Wednesday, 9 September 2026

اسلام فتوحات اور شہنشاہیت کےلئے آیاتھا .1

کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟ 
پہلی قسط: 
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین اور ہماری بنائی ہوئی شہنشاہیت،
اسلام کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے تاریخ میں کتنی زمینیں فتح کیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس مقصد کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ جب ہم اس سوال کا جواب قرآن سے لیتے ہیں تو ہمیں کہیں یہ نہیں ملتا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے ملک فتح کرنے، دوسری قوموں کی حکومتیں ختم کرنے یا مسلمانوں کی ایک بڑی عالمی شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ قرآن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رحمۃً للعالمین، بشیر، نذیر اور داعی الی اللہ قرار دیتا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوری دنیا کے لیے رحمت، خوشخبری دینے والے، خبردار کرنے والے اور اللہ کی طرف بلانے والے تھے۔ (الانبیاء: 107؛ الاحزاب: 45-46)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس پر قابو پانا سکھایا۔ مکہ کے تیرہ سال اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اس پورے دور میں اسلام کی بنیادی دعوت کسی ملک کو فتح کرنے کی نہیں بلکہ انسان کو بدلنے کی تھی۔ شرک کے مقابلے میں توحید، ظلم کے مقابلے میں عدل، جہالت کے مقابلے میں علم، تکبر کے مقابلے میں انسانیت، اور دنیا پرستی کے مقابلے میں آخرت کی جواب دہی کا شعور پیدا کیا گیا۔ قرآن بار بار یتیم اور مسکین کے حقوق، ناپ تول میں انصاف، سچائی، امانت اور انسانی ذمہ داری کی بات کرتا ہے۔ کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ اسلام کی کامیابی اس بات سے معلوم ہوگی کہ مسلمانوں کے پاس کتنی زمین ہوگی۔
اگر اسلام کا اصل مقصد سلطنت قائم کرنا ہوتا تو مکہ کے کمزور دور میں سب سے پہلے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی، لیکن قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کروایا: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ، یعنی ’’کہہ دیجیے، میں تم ہی جیسا بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ (الکہف: 110) گویا اسلام کی بنیاد انسان کے عقیدے اور شعور کی اصلاح تھی، سلطنت کی تعمیر نہیں۔
قرآن نے دعوت کا طریقہ بھی صاف بتا دیا: ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، یعنی ’’اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے بلاؤ۔‘‘ (النحل: 125) اور دین کے معاملے میں واضح اصول دیا: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ، ’’دین میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ (البقرۃ: 256) اس کا مطلب صاف ہے کہ اسلام انسان کے دل اور عقل کو مخاطب کرتا ہے، اسے زبردستی اپنا عقیدہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔
مدینہ پہنچنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سیاسی اور معاشرتی نظام ضرور قائم کیا، لیکن اس نظام کا مقصد بھی صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا۔ اس کی بنیاد عدل اور انسانی بھلائی پر تھی۔ قرآن کہتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ، ’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (النحل: 90) اس لیے کسی اسلامی حکومت کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ اس کے پاس کتنے شہر یا کتنے صوبے تھے، بلکہ اس بات سے کہ اس کے زیرِ سایہ انسان کو کتنا عدل، امن اور حق ملا۔
جنگ کے بارے میں بھی قرآن نے کوئی کھلی اور بے حد اجازت نہیں دی، بلکہ واضح حد مقرر کی: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا، ’’جو تم سے جنگ کرتے ہیں ان سے جنگ کرو، لیکن زیادتی نہ کرو۔‘‘ (البقرۃ: 190) یہاں ایک طرف جنگ کی اجازت ہے تو دوسری طرف زیادتی سے روک دیا گیا ہے۔ اس لیے تاریخ میں ہونے والی ہر جنگ کو صرف اس بنیاد پر اسلامی اور مقدس قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اسے مسلمانوں نے لڑا تھا۔
پھر قرآن یہ بھی کہتا ہے: وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا، ’’اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ۔‘‘ (الانفال: 61) یعنی اسلام کی اصل منزل امن ہے، جنگ نہیں؛ جنگ ایک ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن اسے اسلام کا مقصد نہیں بنایا جاسکتا۔
صلحِ حدیبیہ اس کی بہت خوب صورت مثال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا معاہدہ قبول کیا جس کی بعض شرائط مسلمانوں کو بظاہر سخت محسوس ہوتی تھیں، لیکن قرآن نے اسی واقعے کو فَتْحًا مُّبِينًا، یعنی ’’کھلی فتح‘‘ قرار دیا۔ (الفتح: 1) اگر فتح کا مطلب صرف زمین پر قبضہ اور دشمن کو شکست دینا ہوتا تو ایک امن معاہدے کو قرآن فتح نہ کہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امن کا راستہ کھلنا، لوگوں تک حق کی دعوت پہنچنے کا موقع پیدا ہونا اور خونریزی رک جانا بھی فتح ہوسکتا ہے۔
مکہ کی فتح اس سے بھی بڑی مثال ہے۔ جس شہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں پر ظلم کیا اور مسلمانوں کے خلاف کئی جنگیں کیں، آخرکار وہی شہر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے تھا۔ اگر اسلام صرف طاقت، انتقام اور شہنشاہیت کا دین ہوتا تو اس دن مکہ خون میں ڈوب جاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح کو انتقام کے بجائے رحمت اور معافی میں بدل دیا۔ یہی وہ فرق ہے جو اسلام کی فتح کو عام دنیاوی فتوحات سے الگ کرتا ہے۔
یہاں ہمیں دو مختلف تصور سمجھنے ہوں گے۔ دنیا کے بادشاہ کے لیے فتح کا مطلب ہوتا ہے کسی کی زمین حاصل کرنا، خزانہ اپنے قبضے میں لینا اور اپنا اقتدار بڑھانا؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے اصل فتح انسان کی اصلاح، دل کی تبدیلی، اخلاق کی بلندی اور معاشرے میں عدل کا قیام تھا۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد تاریخ نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ مسلم ریاست پھیلنے لگی اور شام، عراق، مصر، ایران، شمالی افریقہ، وسطی ایشیا، سندھ اور بعد میں اندلس تک مسلم سیاسی اقتدار پہنچ گیا۔ یہ سب تاریخی واقعات ہیں، ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مسلمانوں کی ہر فتح اسلام کی فتح تھی؟
اس سوال کا جواب ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ قرآن سے دینا ہوگا۔
قرآن نے کہیں یہ نہیں کہا کہ مسلمان دوسری قوموں کی زمینیں فتح کرکے اپنی سلطنت بڑھائیں۔ قرآن نے کہیں یہ نہیں کہا کہ کسی ملک پر قبضہ کرنا بذاتِ خود عبادت ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کی عظمت کا معیار بھی ان کے زیرِ اقتدار علاقے نہیں بتائے، بلکہ فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ، ’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (الحجرات: 13)
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جو سیاسی اور فوجی فتوحات ہوئیں، انہیں تاریخ کے واقعات کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔ ان کے اسباب پر بحث ہوسکتی ہے، ان کے نتائج کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، لیکن صرف اس وجہ سے کہ ان فتوحات میں حصہ لینے والے مسلمان تھے، انہیں اسلام کا مقصد یا اسلام کے لیے قابلِ فخر دینی کارنامہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مسلمان کا ہر عمل اسلام نہیں ہوتا؛ اسلام وہ ہے جو قرآن نے سکھایا۔
اگر ہم اس فرق کو ختم کردیں تو پھر کسی مسلمان بادشاہ کا ظلم بھی اسلامی بن جائے گا، اس کی اقتدار کی خواہش بھی اسلامی بن جائے گی، اس کی ہر جنگ جہاد کہلائے گی اور اس کی ہر سیاسی توسیع دین کی سربلندی قرار پائے گی۔ پھر ہم اسلام کو قرآن سے نہیں بلکہ بادشاہوں کی تاریخ سے سمجھنے لگیں گے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام کی سیرت ہمارے لیے بہت اہم ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام نے دین کی حفاظت زمینوں کی فتح سے نہیں کی، بلکہ قرآن، علم، اخلاق، عبادت، عدل، صبر، قربانی اور حق کی حفاظت کے ذریعے کی۔ انہوں نے دین کی کامیابی کو سلطنت کی وسعت سے نہیں بلکہ انسان کے ایمان، عقل اور کردار سے ناپا۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور ان کے بعد ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تاریخ اسی زاویے سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دین کو بادشاہت کی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے کردار اور قربانی کے ذریعے زندہ رکھا۔

مسلمانوں سے ایک سوال

مسلمانوں سے ایک سوال،

  33سال بمقابلہ 3 سال — احادیث کا یہ فرق کیوں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی احادیث ہمارے دین کا اہم سرمایہ ہیں۔ اس لیے تاریخِ اسلام کو سمجھنے والے ہر شخص کے سامنے ایک سوال ضرور آنا چاہیے۔
حضرت علیؑ نے رسولؐ خدا کی آغوش میں آنکھ کھولی، آپؐ کے ساتھ بچپن گزارا اور آپؐ ہی کی تربیت میں پلے بڑھے۔ بعثت سے پہلے تقریباً 10 سال اور بعثت کے بعد رسول اللہ کی رحلت تک تقریباً 23 سال آپؐ کے ساتھ رہے؛ یعنی مجموعی طور پر تقریباً 33 سال کا ساتھ۔ رسولؐ خدا کی زندگی کا شاید ہی کوئی اہم مرحلہ ہو جس میں حضرت علیؑ شریک نہ رہے ہوں۔ لیکن اہلِ سنت کے مشہور شمار کے مطابق حضرت علیؑ سے تقریباً 586 احادیث منقول ہیں۔
اب دوسری طرف ابو ہریرہ کو دیکھیے۔ وہ تقریباً 7 ہجری میں اسلام لائے اور رسول اللہ کی رحلت سے پہلے صرف تقریباً تین سال آپؐ کی صحبت میں رہے۔ لیکن ان سے منقول احادیث کی تعداد 5374 بتائی جاتی ہے۔
تو سوال بالکل سادہ ہے:
جس علیؑ نے رسولؐ کے ساتھ تقریباً 33 سال گزارے، ان کی روایات 586؛ اور جو تقریباً 3 سال ساتھ رہے، ان کی روایات 5374؟ آخر ایسا کیوں ہوا؟
کیا یہ فرق محض اتفاق ہے؟ یا ہمیں تاریخ کے ان خاموش صفحات کو بھی کھولنا چاہیے جہاں شاید یہ طے ہوا کہ رسولؐ کے علم تک پہنچنے والے بابِ علم، علیؑ، تک امت کی رسائی کتنی رہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ علم کا دروازہ ہمارے سامنے موجود تھا، مگر تاریخ کے کسی موڑ پر اس دروازے تک پہنچنے کا راستہ محدود کر دیا گیا؟
جبکہ رسول خدا کا فرمان ہے 
“أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ، وَعَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِينَةَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ”
ترجمہ:
میں علم کا شہر ہوں، اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں؛ پس جو شخص اس شہر میں داخل ہونا چاہے، اسے دروازے سے آنا چاہیے،
حوالہ:
الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابة، ج 3، ص 137، حدیث 4637۔ 
اور اگر یہ سب محض اتفاق تھا تو پھر سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے:
33 سالہ رفاقت سے 586 روایات، اور تقریباً 3 سالہ صحبت سے 5374—کیا تاریخ ہم سے اس غیر معمولی فرق کی کوئی واضح وجہ پوچھنے کی اجازت نہیں دیتی؟
یہ کسی کی توہین نہیں، نہ کسی پر الزام ہے۔ یہ صرف ایک سوال ہے؛ لیکن ایسا سوال جو ہمیں اپنی تاریخ، اپنے حدیثی ذخیرے اور علمِ رسولؐ تک پہنچنے کے ذرائع کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
عالمِ اسلام! اب ذرا رُک کر سوچیے…
یہ صرف 586 اور 5374 کا فرق نہیں؛ یہ سوال ہے کہ رسولؐ کے علم تک امت کس راستے سے پہنچی، اور کس راستے سے محروم رہی؟
اگر بابِ علم علیؑ ہمارے سامنے تھا، تو پھر علم کے اس دروازے تک ہماری رسائی اتنی محدود کیوں رہی؟
کیا یہ محض اتفاق تھا، یا تاریخ کے کسی موڑ پر علم کا راستہ ہی بدل دیا گیا؟
عالمِ اسلام! صرف اعداد کو مت دیکھیے؛ ان اعداد کے پیچھے چھپی تاریخ کو پڑھیے۔
اور پھر خود سے فیصلہ کیجیے:
یہ فرق صرف روایتوں کا ہے… یا روایت کی تاریخ کا بھی؟
شعور جعفری

Friday, 4 September 2026

استاد انسان بنانےوالا معمار

استاد — انسان بنانے والا معمار

✍🏻 سیدکرامت حسین شعور جعفری

استاد صرف وہ شخص نہیں جو کتاب پڑھاتا ہے؛ وہ انسان کے ذہن کو روشنی، فکر کو سمت اور کردار کو بلندی عطا کرتا ہے۔ والدین انسان کو وجود دیتے ہیں، مگر استاد اس وجود کو مقصد اور شعور عطا کرتا ہے۔ وہ محض الفاظ نہیں سکھاتا، زندگی کو سمجھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
اسلام نے علم کو غیر معمولی مقام عطا کیا۔ قرآن کی پہلی وحی ہی ’’اقْرَأْ‘‘ سے شروع ہوئی:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی اور انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
(سورۂ علق: 1-5)
اور فرمایا:
هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘
(سورۂ زمر: 9)
رسولِ اکرم ص نے فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا
’’مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
(سنن ابن ماجہ)
یہ ارشاد استاد کے مقام کی عظمت کے لیے کافی ہے کہ تعلیم، انبیائے کرام کے مشن سے وابستہ ہے۔
استاد کی ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرنا نہیں؛ وہ نسلوں کے مستقبل کا امین ہے۔ اس کا ایک جملہ کسی طالب علم کی زندگی بدل سکتا ہے، ایک حوصلہ افزائی اس کے اندر اعتماد پیدا کرسکتی ہے اور ایک اچھی نصیحت برسوں تک اس کے ساتھ چل سکتی ہے۔
ایک اچھا استاد صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ کیسے سوچنا ہے۔ وہ علم کے ساتھ ادب، کامیابی کے ساتھ عاجزی، اختلاف کے ساتھ برداشت اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری سکھاتا ہے۔ کیونکہ تعلیم کا مقصد صرف پڑھے لکھے انسان پیدا کرنا نہیں، اچھے انسان پیدا کرنا ہے۔
استاد کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کا علم اس کے شاگردوں کے کردار میں زندہ رہتا ہے۔ ایک استاد کا شاگرد ڈاکٹر، انجینئر، عالم، ادیب یا سائنس دان بن سکتا ہے، مگر استاد کی حقیقی کامیابی تب ہوتی ہے جب اس کا شاگرد ایک اچھا انسان بن جائے۔
اسی لیے استاد کا احترام کسی ایک دن کا تقاضا نہیں۔ یومِ استاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری کامیابیوں کے پیچھے ان ہاتھوں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے کبھی ہماری انگلی پکڑ کر پہلا حرف لکھایا تھا۔
وقت گزر جاتا ہے، کلاسیں ختم ہوجاتی ہیں، کتابیں پرانی ہوجاتی ہیں، مگر سچا استاد دل سے کبھی رخصت نہیں ہوتا۔ اس کی آواز مشکل وقت میں سنائی دیتی ہے، اس کی نصیحت زندگی کے موڑ پر راستہ دکھاتی ہے، اور اس کا دیا ہوا علم اندھیروں میں چراغ بن کر جلتا رہتا ہے۔
استاد صرف شمع نہیں جو خود جل کر روشنی دے؛ وہ وہ ہاتھ ہے جو ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن کرتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف کتاب نہیں پڑھاتا، زندگی پڑھاتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف ذہن نہیں بناتا، کردار بناتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف شاگرد نہیں بناتا، انسان بناتا ہے۔
یومِ استاد پر تمام اساتذۂ کرام کو عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ سلام۔
اللہ تعالیٰ ہر مخلص استاد کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اس کی محنت کو صدقۂ جاریہ بنائے اور اس کے شاگردوں کو اس کے لیے باعثِ فخر بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Thursday, 3 September 2026

