالہ سے صریح وقاطعانہ انداز اختیار فرمایا،اصولی موضوعات پر کسی بھی قسم کے ابہام ومسامحہ سے کام نہیں لیتے اسی قاطعانہ رویہ کے باعث ہمعصر حکام جور وجفا کے ہاتھوں ایدا رسانی،غم وغصہ کو برداشت کرتے رہے  اور آخر کار دسویں اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے حکم سے زہر دغا دیا گیا اور درجہ شہادت کو زینت بخشاامام بالصراحت فرماتے تھے:نحن خزنۃ علم اللہ وولاۃ امر اللہ وبنا فتح الاسلام وبنا یختمہ(۱۴)ہم خزانہ دار علم الہی،ولی امر ربانی ہیں اسلام کا آغاز واختتام ہمارے وسیلہ سے ہے۔
حوالہ جات:
۱۔اصول کافی،ج۱،ص۵۴۸
۲۔بحار الانوار ،ج۴۶،ص۲۲۸
۳۔وصیتنامہ الہی وسیاسی امام خمینی ،ص ۳
۴۔بہجۃ الآمال ،ج۲،ص۴۸۴۔معجم رجال الحدیث خوئی،ج۲،ص۹۹۔سفینۃ البحار،ج۱،ص۳۶۸
۵۔ بحار الانوار ،ج۴۳،ص۲۶۲
۶۔اصول کافی،ج۱،ص۴۶۹
۷۔حوالہ سابق
۸۔علل الشرایع ،ج۲،ص۲۳۳۔ بحار الانوار ،ج۴۶،ص۲۲۵
۹۔رجال کشی،ص۱۲۵
۱۰۔سفینۃ البحار،ج۱،ص۱۴۲
۱۱۔حوالہ سابق،ص۷
۱۲۔اعیان الشیعہ،ج۱،ص۶۵۱
۱۳۔اعلام الوریٰ،ص۲۶۳
۱۴۔حوالہ سابق ،ص ۲۶۲
#شیعه_اثنا_عشری
#امامت_باقر_محمد
#قرآن_کریم
#shia
#quran
#islam
#imam_baqir

Sunday, 13 August 2023

سماج کے چھ لوگ امام سجاد علیہ السلام کی نظر میں

امام زین العابدین علیہ السلام و سماج کے چھ طبقے
امام سجاد ع  نے ایک حدیث میں معاشرے وسماج کے افراد کو چھ طبقوں میں تقسیم کیا ہے جسکی روشنی میں سماج کے مختلف افراد کے کردار وسیرت کی تحلیل و تجزیہ کرنا آسان ہو جاتا ہے
امام ع فرماتے ہیں فقال : یازراره الناس فی زماننا علی ست طبقات : اسد و ذئب و ثعلب و کلب و خنزیر و شاه
اے زرارہ لوگ ہمارے زمانے میں چھ طبقے میں منقسم ہیں شیر۔بھیڑیا۔لومڑی۔کتا۔سور۔بکری 
فاما الاسد فملوک الدنیا یحب کل واحد منهم ان یغلب و لا یغلب مولا نے اس فقرے میں ظالم وفاسد بادشاہوں کو شیر سے تشبیہ دیا ہے جو مسلسل اپنے دائرہ سلطنت کو وسیع سے وسیع ترکرنے کی فراق میں ہوتے ہیں اپنے سے کمزوربادشاہوں اور حکمرانوں پر چڑھائی کرتے رہتے ہیں
عصر حاضر میں سیاسی حکام کا طریقہ کار بھی یہی ہے۔آج سلاطین نے ہتھیار بدلے ہیں طریقہ لشکر کشی بدلا ہے مزاج و فکر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔آج عالمی استعمار واستکبار ہر روز نت نئے حربے استعمال کررہا ہے تاکہ اپنے جذبہ توسعہ طلب کی تسکین کرسکے۔مختلف بہانوں سے مختلف ممالک میں اپنے اڈے قائم کرکے ماحول کو پر امن بنانے کے بجائے فضا میں ہیجان پیدا کررہاہے۔جس کے نتیجے میں ملکوں میں فقر و فلاکت بڑھتی جا رہی ہے گھر اجڑ رہے ہیں خاندان تباہ ہورہے ہیں اغوش سونی ہورہی ہیں مگر حقوق بشر کا پر فریب نعرہ لگاکر ناپاک عزائم کی تکمیل میں مصروف ہے 
واما الذئب فتجارکم یذمو ن اذا اشتروا و یمدحو ن واذاباعوا دوسرا طبقہ بھیڑیا صفت انسانوں کا ہے جو سامان خریدتے وقت تو برائی کرتے ہیں کمیاں بیان کرتے ہیں اور جب اسی مال کو بیچتے ہیں تو تعریف کرتے ہیں ایسے تاجر امام کی نگاہ میں سماج کے بھیڑیئے ہیں
