۹ ربیع الاول: حقیقت کیا ہے؟
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
۹ربیع الاول کے بارے میں ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ یہ وہ دن ہے جب امام حسین علیہ السلام کے قاتلین میں سے بعض افراد کو مختار ثقفی نے قتل کیا، خصوصاً عمر بن سعد کے قتل کو اس تاریخ سے منسوب کیا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے خوشی کا دن سمجھا جاتا ہے۔ اس موضوع پر جذباتی گفتگو تو بہت ہوتی رہتی ہے، لیکن تاریخی تحقیق کا تقاضا ہے کہ واقعے، تاریخ اور بعد میں پیدا ہونے والی روایتی نسبتوں کو الگ الگ دیکھا جائے۔
مختار ثقفی نے ۶۶ھ میں کوفہ میں قیام کیا اور امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شریک افراد کے خلاف کارروائی شروع کی۔ قدیم تاریخی ماخذ تاریخ طبری میں عمر بن سعد کے قتل کا واقعہ واضح طور پر موجود ہے۔ طبری لکھتے ہیں:
«فَأَصْبَحَ الْمُخْتَارُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبَا عَمْرَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِهِ… فَضَرَبَهُ أَبُو عَمْرَةَ بِسَيْفِهِ فَقَتَلَهُ، وَجَاءَ بِرَأْسِهِ.»
ترجمہ: “مختار نے صبح ابو عمرہ کو اس کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ اسے لے آئے… ابو عمرہ نے اسے اپنی تلوار سے قتل کردیا اور اس کا سر مختار کے پاس لے آیا۔”
حوالہ: محمد بن جریر طبری، تاریخ الأمم والملوک، ج ۶، حوادث سنہ ۶۶ھ، اخبار المختار بن ابی عبید۔
یہ روایت اس بات کے لیے اہم ہے کہ عمر بن سعد کا مختار کے ہاتھوں قتل تاریخی واقعہ ہے۔ لیکن یہی ماخذ اس قتل کی تاریخ ۹ ربیع الاول نہیں بتاتا۔ چنانچہ ایک ثابت شدہ واقعے کے ساتھ ایک غیر ثابت شدہ تاریخ جوڑ دینا علمی طور پر درست نہیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا چاہیے: کسی شخص کا قتل ثابت ہونا اور اس کے قتل کی مخصوص تاریخ ثابت ہونا دو الگ دعوے ہیں۔ عمر بن سعد کا قتل سنہ ۶۶ھ میں ہونا تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے، مگر ۹ ربیع الاول کو اس واقعے کی قطعی تاریخ قرار دینے کے لیے قدیم معتبر تاریخی شہادت موجود نہیں۔ اسی لیے جدید شیعہ تحقیقی مطالعات میں بھی اس نسبت کو غیر ثابت قرار دیا گیا ہے۔
۹ ربیع الاول کے خصوصی فضائل کے بارے میں ایک مفصل روایت بعد کے شیعہ مصادر میں حسن بن سلیمان حلی کی کتاب المحتضر میں نقل ہوئی ہے۔ اس کے آغاز میں ہے:
«مَا رُوِيَ فِي فَضْلِ يَوْمِ التَّاسِعِ مِنْ رَبِيعِ الأَوَّلِ…»
ترجمہ: “۹ ربیع الاول کے دن کی فضیلت کے بارے میں جو روایت نقل ہوئی ہے…”
حوالہ: حسن بن سلیمان الحلی، المحتضر، ص ۸۹۔
اس روایت میں اس دن کو عید اور خوشی سے متعلق بعض مضامین بیان ہوئے ہیں، لیکن اس کے متن میں عمر بن سعد کا نام صراحت کے ساتھ موجود نہیں۔ بعد کے زمانے میں “دشمنِ اہل بیت کے ہلاک ہونے” کے بعض مضامین کو عمر بن سعد کے قتل کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ روایت میں واضح طور پر عمر بن سعد کے قتل کی ۹ ربیع الاول کی تاریخ بیان ہوئی ہے درست نہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ اس روایت کی سند کے بارے میں بھی اہل علم کے درمیان مورد تحقیق ہے۔ اس لیے اسے بغیر تحقیق کے قطعی اور متفق علیہ صحیح حدیث قرار دینا مناسب نہیں۔ حدیثی تحقیق کا اصول یہی ہے کہ متن کے ساتھ سند، راویوں اور ماخذ کی حیثیت بھی دیکھی جائے۔
۹ ربیع الاول کی ایک زیادہ واضح اور بامعنی نسبت آغازِ امامتِ حضرت ولی عصر امام مہدی علیہ السلام سے ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت ۸ ربیع الاول ۲۶۰ھ کو ہوئی۔ شیخ مفید لکھتے ہیں:
«وَقُبِضَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِيعِ الأَوَّلِ سَنَةَ سِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ.»
ترجمہ: “ابو محمد حسن بن علی علیہ السلام ۲۶۰ھ میں ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو جمعہ کے دن رحلت پا گئے۔”
حوالہ: شیخ مفید، الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، ج ۲، ص ۳۳۶۔
اس تاریخی ترتیب کی بنا پر ۹ ربیع الاول کو امام مہدی علیہ السلام کی امامت کے آغاز کے عنوان سے یاد کرنا شیعہ روایت میں ایک معروف تعبیر ہے۔ علامہ مجلسی نے بھی اس نسبت کو نقل کرتے ہوئے لکھا:
«فَيَكُونُ ابْتِدَاءُ وِلَايَةِ الْمَهْدِيِّ عَلَى الْأُمَّةِ يَوْمَ تَاسِعِ رَبِيعِ الْأَوَّلِ.»
ترجمہ: “پس امت پر امام مہدی علیہ السلام کی ولایت کا آغاز ۹ ربیع الاول کو ہوگا۔”
حوالہ: علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الأنوار، ج ۳۱، ص ۳۳۲۔
یہ نسبت اس لیے بھی معنویت رکھتی ہے کہ امامت کا سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد ختم نہیں ہوا بلکہ حضرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی امامت میں جاری رہا۔ چنانچہ ۹ ربیع الاول کو محض کسی تاریخی شخصیت کی ہلاکت سے وابستہ کرنے کے بجائے تسلسلِ امامت، معرفتِ امام اور انتظارِ فرج کے عنوان سے سمجھنا زیادہ وسیع اور تعمیری مفہوم رکھتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
«مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً.»
ترجمہ: “جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا۔”
حوالہ: محمد بن یعقوب کلینی، الکافی، ج ۱، کتاب الحجة، باب «من مات وليس له إمام من أئمة الهدى»، ح ۱۰۔
اس روایت کی روشنی میں ۹ ربیع الاول کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہم کس کے مرنے پر خوش ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے امام کو کتنا جانتے ہیں اور ان کی ولایت کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں کس حد تک نبھاتے ہیں۔
🔹یہاں ایک اور غلط فہمی بھی دور ہونی چاہیے۔ کسی دینی مناسبت پر خوشی کا اظہار اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ انسان ایسے کام کرے جو شریعت اور اخلاق دونوں کے خلاف ہوں۔ اگر کوئی عمل عام دنوں میں گناہ، بے ہودگی، بدزبانی، فحاشی، تہذیب سے گری ہوئی حرکت یا کسی کی دل آزاری ہے تو کسی مذہبی تاریخ کی نسبت سے وہ جائز نہیں ہوجاتا۔ ۹ ربیع الاول بھی اخلاقی اصولوں سے مستثنیٰ نہیں۔
اہل بیت علیہم السلام کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ خوشی بھی ان کے اخلاق کے مطابق ہو۔ ذکر، صلوات، شکر، صدقہ، عبادت، معرفتِ امام، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کا مطالعہ اور اپنے کردار کی اصلاح ایسی سرگرمیاں ہیں جو اس دن کی روح سے زیادہ مناسبت رکھتی ہیں۔
لہٰذا تحقیق کی روشنی میں متوازن نتیجہ یہ ہے کہ مختار کے ہاتھوں عمر بن سعد کا قتل تاریخی طور پر ثابت ہے، لیکن اسے ۹ ربیع الاول کی قطعی تاریخ قرار دینا ثابت نہیں۔ ۹ ربیع الاول کی فضیلت کے بارے میں بعض روایات موجود ہیں، مگر ان کی سند و دلالت پر علمی بحث ہے۔ اس کے مقابلے میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی ۸ ربیع الاول کو شہادت اور اس کے بعد امام مہدی علیہ السلام کی امامت کا آغاز، اس تاریخ کو آغازِ امامت اور تجدیدِ عہدِ ولایت کے عنوان سے سمجھنے کے لیے زیادہ بامعنی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ ۹ ربیع الاول کو تاریخ کے غیر ثابت شدہ دعووں کا دن بنانے کے بجائے امامِ زمانہ علیہ السلام کی معرفت، ولایت اور انتظار کا دن بنایا جائے۔ یہی خوشی کو شعور و بصیرت دیتی ہے، عقیدے کو عمل سے جوڑتی ہے اور ایک تاریخی مناسبت کو زندہ روحانی پیغام میں بدل دیتی ہے۔
No comments:
Post a Comment