علیؑ کو سیاست سکھانے کی جسارت؟ پہلے صفین کا خون پڑھو

علیؑ کو سیاست سکھانے کی جسارت؟ پہلے صفین کا خون پڑھو…
سجاد نعمانی اپنے اموی خاندان شجرۂ ملعونہ بنی امیہ کی وفاداری کا حق ادا کرتے کرتے بدبختی کی اس منزل پر پہنچ گئے ہیں کہ اب انہیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سیاست پر تبصرہ کرنے اور شیرِ خدا کو سیاسی مصلحت کا سبق دینے کی جسارت ہونے لگی ہے۔
یہ وہ علی علیہ السلام ہیں جن کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«وأقضاهم علي»
’’اور ان سب میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں۔‘‘
یہ کسی بعد کے مؤرخ کا تبصرہ نہیں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے۔ یہ روایت اہلِ سنت کی متعدد کتب میں منقول ہے؛ مثلاً سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمة، باب فضائل أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حدیث 154 میں یہ الفاظ موجود ہیں: «وأقضاهم علي»۔
اب سوال یہ ہے کہ جس علی علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت میں فیصلہ و قضا کے اعتبار سے ممتاز فرمایا، انہیں آج کا کوئی دین فروش مُلا اپنی منافقت کی مصلحتوں کے ترازو میں تولنے کی جسارت کہاں سے لاتا ہے؟
سجاد نعمانی صاحب!
 علی علیہ السلام نے صفین کسی جذباتی کیفیت میں نہیں سجائی تھی۔ وہ ایک ایسے گروہ کے مقابل کھڑے ہوئے تھے جس نے امامِ وقت کے خلاف بغاوت اور سرکشی اختیار کی تھی۔
اور اس معاملے میں صرف شیعہ مصادر کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں؛ صحیح بخاری کی وہ حدیث کافی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
«تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
’’تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘
صحیح البخاری، کتاب الصلاة، حدیث 447۔
عمار رضی اللہ عنہ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے اور وہیں شہید ہوئے۔ اسی لیے حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں حدیثِ عمار سے استدلال کرتے ہوئے لکھا کہ اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید ہے، کیونکہ عمار کو معاویہ کے لشکر نے قتل کیا۔
اب سجاد نعمانی صاحب سے ہمارا سیدھا سوال ہے:
اگر علی علیہ السلام کو معاویہ کے مقابل صفین نہیں جانا چاہیے تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ’’الفئة الباغية‘‘ والی حدیث کا مصداق کون تھا؟
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم نہیں تھا کہ ایک دن علی علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان جنگ ہوگی؟
یا آج کے بے ایمان مُلا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ سیاسی بصیرت حاصل ہوگئی ہے؟
امام حسنؑ کی صلح، علیؑ کے خلاف دلیل نہیں
سجاد نعمانی صاحب اگر امام حسن علیہ السلام کی صلح کو حضرت علی علیہ السلام کے فیصلے کے مقابل دلیل بنانا چاہتے ہیں تو پہلے تاریخ کا بنیادی اصول سمجھ لیں:
حالات بدلتے ہیں، حکمتِ عملی بدلتی ہے؛ مگر حق نہیں بدلتا۔
امام حسن علیہ السلام نے اپنے زمانے کے حالات میں صلح کی۔ خود صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
«إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور شاید اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرا دے۔‘‘
صحیح البخاری، کتاب الصلح، حدیث 2704۔
یہ امام حسن علیہ السلام کی عظمت ہے، مگر اسے علی علیہ السلام کے خلاف دلیل بنانا تاریخی مغالطہ اور فکری بددیانتی ہے۔
اگر حسن علیہ السلام کی صلح درست تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ علی علیہ السلام کا صفین میں قیام غلط تھا۔
جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقع پر صلح کی اور دوسرے موقع پر جنگ کی، اسی طرح علی علیہ السلام نے اپنے حالات میں قتال کیا اور حسن علیہ السلام نے اپنے حالات میں صلح۔
جنگ ہمیشہ غلط نہیں ہوتی اور صلح ہمیشہ درست نہیں ہوتی؛ اصل معیار حق ہے، حالات ہیں اور مقصد ہے۔
پھر حسینؑ کہاں کھڑے ہوں گے؟
سجاد نعمانی صاحب کی مصلحتی سیاست کا سب سے بڑا امتحان یہاں شروع ہوتا ہے۔
اگر علی علیہ السلام کو معاویہ کے مقابل صفین سے بچنا چاہیے تھا، اگر ہر سیاسی نزاع کا حل صلح ہی ہے، اگر اقتدار کے مقابل مزاحمت ’’جذباتیت‘‘ ہے، تو پھر حسین علیہ السلام نے یزید کے سامنے سر کیوں نہیں جھکا دیا؟
کیوں بیعت قبول نہیں کرلی؟
کیوں مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کا سفر اختیار کیا؟
کیوں اپنی جان، اپنے اصحاب، اپنے جوانوں اور اپنے خاندان کو قربان کردیا؟
اس لیے کہ حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ ہر صلح صلحِ حسن نہیں ہوتی، ہر مصلحت حکمت نہیں ہوتی، اور ہر خاموشی امن نہیں ہوتی۔
حسن علیہ السلام نے جہاں امت کے خون کو بچانے کے لیے صلح کی، وہاں حسین علیہ السلام نے اس مقام پر قیام کیا جہاں خاموشی اور بیعت باطل اقتدار کو شرعی جواز عطا کردیتی۔
اصل مسئلہ معاویہ اور یزید کا دفاع ہے
مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی خاص سیاسی و تاریخی منصوبے کے تحت معاویہ کو ہر قیمت پر ’’مصلحت کا علمبردار‘‘ ثابت کرنا مقصود ہو تو سب سے پہلے حضرت علی ع کے موقف کو مشکوک بنایا جاتا ہے۔
پھر کہا جاتا ہے:
علی کو جنگ نہیں کرنی چاہیے تھی۔
علی کو صلح کرلینی چاہیے تھی۔
حسن نے صلح کی، علی نے کیوں نہ کی؟
اور یہی منطق آگے بڑھ کر حسین علیہ السلام کے قیام پر بھی سوال اٹھانے لگتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ کے ساتھ کھلواڑ شروع ہوتا ہے۔
علی علیہ السلام کو سیاست کا سبق دینے والے بھول جاتے ہیں کہ علی علیہ السلام سیاست کے طالب علم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مکتب کے تربیت یافتہ تھے۔
وہ علی علیہ السلام جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علم و قضا میں ممتاز فرمایا؛
وہ علی علیہ السلام جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«علي مني وأنا منه»
’’علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔‘‘
وہ علی علیہ السلام جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«من كنت مولاه فعلي مولاه»
’’جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔‘‘
ایسے علی علیہ السلام کے فیصلوں کو آج کے سیاسی خطیب کے ’’خواب‘‘، ’’تجزیے‘‘ یا ’’مصلحتی فارمولے‘‘ کی کسوٹی پر پرکھنا، علم نہیں بلکہ جسارت ہے۔
صفین کو سمجھو، پھر علیؑ پر تبصرہ کرو
صفین کو صرف ’’ایک جنگ‘‘ سمجھنے والے تاریخ نہیں سمجھتے۔
یہ سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ ہوئی یا صلح؟
اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کس کے خلاف تھی، کیوں تھی، کس نے بغاوت کی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس فتنے کے بارے میں پہلے سے کیا فرمایا تھا؟
عمار کا خون صفین کے میدان میں گرا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان پہلے ہی موجود تھا۔
علی علیہ السلام میدان میں موجود تھے۔
اب اگر اس پورے تاریخی تسلسل کے باوجود کوئی شخص علی علیہ السلام کو ہی سیاست کا ناقص طالب علم ثابت کرنے کی کوشش کرے تو مسئلہ تاریخ میں نہیں، اس شخص کی قرأتِ تاریخ میں ہے۔
سجاد نعمانی صاحب!
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے سے پہلے علی علیہ السلام کی سیاست پڑھ لیجیے۔
حسن علیہ السلام کی صلح کو علی علیہ السلام کے خلاف استعمال کرنے سے پہلے دونوں ادوار کے حالات سمجھ لیجیے۔
اور حسین علیہ السلام کے قیام کو ’’جذباتیت‘‘ یا ’’سیاسی ناپختگی‘‘ کے زاویے سے دیکھنے سے پہلے یہ طے کرلیجیے کہ کیا یزید کے سامنے بیعت کرنا واقعی وہ مصلحت تھی جسے آپ دین کی سیاست قرار دینا چاہتے ہیں؟
ہم صاف کہتے ہیں:
علی علیہ السلام کو معاویہ سے سیاست سیکھنے کی ضرورت نہیں تھی؛ معاویہ کو علی علیہ السلام کے سامنے اپنی سیاسی حیثیت ثابت کرنی تھی۔
اور حسین علیہ السلام کو یزید سے مصلحت کرنے کی ضرورت نہیں تھی؛ یزید کو حسین علیہ السلام کی بیعت کی ضرورت تھی۔
فرق صرف اتنا ہے کہ علی علیہ السلام نے بغاوت کے سامنے تلوار اٹھائی، حسن علیہ السلام نے مصلحت کے ذریعے امت کا خون بچایا، اور حسین علیہ السلام نے باطل کو اپنی بیعت کا تقدس دینے سے انکار کردیا۔
یہ اہلِ بیت علیہم السلام کی سیاست ہے—جس کے سامنے آج کے سیاسی خطیبوں کی تمام مصلحتیں، تاویلیں اور خواب پر مبنی تعبیرات ہیچ ہیں۔
اس سیاست کو سمجھنے کے لیے علی علیہ السلام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہوگا، نہ کہ اپنی محدود عقل کو علی علیہ السلام کے سامنے استاد بنا کر کھڑا کرنا ہوگا۔
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے نکلنے والو
 ذرا اپنی اوقاتِ علمی کا بھی حساب کرلو؛ تم ابھی تاریخ کے چند اوراق پڑھ کر خود کو سیاست کا افلاطون سمجھ بیٹھے ہو، جبکہ علی علیہ السلام وہ ہیں جن کی عدالت، بصیرت اور شجاعت پر تاریخ کے بڑے بڑے کرداروں نے اپنے فیصلے چھوڑے ہیں۔
جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «أقضاهم علي» کہہ کر امت کے درمیان فیصلے کی عظیم صلاحیت عطا فرمائی، اسے آج کا کوئی بدبخت ُ دین فروش ملا اپنے ’’سیاسی نسخوں‘‘ سے درست کرنے بیٹھے—تو یہ علی علیہ السلام کی کمزوری نہیں، اپنی فکری نجاست کی انتہا ہے۔
لہٰذا علی علیہ السلام کو سیاست کا سبق دینے سے پہلے اپنی کم فہمی کو علی علیہ السلام کی بصیرت پر مسلط کرنے کی جسارت سے باز آؤ۔
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے کی کوشش مت کرو؛�تاریخ تمہاری کتاب نہیں، علی علیہ السلام کا میدان ہے—اور صفین آج بھی تمہاری تعبیر کے منہ پر ایک سوال بن کر کھڑی ہے۔
✍🏻 شعور جعفری

Sunday, 30 August 2026

بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

بعد از خدا بزرگ توئی، قصہ مختصر

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

کائنات اگر ایک نغمہ ہے تو اس کی سب سے بلند لے محمد مصطفیٰؐ کا نام ہے؛ وقت اگر ایک بے کنار دریا ہے تو اس کے صفحات پر سب سے روشن موڑ بعثتِ محمدؐ ہے؛ اور انسانی تاریخ اگر ایک طویل داستان ہے تو اس کا سب سے درخشاں، سب سے بامعنی اور سب سے تابندہ باب سیرتِ محمدؐ ہے۔ آسمانوں کی وسعتیں اپنی جگہ، زمینوں کی پہنائیاں اپنی جگہ، زمانوں کے نشیب و فراز اپنی جگہ اور انسان کے فکر و شعور کی تمام منزلیں اپنی جگہ؛ مگر محمدؐ کی ذات وہ مرکز ہے جہاں رحمت، ہدایت، اخلاق، عدل، علم، حکمت اور انسانیت ایک ہی نور میں جمع ہو جاتے ہیں۔
تاریخ نے بڑے بڑے فاتح دیکھے، بادشاہ دیکھے، مفکر دیکھے، فلسفی دیکھے اور مصلح دیکھے۔ کسی نے سلطنتیں بنائیں، کسی نے علوم کے نئے دروازے کھولے، کسی نے فلسفے کی بنیاد رکھی اور کسی نے تلوار کے زور پر سرزمینیں فتح کیں؛ مگر محمدؐ کا معجزہ یہ ہے کہ آپؐ نے صرف زمین نہیں جیتی، دل جیتے؛ صرف معاشرہ نہیں بدلا، انسان بدلا؛ صرف زمانہ نہیں بدلا، زمانے کا مزاج بدل دیا۔ آپؐ نے انسان کو صرف یہ نہیں بتایا کہ خدا کو کیسے پوجنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ خدا کے بندوں کے ساتھ کیسے جینا ہے۔ آپؐ نے عبادت کو روح دی، اخلاق کو مرکز بنایا، عدل کو معاشرے کی بنیاد بنایا، علم کو فضیلت قرار دیا اور رحمت کو انسانی تعلقات کا مزاج بنا دیا۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن نے آپؐ کی بعثت کو کسی ایک قوم، قبیلے، خطے یا زمانے کی حدود میں مقید نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی آیت میں نبوت کا پورا افق سمیٹ دیا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
 (الانبیاء: 107)
 “اور ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔”
یہ مختصر آیت اپنے اندر نبوت کا ایک وسیع فلسفہ لیے ہوئے ہے۔ محمدؐ کسی ایک نسل کے نبی نہیں، کسی ایک خطے کے رہنما نہیں، کسی ایک عہد کے مصلح نہیں؛ آپؐ رحمةً للعالمین ہیں۔ آپؐ کی رحمت سرحدوں، نسلوں، زبانوں اور زمانوں سے بلند ہے۔ آپؐ کی بعثت انسانیت کے لیے ہدایت کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں زندگی کا راستہ بھی دکھائی دیتا ہے اور منزل بھی۔
محمدؐ کی آمد سے پہلے عرب کا معاشرہ قبائلی عصبیت، طبقاتی تفاوت، ظلم، انتقام اور جاہلی رسوم کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ بیٹی کی پیدائش بعض گھروں میں باعثِ ندامت سمجھی جاتی، کمزور کا حق طاقتور کے ہاتھ میں تھا، غلام کو انسان سے کم تر سمجھا جاتا اور قبیلہ قانون سے بلند تصور ہوتا تھا۔ ایسے ماحول میں محمدؐ آئے اور انسان کو اس کی اصل قدر سے آشنا کیا۔ آپؐ نے بتایا کہ انسان کی عظمت اس کے مال، نسب، رنگ اور قبیلے میں نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار میں ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
 (الحجرات: 13)
یہ محض ایک مذہبی تعلیم نہیں تھی؛ یہ انسان کی عزت کا عالمی منشور تھا۔ یہ اعلان تھا کہ انسان کو اس کے خون سے نہیں، کردار سے پہچانو؛ خاندان سے نہیں، تقویٰ سے پہچانو؛ لباس سے نہیں، عمل سے پہچانو۔
لیکن محمدؐ کی عظمت کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ آپؐ نے انقلاب صرف باہر برپا نہیں کیا، انسان کے اندر برپا کیا۔ آپؐ نے شہر فتح کرنے سے پہلے دل فتح کیے، حکومت قائم کرنے سے پہلے کردار تعمیر کیے، معاشرہ بدلنے سے پہلے انسان کے باطن کو بدلا۔ اسی لیے آپؐ کی قائم کردہ تہذیب محض اقتدار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاق کی بنیاد پر زندہ رہی۔ آپؐ نے ریگستان کے ایک منتشر معاشرے کو ایسا شعور عطا کیا کہ وہ تاریخ کا منتشر ہجوم نہیں رہا بلکہ ایک امت بن گیا۔
قرآن نے آپؐ کی عظمت کے لیے الفاظ کا ایک ایسا انتخاب کیا جس میں پوری سیرت کا خلاصہ سمٹ آتا ہے:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
 (القلم: 4)
 “اور بے شک آپؐ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔”
غور کیجیے! قرآن نے رسولؐ کی عظمت بیان کرتے ہوئے آپؐ کے حسب و نسب، ظاہری جاہ و جلال یا دنیاوی اقتدار کو بنیاد نہیں بنایا؛ خُلُقٍ عَظِيمٍ کہا۔ گویا نبوت کا حسن صرف معجزے میں نہیں، کردار میں بھی ہے؛ رسالت کی روشنی صرف وحی کے الفاظ میں نہیں، رسولؐ کے اخلاق میں بھی ہے؛ اور محمدؐ کی سب سے بڑی پہچان صرف یہ نہیں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آپؐ اخلاق کی اس بلندی پر فائز ہیں جہاں انسانیت اپنی بہترین صورت میں دکھائی دیتی ہے۔
رسولؐ نے فرمایا:
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ»
“میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔”
 (موطأ امام مالک، کتاب حسن الخلق)
یہ حدیث سیرتِ محمدؐ کو سمجھنے کی ایک بنیادی کلید ہے۔ اگر بعثت کا ایک عظیم مقصد اخلاق کی تکمیل ہے تو محمدؐ سے محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارے اخلاق میں بھی محمدؐ کی خوشبو پیدا ہو۔ زبان پر درود ہو مگر زبان سے کسی کی عزت محفوظ نہ ہو؛ مسجد میں حاضری ہو مگر بازار میں دھوکا ہو؛ محفل میں نعت ہو مگر گھر میں بدخلقی ہو؛ مذہبی گفتگو ہو مگر دل میں تکبر، حسد اور نفرت ہو—تو ہمیں اپنے دعوائے محبت اور حقیقتِ محبت کے درمیان موجود فاصلے کو ضرور دیکھنا چاہیے۔
سیرت کا اصل سوال یہی ہے: ہم محمدؐ کو کتنا جانتے ہیں، سے زیادہ یہ کہ ہم محمدؐ کو کتنا جیتے ہیں؟
سیرت صرف غزوات کے نام یاد کرنے کا نام نہیں، صرف ولادت کے واقعات سنانے کا نام نہیں، صرف نعت و درود کی محفلیں سجانے کا نام نہیں۔ سیرت تو اس لمحے شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے کردار کو رسولؐ کے کردار کے سامنے رکھتا ہے اور اپنے آپ سے پوچھتا ہے: میری زبان میں محمدؐ کی سچائی کتنی ہے؟ میرے معاملات میں محمدؐ کی امانت کتنی ہے؟ میرے دل میں محمدؐ کی رحمت کتنی ہے؟ میرے فیصلوں میں محمدؐ کا عدل کتنا ہے؟ میری معافی میں محمدؐ کا حلم کتنا ہے؟ اور میری زندگی میں محمدؐ کی سنت کتنی ہے؟
قرآن نے رسولؐ کو صرف قابلِ احترام شخصیت قرار نہیں دیا بلکہ اسوۂ حسنہ بنایا:
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾
 (الاحزاب: 21)
یعنی محمدؐ صرف تاریخ میں گزر جانے والی ایک عظیم ہستی نہیں؛ محمدؐ آج بھی زندگی کا معیار ہیں۔ آپؐ کا کردار آج بھی اخلاق کا میزان ہے، آپؐ کا عدل آج بھی معاشرتی انصاف کا معیار ہے، آپؐ کی رحمت آج بھی انسانیت کے لیے پناہ ہے اور آپؐ کی سیرت آج بھی بھٹکتی ہوئی دنیا کے لیے راستہ ہے۔
اسی لیے سیرت کو پڑھنے کا حق صرف آنکھوں سے پڑھ لینا نہیں؛ اسے دل سے سمجھنا، عقل سے پرکھنا اور زندگی میں اتارنا ہے۔ محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہ نہیں کہ ہم محمدؐ کا نام کتنی بار لیتے ہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ محمدؐ کا نام ہماری زندگی کو کتنی بار بدلتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نعت ختم ہوتی ہے اور سیرت شروع ہوتی ہے؛ جہاں الفاظ خاموش ہوتے ہیں اور کردار بولنے لگتا ہے؛ جہاں محبت دعوے سے نکل کر عمل بن جاتی ہے۔
اور شاید اسی حقیقت کے لیے شاعر نے پوری کائناتِ محبت کو چند الفاظ میں سمیٹ دیا:
بعد از خدا، بزرگ توئی، قصہ مختصر۔
اللّٰهم صلِّ علىٰ محمدٍ وآلِ محمد۔

Friday, 28 August 2026

یزید ایک خونی میراث

یزید: ایک خونی میراث۔

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

تاریخ کے کچھ نام صرف نام نہیں رہتے؛ وہ اپنے ساتھ ایک پورا عہد، ایک پورا مزاج، ایک پوری سیاست اور ظلم و بربریت کی ایک پوری داستان اٹھائے پھرتے ہیں؛ یزید بھی ایسا ہی نام ہے۔ یزید کو سمجھنا ہو تو صرف کربلا کے میدان میں کھڑے اس شخص کو نہ دیکھیے؛ تاریخ کی چند دہائیاں پیچھے جائیے، اس گھر کی دہلیز تک پہنچئے جہاں اس نے آنکھ کھولی، ان سازشی مکار کرداروں کو دیکھیے جن کی چھاؤں میں اس کی شخصیت بنی، اس سیاست کو دیکھیے جس میں اقتدار کے لیے اصول قربان ہوتے گئے، اور اس خونی میراث کو دیکھیے جو ابو سفیان سے ہندہ، ہندہ سے معاویہ، معاویہ سے یزید اور یزید سے کربلا تک پہنچتی ہوئی اپنی بھیانک صورت میں سامنے آئی۔ یہاں بحث محض نسب کی نہیں بلکہ اس پست فکری، مکارسیاسی اور ہوس بھرے اقتداری ماحول کی ہے جس میں مکر، جبر، ظلم ، بربریت،انتقام کی آگ اور سلطنت کی حفاظت کو اخلاق و اصول پر ترجیح ملتی چلی گئی۔
یزید کا دادا ابو سفیان مکہ کے ان خونخوار سرداروں میں تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کے خلاف قریش کی سیاسی،سماجی اور عسکری مزاحمت کی قیادت کی؛ بدر، احد اور احزاب اسی کشمکش کے بڑے ابواب ہیں، اور فتح مکہ تک یہ خاندان اسلام کے مقابل بدترین دشمن بن کے کھڑا رہا۔ پھر یزید کی دادی ہند بنت عتبہ کا کردار سامنے آتا ہے؛
 جنگ احد کی خونیں روایات میں اس کا نام حضرت حمزہ علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے جسدِ مبارک کے ساتھ وحشیانہ سلوک کے حوالے سے سامنے آیا، یہاں تک کہ ابن ہشام ابن اسحاق سے نقل کرتے ہیں: «وَبَقَرَتْ عَنْ كَبِدِ حَمْزَةَ، فَلَاكَتْهَا، فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تُسِيغَهَا، فَلَفَظَتْهَا»، یعنی: “اس نے حمزہ کے جگر کو چاک کیا، اسے چبایا، مگر نگل نہ سکی تو اسے باہر پھینک دیا۔” السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ج 2، ص 129۔ 
یوں یزید کے خاندانی پس منظر میں ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف قدیم دشمنی،مکارسیاسی مزاحمت تھی اور دوسری طرف احد کی وہ خونیں یادیں جنہیں تاریخ آج تک بھلا نہ سکی۔
پھر اسی گھر کا بیٹا معاویہ تاریخ کے منظر پر آتا ہے؛ ابو سفیان کی قبائلی سیاست اب ایک منظم اقتداری سیاست کی صورت اختیار کرتی ہے، حضرت علی علیہ السلام کے مقابل صف آرائی ہوتی ہے، جنگ صفین برپا ہوتی ہے، اور اسی معرکے میں حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ علیہ شہید ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے ہی فرمایا تھا: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»، یعنی: “عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔” صحیح مسلم، حدیث 2916، کتاب الفتن۔
 عمار حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے اور صفین میں معاویہ کے لشکر کے مقابل شہید ہوئے؛ یوں صفین صرف دو لشکروں کی جنگ نہ رہی بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس پیش گوئی کے سامنے کھڑا ایک تاریخی سوال بن گئی جسے صدیوں کی تاویلیں بھی ختم نہ کرسکیں۔
اور معاویہ کے بارے میں صحیح مسلم میں رسول اللہ ص کے وہ الفاظ بھی محفوظ ہیں جو تاریخ کے دامن سے کبھی جدا نہیں ہوسکے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو معاویہ کو بلانے کے لیے بھیجا گیا، وہ واپس آئے اور بتایا کہ معاویہ کھانا کھا رہے ہیں؛ دوبارہ بھیجا گیا تو پھر یہی جواب ملا، اس پر رسول اللہ ص نے فرمایا: «لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ»، یعنی: “اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کرے۔” صحیح مسلم، حدیث 2604، کتاب البر والصلة والآداب۔ یہ کسی بعد کے مؤرخ کا الزام نہیں بلکہ صحیح مسلم میں محفوظ رسول اللہ ص کے الفاظ ہیں۔
معاویہ کی حکومت خلافتِ راشدہ کے اجتماعی تصورِ قیادت کا تسلسل نہیں بلکہ اقتدار کی وہ نئی صورت تھی جس نے حکمرانی کو سلطنت اور سلطنت کو خاندان کی میراث بنا دیا؛ اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کرکے اس نے اقتدار کی موروثی بنیاد مضبوط کردی، اور یزید نے تخت سنبھالتے ہی سب سے پہلے حسین بن علی علیہما السلام سے بیعت کا مطالبہ کیا—کیونکہ حسین علیہ السلام کی بیعت اس موروثی سلطنت کے لیے جواز، اور حسین علیہ السلام کا انکار اس کے خلاف سب سے بڑی اخلاقی گواہی تھا؛ 
تاریخ طبری میں یزید کا ولید بن عتبہ کے نام حکم محفوظ ہے: «فَخُذْ حُسَيْنًا وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ بِالْبَيْعَةِ أَخْذًا شَدِيدًا لَيْسَتْ فِيهِ رُخْصَةٌ حَتَّى يُبَايِعُوا»، یعنی: “حسین، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر سے سختی کے ساتھ بیعت لو، کسی قسم کی گنجائش نہ چھوڑو یہاں تک کہ وہ بیعت کرلیں۔” تاریخ الطبری، ج 3، ص 269۔ 
اس ایک حکم میں یزیدی اقتدار کا پورا مزاج سمٹ آتا ہے: امام حسین علیہ السلام سے اختلاف نہیں، بیعت کا مطالبہ؛ دلیل نہیں، دباؤ؛ حق کی تلاش نہیں، تخت کا تحفظ۔
لیکن یزید کی داستان کو اس کے باپ معاویہ سے الگ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یزید سے پہلے اسی اقتداری سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام اور حضرت حسن علیہ السلام کے خونیں ابواب لکھے جاچکے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت بظاہر عبدالرحمن بن ملجم کے ہاتھوں ہوئی، لیکن اس کے پیچھے معاویہ کی جانب سے سیاسی حالات اور مسلسل کشمکش کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خوارج نے حضرت علی علیہ السلام، معاویہ اور عمرو بن العاص کو قتل کرنے کی سازش کی تھی، اور بلاذری نے أنساب الأشراف، ج 2، ص 489 میں اس واقعے کی تفصیل نقل کی ہے۔ مگر خوارج کی اس سازش کے عملی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی معاویہ نے وہ سیاسی فضا پیدا کردی تھی جس میں حضرت علی علیہ السلام کے خلاف دشمنی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ صفین کی جنگ اسی دشمنی کا سب سے بڑا مظہر تھی؛ چنانچہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کو اس وسیع سیاسی کشمکش سے الگ کرکے دیکھنا تاریخ کے ایک بڑے باب کو نظر انداز کرنا ہوگا۔
پھر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کا دور آتا ہے؛
 زہر دے کر شہید کیے جانے کی تاریخی روایات متعدد مصادر میں محفوظ ہیں، اور بعض تاریخی روایات اس کے پس پردہ معاویہ کی ترغیب و سازش کا مکمل ذکر ہے۔ ابن عبد البر الاستیعاب، ج 1، ص 389 میں لکھتے ہیں: «سُمَّ الحسنُ بنُ عليّ، سمَّتْه امرأتُه جَعْدَةُ بنتُ الأشعثِ بنِ قيسٍ الكِندي، وقالت طائفةٌ: كان ذلك منها بتدسيسِ معاويةَ إليها وما بذل لها في ذلك»، یعنی: “حسن بن علی کو زہر دیا گیا؛ ان کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس نے انہیں زہر دیا، اور ایک جماعت نے کہا کہ یہ معاویہ کی سازش اور اس کی طرف سے دی گئی ترغیب کے نتیجے میں ہوا۔” بلاذری نے أنساب الأشراف، ج 3، ص 55 میں بھی اس نسبت کو نقل کیا، جبکہ حاکم نیشاپوری نے المستدرک علی الصحیحین، ج 3، ص 176 میں قتادہ سے نقل کیا: «سَمَّتْ جَعْدَةُ ابْنَةُ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَكَانَتْ تَحْتَهُ، وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا»، یعنی: “جعدہ بنت اشعث بن قیس نے حسن بن علی کو زہر دیا، وہ ان کی زوجہ تھیں، اور اس کام پر انہیں مال دیا گیا۔” یوں تاریخ میں ایک ایسا سازشی سلسلہ سامنے آتا ہے جس میں علی علیہ السلام کے مقابل سیاسی جنگ اور شہادت، حسن علیہ السلام کی زہر سے شہادت کے بارے میں منقول روایات، اور پھر یزید کے لیے ہموار کیا گیا اقتدار ایک دوسرے سے جدا نظر نہیں آتے۔
یہاں آکر یزید کا خاندانی اور سیاسی پس منظر ایک خوفناک تصویر مکمل کرتا ہے: دادا کے عہد میں رسول اللہ ص کے خلاف مزاحمت، دادی کے نام سے وابستہ احد کی خونیں روایات، باپ کی علی ع کے مقابل جنگ اور موروثی اقتدار کی بنیاد، حسن علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں اسی خاندان پر وارد تاریخی شواہد اور آخرکار بیٹے یزید کے ہاتھ میں وہ سلطنت جس نے حسین علیہ السلام سے بیعت لینے کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ یہ نسب کا مقدمہ نہیں؛ یہ تاریخ کے تسلسل کا مقدمہ ہے۔
پھر حسین علیہ السلام نے بیعت سے انکار کیا؛ مدینہ سے مکہ، مکہ سے عراق، اور عراق سے کربلا تک سفر ہوا، اور یزید کی سلطنت کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نواسہ کھڑا ہوگیا۔ ایک طرف تخت، لشکر اور حکومت تھی؛ دوسری طرف حق، غیرت، آزادی اور حسین علیہ السلام تھے۔ یزید کے پاس طاقت تھی مگر حسین علیہ السلام کے پاس حق کا انکار نہ کرنے کا حوصلہ تھا؛ یزید کے پاس سلطنت تھی مگر حسین علیہ السلام کے پاس وہ کردار تھا جس کے سامنے سلطنت بے معنی ہوجاتی ہے۔ پھر کربلا آئی، خیمے جلائے گئے، رسول زادیوں کو قیدی بنایا گیا، وفادار ساتھی شہید ہوئے، علی اکبر علیہ السلام، عباس علیہ السلام اور دوسرے اصحاب و اہل بیت علیہم السلام قربان ہوئے، اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کا سر نیزے پر اٹھا دیا گیا۔
کربلا نے اس دن صرف ایک جنگ کا فیصلہ نہیں کیا؛ اس نے تاریخ میں دو اقتداروں کی حقیقت کھول دی: ایک وہ جو تلوار سے جسموں کو شکست دیتا ہے، دوسرا وہ جو قربانی سے دلوں کو فتح کرلیتا ہے۔ یزید نے سمجھا تھا کہ حسین علیہ السلام کو قتل کرکے اُن کے پیغام کو ختم کردیا جائے گا، مگر نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا؛ 
امام حسین ع کا جسم کربلا میں رہ گیا، مگر ان کا نام زمانے کے سینے پر نقش ہوگیا، جبکہ یزید کی سلطنت چند برسوں کی مہمان ثابت ہوئی اور اس کا نام کربلا کی بدترین یاد کے ساتھ ہمیشہ کے لیے وابستہ ہوگیا۔
یہ تاریخ کا وہ الٹ پھیر ہے جسے کوئی طاقت بدل نہیں سکتی: جس کے پاس لشکر تھا وہ تاریخ میں بے اختیار ہوگیا، اور جس کے پاس صرف حق تھا وہ تاریخ کا سب سے طاقتور نام بن گیا؛ جس نے تخت بچانے کے لیے حسین علیہ السلام کو قتل کیا، اس کا تخت مٹ گیا، اور جس نے تخت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا، اس کا نام قیامت تک بلند ہوگیا۔
اس لیے یزید کی سب سے بڑی تذلیل کوئی گالی نہیں؛ کربلا خود اس کی فردِ جرم ہے۔ اس کے خلاف سب سے بڑی شہادت کوئی اشتعال انگیز قصہ نہیں؛ تاریخ کے وہ صفحات ہیں جو اس کے عہد، اس کی سیاست اور اس کے اقتدار کے نتائج بیان کرتے ہیں۔ اسے رسوا کرنے کے لیے مصنوعی الفاظ کی ضرورت نہیں؛ اس کا نام لیتے ہی کربلا سامنے آجاتی ہے، حسین علیہ السلام کا خون یاد آتا ہے، زینب سلام اللہ علیہا کی استقامت یاد آتی ہے، سجاد علیہ السلام کی اسیری یاد آتی ہے، اور وہ سلطنت یاد آتی ہے جو ایک خاندان کے ہاتھ میں تھی مگر تاریخ کے سامنے ہمیشہ کے لیے شکست خوردہ ہوگئی۔
یزید کے لیے اس سے بڑی سزا کیا ہوگی کہ صدیوں گزرنے کے باوجود اس کا نام عزت کی مجلسوں میں نہیں بلکہ کربلا کے ماتم، ظلم کی مثال اور عبرت کے عنوان کے طور پر لیا جاتا ہے؛ اور حسین علیہ السلام کا نام آئے تو دل جھک جاتے ہیں، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور زبان پر بے اختیار آتا ہے:
السلام علیک یا ابا عبداللہ۔
یہی کربلا کا آخری فیصلہ ہے: تخت یزید کا تھا، مگر تاریخ حسین علیہ السلام کی ہوگئی؛ اقتدار یزید کے پاس تھا، مگر عزت امام حسین علیہ السلام کے حصے میں آئی؛ یزید نے حکومت پائی، امام حسین ع نے انسانیت جیت لی۔
اور یہی وہ شکست ہے جسے دنیا کی کوئی سلطنت، کوئی لشکر، کوئی تخت اور کوئی تاریخ کا حیلہ کبھی یزید کے نام سے جدا نہیں کرسکتا۔

Thursday, 27 August 2026

نبی رحمت کی امت اور خون آلود تاریخ

نبیِ رحمتؐ کی امت اور خون آلود تاریخ ؟

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

جس امت کی ہدایت کے لیے نبیِ رحمت، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے، جنہوں نے نفرت کے مقابلے میں محبت، ظلم کے مقابلے میں عدل، انتقام کے مقابلے میں عفو اور جاہلیت کے مقابلے میں انسانیت کا درس دیا، اسی امت کی تاریخ پڑھتے ہوئے دل ایک تلخ سوال پر آ کر رک جاتا ہے:
آخر یہ خونریزی کیوں؟
ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ دوسری قوموں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی تاریخ ظلم، جنگ، خونریزی اور بربریت سے خالی ہے۔ انسان جہاں بھی رہا، طاقت، اقتدار، تعصب، انتقام اور مفاد نے اسے بارہا ظلم کی طرف دھکیلا۔ دنیا کی تقریباً ہر قوم کے ماضی میں ایسے سیاہ ابواب موجود ہیں جنہیں پڑھ کر انسانیت شرمندہ ہوتی ہے۔
لیکن ہمارے دکھ کی شدت اس لیے زیادہ ہے کہ ہمیں صرف ایک مذہب نہیں ملا تھا، ہمیں نبیِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ملے تھے۔
ہمیں وہ رسول ملے جنہوں نے جاہلیت کے خونریز معاشرے کو انسانیت کا سبق دیا؛ جنہوں نے دشمن کے ساتھ بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا، فتح کے موقع پر انتقام کے بجائے عفو کا راستہ اختیار کیا، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی، عورتوں، بچوں اور بے گناہوں کو ظلم سے بچانے کی تعلیم دی اور انسان کی جان و عزت کو حرمت عطا کی۔
ہمیں قرآن ملا، ہمیں سیرتِ رسول ص ملی، ہمیں عدل و رحمت کا عملی نمونہ ملا، ہمیں اہلِ بیت علیہم السلام کی زندگیاں ملیں؛ پھر بھی ہماری تاریخ میں اتنا خون کیوں بہا؟
یہی سوال دل کو سب سے زیادہ دکھاتا ہے۔
دوسری قوموں کے ظلم پر حیرت ہوتی ہے، لیکن اپنی تاریخ کے ظلم پر شرمندگی ہوتی ہے؛ کیونکہ ہمارے پاس ظلم سے بچنے کے لیے صرف نظریہ نہیں تھا، ہمارے سامنے خود نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری زندگی موجود تھی۔
اس لیے ہمارا سوال دوسروں کو مجرم ٹھہرانے کے لیے نہیں، اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے ہے۔
آخر ہم نے محمد ص سے کیا سیکھا؟
رحمت یا انتقام؟�عدل یا طاقت؟
�اخوت یا نفرت؟
�انسانیت یا خونریزی؟
یہ سوال جتنا تاریخ سے ہے، اس سے کہیں زیادہ آج ہمارے اپنے ضمیر سے ہے۔
وہ نبی جنہوں نے انسان کو انسان کا خون بہانے سے روکا، دشمن کو معاف کیا، کمزور پر رحم کیا اور جان، مال اور عزت کی حرمت سکھائی۔
پھر بھی تاریخ کے صفحات کھولیں تو کہیں تلواریں ہیں، کہیں نیزے، کہیں جلتے ہوئے شہر اور کہیں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا بہتا ہوا خون۔
جنگِ اُحد کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر بھی انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی۔ ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کی بے حرمتی کی، ان کا سینہ چاک کیا، جگر نکالا اور اسے چبا ڈالا۔ یہ محض ایک شہید کے ساتھ بدسلوکی نہیں تھی؛ یہ جاہلیت کی اس وحشت کی انتہا تھی جسے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ مٹانے کے لیے آئے تھے۔ ایک طرف وہ نبی تھے جو دشمنوں کے لیے بھی رحمت تھے، اور دوسری طرف انتقام میں اندھی ہوئی وہ ذہنیت تھی جو مقتول کے جسم تک کو معاف کرنے پر آمادہ نہ تھی۔
سوچیے! جس معاشرے کو اسلام نے یہ سکھایا کہ انسان کی جان، عزت اور حرمت مقدس ہے، اسی معاشرے میں انتقام اس حد تک پہنچ گیا کہ شہید کا سینہ چاک کیا گیا اور اس کا جگر نکال کر چبایا گیا۔ یہ واقعہ صرف تاریخ کا ایک ہولناک منظر نہیں؛ یہ جاہلیت اور اسلام کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لیے ایک لرزا دینے والا آئینہ ہے۔
اور پھر سوال صرف ہند بنت عتبہ کا نہیں؛ سوال اس پوری ذہنیت کا ہے جو انسان کو دشمن سمجھتے سمجھتے اس کی لاش سے بھی انتقام لینے لگتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ایسی ہی جاہلیت کو ختم کرنے کے لیے انسانیت، رحم، عفو اور اخلاق کا چراغ روشن کیا تھا۔ مگر افسوس کہ بعد کی تاریخ میں بھی اسی امت کے اندر بارہا وہی جاہلی انتقام، خونریزی اور درندگی نئے ناموں اور نئے نعروں کے ساتھ واپس آتی رہی
پھر زمانہ آگے بڑھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد امت ابھی اس عظیم صدمے سے پوری طرح سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ اقتدار اور سیاسی اختلافات نے اس کے اندر دراڑیں ڈال دیں۔ جو لوگ کل تک ایک رسول، ایک قرآن اور ایک قبلے کے سائے میں جمع تھے، وہ رفتہ رفتہ ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہونے لگے۔
پھر جنگِ جمل ہوئی؛ مسلمان مسلمان کے مقابل کھڑا تھا۔
 پھر صفین آئی؛ قرآن پڑھنے والے ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔
 پھر نہروان نے دکھایا کہ اختلاف جب تعصب اور تکفیر کی شکل اختیار کرلے تو عبادت گزار ہاتھ بھی تلوار اٹھا سکتے ہیں۔
ایک ہی کعبہ، ایک ہی قرآن، ایک ہی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، مگر تلواریں ایک دوسرے کے سینوں پر!
یہیں سے امت کی تاریخ میں ایک ایسا باب کھلا جس میں سیاسی اختلاف صرف اختلاف نہ رہا؛ خونریزی، تکفیر اور اقتدار کی جنگ بن گیا۔ اور پھر یہ زخم صدیوں تک مختلف شکلوں میں رستا رہا۔
پھر حضرت علی علیہ السلام شہید ہوئے۔
اور تاریخ کا زخم مزید گہرا ہوگیا۔
محمد بن ابی بکر کا انجام تو اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا ہے۔ مصر میں انہیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو گدھے کی کھال میں بند کیا گیا اور پھر اسے آگ لگا دی گئی۔ یعنی انتقام کی آگ صرف ایک انسان کے قتل پر نہیں بجھی؛ مقتول کے جسم کو بھی آگ کے حوالے کیا گیا۔
محمد بن ابی بکر کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے؛ وہ حضرت ابوبکر کے صاحبزادے اور حضرت علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی تھے۔ ان کا اس طرح قتل کیا جانا اور پھر لاش کو گدھے کی کھال میں ڈال کر جلانا اس دور کی سیاسی کشمکش اور باہمی دشمنی کی اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جہاں اختلاف نے انسانیت کو بھی نگل لیا تھا۔
یہ صرف ایک قتل نہیں تھا؛ یہ اس بات کی دردناک علامت تھا کہ جب اقتدار کی جنگ دین، اخلاق اور انسانیت پر غالب آجائے تو مسلمان کے ہاتھ سے مسلمان کی لاش بھی محفوظ نہیں رہتی۔
پھر کربلا آئی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ صرف خون سے نہیں، شرمندگی سے بھی لکھ دی گئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے نواسے، حضرت امام حسین علیہ السلام، اپنے اہلِ بیت علیہم السلام اور باوفا اصحاب کے ساتھ کھڑے تھے، اور سامنے وہ لوگ تھے جو اسی امت سے نسبت رکھتے تھے۔
وہاں تلوار نے صرف امام حسین علیہ السلام کو شہید نہیں کیا؛ اس نے امت کے ضمیر پر ایسا زخم لگایا جس کا درد آج تک باقی ہے۔
پھر تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ اقتدار کی بھوک نے مقدس مقامات کی حرمت تک کو پامال کر دیا۔ مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور خود خانۂ کعبہ بھی سیاسی کشمکش سے محفوظ نہ رہ سکے۔
واقعۂ حرّہ میں مدینہ منورہ پر حملہ ہوا، شہر میں خون بہا اور اہلِ مدینہ کو شدید مصیبت سے گزرنا پڑا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ کا محاصرہ ہوا اور منجنیقوں سے شہر پر پتھر برسائے گئے؛ خانۂ کعبہ بھی اس جنگ کی زد میں آیا اور آگ لگنے سے اس کا ایک حصہ متاثر ہوا۔
پھر تاریخ نے عبداللہ بن زبیر کے عہد میں مکہ کے ایک اور طویل محاصرے کو دیکھا۔ حرم کے اندر لڑائی ہوئی، خانۂ کعبہ کے گرد جنگ ہوئی اور بالآخر ابنِ زبیر قتل کر دیے گئے۔
یہ سب واقعات اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ جب اقتدار مذہب، اخلاق اور حرمت سے بڑا ہوجائے تو پھر وہ مدینہ کی گلیوں، مکہ کی وادیوں اور خانۂ کعبہ کی دیواروں تک کا لحاظ نہیں کرتا۔
جس دین نے حرم کو امن کی جگہ قرار دیا تھا، اسی امت کی سیاسی کشمکش نے کبھی مدینے کو میدانِ جنگ اور مکے کو محاصرے میں تبدیل کردیا۔
یہ تاریخ کا معمولی واقعہ نہیں؛ یہ امت کے لیے ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج بھی ہمارے پاس نہیں۔
اور اس خون آلود تاریخ کا سب سے دردناک باب آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ہے۔
جس خاندان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی محبت، احترام اور امت کی ذمہ داریوں سے جوڑا، اسی خاندان کے افراد کو کبھی قتل کیا گیا، کبھی قید کیا گیا، کبھی جلاوطن کیا گیا اور کبھی برسوں تاریک زندانوں میں سڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب کو شہید کیا گیا، اہلِ بیت علیہم السلام کو قید کرکے کوفہ و شام لے جایا گیا، اور پھر آنے والی نسلوں میں بھی آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نسبت رکھنے والے سادات اقتدار کے خوف اور سیاسی انتقام سے محفوظ نہ رہے۔
تاریخ کے بعض دردناک بیانات میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقتولین کے خون کو بھی عمارتوں کے گارے میں استعمال کیا گیا۔ ذرا تصور کیجیے! جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت نے عزت بخشی، ان کے خون تک کو بعض ظالم اقتدار کی عمارتوں کی تعمیر میں استعمال کرنے سے نہ ہچکچائے۔
بعض روایات میں آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے افراد کو زندہ دیواروں میں چن دینے جیسے لرزا دینے والے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔ کتنے ہی سادات ایسے تھے جن کی جوانیاں تاریک قید خانوں میں گزریں؛ نہ جرم ثابت کرنے کی ضرورت سمجھی گئی، نہ انصاف کا دروازہ کھولا گیا، صرف نسبت کافی تھی کہ وہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعلق رکھتے تھے یا حکمرانوں کی نگاہ میں خطرہ سمجھے جاتے تھے۔
یہ کیسی سیاست تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان سے نسبت جرم بن گئی؟
یہ کیسا اقتدار تھا جسے آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود خطرہ محسوس ہوتا تھا؟
اور یہ کیسی مسلمانی تھی کہ درباروں میں قرآن پڑھا جاتا تھا، مسجدیں آباد تھیں، اذانیں بلند ہوتی تھیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان کے خون سے زمین محفوظ نہ تھی؟
یہاں تاریخ ہمیں ایک نہایت تلخ حقیقت دکھاتی ہے:
تاج سر پر ہو سکتا ہے، تسبیح ہاتھ میں ہو سکتی ہے، محل میں قرآن کی تلاوت ہو سکتی ہے؛ لیکن اگر عدل نہیں تو ظلم، ظلم ہی رہتا ہے۔
اور اگر اقتدار کو بچانے کے لیے آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خون بہانا پڑے، ان کے بچوں کو قید کرنا پڑے، ان کے سادات کو زندانوں میں ڈالنا پڑے، تو پھر تاریخ کو یہ سوال ضرور کرنا چاہیے:
یہ اسلام کی حکومت تھی یا اسلام کے نام پر اقتدار کی حکومت؟
یہ سوال صرف ماضی سے نہیں ہے۔
یہ ہر اس زمانے سے ہے جہاں مذہب کا نام باقی رہ جائے، مگر رحمت، عدل اور انسانیت رخصت ہوجائے۔
نام بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، مگر انسان کا خون بہتا رہا۔
صدیاں گزریں تو منگولوں کی یلغار نے بغداد کو اجاڑ دیا؛ کتابیں دریا میں پھینکی گئیں، شہر خون میں ڈوبا اور اسلامی تہذیب کا ایک عظیم مرکز خاکستر ہوگیا۔
پھر تاریخ نے صلیبی جنگیں دیکھیں، پھر مختلف سلطنتوں کی جنگیں، پھر داخلی خانہ جنگیاں، پھر استعمار آیا؛ ہر دور نے مسلمانوں کے زخموں میں ایک نیا زخم شامل کیا۔
اور افسوس یہ ہے کہ بیرونی دشمنوں سے پہلے ہم نے خود اپنے اندر دشمن پیدا کرلیے تھے۔
فرقے ایک دوسرے سے لڑتے رہے، حکمران اقتدار کے لیے لڑتے رہے، مذہبی تعصبات نے دلوں میں دیواریں کھڑی کردیں، اور عام انسان ہر دور میں ان دیواروں کے نیچے کچلا جاتا رہا۔
پھر ہمارا زمانہ آیا۔
عراق اور شام نے ایک بار پھر وہ مناظر دیکھے جنہیں انسانیت دیکھ کر شرمندہ ہوجاتی ہے۔ جدید جنگوں، فرقہ وارانہ جنون اور دہشت گردی نے انسانوں کو قتل کیا، سر قلم کیے، زندہ جلایا، لاشوں کی بے حرمتی کی اور شہروں کو قبرستان بنا دیا۔
یہ کون لوگ ہیں؟
پھر ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ایک اور قیامت برپا ہوئی۔
پاکستان، عراق، شام اور یمن—وہ سرزمینیں جہاں اذانیں بلند ہوتی ہیں، قرآن پڑھا جاتا ہے، مساجد آباد ہیں—وہاں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا خون بہا۔
بے گناہوں کو بازاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں اور گھروں میں نشانہ بنایا گیا۔
 گردنیں کاٹی گئیں۔
 لاشیں مسخ کی گئیں۔
 سر قلم کرکے خوف پھیلانے کے لیے نمائش بنائے گئے۔
 بچوں تک کو نہیں بخشا گیا۔
داعش اور اس جیسے تکفیری گروہوں نے انسانیت کو وہ مناظر دکھائے جنہیں دیکھ کر درندے بھی شرما جائیں۔ لوگوں کو زندہ جلایا گیا، قیدیوں کو ذبح کیا گیا، بچوں اور عورتوں کو بھی اپنی وحشت کا نشانہ بنایا گیا؛ اور یہ سب کچھ کبھی اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ کیا گیا۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے!
قتل بھی دین کے نام پر،�ذبح بھی دین کے نام پر،�آگ بھی دین کے نام پر،�اور وحشت بھی دین کے نام پر!
کبھی یہ ہولناک خبریں بھی سامنے آئیں کہ مقتولوں کے سروں کے ساتھ کھیل تک کیا گیا، انسانی جسموں کو انتقام اور تذلیل کا سامان بنایا گیا۔ ایسی بربریت میں انسانیت تو دور، انسان ہونے کی آخری علامت بھی باقی نہیں رہتی۔
اور سوال پھر وہی ہے:
یہ کون لوگ تھے؟
کیا یہ کسی اور سیارے سے آئے تھے؟
کیا ان کی زبان پر کوئی اور کلمہ تھا؟
کیا ان کے گھروں میں قرآن نہیں تھا؟
کیا وہ مسلمانوں کے درمیان ہی نہیں پلے بڑھے تھے؟
مسلمان ہی تو تھے!
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ مسئلہ صرف بندوق کا نہیں، اس ذہنیت کا ہے جو انسان کو پہلے کافر بناتی ہے، پھر اس کے قتل کو ثواب سمجھاتی ہے۔
جب تکفیر دل میں اترتی ہے تو رحم نکل جاتا ہے۔
 جب تعصب ایمان کا لباس پہن لیتا ہے تو انسان دشمن بن جاتا ہے۔
 اور جب مذہب کو نفرت کا ہتھیار بنا دیا جائے تو پھر قرآن ہاتھ میں رہتا ہے، مگر قرآن کا انسان غائب ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کی جان کو حرمت دی تھی؛ ان لوگوں نے انسان کی جان کو اپنی وحشت کا ایندھن بنا دیا۔
یہ اسلام کی تعلیم نہیں؛ یہ اسلام کے نام پر انسانیت کا قتل ہے۔
اور سب سے زیادہ دردناک سوال یہ ہے:
ہم نے کربلا پڑھ کر بھی کیا سیکھا؟
ہم نے امام حسین علیہ السلام کا نام لے کر بھی ظلم سے نفرت کیوں نہ سیکھی؟
ہم نے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مان کر بھی ایک دوسرے کے لیے رحمت بننا کیوں نہ سیکھا؟
اگر مسلمان کا ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگ جائے اور پھر وہ اسی خون آلود ہاتھ کو دین کا ہاتھ سمجھنے لگے، تو اس سے بڑی فکری اور اخلاقی تباہی اور کیا ہوگی؟
یہی ہماری تاریخ کا سب سے خوفناک آئینہ ہے۔
قاتل کے سر پر مذہب کا نام ہو سکتا ہے،�مگر اس کے ہاتھ پر لگا خون اسے بے گناہ نہیں بنا دیتا۔
نام مسلمان ہونا کافی نہیں؛
 محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی رحمت کا وارث بننا ضروری ہے۔
یہ سب کچھ دیکھ کر دل پھر پوچھتا ہے:
کیا یہی وہ امت ہے جسے رسولِ رحمت ص نے بنایا تھا؟
ہمیں اپنے سوال کا جواب دوسروں سے نہیں، اپنے اندر سے تلاش کرنا ہوگا۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تاریخ میں ظالم کون تھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ظلم سے کیا سیکھا؟
ہم نے کربلا پڑھی، مگر کیا ظلم سے نفرت سیکھی؟
ہم نے امام حسین علیہ السلام کا نام لیا، مگر کیا ظلم کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا؟
ہم نے سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھی، مگر کیا رحمت، عفو، عدل اور انسانیت کو اپنی زندگی میں جگہ دی؟
ہم نے قرآن کی تلاوت کی، مگر کیا قرآن کے انسان کو پہچانا؟
ہم نے مسجدیں آباد کیں، مگر کیا انسان محفوظ ہوئے؟
ہم نے منبر آباد کیے، مگر کیا دلوں سے نفرت نکلی؟
ہم نے دین کی حفاظت کے نام پر بہت کچھ کیا، مگر کبھی یہ بھی سوچا کہ دین کے اخلاق کی حفاظت کون کرے گا؟
اسلام نے ہمیں انسانیت سے دور کرنے کے لیے نہیں، انسانیت کو بلندی دینے کے لیے جنم دیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔
لیکن ہماری تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ کبھی ہاتھ خون سے رنگے گئے اور کبھی زبانیں زہر سے۔
ہم نے مذہب کو عبادت گاہوں تک محدود کردیا اور اخلاق کو زندگی سے نکال دیا۔
ہم نے مسلک کو شناخت بنایا اور انسانیت کو بھلا دیا۔
ہم نے اختلاف کو دشمنی بنایا، دشمنی کو نفرت بنایا اور نفرت کو کبھی کبھی عبادت سمجھ لیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:
اگر ہمارے پاس رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت ہے، تو ہمارے معاشرے میں اتنی بے رحمی کیوں؟
اگر ہمارے پاس قرآن ہے، تو اتنا ظلم کیوں؟
اگر ہمارے پاس کربلا ہے، تو اتنی خاموشی کیوں؟
اگر ہمارے پاس امام حسین علیہ السلام ہیں، تو ہم ظلم کے سامنے اتنے بے حس کیوں؟
شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم دین سے دور ہیں؛
بلکہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو اپنی خواہشات کے قریب اور اس کی روح کو اپنی زندگی سے دور کردیا ہے۔
ہم رسول اللہ ص کا نام لیتے ہیں، مگر ان کی رحمت نہیں لیتے۔
ہم اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کے اخلاق، صبر، عدل اور قربانی کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔
ہم تاریخ کے قاتلوں پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر اپنے زمانے کے ظلم پر خاموش رہتے ہیں۔
یہی خاموشی تاریخ کو دوبارہ جنم دیتی ہے۔
کربلا صرف ماضی نہیں؛ کربلا ایک سوال ہے۔
ہر زمانے سے پوچھتی ہے:
ظلم کے سامنے تم کہاں کھڑے ہو؟
اور رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ کی سیرت بھی ہر زمانے سے یہی پوچھتی ہے:
تم انسان کے لیے رحمت کب بنو گے؟
شاید آج امت کو کسی نئے راستے سے زیادہ اسی ایک حقیقت کی ضرورت ہے:
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے نام لیوا بننے سے پہلے، محمد ص کی رحمت کے وارث بنو۔
کیونکہ دنیا کو ہماری تعداد کی نہیں،
 ہمارے کردار کی ضرورت ہے۔
دنیا کو ہمارے نعروں کی نہیں،
 ہمارے عدل کی ضرورت ہے۔
دنیا کو ہماری باہمی نفرت کی نہیں،
 اس رحمت کی ضرورت ہے جس کے لیے نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ تشریف لائے تھے۔
اور شاید ہماری پوری خون آلود تاریخ کا سب سے مختصر سبق یہی ہے:
ہم نے رسولؐ کو مانا بہت،�رسولؐ کی رحمت کو اپنایا بہت کم۔
اب بھی وقت ہے کہ تاریخ کو صرف پڑھا نہ جائے، اس سے سبق بھی لیا جائے۔

Saturday, 22 August 2026

نہم ربیع الاول حقیقت کیاہے

۹ ربیع الاول: حقیقت کیا ہے؟

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

 ۹ربیع الاول کے بارے میں ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ یہ وہ دن ہے جب امام حسین علیہ السلام کے قاتلین میں سے بعض افراد کو مختار ثقفی نے قتل کیا، خصوصاً عمر بن سعد کے قتل کو اس تاریخ سے منسوب کیا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے خوشی کا دن سمجھا جاتا ہے۔ اس موضوع پر جذباتی گفتگو تو بہت ہوتی رہتی ہے، لیکن تاریخی تحقیق کا تقاضا ہے کہ واقعے، تاریخ اور بعد میں پیدا ہونے والی روایتی نسبتوں کو الگ الگ دیکھا جائے۔
مختار ثقفی نے ۶۶ھ میں کوفہ میں قیام کیا اور امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شریک افراد کے خلاف کارروائی شروع کی۔ قدیم تاریخی ماخذ تاریخ طبری میں عمر بن سعد کے قتل کا واقعہ واضح طور پر موجود ہے۔ طبری لکھتے ہیں:
«فَأَصْبَحَ الْمُخْتَارُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبَا عَمْرَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِهِ… فَضَرَبَهُ أَبُو عَمْرَةَ بِسَيْفِهِ فَقَتَلَهُ، وَجَاءَ بِرَأْسِهِ.»
ترجمہ: “مختار نے صبح ابو عمرہ کو اس کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ اسے لے آئے… ابو عمرہ نے اسے اپنی تلوار سے قتل کردیا اور اس کا سر مختار کے پاس لے آیا۔”
حوالہ: محمد بن جریر طبری، تاریخ الأمم والملوک، ج ۶، حوادث سنہ ۶۶ھ، اخبار المختار بن ابی عبید۔
یہ روایت اس بات کے لیے اہم ہے کہ عمر بن سعد کا مختار کے ہاتھوں قتل تاریخی واقعہ ہے۔ لیکن یہی ماخذ اس قتل کی تاریخ ۹ ربیع الاول نہیں بتاتا۔ چنانچہ ایک ثابت شدہ واقعے کے ساتھ ایک غیر ثابت شدہ تاریخ جوڑ دینا علمی طور پر درست نہیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا چاہیے: کسی شخص کا قتل ثابت ہونا اور اس کے قتل کی مخصوص تاریخ ثابت ہونا دو الگ دعوے ہیں۔ عمر بن سعد کا قتل سنہ ۶۶ھ میں ہونا تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے، مگر ۹ ربیع الاول کو اس واقعے کی قطعی تاریخ قرار دینے کے لیے قدیم معتبر تاریخی شہادت موجود نہیں۔ اسی لیے جدید شیعہ تحقیقی مطالعات میں بھی اس نسبت کو غیر ثابت قرار دیا گیا ہے۔
۹ ربیع الاول کے خصوصی فضائل کے بارے میں ایک مفصل روایت بعد کے شیعہ مصادر میں حسن بن سلیمان حلی کی کتاب المحتضر میں نقل ہوئی ہے۔ اس کے آغاز میں ہے:
«مَا رُوِيَ فِي فَضْلِ يَوْمِ التَّاسِعِ مِنْ رَبِيعِ الأَوَّلِ…»
ترجمہ: “۹ ربیع الاول کے دن کی فضیلت کے بارے میں جو روایت نقل ہوئی ہے…”
حوالہ: حسن بن سلیمان الحلی، المحتضر، ص ۸۹۔
اس روایت میں اس دن کو عید اور خوشی سے متعلق بعض مضامین بیان ہوئے ہیں، لیکن اس کے متن میں عمر بن سعد کا نام صراحت کے ساتھ موجود نہیں۔ بعد کے زمانے میں “دشمنِ اہل بیت کے ہلاک ہونے” کے بعض مضامین کو عمر بن سعد کے قتل کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ روایت میں واضح طور پر عمر بن سعد کے قتل کی ۹ ربیع الاول کی تاریخ بیان ہوئی ہے درست نہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ اس روایت کی سند کے بارے میں بھی اہل علم کے درمیان مورد تحقیق ہے۔ اس لیے اسے بغیر تحقیق کے قطعی اور متفق علیہ صحیح حدیث قرار دینا مناسب نہیں۔ حدیثی تحقیق کا اصول یہی ہے کہ متن کے ساتھ سند، راویوں اور ماخذ کی حیثیت بھی دیکھی جائے۔
۹ ربیع الاول کی ایک زیادہ واضح اور بامعنی نسبت آغازِ امامتِ حضرت ولی عصر امام مہدی علیہ السلام سے ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت ۸ ربیع الاول ۲۶۰ھ کو ہوئی۔ شیخ مفید لکھتے ہیں:
«وَقُبِضَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِيعِ الأَوَّلِ سَنَةَ سِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ.»
ترجمہ: “ابو محمد حسن بن علی علیہ السلام ۲۶۰ھ میں ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو جمعہ کے دن رحلت پا گئے۔”
حوالہ: شیخ مفید، الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، ج ۲، ص ۳۳۶۔
اس تاریخی ترتیب کی بنا پر ۹ ربیع الاول کو امام مہدی علیہ السلام کی امامت کے آغاز کے عنوان سے یاد کرنا شیعہ روایت میں ایک معروف تعبیر ہے۔ علامہ مجلسی نے بھی اس نسبت کو نقل کرتے ہوئے لکھا:
«فَيَكُونُ ابْتِدَاءُ وِلَايَةِ الْمَهْدِيِّ عَلَى الْأُمَّةِ يَوْمَ تَاسِعِ رَبِيعِ الْأَوَّلِ.»
ترجمہ: “پس امت پر امام مہدی علیہ السلام کی ولایت کا آغاز ۹ ربیع الاول کو ہوگا۔”
حوالہ: علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الأنوار، ج ۳۱، ص ۳۳۲۔
یہ نسبت اس لیے بھی معنویت رکھتی ہے کہ امامت کا سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد ختم نہیں ہوا بلکہ حضرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی امامت میں جاری رہا۔ چنانچہ ۹ ربیع الاول کو محض کسی تاریخی شخصیت کی ہلاکت سے وابستہ کرنے کے بجائے تسلسلِ امامت، معرفتِ امام اور انتظارِ فرج کے عنوان سے سمجھنا زیادہ وسیع اور تعمیری مفہوم رکھتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
«مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً.»
ترجمہ: “جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا۔”
حوالہ: محمد بن یعقوب کلینی، الکافی، ج ۱، کتاب الحجة، باب «من مات وليس له إمام من أئمة الهدى»، ح ۱۰۔
اس روایت کی روشنی میں ۹ ربیع الاول کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہم کس کے مرنے پر خوش ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے امام کو کتنا جانتے ہیں اور ان کی ولایت کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں کس حد تک نبھاتے ہیں۔
🔹یہاں ایک اور غلط فہمی بھی دور ہونی چاہیے۔ کسی دینی مناسبت پر خوشی کا اظہار اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ انسان ایسے کام کرے جو شریعت اور اخلاق دونوں کے خلاف ہوں۔ اگر کوئی عمل عام دنوں میں گناہ، بے ہودگی، بدزبانی، فحاشی، تہذیب سے گری ہوئی حرکت یا کسی کی دل آزاری ہے تو کسی مذہبی تاریخ کی نسبت سے وہ جائز نہیں ہوجاتا۔ ۹ ربیع الاول بھی اخلاقی اصولوں سے مستثنیٰ نہیں۔
اہل بیت علیہم السلام کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ خوشی بھی ان کے اخلاق کے مطابق ہو۔ ذکر، صلوات، شکر، صدقہ، عبادت، معرفتِ امام، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کا مطالعہ اور اپنے کردار کی اصلاح ایسی سرگرمیاں ہیں جو اس دن کی روح سے زیادہ مناسبت رکھتی ہیں۔
لہٰذا تحقیق کی روشنی میں متوازن نتیجہ یہ ہے کہ مختار کے ہاتھوں عمر بن سعد کا قتل تاریخی طور پر ثابت ہے، لیکن اسے ۹ ربیع الاول کی قطعی تاریخ قرار دینا ثابت نہیں۔ ۹ ربیع الاول کی فضیلت کے بارے میں بعض روایات موجود ہیں، مگر ان کی سند و دلالت پر علمی بحث ہے۔ اس کے مقابلے میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی ۸ ربیع الاول کو شہادت اور اس کے بعد امام مہدی علیہ السلام کی امامت کا آغاز، اس تاریخ کو آغازِ امامت اور تجدیدِ عہدِ ولایت کے عنوان سے سمجھنے کے لیے زیادہ بامعنی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ ۹ ربیع الاول کو تاریخ کے غیر ثابت شدہ دعووں کا دن بنانے کے بجائے امامِ زمانہ علیہ السلام کی معرفت، ولایت اور انتظار کا دن بنایا جائے۔ یہی خوشی کو شعور و بصیرت دیتی ہے، عقیدے کو عمل سے جوڑتی ہے اور ایک تاریخی مناسبت کو زندہ روحانی پیغام میں بدل دیتی ہے۔

Friday, 21 August 2026

ایام عزا کا آخری دن

۸ ربیع الاول؛  
عزائے حسینیٌ کا آخری دن۔
ہم نے کیا کھویا، کیا پایا؟

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

۸ ربیع الاول امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کا آخری دن ہے۔ یہ صرف سوگ کے اختتام کا دن نہیں، بلکہ اپنے طرزِ عزاداری اور پورے محرم کا جائزہ لینے کا بھی موقع ہے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
ہم نے اس سال مجالس میں بہت کچھ سنا؛ لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں سے کتنا ہمارے دل و دماغ میں اترا؟ ایمان میں کتنی پختگی آئی؟ اپنے عقائد کو سمجھنے میں ہم نے کتنی پیش رفت کی؟ کربلا کی تاریخ اور امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مقصد کو ہم نے کتنا سمجھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری مجالس نے ہمارے اعمال، اخلاق، رویّوں اور روزمرہ زندگی میں کتنی تبدیلی پیدا کی؟
اگر محرم کے بعد بھی ہمارے اندر جھوٹ، بد اخلاقی، غیبت، تعصب، ظلم، ناانصافی اور دوسروں کے حقوق کی پامالی پہلے کی طرح موجود ہے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہماری عزاداری نے ہمیں کتنا بدلا۔ کیونکہ مجلس کا مقصد صرف آنکھوں کو نم کرنا نہیں، انسان کو بہتر بنانا بھی ہے۔
کربلا کا پیغام یہی ہے کہ انسان حق کو پہچانے، ظلم کے سامنے نہ جھکے اور اپنے کردار سے اپنے ایمان کا ثبوت دے۔ اس لیے ۸ ربیع الاول پر دوسروں کو پرکھنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں:
ہم نے اس محرم میں کتنا سنا، کتنا سمجھا اور کتنا اپنی زندگی میں اتارا؟
ہر سال کی طرح اس سال بھی محرم میں ہمارے ہندو اور اہلِ سنت برادران نے امام حسین علیہ السلام سے اپنی عقیدت اور محبت کے اظہار کے لیے مختلف جھانکیاں، مجسمے اور دیگر طریقے اختیار کیے۔ امام حسین علیہ السلام کسی ایک طبقے یا مذہب کے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے امام ہیں۔ ہر انسان اپنی عقیدت، فہم اور طرزِ اظہار کے مطابق انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے میں آزاد ہے۔
یقیناً ایسی رسومات اور اعمال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اصل امتحان یہاں صاحبانِ ایمان کا ہے۔ ہمیں یہ فرق ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ عقیدت اپنی جگہ، مگر ہر رسم اور ہر طرزِ اظہار دین یا عزاداری کا حصہ نہیں بن جاتا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم دوسروں کی بنائی ہوئی جھانکیوں، مجسموں اور غیر اسلامی رسومات پر عقیدت کے مخملی پردے ڈال دیں، اور جو چیز آج صرف ان کے اظہارِ عقیدت کا ایک طریقہ ہے، وہ آنے والے برسوں میں ہمارے ہاں مقدساتِ عزاء کا درجہ حاصل کرلے۔
بدقسمتی سے اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ بہت سی غیر ثابت شدہ رسموں اور طریقوں کو محض عقیدت کے نام پر قبول کیا گیا، پھر رفتہ رفتہ وہ عزاداری کا لازمی حصہ سمجھ لیے گئے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محبتِ حسین علیہ السلام کے ساتھ شعورِ حسین علیہ السلام کو بھی زندہ رکھیں، تاکہ عقیدت ہمیں دین کی حدود سے دور نہیں بلکہ اصل پیغامِ کربلا کے قریب لے جائے۔
یہ ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ اس میں نہ اندھی عقیدت کی گنجائش ہے اور نہ کسی پر تبلیغی ڈنڈا چلانے کی۔ ضرورت حکمت، سنجیدگی، احترام اور دینی بصیرت کی ہے۔ دوسروں کی عقیدت کا احترام اپنی جگہ، لیکن اپنی عزاداری کی دینی حدود اور اس کے اصل پیغام کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ حقیقی احترام یہی ہے کہ محبتِ حسین علیہ السلام کو ہر غیر ضروری رسم کی آمیزش سے محفوظ رکھا جائے۔
محرم ہمیں صرف رونے اور غم منانے کا نہیں، بلکہ رک کر سوچنے اور اپنے عمل کا جائزہ لینے کا بھی درس دیتا ہے۔ اگر ہم عزاداری کے نام پر ہر نئی چیز کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرتے چلے گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن پیغامِ حسین علیہ السلام رسم و رواج کے ہجوم میں دب کر رہ جائے۔ عزاداری کا اصل مقصد صرف غم کا اظہار نہیں، بلکہ کربلا کی حقیقت، امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور ان کے قیام کے مقصد کو زندہ رکھنا ہے۔
آئیے ۸ ربیع الاول، ایامِ عزائے حسینی علیہ السلام کے اختتام پر، دوسروں کو پرکھنے کے بجائے ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں:
ہم نے عزاداری کو کتنا سمجھا ہے، اور اسے کتنا رسم بنا دیا ہے؟
#عزاداری
#امام
#حسین
#کربلا
#azadari
#imam
#husain
#karbala

امام حسن عسکری ع

امام حسن عسکریؑ: ایک مختصر زندگی، صدیوں کا پیغام۔
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

تاریخ کے بعض کردار وقت کے افق پر سورج کی طرح طلوع ہوتے ہیں، پھر اپنی روشنی سے ایک عہد کو منور کرکے رخصت ہوجاتے ہیں؛ مگر بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی بظاہر مختصر، حالات بظاہر محدود اور میدانِ عمل بظاہر محصور ہوتا ہے، لیکن ان کا اثر زمان و مکان کی سرحدوں کو توڑ دیتا ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام بھی ایسی ہی عظیم ہستی ہیں۔ ان کی عمر صرف اٹھائیس برس کے قریب تھی، مگر ان اٹھائیس برسوں میں علم، عبادت، اخلاق، بصیرت، تربیت، قیادت اور مستقبل کی تیاری کا ایسا سرمایہ چھوڑ گئے جس نے ایک پوری امت کے فکری سفر کو نئی سمت عطا کی۔ زیرِ نظر کتاب بھی اسی حقیقت کو اپنے مرکزی تصور کے طور پر سامنے لاتی ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیات محض ایک مظلوم امام کی داستان نہیں بلکہ ڈھائی سو سال سے جاری ایک مسلسل فکری و سیاسی کشمکش کے اختتامی مرحلے کا عظیم عنوان ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے صرف ان کی شہادت کا تذکرہ کافی نہیں۔ ان کی پوری زندگی کو اس تاریخی پس منظر میں دیکھنا ہوگا جس میں اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے علمی، اخلاقی اور روحانی تسلسل کو اقتدار کی طاقت سے مٹانے کی کوششیں جاری تھیں۔ ایک طرف سلطنت تھی، اقتدار تھا، نگرانی تھی، پابندیاں تھیں اور دوسری طرف ایک ایسی امامت تھی جس کے پاس نہ لشکر تھا نہ حکومت؛ مگر اس کے پاس علم تھا، کردار تھا، حق کی حجت تھی اور دلوں کو بدل دینے والی روحانی قوت تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسن عسکری علیہ السلام کی عظمت نمایاں ہوتی ہے: ظاہری وسائل محدود تھے، مگر اثرات لا محدود۔
کتاب کا عنوان ہی ایک گہری فکری حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: “ڈھائی سو سالہ سازش کا نقطۂ اختتام”۔ یعنی مسئلہ صرف ایک امام کو خاموش کرانا نہیں تھا؛ مسئلہ اس سلسلۂ ہدایت کو روکنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شروع ہوکر اہل بیت علیہم السلام کے ذریعے نسل در نسل انسانیت کی فکری رہنمائی کررہا تھا۔ اسی لیے امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی کو محض ایک تاریخی سوانح نہیں بلکہ ایک عظیم نظریاتی معرکے کے آخری مرحلے کے طور پر دیکھنا زیادہ معنی خیز ہے۔
آپ کی ولادت ۲۳۲ ہجری میں ہوئی اور ۲۶۰ ہجری میں شہادت ہوئی۔ یوں زندگی کا ظاہری سفر صرف اٹھائیس برس پر محیط رہا۔ مگر تاریخ کا عجیب اصول ہے کہ عمر کی طوالت عظمت کا معیار نہیں ہوتی؛ کبھی ایک مختصر زندگی صدیوں پر محیط اثر چھوڑ جاتی ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیات اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔ کتاب کے مطابق آپ کی شہادت آٹھ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کو ہوئی اور آپ کے وصال کے ساتھ امامت کا ایک ظاہری باب بند ہوا، لیکن پیغامِ امامت کا سفر ختم نہیں ہوا؛ بلکہ ایک نئے اور زیادہ غیر معمولی مرحلے میں داخل ہوگیا۔
یہاں امام حسن عسکری علیہ السلام کی بصیرت کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جسے عام تاریخی بیان اکثر نظرانداز کردیتا ہے۔ آپ کو معلوم تھا کہ آنے والا زمانہ سابقہ ادوار سے مختلف ہوگا۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ امام اپنے پیروکاروں کی رہنمائی کرے؛ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایسی قیادت کی بنیاد کیسے رکھی جائے گی جسے ظاہری آنکھیں ہر وقت دیکھ نہ سکیں، مگر جس سے انسانیت کا فکری رشتہ قائم رہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے دور کے حالات کو سمجھتے ہوئے شیعہ معاشرے کو ایک ایسے مستقبل کے لیے تیار کیا جس میں براہِ راست ظاہری رابطے کے بجائے معرفت، اعتماد، وکالت اور تنظیم بنیادی حیثیت اختیار کرنے والے تھے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی عظمت کا ایک اہم پہلو ان کا علمی کردار ہے۔ ان کی امامت کا زمانہ ایسا تھا جس میں فکری انتشار، مختلف نظریات، مذہبی بحثوں اور سیاسی مصلحتوں کا غلبہ تھا۔ ایسے ماحول میں آپ نے علم کو محض بحث و مناظرہ کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے انسان کی تعمیر کا وسیلہ بنایا۔ امام کے نزدیک علم وہ تھا جو انسان کو خدا سے جوڑے، کردار کو سنوارے، حق و باطل میں امتیاز عطا کرے اور اسے ذمہ دار زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔ اسی لیے آپ کی تعلیمات میں حکمت اور اخلاق ساتھ ساتھ چلتے ہیں؛ معرفت اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔
آپ کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو عبادت اور روحانیت ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ حقیقی قیادت شور سے نہیں، اندرونی قوت سے پیدا ہوتی ہے۔ جس انسان کا تعلق خدا سے مضبوط ہو، وہ اقتدار کے خوف سے مرعوب نہیں ہوتا۔ جس دل میں یقین کی روشنی ہو، وہ قید و بند میں بھی آزاد رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام کی عبادت محض ذاتی ریاضت نہیں تھی؛ وہ ان کے پورے کردار کی بنیاد تھی۔ ان کے علم میں روحانیت تھی، ان کی خاموشی میں حکمت تھی اور ان کے صبر میں مزاحمت کی ایک ایسی قوت تھی جسے تلوار بھی شکست نہیں دے سکتی تھی۔
کتاب کے صفحات میں ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے امام کی معرفت اور امامت کے مسئلے کو اپنے قریبی اصحاب اور قابل اعتماد افراد کے سامنے واضح کیا۔ کتاب میں آپ سے منسوب متعدد نصوص نقل ہوئی ہیں، جن میں آپ اپنے فرزند کو اپنے بعد قائم، امام اور حجت کے طور پر متعارف کراتے ہیں؛ مثلاً: “إن ابني هو القائم من بعدي” اور “هذا إمامكم من بعدي وخليفتي عليكم” جیسے الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔
یہ مرحلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی سوانح کا محض ایک عقیدتی باب نہیں بلکہ ایک غیر معمولی تاریخی حکمتِ عملی بھی ہے۔ آنے والے دور میں بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مرحلہ شروع ہونا تھا، لہٰذا امام حسن عسکری علیہ السلام نے اس عبوری زمانے کے لیے ذہنی، فکری اور تنظیمی زمین تیار کی۔ یہ کام کسی ایک اعلان سے مکمل نہیں ہوسکتا تھا؛ اس کے لیے اعتماد کے حلقے، نمائندوں کا نظام، اہل ایمان کی تربیت اور امامت کے تصور کی مضبوط تفہیم ضروری تھی۔ کتاب میں بھی اس پہلو کو آئندہ دور کی تیاری کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسن عسکری علیہ السلام کی شخصیت ایک سوانحی کردار سے بلند ہوکر فکری معمار بن جاتی ہے۔ انہوں نے صرف اپنے زمانے کی اصلاح نہیں کی؛ انہوں نے آنے والے زمانے کے لیے ذہن تیار کیے۔ انہوں نے صرف موجودہ نسل کو خطاب نہیں کیا؛ انہوں نے مستقبل کے مومنین کے لیے بھی راستہ ہموار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی امامت کو سمجھنے کے لیے ان کے دور کی سیاسی تاریخ کے ساتھ ساتھ مستقبل کی تاریخ کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
قرآن مجید کہتا ہے:
﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾
وہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا، خواہ منکرین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔
کتاب نے اسی آیت کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے تاریخی کردار سے مربوط کیا ہے۔ اور یہی امام کی پوری زندگی کا سب سے خوب صورت استعارہ بھی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، تخت الٹتے رہے، قید خانے آباد ہوتے رہے، نگرانی کے حصار سخت ہوتے رہے، مگر نورِ ہدایت نہ بجھا۔ چراغ کو چھپایا جاسکتا ہے، اس کی روشنی کو نہیں؛ امام کو قید کیا جاسکتا ہے، امام کی فکر کو نہیں؛ جسم کو شہید کیا جاسکتا ہے، حق کے پیغام کو نہیں۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اسی کشمکش کا آخری المناک باب تھی۔ کتاب کے مطابق ۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کو آپ کی شہادت ہوئی، لیکن شہادت کو صرف اختتام سمجھنا اس واقعے کی روح کو سمجھنے میں ناکامی ہوگی۔ ایک عظیم تاریخی شخصیت کی موت کبھی کبھی اس کے پیغام کی نئی زندگی کا آغاز ہوتی ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ آپ کے جسمانی سفر کا اختتام ہوا، مگر آپ کی امامت کی ذمہ داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ کتاب اسی لیے شہادت کو ایک اختتام کے ساتھ ساتھ ایک نئے عہد کا آغاز قرار دیتی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسن عسکری علیہ السلام کا تعلق حضرت امام مہدی علیہ السلام سے محض باپ اور بیٹے کا تعلق نہیں رہتا؛ یہ دو زمانوں کے درمیان پل بن جاتا ہے۔ ایک امام اپنی مختصر ظاہری زندگی میں امت کو اس مستقبل کے لیے تیار کرتا ہے جہاں حجتِ خدا ظاہری نگاہوں سے اوجھل ہوگی، مگر اس کی ہدایت کا سلسلہ قائم رہے گا۔ یوں امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ امامت کا چراغ بجھا نہیں؛ وہ ایک نئے پردے کے پیچھے منتقل ہوگیا۔
اس پوری داستان کا سب سے بڑا فکری سبق یہ ہے کہ ظلم ہمیشہ طاقت کے ذریعے شکست نہیں کھاتا؛ کبھی وہ ایک ایسی نسل کی تربیت سے شکست کھاتا ہے جو حق کو پہچان لے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے یہی کیا۔ انہوں نے اپنے گرد موجود تاریکی کے مقابلے میں شور نہیں کیا، بلکہ کردار پیدا کیا؛ انہوں نے اقتدار سے اقتدار کی جنگ نہیں لڑی، بلکہ شعور سے جہالت کا مقابلہ کیا؛ انہوں نے تلوار کے مقابلے میں تلوار نہیں اٹھائی، بلکہ ایسی فکر پیدا کی جسے تلوار کبھی قتل نہیں کرسکتی
آج جب ہم امام حسن عسکری علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا؛ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا چھوڑا؟ اگر ہم ان کی شہادت پر صرف آنسو بہا کر آگے بڑھ جائیں تو ہم نے واقعے کو یاد کیا، پیغام کو نہیں۔ اگر ہم ان کی ولادت اور شہادت کی تاریخیں یاد رکھیں مگر علم، تقویٰ، نظم، ذمہ داری، صبر، بصیرت اور انتظارِ حقیقی کو اپنی زندگی میں جگہ نہ دیں تو ہماری نسبت محض جذباتی رہ جائے گی۔
کتاب کا یہی پیغام آج کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے کہ عزاداری کا مقصد صرف آنکھوں کو اشک بار کرنا نہیں، بلکہ دل کو بیدار کرنا اور زندگی کو بدلنا ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی یاد ہمیں اپنے کردار، معاشرت، علم، اخلاق اور دینی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی مختصر حیات دراصل ایک طویل تاریخ کا خلاصہ ہے۔ یہ صبر کی تاریخ ہے، علم کی تاریخ ہے، ظلم کے مقابلے میں استقامت کی تاریخ ہے، نسلوں کی تربیت کی تاریخ ہے اور سب سے بڑھ کر نورِ ہدایت کے ناقابلِ شکست ہونے کی تاریخ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تخت پر بیٹھ کر نہیں، ایک محدود حجرے میں بیٹھ کر برپا کیا جاتا ہے؛ کبھی سب سے بڑی مزاحمت تلوار سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے؛ اور کبھی ایک اٹھائیس سالہ زندگی صدیوں کے لیے راستہ متعین کردیتی ہے۔
اسی لیے امام حسن عسکری علیہ السلام کو صرف مظلوم امام کہہ کر یاد کرنا ان کی عظمت کو محدود کرنا ہے۔ وہ عالم بھی تھے، عابد بھی؛ مربی بھی تھے، قائد بھی؛ صابر بھی تھے، دوراندیش بھی؛ اور سب سے بڑھ کر مستقبلِ امامت کے معمار تھے۔ ان کی شہادت ایک جسم کا خاتمہ تھی، پیغام کا نہیں۔ وہ ڈھائی سو سالہ فکری کشمکش کے آخری بڑے چراغ تھے، مگر اسی چراغ کی روشنی میں غیبت کے دور کا راستہ روشن ہونا تھا۔
اور شاید یہی امام حسن عسکری علیہ السلام کی پوری زندگی کا سب سے خوب صورت جملہ ہے
ظلم نے سمجھا تھا کہ اس نے امام کو خاموش کردیا؛ تاریخ نے ثابت کیا کہ اس نے صرف ایک آواز کو جسم سے جدا کیا تھا، اس کے پیغام کو نہیں۔
سلام ہو اس امام پر جس نے قید میں رہ کر آزادی کا مفہوم سکھایا، خاموش رہ کر حق کی گواہی دی، مختصر زندگی میں صدیوں کا فکری سرمایہ چھوڑا، اور اپنی شہادت کے ذریعے امت کو یہ یقین دے دیا کہ حجتِ خدا کا چراغ کبھی نہیں بجھتا۔
سلام ہو امام حسن عسکری علیہ السلام پر،
سلام ہو ان کی پاکیزہ سیرت پر،
سلام ہو ان کے علم و حلم پر،
سلام ہو ان کی مظلوم شہادت پر،
اور سلام ہو اس فرزندِ گرامی حضرت امام مہدی علیہ السلام پر، جن کے ظہور کی تمہید میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی پوری زندگی ایک عظیم تاریخی باب بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔
#عسکری
#حسن
#ربیع الاول
#askari
#hasan
#rabiul_awwal

Thursday, 20 August 2026

خطیب اعظم

خطیب اعظم مولانا سیدمحمد دہلوی مرحوم
حیات و خدمات

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

کچھ شخصیات اپنی زندگی میں ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں اور ان کے جانے کے بعد بھی ان کے افکار، جدوجہد اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے راستہ دکھاتی رہتی ہیں۔ علامہ سید محمد دہلوی بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی طویل زندگی علم و معرفت، خطابت، اصلاحِ معاشرہ اور ملتِ تشیع کے حقوق کے تحفظ میں بسر کی۔ ان کی قیادت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے حل کے لیے پوری قوم کو منظم کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے۔
آج 20 اگست کو ان کی برسی کے موقع پر ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو یاد کرنا دراصل برصغیر کی شیعی تاریخ کے ایک اہم باب کو یاد کرنا ہے۔ ایک ایسا باب جس میں علم و خطابت کے ساتھ قومی بیداری، اجتماعی اتحاد اور حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد نمایاں نظر آتی ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی:
سید محمد دہلوی ولد سید آفتاب حسین بن سید غازی الدین نے 1317ھ بمطابق 1899ء میں ہندوستان کے ضلع بجنور، اترپردیش کے موضع پتن ہیٹری کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کا تعلق زیدی سادات سے تھا۔ آپ کے والد سید آفتاب حسین دہلی کی شیعہ جامع مسجد کے پیش نماز تھے۔
زندگی نے بچپن ہی میں آپ سے والدین کا سایہ چھین لیا۔ چار برس کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا اور پانچ برس کی عمر میں والدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یتیمی اور ابتدائی محرومیوں کے باوجود آپ نے تعلیم و تربیت کا سفر جاری رکھا اور آگے چل کر برصغیر کی ایک نمایاں علمی و ملی شخصیت بنے۔
علمی تربیت اور فکری نشوونما:
آپ نے اپنے زمانے کے ممتاز اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ دہلی میں شمس العلماء سید عباس حسین جارچوی، مولوی مرزا محمد حسن اور مولوی سید محمد ہارون زنگی پوری سے فیض حاصل کیا، جبکہ لکھنؤ کے مدرسہ ناظمیہ میں سید نجم العلماء اور مولوی سید مقبول احمد سے تعلیم پائی۔ مدرسہ ناظمیہ میں چار سال تک علمی تربیت حاصل کی۔
قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد اور علمِ کلام سے گہری دلچسپی نے آپ کی شخصیت کو محض ایک خطیب تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ آپ ایک صاحبِ مطالعہ عالم اور صاحبِ فکر رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ 1943ء میں ادارہ تفسیر القرآن کی اہمیت کے پیش نظر دہلی سے رام پور تشریف لے گئے اور تقریباً سات برس وہاں قیام کیا۔
خطابت کا منفرد مقام:
علامہ سید محمد دہلوی نے خطابت میں ایسا مقام حاصل کیا کہ انہیں خطیب اعظم کہا جانے لگا۔ ان کی خطابت کا اثر صرف آواز اور الفاظ تک محدود نہیں تھا؛ وہ دلیل، مطالعے اور فکری بصیرت کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔ ان کے لیے منبر محض خطاب کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، اصلاح اور بیداری کا ذریعہ تھا۔
اسی خطابت نے انہیں عوام سے جوڑا اور بعد میں یہی عوامی اعتماد ان کی ملی قیادت کی بنیاد بنا۔ وہ سمجھتے تھے کہ قوم کو صرف جذبات نہیں بلکہ شعور، تنظیم اور اجتماعی مقصد کی ضرورت ہے۔
قومی اور ملی خدمات:
علامہ سید محمد دہلوی کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی وسیع قومی اور ملی خدمات ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ملت کی ترقی صرف علمی و مذہبی بیداری سے نہیں بلکہ تعلیم، معاشرتی بہبود اور اجتماعی اداروں کی مضبوطی سے بھی وابستہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختلف ملی اور فلاحی اداروں کے ساتھ وابستہ رہ کر عملی خدمات انجام دیں۔
1931ء سے وہ انجمن وظیفہ سادات و مومنین سے وابستہ رہے اور اس ادارے کی ترقی و استحکام کے لیے مسلسل کام کیا۔ ساداتِ بارہ کے لیے ایک شاندار بورڈنگ کا قیام، بمبئی میں قیصر باغ کی تعمیر، دہلی میں امامیہ ہال اور جھنگ میں یتیم خانے کا قیام ان کی اجتماعی فکر اور خدمتِ ملت کے نمایاں مظاہر تھے۔ ان منصوبوں کے ذریعے انہوں نے تعلیم، رہائش، فلاح اور نئی نسل کی سرپرستی جیسے اہم شعبوں کی طرف توجہ دلائی۔
لکھنؤ کی تاریخی تحریک میں بھی انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور اپنے وقت کی ملی سرگرمیوں میں فعال حصہ لیا۔ ان کی خدمات کا یہ پہلو اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ وہ ملت کے مسائل کو صرف تقریروں اور تحریروں تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ جہاں عملی ضرورت محسوس ہوتی، خود میدان میں اتر کر قیادت کرتے تھے۔ یہی عملی مزاج آگے چل کر ان کی وسیع تر ملی اور قومی قیادت کی بنیاد بنا۔
یہ خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے نزدیک ملت کی ترقی صرف مذہبی اجتماعات تک محدود نہیں تھی؛ تعلیم، معاشرتی بہبود، یتیموں کی کفالت اور نئی نسل کی تربیت بھی اسی جدوجہد کا حصہ تھے۔
پاکستان ہجرت اور ایک نئے دور کا آغاز:
1950ء میں علامہ سید محمد دہلوی نے پاکستان ہجرت کی۔ پاکستان میں قدم رکھتے ہی ان کی ملی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ یہاں ملتِ تشیع کو اپنے مذہبی تشخص، اوقاف، دینی تعلیم، عزاداری اور تعلیمی نصاب سے متعلق متعدد مسائل کا سامنا تھا۔
قیامِ پاکستان کے ابتدائی دور میں جب بعض حلقوں کی جانب سے یہ تصور سامنے آیا کہ شیعانِ حیدرِ کرار کے دوسرے مسلمانوں سے الگ کوئی حقوق نہیں ہیں، تو اس سوچ کے مقابلے میں ملت کے مخصوص مذہبی اور تہذیبی حقوق کے تحفظ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔ اسی ماحول میں ادارہ تحفظِ حقوقِ شیعہ پاکستان کے قیام اور ملی حقوق کی منظم جدوجہد کی بنیاد پڑی۔
مجلسِ عمل علمائے شیعہ کی قیادت:
1960ء کی دہائی تک حالات مزید پیچیدہ ہوچکے تھے۔ اوقاف، نصابِ تعلیم، دینیات، عزاداری اور سرکاری اداروں میں امتیازی رویوں جیسے مسائل بڑھتے گئے۔ ایسے حالات میں جنوری 1964ء میں کراچی کے امام بارگاہ شاہِ کربلا، رضیہ کالونی میں ملک بھر کے علماء اور ممتاز شیعہ رہنماؤں کا ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔
اس اجتماع میں مجلسِ عمل علمائے شیعہ تشکیل دی گئی اور علامہ سید محمد دہلوی کو متفقہ طور پر اس کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد ملت کے مطالبات کو ایک منظم تحریک کی شکل دینے کا مرحلہ شروع ہوا۔
چار بنیادی مطالبات سامنے رکھے گئے: شیعہ طلبہ کے لیے علیحدہ دینیات کا انتظام، شیعہ اوقاف کے لیے علیحدہ بورڈ کا قیام، عزاداری کا تحفظ اور درسی کتب سے قابلِ اعتراض و دل آزار مواد کا اخراج۔
حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد:
ان مطالبات کے حصول کے لیے علامہ دہلوی نے حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے مسلسل رابطے کیے۔ صدرِ پاکستان، گورنروں، وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں کنونشن اور جلسے منعقد ہوئے، قراردادیں منظور کی گئیں، حکومت کو خطوط اور ٹیلی گرام بھیجے گئے اور عوام کو منظم کیا گیا۔
راولپنڈی کا عظیم الشان کنونشن، ملتان اور جھنگ کے اجتماعات، کراچی اور حیدرآباد کی سرگرمیاں اور ملک گیر احتجاج اسی مسلسل جدوجہد کا حصہ تھے۔ کئی مرتبہ حکومت نے یقین دہانیاں کرائیں، لیکن عمل درآمد میں تاخیر ہوتی رہی۔
بالآخر نومبر 1968ء میں راولپنڈی کے اجتماع کے موقع پر حکومت نے شیعہ مطالبات منظور کرنے کا اعلان کیا۔ بعد میں علیحدہ شیعہ دینیات کے نفاذ کے لیے بھی جدوجہد جاری رہی اور 1976ء میں میٹرک کا امتحان اسی نصاب کے تحت منعقد ہوا۔ اگرچہ اس سلسلے میں بھی بعد کے حالات نے کئی نئے مسائل پیدا کیے، لیکن یہ پیش رفت علامہ دہلوی کی طویل ملی جدوجہد کا ایک اہم ثمر تھی۔
علمی خدمات اور “نور العصر”:
قومی و اجتماعی سرگرمیوں کے ساتھ علامہ دہلوی علمی میدان میں بھی فعال رہے۔ ان کی معروف کتاب “نور العصر” ان کی علمی شخصیت کی نمایاں یادگار ہے۔ اس کتاب میں قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد، علمِ کلام اور فلسفے کے مباحث کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
علامہ مرتضیٰ حسین صدرالافاضل نے کتاب کے مقدمے میں اس کے علمی پہلوؤں کو سراہتے ہوئے لکھا کہ اس میں قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد اور علمِ کلام کے مباحث کو سادہ اور نتیجہ خیز دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور قرآنی شواہد کی روشنی میں امامت اور معرفتِ امام پر استدلال کیا گیا ہے۔
کتب سے ان کی محبت بھی غیر معمولی تھی۔ کراچی میں انہوں نے نادر کتب پر مشتمل ایک قیمتی لائبریری قائم کی، لیکن تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز دور میں ان کا ذاتی کتب خانہ بلوائیوں نے جلا دیا۔ یہ سانحہ ان کے علمی سرمایہ کے لیے بڑا نقصان تھا، مگر علم اور مطالعے سے ان کا رشتہ کبھی کمزور نہ ہوا۔
ایک پوری زندگی قوم کے نام:
علامہ سید محمد دہلوی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ وہ بیک وقت عالم، خطیب، مصنف، منتظم اور ملی قائد تھے۔ انہوں نے قوم کے مسائل کو سمجھا، انہیں زبان دی، لوگوں کو منظم کیا اور حکومت کے سامنے ان کے حل کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔
ستر برس کی عمر تک ان کی جواں ہمتی اور جدوجہد برقرار رہی۔ وہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ہر نئے مسئلے کے مقابلے میں زیادہ عزم کے ساتھ سامنے آتے رہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک صاحبِ بصیرت قائد اپنی قوم کو صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عمل، تنظیم اور مسلسل جدوجہد سے آگے لے جاتا ہے۔
رحلت:
29 جمادی الثانی 1391ھ، بمطابق 20 اگست 1971ء، علامہ سید محمد دہلوی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے جنازے میں سیاسی و سماجی شخصیات سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور انہیں کراچی کے باغِ خراسان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آج ان کی برسی پر انہیں یاد کرنا صرف ایک بزرگ عالم اور خطیب کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے دور کی یاد تازہ کرنا ہے جب ملت کے حقوق کے لیے اتحاد، نظم اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت تھی۔ علامہ سید محمد دہلوی کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف جذبات سے نہیں ہوتی؛ اس کے لیے علم، شعور، اتحاد، تنظیم اور قربانی درکار ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کی علمی، ملی اور قومی خدمات سے سچی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Tuesday, 18 August 2026