آج سماج کے پونجی پتی۔سرمایہ دار افراد ہوں یا فیکٹریاں یہ کام ہر جگہ عام ہےآج الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا میں جو اشتہارات آتے ہیں اور چھپتے ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو ہر باشعور اس حقیقت کا اعتراف کرےگا کہ سماج کے یہ بھیڑیئے کس طرح قوم و ملت کے مزدور طبقے کا اپنے مفادات کی خاطر استحصال کرتے ہیں
اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسلام اپنی مصنوعات کی تشہیر کا مخالف ہے ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ اسلام نے تشہیر کے قوانین واصول معین کئے ہیں جنکی رعایت کے ساتھ تشہیر نگاہ دین و شریعت میں قابل مدح ہیں۔رقابت کا معیار غلط بیانی نہیں ہے اسلام نے ہر میدان زندگی میں رقابت کےاصول معین کئے ہیں
 و اما الثعلب فهولاءالذین یاکلون بادیانهم و لایکون فی قلوبهم ما یصفون بالسنتهم روباہ صفت افراد وہ ہیں جنھوں نے دین کو ذریعہ معاش بنالیا ہے ان کی زبان پر جو کچھ ہے وہ دل میں نہیں ہے۔ایمان قلب کے نہاں خانوں میں میں جایگزین ہوتاکہ انسان کے اعمال وکردار حرکات و سکنات اس قلبی ایمان کے سانچے میں ڈھل جائیں لیکن اگر نفاق پایا گیا تو بہت ممکن ہے زندگی کے مختلف مراحل میں حالات کے پیش نظر ظاہر کچھ ہوگا باطن کچھ اور۔امام حسین ع نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا ہےالناسُ عبیدُ الدنیا و الدین لعق علی السنتهم یحوطونه مادرَّت معایشُهم فاذا مُحَّصوا بالبلاء قَلَّ الدَیّانون لوگ دنیا کے غلام ہیں دین انکی زبانوں پر تب تک رہتا ہے جبتک انکی زندگی دین کے محور پر گھومتی رہتی ہے لیکن جب بلاؤں کے ذریعہ محل آزمائش میں آتے ہیں تو دیندار کم رہ جاتے ہیں
بحار الأنوار جلد 75, صفحه 116
امام سجاد نے دین فروش اور دین کو ذریعہ معاش بنانے والوں کے بارے میں واضح طور پر فرمایا کہ ایمان ان کے دلوں میں نفوذ نہیں کرسکا ہے اسی لئے اعمال و رفتار ایمان کے بالکل خلاف ہیں
آج بھی بعض بظاہر متدین افراد دین کو ذاتی منافع کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں دین کے نام پر لوگوں کا استحصال کرتے ہیں جس کا نتیجہ دین سے فرار کی صورت میں نظر آرہاہے کعب الاحبار جیسے لوگ اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے ظاہری دینداری کا چولاپہنکر عوامی افکار و اذہان کو خراب کیا اور سماج میں اہلبیت ع دشمنی کا بیج بویا
و اما الکلب یهر علی الناس بلسانه ویکرمه الناس من شر لسانه کچھ کتا صفت انسان ہیں جن کی زبان کے شر سے بچنے کے لئے لوگ انکا احترام کرتے ہیں۔کل کے دور میں بھی کچھ ایسے افراد تھے جو حکومت کے اشارے پر سماج میں اس طرح زندگی بسر کرتے تھے کہ لوگ ان کا احترام ان کی زبان کی وجہ سے کرتے تھے آج بھی یہ چلن عام ہے بعض میڈیا سے جڑے ہوئے لوگ مذہبی مقامات سے وابستہ افراد اپنے اثر رسوخ کا غلط استعمال کرتے نظر آتے ہیں اسلام نے ہر قسم کی طاقت کے غلط استعمال کو غیر اسلامی بتایا ہے ہاں تبادلہ خیال کو اخلاقی حدود میں رہ کر نہ صرف جائز بلکہ مستحسن قرار دیا ہے خود ائمہ معصومین ع کی تاریخوں میں بے شمار علمی مذاکرات۔تبادلہ خیال کے نمونے پائے جاتے ہیں جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہیں
 و اما الخنزیر فهولاءالمخنثون واشباههم لایدعون الی فاحشه الا اجابوا  وہ افراد جو ہر برائی میں ملوث نظر آئیں انھیں أمام نے سور صفت انسان سے تعبیر کیا ہے یہ افراد اپنی زندگی میں دین و آئین الہی کی دخالت کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ظلم وزیادتی۔قدرت کا غلط استعمال۔لوگوں کو دبانا اور کچلنا ان کے نزدیک عیب نہیں ہوتا ہے۔
آج بھی ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو لباس سے لیکر نجی زندگی تک کسی بھی معاملے میں دین و قرآن کی دخالت کو پسند نہیں کرتے ہیں۔عجیب وغریب تفریحی پروگرام۔غیر شرافتمندانہ انداز حیات۔ہر رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور اس کو لائف اسٹائل کانام دیتے نظر آتے ہیں غیر شرعی امور سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں 
   و اما الشاة فالذين يجر شعورهم و يوكل لحومهم و يكسر عظمهم فكيف تصنع الشاة بين اسد و ذئب و ثعلب و كلب و خنزير مومن بکری کی مانند ہے جو شیر۔بھیڑىئے۔لومڑی۔کتے اور سور کے ہاتھوں زخم خوردہ ہو پوست کندہ گوشت نوچا ہوا ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہوں 
 خصال، محمدبن علی بابویه قمی،تصحیح علی اکبر غفاری، ج1، ص338 و 339
سماج اور معاشرہ پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مؤمنین اکثر سماج و معاشرہ میں مظلوم واقع ہوتے ہیں سماج میں پھیلی ہوئی بد عنوانی۔ظلم وزیادتی ان کے دلوں کو تڑپاتی رہتی ہے آج دنیا کے مختلف گوشوں میں ہر روز ہورہے قتل عام سے مومن رنجیدہ اور غمزدہ نظر آتا ہے
آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی مومن اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر سماج و معاشرہ کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو انسانیت کے دشمن بھیڑیئے۔دین کے نام پر دین کا سودا کرنے والے لومڑی صفت افراد حملہ آور ہوجاتے ہیں اور اپنی لچھے دار باتوں سے لوگوں کے اذہان کو حقائق سے دور کرنے کی پر فریب سعی کرنے لگتے ہیں۔
خدایا ہمیں واقعی مومن بننے کی توفیق کرامت فرما بحق طہ و یس
#اسلام#اسلامیات#اسلامی تعلیمات
#islam#اسلامی تعلیمات
#Islamic #اسلامیات
#educatin#اسلام
#karbalastatus#nadeemsarwar  #nohastatus  #imamraza#imamhussain #imamali #shia #yaali #yahussain #yaalimadad #labbaikyahussain #islam #najaf #imammahdi #iran #imam #yazainab #imamhassan #yaabbas #allah #imamezamana #ahlulbayt #azadar #azadari #imamaliquotes #imammehdi #muharram #shianeali #yazehra #hussaini #imamnaqi #shaam
#labbaikyaabbas #imammusakazim #imamtaqi #mashad #madina #yahassan #yafatima #yazahra #shiamuslim #quran #imamhassanaskari #bibizainab #imamjaffar #ahlebait #imambaqar #hussain #life #prophetmohammed #sakina #iraq #quote #hazrathali #moharram #zainulabedeen #promoteazadari #bibifathima #ahylubaythmbibizainab #iraqkarbala #abbasalamdar
#karbala #nohastatus #farsinoha #5tani 
#imamali #karbala #imamhussain #shia #yaali #najaf #yahussain #islam #imam #allah #yaalimadad #muharram #yaabbas #ali #azadari #labbaikyahussain #ahlulbayt #quran #hussain #azadar #iran #imamaliquotes #iraq #ahlebait #yazainab #imammahdi #hussaini #imammehdi #imamreza #muslim
#hazratali #shianeali #imamhassan #e #prophetmuhammad #madina #shiatweets #muhammad #molaali #mashad #aliunwaliullah #islamicquotes #as #imamhasan #love #yazahra #arbaeen #abbasalamdar #imamalisayings #moharram #shiamuslim #yafatima #pakistan #khwaja #promoteazadari #maulaali #quotes #karbalaa #yazehra #fatima
#imamali #quotes #islam #iran #muslim #pakistan #allah #quran #ramadan #iraq #islamicquotes #namaz #ali #muhammad #madina #karbala #shia #prophetmuhammad #yahussain #hussain #najaf
alihaq #labbaikyaabbas #kufa #muharram #imamaliquotes #yahassan #yahussain #ahlebait #molaali #najaf
#hussaini #manqabat #karbala #labbaikyahussain #alishanawar #nadeemsarwar #mesumabbas #farhanaliwaris #bainulharamain #imamali
#imamhussain #kaneez #shrine #karbalawrites #najaf #shia #azadar #azadari #alimola #azadariworld
#hussainimadia #mylifekarbala #mirhassanmir #yahussain #yazahra #shianeali #hussaini_azadar #arbaeen #imammehdi #shia_youth
#yaali #yaalimadad #yazehra #yafatema #labbaik_ya_husain✋ #امام_علی #امام_حسین2⃣5⃣रमजान #متباركين #ابا_الفضل_العباس #الامام_الحسين_عليه_السلام
#يازهراء #باب_الحوائج #الامام_الكاظم #كربلاء_المقدسة #كربلاء_الحسين #امام_حسين_عليه_السلام #وفاء_للحسين #بين_الحرمين #ابا_الفضل #حبيب_بن_مظاهر_الاسدي
#العتبة_الحسينية_المقدسة #كربلا_معلى #حبيب_بن_مظاهر #الامام_المهدي #ya_ali_madad92never #art #ahlulbayt #yamahdi #iraq #muharram
#zainab #karbala #zainimam #love #allah #shia #imamali #ahlulbayt #justiceforzainab #asifa #justiceforasifa #najaf #imamhussain #quran #yaabbas #yahussain #ali #muharram #islam #yaali #hussain #yaalimadad #muslim #labbaikyaabbas #imammahdi #official #azadar #sayedazainab #e #imamhasan
#muharram1441 #yaabbas #yafatima
#fatima #allah #karbala #ali #hussain #jesus #najaf #f #imam #e #catholic #tima #imamali #virgenmaria #portugal #o #quran #muhammad #imamhussain #maria #nossasenhoradefatima #a #pray #yaali #salamyahussain #mashad #khwaja #shia #madina #iraq
 #worldazaadari #welovekarbala #کربلا #امام_زمان #امام_حسین #حضرت_ابوالفضل #محرم
#نجف #سامرا #امیرالمؤمنین #امام_حسن #فاطمہ_زهرا #حضرت_زینب #بقیع #the #‏‮🌷🌘🌸😍🍃 #به_وقت_ماه_رمضان
#سلام‌عزیز‌خدا #خدا #بین_الحرمین #حرم #زیارت #عشق #مذهبی #مشهد #کربلاء #شهید
#شهدا #کربلاء_المقدسة #شیعه #اربعین #چادری #حجاب #حجابات #رهبر #رهبری #syria
 #الشيعة #تهران #ويبقى_الحسين #لبيك_يا_حسين #ايران #اصفهان #عاشوراء #باسم_الكربلائي #العراق
#طهران #الحشد_الشعبي #كربلا #ارباب #قم #الكاظمية_المقدس

اسلام فتوحات اور شہنشاہیت کےلئے آیاتھا .1

کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟  پہلی قسط:  ✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین ...