بے ایمانوں اور بددیانتوں کے نرغے میں۔
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
منبرِ حسینؑ کوئی عام اسٹیج نہیں، یہ دین کی تعلیم و تربیت کا مرکز ہے۔ یہاں سے قرآن کی روشنی عام ہونا چاہیے، اہلِ بیتِ اطہارؑ کی سیرت و تعلیمات دلوں میں اترنی چاہییں، انسان کو اپنی اصلاح کا شعور ملنا چاہیے اور حق و باطل میں تمیز پیدا ہونی چاہیے۔ اس منبر کا مقصد محض جذبات ابھارنا نہیں، بلکہ فکر کی تعمیر، کردار کی اصلاح اور معاشرے کی رہنمائی ہے۔
جو شخص اس منبر پر بیٹھتا ہے، اسے خود کو امام حسینؑ کے پیغام کا امین سمجھنا چاہیے، نہ کہ محض ایک مقرر۔ اس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ امانت ہے، اس لیے اسے بولنے سے پہلے اپنے ضمیر، اپنے علم اور اپنے رب—تینوں کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس ہونا چاہیے۔
مگر افسوس کہ بہت سی جگہوں پر منظر بدل چکا ہے۔ منبر کی عظمت تو باقی ہے، لیکن بعض اہلِ منبر اس کی ذمہ داری کا حق ادا نہیں کر رہے۔ مطالعہ، تحقیق اور علمی دیانت کی جگہ آسان راستہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ یہ سوچنے کے بجائے کہ آج قرآن کا کون سا پیغام اور اہلِ بیتؑ کی سیرت کا کون سا سبق لوگوں تک پہنچایا جائے، ساری توجہ اس پر رہتی ہے کہ کون سا نیا قصہ سنایا جائے، کون سا سنسنی خیز واقعہ اور شوشہ چھیڑا جائے یا کون سا فرضی اعتراض گھڑ کر ایک گھنٹہ گزار لیا جائے۔
چنانچہ پہلے ایک خیالی مخالف بنایا جاتا ہے، پھر اس کی زبان میں وہ باتیں ڈال دی جاتی ہیں جو اس نے کبھی کہیں ہی نہیں، اور آخر میں انہی خود ساختہ اعتراضات کے جوابات دے کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا کوئی عظیم علمی معرکہ سر کر لیا گیا ہو۔
حالانکہ حقیقت میں نہ کوئی اعتراض موجود ہوتا ہے، نہ کوئی مناظرہ، نہ کوئی علمی خدمت؛ صرف وقت گزاری ہوتی ہے، اور وہ بھی منبرِ حسینؑ پر۔
یہ طرزِ عمل اس ڈاکٹر سے مختلف نہیں جو مریض کا علاج کرنے کے بجائے پہلے اس کے ذہن میں فرضی بیماریوں کا خوف پیدا کرے، پھر انہی بیماریوں کا علاج بھی خود ہی بیچنے لگے۔ اس سے صرف مریض ہی نہیں، پورا پیشہ بدنام ہوتا ہے۔
افسوس اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب یہی انداز ذکرِ اہلِ بیتؑ کے نام پر اختیار کیا جائے، جبکہ ذکرِ اہلِ بیتؑ کا مقصد جہالت کو بڑھانا نہیں بلکہ ختم کرنا ہے۔ وہ انسان کو قرآن، رسولِ اکرمؐ اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کی حقیقی تعلیمات سے جوڑتا ہے، بصیرت پیدا کرتا ہے، محبت و وحدت کو فروغ دیتا ہے اور ہدایت کے دروازے کھولتا ہے۔ اگر کسی گفتگو کا حاصل شکوک، نفرت، بے مقصد اختلاف اور اشتعال انگیزی ہو تو اسے ذکرِ اہلِ بیتؑ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اہلِ بیتؑ کا مکتب ہمیشہ حق، حکمت، بصیرت اور اخلاق کا علمبردار رہا ہے۔
منبر پر بیٹھ کر اختلافات کو ہوا دینا، معمولی مسائل کو معرکہ بنا دینا، بے بنیاد اعتراضات سے جذبات بھڑکانا اور فرضی کہانیوں کے سہارے داد وصول کرنا علم نہیں، بلکہ سامعین کی سادگی سے کھیلنا ہے۔
تعجب اس بات پر ہے کہ جب منبر کو ذریعۂ معاش بنا لیا گیا ہے تو اس کے ساتھ پیشہ ورانہ دیانت بھی کیوں نہیں نبھائی جاتی؟
ہر شخص اپنی روزی کے لیے محنت کرتا ہے، اپنے شعبے میں مہارت پیدا کرتا ہے اور نئی معلومات حاصل کرتا ہے، مگر بعض اہلِ منبر برسوں تک ایک ہی انداز، ایک ہی قصے اور ایک ہی قسم کی بے بنیاد گفتگو دہراتے رہتے ہیں۔ اگر روزی امام حسینؑ کے منبر سے مل رہی ہے تو اس منبر کا حق بھی ادا کیجیے؛ مطالعہ کیجیے، تحقیق کیجیے اور علمی امانت کا پاس رکھیے، کیونکہ یہاں ادا ہونے والا ہر لفظ صرف سامعین تک نہیں، خدا کے حضور بھی پیش ہوتا ہے۔
آج بعض ذاکرین کی تقریریں سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ مقصد ذہنوں کو روشن کرنا نہیں بلکہ محض وقت گزارنا ہے۔ مجلس ختم ہونے کے بعد اگر ایک سامع خود سے پوچھے کہ آج قرآن سے کیا سیکھا؟
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کا کون سا نیا پہلو سمجھا؟
یا اپنی زندگی میں کون سی اصلاح کا عزم لے کر جا رہا ہوں؟
تو اکثر اس کے پاس کوئی واضح جواب نہیں ہوتا۔
کیا یہی منبرِ حسینؑ کی ذمہ داری ہے؟
امام حسینؑ نے اپنی جان اس لیے نہیں دی تھی کہ ان کے نام پر منبر تماشہ گاہ بن جائے، جہاں دلیل کی جگہ دعوے، امانت کی جگہ مبالغہ، اصلاح کی جگہ تفریح اور علم کی جگہ سطحی خطابت پیش کی جائے۔
آخر ہم یہ سوال کیوں نہ اٹھائیں کہ جو ٹائم پاس ذاکر مسلسل اہلِ ایمان کو علماء، فقہاء اور مرجعیت سے بدظن کرنے میں لگے ہیں، وہ آخر کس کے مفادات کی خدمت کر رہے ہیں؟
کیا یہی وہ ایجنڈا نہیں جسے استعمار صدیوں سے مختلف شکلوں میں آگے بڑھاتا آیا ہے تاکہ امت کا رشتہ اس کی مستند علمی قیادت سے کاٹ دیا جائے؟
کیونکہ جب عوام علماء اور مرجعیت سے دور ہو جائیں گے تو دین کی صحیح اور مستند معرفت کہاں سے حاصل کریں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ مرجعیت سے تعلق کمزور کرنا صرف علماء سے دور کرنا نہیں، بلکہ چہاردہ معصومین علیہم السلام کی مستند تعلیمات تک پہنچنے کے راستے کو بھی کمزور کرنا ہے۔ جو شخص لوگوں کو علم کے سرچشموں سے کاٹ کر جذبات، خرافات اور سطحی خطابت کے حوالے کر دے، وہ دانستہ یا نادانستہ اسی فکر کو تقویت دیتا ہے جس سے استعمار ہمیشہ فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ اس لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے کردار محض لاعلمی کا نتیجہ ہیں یا کسی ایسے ایجنڈے کا حصہ، جس کا مقصد امت کو اس کے اصل فکری مراکز سے محروم کرنا ہے۔
مومنین کو بھی اب جاگنا ہوگا۔ ہر بلند آواز علم نہیں ہوتی، ہر جذباتی انداز اخلاص کی دلیل نہیں ہوتا اور ہر منبر پر بیٹھنے والا امانت دار بھی نہیں ہوتا۔ منبر کی حفاظت صرف خطیب کی نہیں، سامع کی بھی ذمہ داری ہے۔ جو قوم سوال کرنا چھوڑ دیتی ہے، وہ دھوکا کھانا شروع کر دیتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ منبرِ حسینؑ کو دوبارہ علم، تحقیق، اخلاص اور تقویٰ کا مرکز بنایا جائے۔ اس منبر پر وہی آواز باقی رہنی چاہیے جو امام حسینؑ کے پیغام کی ترجمان ہو، نہ کہ وہ آواز جو اپنی کم علمی کو فرضی اعتراضات، مصنوعی مناظروں اور جذباتی کاروبار کے ذریعے چھپاتی پھرے۔
منبرِ حسینؑ امانت ہے، اور امانت میں خیانت صرف مالی نہیں ہوتی۔ علمی خیانت بھی خیانت ہے، فکری خیانت بھی خیانت ہے، اور امام حسینؑ کے نام پر عوام کو گمراہ کرنا ایسی خیانت ہے جس کا حساب صرف تاریخ نہیں، خدا کے حضور بھی دینا ہوگا۔
#منبر #حسین # کربلا # عزاداری
#mimbar #azadari #husain # karbala
No comments:
Post a Comment