کربلا کا پیغام

عزاداری: پیغامِ کربلا،
عزاداری مقصد نہیں، بلکہ اہلِ بیتؑ سے محبت کا ایک اظہار اور کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنے کا اہم وسیلہ ہے۔ اس کے ذریعے بنی امیہ اور بنی عباس کے ان انسانیت سوز اور ظلم و بربریت سے بھرے ادوار کو تاریخ کے سامنے زندہ رکھنا ہے، جن میں رسول اللہؐ اور آپ کی اولادؑ پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے، حق کی آواز دبائی گئی، اہلِ بیتؑ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور اقتدار کی خاطر دین کے مقدس نام کو بھی استعمال کیا گیا۔

کربلا اسی ظلم، جبر، دہشت اور فکری انحراف کا خونیں انجام تھی۔ امام حسینؑ اور ان کے اہل و اصحاب کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، پانی بند کیا گیا، معصوم بچوں کو بھوکا پیاسا رکھا گیا، خیمے جلائے گئے اور رسول اللہؐ کے گھرانے کو قید و اسیری کی سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی؛ یہ انسانیت، اخلاق اور حرمتِ رسالت کی کھلی پامالی تھی۔ عزاداری اسی ظلم کو فراموش نہیں ہونے دیتی اور ہر نسل کے سامنے یہ حقیقت رکھتی ہے کہ اقتدار کی ہوس انسان کو کہاں تک گرا سکتی ہے اور حق کے لیے اہلِ حق کس حد تک قربانی دے سکتے ہیں۔

لیکن کربلا کا پیغام صرف ماضی کے یزید تک محدود نہیں۔ آج بھی ہر وہ شخص یزیدی مزاج رکھتا ہے جو ظلم کرے، ظالم کا ساتھ دے، حق کو دبائے، دین کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے یا اہلِ بیتؑ کے مقدس نام کو اپنی دنیا بنانے کی سیڑھی بنائے۔ 
حسینؑ کا نام لینا آسان ہے، حسینؑ کے اصولوں پر چلنا مشکل؛ یزید پر لعنت کرنا آسان ہے، اپنے زمانے کی یزیدیت کو بے نقاب کرنا مشکل۔ اس لیے سچی عزاداری وہ ہے جو آنکھ میں آنسو کے ساتھ دل میں شعور، زبان پر حق اور کردار میں حسینؑ کا حوصلہ پیدا کرے۔

کربلا صرف رونے کے لیے نہیں، جاگنے کے لیے ہے؛
صرف ماضی کو یاد کرنے کے لیے نہیں، اپنے زمانے کو پہچاننے کے لیے ہے؛
اور صرف یزید کو برا کہنے کے لیے نہیں، ہر دور کی یزیدیت کو بے نقاب کرنے کے لیے ہے۔

Sunday, 16 August 2026

اے آئی کے زمانہ میں اہل قلم کا امتحان

اے آئی کے زمانے میں اہلِ قلم کا امتحان:
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر دور اپنے ساتھ کچھ نئی سہولتیں لاتا ہے اور کچھ نئے امتحان بھی۔ مصنوعی ذہانت بھی ہمارے عہد کی ایک بڑی علمی سہولت ہے؛ اس نے معلومات تک رسائی، زبان کی اصلاح، ترجمے، تحقیق اور تحریر کے کئی مشکل مراحل کو آسان کر دیا ہے۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ ٹیکنالوجی نے علم کے طریقۂ کار کو بدلنے کی کوشش کی ہو۔ ایک زمانے میں گوگل آیا تو لوگوں کو یہ خدشہ بھی لاحق ہوا کہ اب کتابیں کون پڑھے گا، لائبریریوں کا کیا ہوگا اور یادداشت و تحقیق کی پرانی عادتیں کہاں رہیں گی؟ 
مگر وقت نے بتایا کہ گوگل نے کتاب کی ضرورت ختم نہیں کی؛ اس نے معلومات تک پہنچنے کا راستہ آسان کیا۔ اصل فرق اس بات سے پیدا ہوا کہ آدمی گوگل سے کیا تلاش کرتا ہے، اسے کتنا سمجھتا ہے اور اس معلومات کو اپنے علم کا حصہ کیسے بناتا ہے۔
اے آئی کا معاملہ بھی کسی حد تک ایسا ہی ہے، مگر اس میں ایک بنیادی فرق ہے: گوگل زیادہ تر ہمیں معلومات تک پہنچاتا تھا، جبکہ اے آئی ہمارے لیے معلومات کو ترتیب دے کر عبارت بھی بنا سکتا ہے۔ یہی سہولت اس کا سب سے بڑا فائدہ بھی ہے اور اہلِ قلم کے لیے سب سے بڑا امتحان بھی۔ اس لیے آج اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی استعمال کرنا چاہیے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اے آئی کے ہوتے ہوئے ہم خود کتنا پڑھ رہے ہیں، کتنا سوچ رہے ہیں اور کتنا اپنے ذہن سے لکھ رہے ہیں؟
قلم ہمیشہ صرف الفاظ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں رہا۔ ایک حقیقی قلم کار پہلے اپنے اندر ایک دنیا آباد کرتا ہے؛ کتابیں پڑھتا ہے، لوگوں کو دیکھتا ہے، حالات سے گزرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، اختلاف کرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے، پھر اپنے تجربے اور مطالعے کو الفاظ کا لباس پہناتا ہے۔ اسی لیے بڑے ادیب کی تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں صرف جملے نہیں ملتے، اس کی شخصیت بھی ملتی ہے۔ اس کے زمانے کی دھڑکن، اس کے مشاہدے کی گہرائی، اس کے دکھ کی حرارت اور اس کی فکر کی روشنی بھی ساتھ چلتی ہے۔ مشین عبارت بنا سکتی ہے، مگر زندگی نہیں گزار سکتی؛ معلومات جمع کر سکتی ہے، مگر تجربہ نہیں کر سکتی؛ جملہ درست کر سکتی ہے، مگر احساس پیدا نہیں کر سکتی۔
یہاں اے آئی کا ایک دوسرا اور زیادہ اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ جس شخص نے کبھی باقاعدہ مطالعہ نہیں کیا، جس نے اپنے خیالات کو ترتیب دے کر دو صفحے تو درکنار، دو پیراگراف تک بھی خود نہیں لکھے، وہ آج چند لمحوں میں بڑی آسانی سے ایک مکمل اور بظاہر شاندار مضمون تیار کروا سکتا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے: سوشل میڈیا پر لمبی لمبی تحریریں مسلسل نظر آ رہی ہیں، مگر ان تحریروں کے پیچھے موجود آدمی کا علمی قد اکثر وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ لفظوں کی کثرت علم کی گہرائی کی دلیل نہیں ہوتی۔ یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے کہ خوب صورت عبارت اور صاحبِ علم قلم کار ایک چیز نہیں۔ عبارت مستعار لی جا سکتی ہے، اسلوب کی نقالی کی جا سکتی ہے، مگر فکر، بصیرت اور علمی پختگی ادھار نہیں لی جا سکتی۔
ایک زمانہ تھا کہ کسی شخص کو صاحبِ قلم بننے کے لیے برسوں اپنی زبان اور فکر کی تربیت کرنا پڑتی تھی۔ کتابیں اس کی استاد ہوتی تھیں، کاغذ اس کا میدان اور قلم اس کا امتحان۔ ایک جملہ لکھنے کے بعد اسے کاٹنا، دوبارہ لکھنا، لفظ بدلنا، مفہوم کو صاف کرنا اور پھر اپنے ہی جملے سے مطمئن نہ ہونا—یہ سب قلم کاری کی تربیت کا حصہ تھا۔ آج یہ محنت چند لمحوں میں ختم کی جا سکتی ہے۔ مگر مسئلہ یہی ہے کہ جس محنت سے قلم کار بنتا ہے، اگر وہ محنت ہی ختم کر دی جائے تو قلم کار کہاں سے پیدا ہوگا؟
اے آئی کا سب سے خطرناک استعمال وہ ہے جب انسان اسے اپنے ذہن کا متبادل بنا لیتا ہے۔ سوال خود پیدا کرنے کے بجائے سوال بھی مشین سے پوچھتا ہے، جواب خود تلاش کرنے کے بجائے جواب بھی مشین سے لیتا ہے، پھر اسی جواب کو اپنی تحریر کے نام سے پیش کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کی اپنی فکری عضلات کمزور ہونے لگتی ہیں۔ جیسے جسم کو ہمیشہ سہارے پر رکھا جائے تو اس کی اپنی قوت کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی ذہن کو ہر وقت تیار شدہ خیالات کا عادی بنا دیا جائے تو اس کی تخلیقی قوت بھی ماند پڑ سکتی ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اہلِ قلم اے آئی سے دور رہیں۔ نہیں، زمانے کی نئی ایجاد سے آنکھیں بند کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ اسے ایک معاون، کاتب، مترجم، مرتب اور تحقیقی ساتھی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؛ مگر مصنف، مفکر اور صاحبِ نظر خود انسان کو رہنا چاہیے۔ اے آئی سے یہ پوچھنا مفید ہے کہ کسی موضوع کے مختلف پہلو کیا ہیں، کسی عبارت میں زبان کی کمزوری کہاں ہے، کسی تحقیق کے لیے کن سمتوں میں دیکھا جا سکتا ہے؛ لیکن یہ فیصلہ کہ کیا کہنا ہے، کیوں کہنا ہے اور کس انداز میں کہنا ہے—یہ ذمہ داری قلم کار کی اپنی ہونی چاہیے۔
آنے والے زمانے میں شاید لکھنے والے بہت ہوں گے، مگر ضروری نہیں کہ صاحبِ قلم بھی بہت ہوں۔ کیونکہ لکھ دینا آسان ہو جائے گا، مگر سوچنا پھر بھی مشکل رہے گا۔ عبارت بنانا آسان ہوگا، مگر اپنا نقطۂ نظر پیدا کرنا مشکل ہوگا۔ درجنوں مضامین تو تیار ہو جائیں گے، مگر ایک ایسی تحریر جو پڑھنے والے کو رکنے، سوچنے اور اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دے، وہ پھر بھی کسی زندہ ذہن ہی سے پیدا ہوگی۔
اس لیے اہلِ قلم کے لیے اے آئی کوئی دشمن نہیں؛ اصل خطرہ اپنی فکری ذمہ داری سے دستبردار ہو جانا ہے۔ مشین سے مدد لیجیے، مگر اپنا ذہن اس کے حوالے نہ کیجیے؛ اس سے زبان سنواریے، مگر اپنی آواز نہ کھوئیے؛ اس سے معلومات لیجیے، مگر اپنی بصیرت خود پیدا کیجیے۔ کیونکہ تاریخ میں یاد وہ نہیں رہتا جس نے سب سے زیادہ الفاظ لکھے، یاد وہ رہتا ہے جس نے اپنے الفاظ میں اپنا زمانہ، اپنا شعور اور اپنا سچ محفوظ کر دیا۔
اور شاید آنے والے عہد میں اصل صاحبِ قلم کی پہچان یہی ہوگی کہ اس کے پاس اے آئی موجود ہونے کے باوجود اس کی اپنی آواز موجود ہو۔

#اے آئی
#اہل_قلم
#شعور
#ai
#model

اسلام فتوحات اور شہنشاہیت کےلئے آیاتھا .1

کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟  پہلی قسط:  ✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین ...