Saturday, 22 August 2026

نہم ربیع الاول حقیقت کیاہے

۹ ربیع الاول: حقیقت کیا ہے؟

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

 ۹ربیع الاول کے بارے میں ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ یہ وہ دن ہے جب امام حسین علیہ السلام کے قاتلین میں سے بعض افراد کو مختار ثقفی نے قتل کیا، خصوصاً عمر بن سعد کے قتل کو اس تاریخ سے منسوب کیا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے خوشی کا دن سمجھا جاتا ہے۔ اس موضوع پر جذباتی گفتگو تو بہت ہوتی رہتی ہے، لیکن تاریخی تحقیق کا تقاضا ہے کہ واقعے، تاریخ اور بعد میں پیدا ہونے والی روایتی نسبتوں کو الگ الگ دیکھا جائے۔
مختار ثقفی نے ۶۶ھ میں کوفہ میں قیام کیا اور امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شریک افراد کے خلاف کارروائی شروع کی۔ قدیم تاریخی ماخذ تاریخ طبری میں عمر بن سعد کے قتل کا واقعہ واضح طور پر موجود ہے۔ طبری لکھتے ہیں:
«فَأَصْبَحَ الْمُخْتَارُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبَا عَمْرَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِهِ… فَضَرَبَهُ أَبُو عَمْرَةَ بِسَيْفِهِ فَقَتَلَهُ، وَجَاءَ بِرَأْسِهِ.»
ترجمہ: “مختار نے صبح ابو عمرہ کو اس کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ اسے لے آئے… ابو عمرہ نے اسے اپنی تلوار سے قتل کردیا اور اس کا سر مختار کے پاس لے آیا۔”
حوالہ: محمد بن جریر طبری، تاریخ الأمم والملوک، ج ۶، حوادث سنہ ۶۶ھ، اخبار المختار بن ابی عبید۔
یہ روایت اس بات کے لیے اہم ہے کہ عمر بن سعد کا مختار کے ہاتھوں قتل تاریخی واقعہ ہے۔ لیکن یہی ماخذ اس قتل کی تاریخ ۹ ربیع الاول نہیں بتاتا۔ چنانچہ ایک ثابت شدہ واقعے کے ساتھ ایک غیر ثابت شدہ تاریخ جوڑ دینا علمی طور پر درست نہیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا چاہیے: کسی شخص کا قتل ثابت ہونا اور اس کے قتل کی مخصوص تاریخ ثابت ہونا دو الگ دعوے ہیں۔ عمر بن سعد کا قتل سنہ ۶۶ھ میں ہونا تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے، مگر ۹ ربیع الاول کو اس واقعے کی قطعی تاریخ قرار دینے کے لیے قدیم معتبر تاریخی شہادت موجود نہیں۔ اسی لیے جدید شیعہ تحقیقی مطالعات میں بھی اس نسبت کو غیر ثابت قرار دیا گیا ہے۔
۹ ربیع الاول کے خصوصی فضائل کے بارے میں ایک مفصل روایت بعد کے شیعہ مصادر میں حسن بن سلیمان حلی کی کتاب المحتضر میں نقل ہوئی ہے۔ اس کے آغاز میں ہے:
«مَا رُوِيَ فِي فَضْلِ يَوْمِ التَّاسِعِ مِنْ رَبِيعِ الأَوَّلِ…»
ترجمہ: “۹ ربیع الاول کے دن کی فضیلت کے بارے میں جو روایت نقل ہوئی ہے…”
حوالہ: حسن بن سلیمان الحلی، المحتضر، ص ۸۹۔
اس روایت میں اس دن کو عید اور خوشی سے متعلق بعض مضامین بیان ہوئے ہیں، لیکن اس کے متن میں عمر بن سعد کا نام صراحت کے ساتھ موجود نہیں۔ بعد کے زمانے میں “دشمنِ اہل بیت کے ہلاک ہونے” کے بعض مضامین کو عمر بن سعد کے قتل کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ روایت میں واضح طور پر عمر بن سعد کے قتل کی ۹ ربیع الاول کی تاریخ بیان ہوئی ہے درست نہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ اس روایت کی سند کے بارے میں بھی اہل علم کے درمیان مورد تحقیق ہے۔ اس لیے اسے بغیر تحقیق کے قطعی اور متفق علیہ صحیح حدیث قرار دینا مناسب نہیں۔ حدیثی تحقیق کا اصول یہی ہے کہ متن کے ساتھ سند، راویوں اور ماخذ کی حیثیت بھی دیکھی جائے۔
۹ ربیع الاول کی ایک زیادہ واضح اور بامعنی نسبت آغازِ امامتِ حضرت ولی عصر امام مہدی علیہ السلام سے ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت ۸ ربیع الاول ۲۶۰ھ کو ہوئی۔ شیخ مفید لکھتے ہیں:
«وَقُبِضَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِيعِ الأَوَّلِ سَنَةَ سِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ.»
ترجمہ: “ابو محمد حسن بن علی علیہ السلام ۲۶۰ھ میں ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو جمعہ کے دن رحلت پا گئے۔”
حوالہ: شیخ مفید، الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، ج ۲، ص ۳۳۶۔
اس تاریخی ترتیب کی بنا پر ۹ ربیع الاول کو امام مہدی علیہ السلام کی امامت کے آغاز کے عنوان سے یاد کرنا شیعہ روایت میں ایک معروف تعبیر ہے۔ علامہ مجلسی نے بھی اس نسبت کو نقل کرتے ہوئے لکھا:
«فَيَكُونُ ابْتِدَاءُ وِلَايَةِ الْمَهْدِيِّ عَلَى الْأُمَّةِ يَوْمَ تَاسِعِ رَبِيعِ الْأَوَّلِ.»
ترجمہ: “پس امت پر امام مہدی علیہ السلام کی ولایت کا آغاز ۹ ربیع الاول کو ہوگا۔”
حوالہ: علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الأنوار، ج ۳۱، ص ۳۳۲۔
یہ نسبت اس لیے بھی معنویت رکھتی ہے کہ امامت کا سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد ختم نہیں ہوا بلکہ حضرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی امامت میں جاری رہا۔ چنانچہ ۹ ربیع الاول کو محض کسی تاریخی شخصیت کی ہلاکت سے وابستہ کرنے کے بجائے تسلسلِ امامت، معرفتِ امام اور انتظارِ فرج کے عنوان سے سمجھنا زیادہ وسیع اور تعمیری مفہوم رکھتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
«مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً.»
ترجمہ: “جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا۔”
حوالہ: محمد بن یعقوب کلینی، الکافی، ج ۱، کتاب الحجة، باب «من مات وليس له إمام من أئمة الهدى»، ح ۱۰۔
اس روایت کی روشنی میں ۹ ربیع الاول کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہم کس کے مرنے پر خوش ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے امام کو کتنا جانتے ہیں اور ان کی ولایت کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں کس حد تک نبھاتے ہیں۔
🔹یہاں ایک اور غلط فہمی بھی دور ہونی چاہیے۔ کسی دینی مناسبت پر خوشی کا اظہار اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ انسان ایسے کام کرے جو شریعت اور اخلاق دونوں کے خلاف ہوں۔ اگر کوئی عمل عام دنوں میں گناہ، بے ہودگی، بدزبانی، فحاشی، تہذیب سے گری ہوئی حرکت یا کسی کی دل آزاری ہے تو کسی مذہبی تاریخ کی نسبت سے وہ جائز نہیں ہوجاتا۔ ۹ ربیع الاول بھی اخلاقی اصولوں سے مستثنیٰ نہیں۔
اہل بیت علیہم السلام کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ خوشی بھی ان کے اخلاق کے مطابق ہو۔ ذکر، صلوات، شکر، صدقہ، عبادت، معرفتِ امام، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کا مطالعہ اور اپنے کردار کی اصلاح ایسی سرگرمیاں ہیں جو اس دن کی روح سے زیادہ مناسبت رکھتی ہیں۔
لہٰذا تحقیق کی روشنی میں متوازن نتیجہ یہ ہے کہ مختار کے ہاتھوں عمر بن سعد کا قتل تاریخی طور پر ثابت ہے، لیکن اسے ۹ ربیع الاول کی قطعی تاریخ قرار دینا ثابت نہیں۔ ۹ ربیع الاول کی فضیلت کے بارے میں بعض روایات موجود ہیں، مگر ان کی سند و دلالت پر علمی بحث ہے۔ اس کے مقابلے میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی ۸ ربیع الاول کو شہادت اور اس کے بعد امام مہدی علیہ السلام کی امامت کا آغاز، اس تاریخ کو آغازِ امامت اور تجدیدِ عہدِ ولایت کے عنوان سے سمجھنے کے لیے زیادہ بامعنی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ ۹ ربیع الاول کو تاریخ کے غیر ثابت شدہ دعووں کا دن بنانے کے بجائے امامِ زمانہ علیہ السلام کی معرفت، ولایت اور انتظار کا دن بنایا جائے۔ یہی خوشی کو شعور و بصیرت دیتی ہے، عقیدے کو عمل سے جوڑتی ہے اور ایک تاریخی مناسبت کو زندہ روحانی پیغام میں بدل دیتی ہے۔

Friday, 21 August 2026

ایام عزا کا آخری دن

۸ ربیع الاول؛  
عزائے حسینیٌ کا آخری دن۔
ہم نے کیا کھویا، کیا پایا؟

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

۸ ربیع الاول امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کا آخری دن ہے۔ یہ صرف سوگ کے اختتام کا دن نہیں، بلکہ اپنے طرزِ عزاداری اور پورے محرم کا جائزہ لینے کا بھی موقع ہے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
ہم نے اس سال مجالس میں بہت کچھ سنا؛ لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں سے کتنا ہمارے دل و دماغ میں اترا؟ ایمان میں کتنی پختگی آئی؟ اپنے عقائد کو سمجھنے میں ہم نے کتنی پیش رفت کی؟ کربلا کی تاریخ اور امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مقصد کو ہم نے کتنا سمجھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری مجالس نے ہمارے اعمال، اخلاق، رویّوں اور روزمرہ زندگی میں کتنی تبدیلی پیدا کی؟
اگر محرم کے بعد بھی ہمارے اندر جھوٹ، بد اخلاقی، غیبت، تعصب، ظلم، ناانصافی اور دوسروں کے حقوق کی پامالی پہلے کی طرح موجود ہے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہماری عزاداری نے ہمیں کتنا بدلا۔ کیونکہ مجلس کا مقصد صرف آنکھوں کو نم کرنا نہیں، انسان کو بہتر بنانا بھی ہے۔
کربلا کا پیغام یہی ہے کہ انسان حق کو پہچانے، ظلم کے سامنے نہ جھکے اور اپنے کردار سے اپنے ایمان کا ثبوت دے۔ اس لیے ۸ ربیع الاول پر دوسروں کو پرکھنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں:
ہم نے اس محرم میں کتنا سنا، کتنا سمجھا اور کتنا اپنی زندگی میں اتارا؟
ہر سال کی طرح اس سال بھی محرم میں ہمارے ہندو اور اہلِ سنت برادران نے امام حسین علیہ السلام سے اپنی عقیدت اور محبت کے اظہار کے لیے مختلف جھانکیاں، مجسمے اور دیگر طریقے اختیار کیے۔ امام حسین علیہ السلام کسی ایک طبقے یا مذہب کے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے امام ہیں۔ ہر انسان اپنی عقیدت، فہم اور طرزِ اظہار کے مطابق انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے میں آزاد ہے۔
یقیناً ایسی رسومات اور اعمال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اصل امتحان یہاں صاحبانِ ایمان کا ہے۔ ہمیں یہ فرق ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ عقیدت اپنی جگہ، مگر ہر رسم اور ہر طرزِ اظہار دین یا عزاداری کا حصہ نہیں بن جاتا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم دوسروں کی بنائی ہوئی جھانکیوں، مجسموں اور غیر اسلامی رسومات پر عقیدت کے مخملی پردے ڈال دیں، اور جو چیز آج صرف ان کے اظہارِ عقیدت کا ایک طریقہ ہے، وہ آنے والے برسوں میں ہمارے ہاں مقدساتِ عزاء کا درجہ حاصل کرلے۔
بدقسمتی سے اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ بہت سی غیر ثابت شدہ رسموں اور طریقوں کو محض عقیدت کے نام پر قبول کیا گیا، پھر رفتہ رفتہ وہ عزاداری کا لازمی حصہ سمجھ لیے گئے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محبتِ حسین علیہ السلام کے ساتھ شعورِ حسین علیہ السلام کو بھی زندہ رکھیں، تاکہ عقیدت ہمیں دین کی حدود سے دور نہیں بلکہ اصل پیغامِ کربلا کے قریب لے جائے۔
یہ ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ اس میں نہ اندھی عقیدت کی گنجائش ہے اور نہ کسی پر تبلیغی ڈنڈا چلانے کی۔ ضرورت حکمت، سنجیدگی، احترام اور دینی بصیرت کی ہے۔ دوسروں کی عقیدت کا احترام اپنی جگہ، لیکن اپنی عزاداری کی دینی حدود اور اس کے اصل پیغام کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ حقیقی احترام یہی ہے کہ محبتِ حسین علیہ السلام کو ہر غیر ضروری رسم کی آمیزش سے محفوظ رکھا جائے۔
محرم ہمیں صرف رونے اور غم منانے کا نہیں، بلکہ رک کر سوچنے اور اپنے عمل کا جائزہ لینے کا بھی درس دیتا ہے۔ اگر ہم عزاداری کے نام پر ہر نئی چیز کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرتے چلے گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن پیغامِ حسین علیہ السلام رسم و رواج کے ہجوم میں دب کر رہ جائے۔ عزاداری کا اصل مقصد صرف غم کا اظہار نہیں، بلکہ کربلا کی حقیقت، امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور ان کے قیام کے مقصد کو زندہ رکھنا ہے۔
آئیے ۸ ربیع الاول، ایامِ عزائے حسینی علیہ السلام کے اختتام پر، دوسروں کو پرکھنے کے بجائے ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں:
ہم نے عزاداری کو کتنا سمجھا ہے، اور اسے کتنا رسم بنا دیا ہے؟
#عزاداری
#امام
#حسین
#کربلا
#azadari
#imam
#husain
#karbala

امام حسن عسکری ع

امام حسن عسکریؑ: ایک مختصر زندگی، صدیوں کا پیغام۔
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

تاریخ کے بعض کردار وقت کے افق پر سورج کی طرح طلوع ہوتے ہیں، پھر اپنی روشنی سے ایک عہد کو منور کرکے رخصت ہوجاتے ہیں؛ مگر بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی بظاہر مختصر، حالات بظاہر محدود اور میدانِ عمل بظاہر محصور ہوتا ہے، لیکن ان کا اثر زمان و مکان کی سرحدوں کو توڑ دیتا ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام بھی ایسی ہی عظیم ہستی ہیں۔ ان کی عمر صرف اٹھائیس برس کے قریب تھی، مگر ان اٹھائیس برسوں میں علم، عبادت، اخلاق، بصیرت، تربیت، قیادت اور مستقبل کی تیاری کا ایسا سرمایہ چھوڑ گئے جس نے ایک پوری امت کے فکری سفر کو نئی سمت عطا کی۔ زیرِ نظر کتاب بھی اسی حقیقت کو اپنے مرکزی تصور کے طور پر سامنے لاتی ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیات محض ایک مظلوم امام کی داستان نہیں بلکہ ڈھائی سو سال سے جاری ایک مسلسل فکری و سیاسی کشمکش کے اختتامی مرحلے کا عظیم عنوان ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے صرف ان کی شہادت کا تذکرہ کافی نہیں۔ ان کی پوری زندگی کو اس تاریخی پس منظر میں دیکھنا ہوگا جس میں اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے علمی، اخلاقی اور روحانی تسلسل کو اقتدار کی طاقت سے مٹانے کی کوششیں جاری تھیں۔ ایک طرف سلطنت تھی، اقتدار تھا، نگرانی تھی، پابندیاں تھیں اور دوسری طرف ایک ایسی امامت تھی جس کے پاس نہ لشکر تھا نہ حکومت؛ مگر اس کے پاس علم تھا، کردار تھا، حق کی حجت تھی اور دلوں کو بدل دینے والی روحانی قوت تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسن عسکری علیہ السلام کی عظمت نمایاں ہوتی ہے: ظاہری وسائل محدود تھے، مگر اثرات لا محدود۔
کتاب کا عنوان ہی ایک گہری فکری حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: “ڈھائی سو سالہ سازش کا نقطۂ اختتام”۔ یعنی مسئلہ صرف ایک امام کو خاموش کرانا نہیں تھا؛ مسئلہ اس سلسلۂ ہدایت کو روکنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شروع ہوکر اہل بیت علیہم السلام کے ذریعے نسل در نسل انسانیت کی فکری رہنمائی کررہا تھا۔ اسی لیے امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی کو محض ایک تاریخی سوانح نہیں بلکہ ایک عظیم نظریاتی معرکے کے آخری مرحلے کے طور پر دیکھنا زیادہ معنی خیز ہے۔
آپ کی ولادت ۲۳۲ ہجری میں ہوئی اور ۲۶۰ ہجری میں شہادت ہوئی۔ یوں زندگی کا ظاہری سفر صرف اٹھائیس برس پر محیط رہا۔ مگر تاریخ کا عجیب اصول ہے کہ عمر کی طوالت عظمت کا معیار نہیں ہوتی؛ کبھی ایک مختصر زندگی صدیوں پر محیط اثر چھوڑ جاتی ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیات اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔ کتاب کے مطابق آپ کی شہادت آٹھ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کو ہوئی اور آپ کے وصال کے ساتھ امامت کا ایک ظاہری باب بند ہوا، لیکن پیغامِ امامت کا سفر ختم نہیں ہوا؛ بلکہ ایک نئے اور زیادہ غیر معمولی مرحلے میں داخل ہوگیا۔
یہاں امام حسن عسکری علیہ السلام کی بصیرت کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جسے عام تاریخی بیان اکثر نظرانداز کردیتا ہے۔ آپ کو معلوم تھا کہ آنے والا زمانہ سابقہ ادوار سے مختلف ہوگا۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ امام اپنے پیروکاروں کی رہنمائی کرے؛ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایسی قیادت کی بنیاد کیسے رکھی جائے گی جسے ظاہری آنکھیں ہر وقت دیکھ نہ سکیں، مگر جس سے انسانیت کا فکری رشتہ قائم رہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے دور کے حالات کو سمجھتے ہوئے شیعہ معاشرے کو ایک ایسے مستقبل کے لیے تیار کیا جس میں براہِ راست ظاہری رابطے کے بجائے معرفت، اعتماد، وکالت اور تنظیم بنیادی حیثیت اختیار کرنے والے تھے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی عظمت کا ایک اہم پہلو ان کا علمی کردار ہے۔ ان کی امامت کا زمانہ ایسا تھا جس میں فکری انتشار، مختلف نظریات، مذہبی بحثوں اور سیاسی مصلحتوں کا غلبہ تھا۔ ایسے ماحول میں آپ نے علم کو محض بحث و مناظرہ کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے انسان کی تعمیر کا وسیلہ بنایا۔ امام کے نزدیک علم وہ تھا جو انسان کو خدا سے جوڑے، کردار کو سنوارے، حق و باطل میں امتیاز عطا کرے اور اسے ذمہ دار زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔ اسی لیے آپ کی تعلیمات میں حکمت اور اخلاق ساتھ ساتھ چلتے ہیں؛ معرفت اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔
آپ کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو عبادت اور روحانیت ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ حقیقی قیادت شور سے نہیں، اندرونی قوت سے پیدا ہوتی ہے۔ جس انسان کا تعلق خدا سے مضبوط ہو، وہ اقتدار کے خوف سے مرعوب نہیں ہوتا۔ جس دل میں یقین کی روشنی ہو، وہ قید و بند میں بھی آزاد رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام کی عبادت محض ذاتی ریاضت نہیں تھی؛ وہ ان کے پورے کردار کی بنیاد تھی۔ ان کے علم میں روحانیت تھی، ان کی خاموشی میں حکمت تھی اور ان کے صبر میں مزاحمت کی ایک ایسی قوت تھی جسے تلوار بھی شکست نہیں دے سکتی تھی۔
کتاب کے صفحات میں ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے امام کی معرفت اور امامت کے مسئلے کو اپنے قریبی اصحاب اور قابل اعتماد افراد کے سامنے واضح کیا۔ کتاب میں آپ سے منسوب متعدد نصوص نقل ہوئی ہیں، جن میں آپ اپنے فرزند کو اپنے بعد قائم، امام اور حجت کے طور پر متعارف کراتے ہیں؛ مثلاً: “إن ابني هو القائم من بعدي” اور “هذا إمامكم من بعدي وخليفتي عليكم” جیسے الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔
یہ مرحلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی سوانح کا محض ایک عقیدتی باب نہیں بلکہ ایک غیر معمولی تاریخی حکمتِ عملی بھی ہے۔ آنے والے دور میں بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مرحلہ شروع ہونا تھا، لہٰذا امام حسن عسکری علیہ السلام نے اس عبوری زمانے کے لیے ذہنی، فکری اور تنظیمی زمین تیار کی۔ یہ کام کسی ایک اعلان سے مکمل نہیں ہوسکتا تھا؛ اس کے لیے اعتماد کے حلقے، نمائندوں کا نظام، اہل ایمان کی تربیت اور امامت کے تصور کی مضبوط تفہیم ضروری تھی۔ کتاب میں بھی اس پہلو کو آئندہ دور کی تیاری کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسن عسکری علیہ السلام کی شخصیت ایک سوانحی کردار سے بلند ہوکر فکری معمار بن جاتی ہے۔ انہوں نے صرف اپنے زمانے کی اصلاح نہیں کی؛ انہوں نے آنے والے زمانے کے لیے ذہن تیار کیے۔ انہوں نے صرف موجودہ نسل کو خطاب نہیں کیا؛ انہوں نے مستقبل کے مومنین کے لیے بھی راستہ ہموار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی امامت کو سمجھنے کے لیے ان کے دور کی سیاسی تاریخ کے ساتھ ساتھ مستقبل کی تاریخ کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
قرآن مجید کہتا ہے:
﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾
وہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا، خواہ منکرین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔
کتاب نے اسی آیت کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے تاریخی کردار سے مربوط کیا ہے۔ اور یہی امام کی پوری زندگی کا سب سے خوب صورت استعارہ بھی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، تخت الٹتے رہے، قید خانے آباد ہوتے رہے، نگرانی کے حصار سخت ہوتے رہے، مگر نورِ ہدایت نہ بجھا۔ چراغ کو چھپایا جاسکتا ہے، اس کی روشنی کو نہیں؛ امام کو قید کیا جاسکتا ہے، امام کی فکر کو نہیں؛ جسم کو شہید کیا جاسکتا ہے، حق کے پیغام کو نہیں۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اسی کشمکش کا آخری المناک باب تھی۔ کتاب کے مطابق ۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کو آپ کی شہادت ہوئی، لیکن شہادت کو صرف اختتام سمجھنا اس واقعے کی روح کو سمجھنے میں ناکامی ہوگی۔ ایک عظیم تاریخی شخصیت کی موت کبھی کبھی اس کے پیغام کی نئی زندگی کا آغاز ہوتی ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ آپ کے جسمانی سفر کا اختتام ہوا، مگر آپ کی امامت کی ذمہ داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ کتاب اسی لیے شہادت کو ایک اختتام کے ساتھ ساتھ ایک نئے عہد کا آغاز قرار دیتی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسن عسکری علیہ السلام کا تعلق حضرت امام مہدی علیہ السلام سے محض باپ اور بیٹے کا تعلق نہیں رہتا؛ یہ دو زمانوں کے درمیان پل بن جاتا ہے۔ ایک امام اپنی مختصر ظاہری زندگی میں امت کو اس مستقبل کے لیے تیار کرتا ہے جہاں حجتِ خدا ظاہری نگاہوں سے اوجھل ہوگی، مگر اس کی ہدایت کا سلسلہ قائم رہے گا۔ یوں امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ امامت کا چراغ بجھا نہیں؛ وہ ایک نئے پردے کے پیچھے منتقل ہوگیا۔
اس پوری داستان کا سب سے بڑا فکری سبق یہ ہے کہ ظلم ہمیشہ طاقت کے ذریعے شکست نہیں کھاتا؛ کبھی وہ ایک ایسی نسل کی تربیت سے شکست کھاتا ہے جو حق کو پہچان لے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے یہی کیا۔ انہوں نے اپنے گرد موجود تاریکی کے مقابلے میں شور نہیں کیا، بلکہ کردار پیدا کیا؛ انہوں نے اقتدار سے اقتدار کی جنگ نہیں لڑی، بلکہ شعور سے جہالت کا مقابلہ کیا؛ انہوں نے تلوار کے مقابلے میں تلوار نہیں اٹھائی، بلکہ ایسی فکر پیدا کی جسے تلوار کبھی قتل نہیں کرسکتی
آج جب ہم امام حسن عسکری علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا؛ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا چھوڑا؟ اگر ہم ان کی شہادت پر صرف آنسو بہا کر آگے بڑھ جائیں تو ہم نے واقعے کو یاد کیا، پیغام کو نہیں۔ اگر ہم ان کی ولادت اور شہادت کی تاریخیں یاد رکھیں مگر علم، تقویٰ، نظم، ذمہ داری، صبر، بصیرت اور انتظارِ حقیقی کو اپنی زندگی میں جگہ نہ دیں تو ہماری نسبت محض جذباتی رہ جائے گی۔
کتاب کا یہی پیغام آج کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے کہ عزاداری کا مقصد صرف آنکھوں کو اشک بار کرنا نہیں، بلکہ دل کو بیدار کرنا اور زندگی کو بدلنا ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی یاد ہمیں اپنے کردار، معاشرت، علم، اخلاق اور دینی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی مختصر حیات دراصل ایک طویل تاریخ کا خلاصہ ہے۔ یہ صبر کی تاریخ ہے، علم کی تاریخ ہے، ظلم کے مقابلے میں استقامت کی تاریخ ہے، نسلوں کی تربیت کی تاریخ ہے اور سب سے بڑھ کر نورِ ہدایت کے ناقابلِ شکست ہونے کی تاریخ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تخت پر بیٹھ کر نہیں، ایک محدود حجرے میں بیٹھ کر برپا کیا جاتا ہے؛ کبھی سب سے بڑی مزاحمت تلوار سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے؛ اور کبھی ایک اٹھائیس سالہ زندگی صدیوں کے لیے راستہ متعین کردیتی ہے۔
اسی لیے امام حسن عسکری علیہ السلام کو صرف مظلوم امام کہہ کر یاد کرنا ان کی عظمت کو محدود کرنا ہے۔ وہ عالم بھی تھے، عابد بھی؛ مربی بھی تھے، قائد بھی؛ صابر بھی تھے، دوراندیش بھی؛ اور سب سے بڑھ کر مستقبلِ امامت کے معمار تھے۔ ان کی شہادت ایک جسم کا خاتمہ تھی، پیغام کا نہیں۔ وہ ڈھائی سو سالہ فکری کشمکش کے آخری بڑے چراغ تھے، مگر اسی چراغ کی روشنی میں غیبت کے دور کا راستہ روشن ہونا تھا۔
اور شاید یہی امام حسن عسکری علیہ السلام کی پوری زندگی کا سب سے خوب صورت جملہ ہے
ظلم نے سمجھا تھا کہ اس نے امام کو خاموش کردیا؛ تاریخ نے ثابت کیا کہ اس نے صرف ایک آواز کو جسم سے جدا کیا تھا، اس کے پیغام کو نہیں۔
سلام ہو اس امام پر جس نے قید میں رہ کر آزادی کا مفہوم سکھایا، خاموش رہ کر حق کی گواہی دی، مختصر زندگی میں صدیوں کا فکری سرمایہ چھوڑا، اور اپنی شہادت کے ذریعے امت کو یہ یقین دے دیا کہ حجتِ خدا کا چراغ کبھی نہیں بجھتا۔
سلام ہو امام حسن عسکری علیہ السلام پر،
سلام ہو ان کی پاکیزہ سیرت پر،
سلام ہو ان کے علم و حلم پر،
سلام ہو ان کی مظلوم شہادت پر،
اور سلام ہو اس فرزندِ گرامی حضرت امام مہدی علیہ السلام پر، جن کے ظہور کی تمہید میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی پوری زندگی ایک عظیم تاریخی باب بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔
#عسکری
#حسن
#ربیع الاول
#askari
#hasan
#rabiul_awwal

Thursday, 20 August 2026

خطیب اعظم

خطیب اعظم مولانا سیدمحمد دہلوی مرحوم
حیات و خدمات

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

کچھ شخصیات اپنی زندگی میں ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں اور ان کے جانے کے بعد بھی ان کے افکار، جدوجہد اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے راستہ دکھاتی رہتی ہیں۔ علامہ سید محمد دہلوی بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی طویل زندگی علم و معرفت، خطابت، اصلاحِ معاشرہ اور ملتِ تشیع کے حقوق کے تحفظ میں بسر کی۔ ان کی قیادت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے حل کے لیے پوری قوم کو منظم کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے۔
آج 20 اگست کو ان کی برسی کے موقع پر ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو یاد کرنا دراصل برصغیر کی شیعی تاریخ کے ایک اہم باب کو یاد کرنا ہے۔ ایک ایسا باب جس میں علم و خطابت کے ساتھ قومی بیداری، اجتماعی اتحاد اور حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد نمایاں نظر آتی ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی:
سید محمد دہلوی ولد سید آفتاب حسین بن سید غازی الدین نے 1317ھ بمطابق 1899ء میں ہندوستان کے ضلع بجنور، اترپردیش کے موضع پتن ہیٹری کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کا تعلق زیدی سادات سے تھا۔ آپ کے والد سید آفتاب حسین دہلی کی شیعہ جامع مسجد کے پیش نماز تھے۔
زندگی نے بچپن ہی میں آپ سے والدین کا سایہ چھین لیا۔ چار برس کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا اور پانچ برس کی عمر میں والدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یتیمی اور ابتدائی محرومیوں کے باوجود آپ نے تعلیم و تربیت کا سفر جاری رکھا اور آگے چل کر برصغیر کی ایک نمایاں علمی و ملی شخصیت بنے۔
علمی تربیت اور فکری نشوونما:
آپ نے اپنے زمانے کے ممتاز اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ دہلی میں شمس العلماء سید عباس حسین جارچوی، مولوی مرزا محمد حسن اور مولوی سید محمد ہارون زنگی پوری سے فیض حاصل کیا، جبکہ لکھنؤ کے مدرسہ ناظمیہ میں سید نجم العلماء اور مولوی سید مقبول احمد سے تعلیم پائی۔ مدرسہ ناظمیہ میں چار سال تک علمی تربیت حاصل کی۔
قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد اور علمِ کلام سے گہری دلچسپی نے آپ کی شخصیت کو محض ایک خطیب تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ آپ ایک صاحبِ مطالعہ عالم اور صاحبِ فکر رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ 1943ء میں ادارہ تفسیر القرآن کی اہمیت کے پیش نظر دہلی سے رام پور تشریف لے گئے اور تقریباً سات برس وہاں قیام کیا۔
خطابت کا منفرد مقام:
علامہ سید محمد دہلوی نے خطابت میں ایسا مقام حاصل کیا کہ انہیں خطیب اعظم کہا جانے لگا۔ ان کی خطابت کا اثر صرف آواز اور الفاظ تک محدود نہیں تھا؛ وہ دلیل، مطالعے اور فکری بصیرت کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔ ان کے لیے منبر محض خطاب کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، اصلاح اور بیداری کا ذریعہ تھا۔
اسی خطابت نے انہیں عوام سے جوڑا اور بعد میں یہی عوامی اعتماد ان کی ملی قیادت کی بنیاد بنا۔ وہ سمجھتے تھے کہ قوم کو صرف جذبات نہیں بلکہ شعور، تنظیم اور اجتماعی مقصد کی ضرورت ہے۔
قومی اور ملی خدمات:
علامہ سید محمد دہلوی کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی وسیع قومی اور ملی خدمات ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ملت کی ترقی صرف علمی و مذہبی بیداری سے نہیں بلکہ تعلیم، معاشرتی بہبود اور اجتماعی اداروں کی مضبوطی سے بھی وابستہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختلف ملی اور فلاحی اداروں کے ساتھ وابستہ رہ کر عملی خدمات انجام دیں۔
1931ء سے وہ انجمن وظیفہ سادات و مومنین سے وابستہ رہے اور اس ادارے کی ترقی و استحکام کے لیے مسلسل کام کیا۔ ساداتِ بارہ کے لیے ایک شاندار بورڈنگ کا قیام، بمبئی میں قیصر باغ کی تعمیر، دہلی میں امامیہ ہال اور جھنگ میں یتیم خانے کا قیام ان کی اجتماعی فکر اور خدمتِ ملت کے نمایاں مظاہر تھے۔ ان منصوبوں کے ذریعے انہوں نے تعلیم، رہائش، فلاح اور نئی نسل کی سرپرستی جیسے اہم شعبوں کی طرف توجہ دلائی۔
لکھنؤ کی تاریخی تحریک میں بھی انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور اپنے وقت کی ملی سرگرمیوں میں فعال حصہ لیا۔ ان کی خدمات کا یہ پہلو اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ وہ ملت کے مسائل کو صرف تقریروں اور تحریروں تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ جہاں عملی ضرورت محسوس ہوتی، خود میدان میں اتر کر قیادت کرتے تھے۔ یہی عملی مزاج آگے چل کر ان کی وسیع تر ملی اور قومی قیادت کی بنیاد بنا۔
یہ خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے نزدیک ملت کی ترقی صرف مذہبی اجتماعات تک محدود نہیں تھی؛ تعلیم، معاشرتی بہبود، یتیموں کی کفالت اور نئی نسل کی تربیت بھی اسی جدوجہد کا حصہ تھے۔
پاکستان ہجرت اور ایک نئے دور کا آغاز:
1950ء میں علامہ سید محمد دہلوی نے پاکستان ہجرت کی۔ پاکستان میں قدم رکھتے ہی ان کی ملی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ یہاں ملتِ تشیع کو اپنے مذہبی تشخص، اوقاف، دینی تعلیم، عزاداری اور تعلیمی نصاب سے متعلق متعدد مسائل کا سامنا تھا۔
قیامِ پاکستان کے ابتدائی دور میں جب بعض حلقوں کی جانب سے یہ تصور سامنے آیا کہ شیعانِ حیدرِ کرار کے دوسرے مسلمانوں سے الگ کوئی حقوق نہیں ہیں، تو اس سوچ کے مقابلے میں ملت کے مخصوص مذہبی اور تہذیبی حقوق کے تحفظ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔ اسی ماحول میں ادارہ تحفظِ حقوقِ شیعہ پاکستان کے قیام اور ملی حقوق کی منظم جدوجہد کی بنیاد پڑی۔
مجلسِ عمل علمائے شیعہ کی قیادت:
1960ء کی دہائی تک حالات مزید پیچیدہ ہوچکے تھے۔ اوقاف، نصابِ تعلیم، دینیات، عزاداری اور سرکاری اداروں میں امتیازی رویوں جیسے مسائل بڑھتے گئے۔ ایسے حالات میں جنوری 1964ء میں کراچی کے امام بارگاہ شاہِ کربلا، رضیہ کالونی میں ملک بھر کے علماء اور ممتاز شیعہ رہنماؤں کا ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔
اس اجتماع میں مجلسِ عمل علمائے شیعہ تشکیل دی گئی اور علامہ سید محمد دہلوی کو متفقہ طور پر اس کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد ملت کے مطالبات کو ایک منظم تحریک کی شکل دینے کا مرحلہ شروع ہوا۔
چار بنیادی مطالبات سامنے رکھے گئے: شیعہ طلبہ کے لیے علیحدہ دینیات کا انتظام، شیعہ اوقاف کے لیے علیحدہ بورڈ کا قیام، عزاداری کا تحفظ اور درسی کتب سے قابلِ اعتراض و دل آزار مواد کا اخراج۔
حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد:
ان مطالبات کے حصول کے لیے علامہ دہلوی نے حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے مسلسل رابطے کیے۔ صدرِ پاکستان، گورنروں، وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں کنونشن اور جلسے منعقد ہوئے، قراردادیں منظور کی گئیں، حکومت کو خطوط اور ٹیلی گرام بھیجے گئے اور عوام کو منظم کیا گیا۔
راولپنڈی کا عظیم الشان کنونشن، ملتان اور جھنگ کے اجتماعات، کراچی اور حیدرآباد کی سرگرمیاں اور ملک گیر احتجاج اسی مسلسل جدوجہد کا حصہ تھے۔ کئی مرتبہ حکومت نے یقین دہانیاں کرائیں، لیکن عمل درآمد میں تاخیر ہوتی رہی۔
بالآخر نومبر 1968ء میں راولپنڈی کے اجتماع کے موقع پر حکومت نے شیعہ مطالبات منظور کرنے کا اعلان کیا۔ بعد میں علیحدہ شیعہ دینیات کے نفاذ کے لیے بھی جدوجہد جاری رہی اور 1976ء میں میٹرک کا امتحان اسی نصاب کے تحت منعقد ہوا۔ اگرچہ اس سلسلے میں بھی بعد کے حالات نے کئی نئے مسائل پیدا کیے، لیکن یہ پیش رفت علامہ دہلوی کی طویل ملی جدوجہد کا ایک اہم ثمر تھی۔
علمی خدمات اور “نور العصر”:
قومی و اجتماعی سرگرمیوں کے ساتھ علامہ دہلوی علمی میدان میں بھی فعال رہے۔ ان کی معروف کتاب “نور العصر” ان کی علمی شخصیت کی نمایاں یادگار ہے۔ اس کتاب میں قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد، علمِ کلام اور فلسفے کے مباحث کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
علامہ مرتضیٰ حسین صدرالافاضل نے کتاب کے مقدمے میں اس کے علمی پہلوؤں کو سراہتے ہوئے لکھا کہ اس میں قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد اور علمِ کلام کے مباحث کو سادہ اور نتیجہ خیز دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور قرآنی شواہد کی روشنی میں امامت اور معرفتِ امام پر استدلال کیا گیا ہے۔
کتب سے ان کی محبت بھی غیر معمولی تھی۔ کراچی میں انہوں نے نادر کتب پر مشتمل ایک قیمتی لائبریری قائم کی، لیکن تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز دور میں ان کا ذاتی کتب خانہ بلوائیوں نے جلا دیا۔ یہ سانحہ ان کے علمی سرمایہ کے لیے بڑا نقصان تھا، مگر علم اور مطالعے سے ان کا رشتہ کبھی کمزور نہ ہوا۔
ایک پوری زندگی قوم کے نام:
علامہ سید محمد دہلوی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ وہ بیک وقت عالم، خطیب، مصنف، منتظم اور ملی قائد تھے۔ انہوں نے قوم کے مسائل کو سمجھا، انہیں زبان دی، لوگوں کو منظم کیا اور حکومت کے سامنے ان کے حل کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔
ستر برس کی عمر تک ان کی جواں ہمتی اور جدوجہد برقرار رہی۔ وہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ہر نئے مسئلے کے مقابلے میں زیادہ عزم کے ساتھ سامنے آتے رہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک صاحبِ بصیرت قائد اپنی قوم کو صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عمل، تنظیم اور مسلسل جدوجہد سے آگے لے جاتا ہے۔
رحلت:
29 جمادی الثانی 1391ھ، بمطابق 20 اگست 1971ء، علامہ سید محمد دہلوی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے جنازے میں سیاسی و سماجی شخصیات سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور انہیں کراچی کے باغِ خراسان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آج ان کی برسی پر انہیں یاد کرنا صرف ایک بزرگ عالم اور خطیب کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے دور کی یاد تازہ کرنا ہے جب ملت کے حقوق کے لیے اتحاد، نظم اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت تھی۔ علامہ سید محمد دہلوی کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف جذبات سے نہیں ہوتی؛ اس کے لیے علم، شعور، اتحاد، تنظیم اور قربانی درکار ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کی علمی، ملی اور قومی خدمات سے سچی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Tuesday, 18 August 2026

کربلا کا پیغام

عزاداری: پیغامِ کربلا،
عزاداری مقصد نہیں، بلکہ اہلِ بیتؑ سے محبت کا ایک اظہار اور کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنے کا اہم وسیلہ ہے۔ اس کے ذریعے بنی امیہ اور بنی عباس کے ان انسانیت سوز اور ظلم و بربریت سے بھرے ادوار کو تاریخ کے سامنے زندہ رکھنا ہے، جن میں رسول اللہؐ اور آپ کی اولادؑ پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے، حق کی آواز دبائی گئی، اہلِ بیتؑ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور اقتدار کی خاطر دین کے مقدس نام کو بھی استعمال کیا گیا۔

کربلا اسی ظلم، جبر، دہشت اور فکری انحراف کا خونیں انجام تھی۔ امام حسینؑ اور ان کے اہل و اصحاب کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، پانی بند کیا گیا، معصوم بچوں کو بھوکا پیاسا رکھا گیا، خیمے جلائے گئے اور رسول اللہؐ کے گھرانے کو قید و اسیری کی سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی؛ یہ انسانیت، اخلاق اور حرمتِ رسالت کی کھلی پامالی تھی۔ عزاداری اسی ظلم کو فراموش نہیں ہونے دیتی اور ہر نسل کے سامنے یہ حقیقت رکھتی ہے کہ اقتدار کی ہوس انسان کو کہاں تک گرا سکتی ہے اور حق کے لیے اہلِ حق کس حد تک قربانی دے سکتے ہیں۔

لیکن کربلا کا پیغام صرف ماضی کے یزید تک محدود نہیں۔ آج بھی ہر وہ شخص یزیدی مزاج رکھتا ہے جو ظلم کرے، ظالم کا ساتھ دے، حق کو دبائے، دین کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے یا اہلِ بیتؑ کے مقدس نام کو اپنی دنیا بنانے کی سیڑھی بنائے۔ 
حسینؑ کا نام لینا آسان ہے، حسینؑ کے اصولوں پر چلنا مشکل؛ یزید پر لعنت کرنا آسان ہے، اپنے زمانے کی یزیدیت کو بے نقاب کرنا مشکل۔ اس لیے سچی عزاداری وہ ہے جو آنکھ میں آنسو کے ساتھ دل میں شعور، زبان پر حق اور کردار میں حسینؑ کا حوصلہ پیدا کرے۔

کربلا صرف رونے کے لیے نہیں، جاگنے کے لیے ہے؛
صرف ماضی کو یاد کرنے کے لیے نہیں، اپنے زمانے کو پہچاننے کے لیے ہے؛
اور صرف یزید کو برا کہنے کے لیے نہیں، ہر دور کی یزیدیت کو بے نقاب کرنے کے لیے ہے۔

Sunday, 16 August 2026

اے آئی کے زمانہ میں اہل قلم کا امتحان

اے آئی کے زمانے میں اہلِ قلم کا امتحان:
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر دور اپنے ساتھ کچھ نئی سہولتیں لاتا ہے اور کچھ نئے امتحان بھی۔ مصنوعی ذہانت بھی ہمارے عہد کی ایک بڑی علمی سہولت ہے؛ اس نے معلومات تک رسائی، زبان کی اصلاح، ترجمے، تحقیق اور تحریر کے کئی مشکل مراحل کو آسان کر دیا ہے۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ ٹیکنالوجی نے علم کے طریقۂ کار کو بدلنے کی کوشش کی ہو۔ ایک زمانے میں گوگل آیا تو لوگوں کو یہ خدشہ بھی لاحق ہوا کہ اب کتابیں کون پڑھے گا، لائبریریوں کا کیا ہوگا اور یادداشت و تحقیق کی پرانی عادتیں کہاں رہیں گی؟ 
مگر وقت نے بتایا کہ گوگل نے کتاب کی ضرورت ختم نہیں کی؛ اس نے معلومات تک پہنچنے کا راستہ آسان کیا۔ اصل فرق اس بات سے پیدا ہوا کہ آدمی گوگل سے کیا تلاش کرتا ہے، اسے کتنا سمجھتا ہے اور اس معلومات کو اپنے علم کا حصہ کیسے بناتا ہے۔
اے آئی کا معاملہ بھی کسی حد تک ایسا ہی ہے، مگر اس میں ایک بنیادی فرق ہے: گوگل زیادہ تر ہمیں معلومات تک پہنچاتا تھا، جبکہ اے آئی ہمارے لیے معلومات کو ترتیب دے کر عبارت بھی بنا سکتا ہے۔ یہی سہولت اس کا سب سے بڑا فائدہ بھی ہے اور اہلِ قلم کے لیے سب سے بڑا امتحان بھی۔ اس لیے آج اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی استعمال کرنا چاہیے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اے آئی کے ہوتے ہوئے ہم خود کتنا پڑھ رہے ہیں، کتنا سوچ رہے ہیں اور کتنا اپنے ذہن سے لکھ رہے ہیں؟
قلم ہمیشہ صرف الفاظ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں رہا۔ ایک حقیقی قلم کار پہلے اپنے اندر ایک دنیا آباد کرتا ہے؛ کتابیں پڑھتا ہے، لوگوں کو دیکھتا ہے، حالات سے گزرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، اختلاف کرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے، پھر اپنے تجربے اور مطالعے کو الفاظ کا لباس پہناتا ہے۔ اسی لیے بڑے ادیب کی تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں صرف جملے نہیں ملتے، اس کی شخصیت بھی ملتی ہے۔ اس کے زمانے کی دھڑکن، اس کے مشاہدے کی گہرائی، اس کے دکھ کی حرارت اور اس کی فکر کی روشنی بھی ساتھ چلتی ہے۔ مشین عبارت بنا سکتی ہے، مگر زندگی نہیں گزار سکتی؛ معلومات جمع کر سکتی ہے، مگر تجربہ نہیں کر سکتی؛ جملہ درست کر سکتی ہے، مگر احساس پیدا نہیں کر سکتی۔
یہاں اے آئی کا ایک دوسرا اور زیادہ اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ جس شخص نے کبھی باقاعدہ مطالعہ نہیں کیا، جس نے اپنے خیالات کو ترتیب دے کر دو صفحے تو درکنار، دو پیراگراف تک بھی خود نہیں لکھے، وہ آج چند لمحوں میں بڑی آسانی سے ایک مکمل اور بظاہر شاندار مضمون تیار کروا سکتا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے: سوشل میڈیا پر لمبی لمبی تحریریں مسلسل نظر آ رہی ہیں، مگر ان تحریروں کے پیچھے موجود آدمی کا علمی قد اکثر وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ لفظوں کی کثرت علم کی گہرائی کی دلیل نہیں ہوتی۔ یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے کہ خوب صورت عبارت اور صاحبِ علم قلم کار ایک چیز نہیں۔ عبارت مستعار لی جا سکتی ہے، اسلوب کی نقالی کی جا سکتی ہے، مگر فکر، بصیرت اور علمی پختگی ادھار نہیں لی جا سکتی۔
ایک زمانہ تھا کہ کسی شخص کو صاحبِ قلم بننے کے لیے برسوں اپنی زبان اور فکر کی تربیت کرنا پڑتی تھی۔ کتابیں اس کی استاد ہوتی تھیں، کاغذ اس کا میدان اور قلم اس کا امتحان۔ ایک جملہ لکھنے کے بعد اسے کاٹنا، دوبارہ لکھنا، لفظ بدلنا، مفہوم کو صاف کرنا اور پھر اپنے ہی جملے سے مطمئن نہ ہونا—یہ سب قلم کاری کی تربیت کا حصہ تھا۔ آج یہ محنت چند لمحوں میں ختم کی جا سکتی ہے۔ مگر مسئلہ یہی ہے کہ جس محنت سے قلم کار بنتا ہے، اگر وہ محنت ہی ختم کر دی جائے تو قلم کار کہاں سے پیدا ہوگا؟
اے آئی کا سب سے خطرناک استعمال وہ ہے جب انسان اسے اپنے ذہن کا متبادل بنا لیتا ہے۔ سوال خود پیدا کرنے کے بجائے سوال بھی مشین سے پوچھتا ہے، جواب خود تلاش کرنے کے بجائے جواب بھی مشین سے لیتا ہے، پھر اسی جواب کو اپنی تحریر کے نام سے پیش کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کی اپنی فکری عضلات کمزور ہونے لگتی ہیں۔ جیسے جسم کو ہمیشہ سہارے پر رکھا جائے تو اس کی اپنی قوت کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی ذہن کو ہر وقت تیار شدہ خیالات کا عادی بنا دیا جائے تو اس کی تخلیقی قوت بھی ماند پڑ سکتی ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اہلِ قلم اے آئی سے دور رہیں۔ نہیں، زمانے کی نئی ایجاد سے آنکھیں بند کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ اسے ایک معاون، کاتب، مترجم، مرتب اور تحقیقی ساتھی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؛ مگر مصنف، مفکر اور صاحبِ نظر خود انسان کو رہنا چاہیے۔ اے آئی سے یہ پوچھنا مفید ہے کہ کسی موضوع کے مختلف پہلو کیا ہیں، کسی عبارت میں زبان کی کمزوری کہاں ہے، کسی تحقیق کے لیے کن سمتوں میں دیکھا جا سکتا ہے؛ لیکن یہ فیصلہ کہ کیا کہنا ہے، کیوں کہنا ہے اور کس انداز میں کہنا ہے—یہ ذمہ داری قلم کار کی اپنی ہونی چاہیے۔
آنے والے زمانے میں شاید لکھنے والے بہت ہوں گے، مگر ضروری نہیں کہ صاحبِ قلم بھی بہت ہوں۔ کیونکہ لکھ دینا آسان ہو جائے گا، مگر سوچنا پھر بھی مشکل رہے گا۔ عبارت بنانا آسان ہوگا، مگر اپنا نقطۂ نظر پیدا کرنا مشکل ہوگا۔ درجنوں مضامین تو تیار ہو جائیں گے، مگر ایک ایسی تحریر جو پڑھنے والے کو رکنے، سوچنے اور اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دے، وہ پھر بھی کسی زندہ ذہن ہی سے پیدا ہوگی۔
اس لیے اہلِ قلم کے لیے اے آئی کوئی دشمن نہیں؛ اصل خطرہ اپنی فکری ذمہ داری سے دستبردار ہو جانا ہے۔ مشین سے مدد لیجیے، مگر اپنا ذہن اس کے حوالے نہ کیجیے؛ اس سے زبان سنواریے، مگر اپنی آواز نہ کھوئیے؛ اس سے معلومات لیجیے، مگر اپنی بصیرت خود پیدا کیجیے۔ کیونکہ تاریخ میں یاد وہ نہیں رہتا جس نے سب سے زیادہ الفاظ لکھے، یاد وہ رہتا ہے جس نے اپنے الفاظ میں اپنا زمانہ، اپنا شعور اور اپنا سچ محفوظ کر دیا۔
اور شاید آنے والے عہد میں اصل صاحبِ قلم کی پہچان یہی ہوگی کہ اس کے پاس اے آئی موجود ہونے کے باوجود اس کی اپنی آواز موجود ہو۔

#اے آئی
#اہل_قلم
#شعور
#ai
#model

تبرا.مقصد اور عمارت طرز عمل

تبرّاء: مقصد اور ہمارا طرزِ عمل:
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

تبرّاء کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان برائی کو پہچانے، برے کردار اور غلط روش سے خود کو بچائے، لوگوں کو برائی کی حقیقت اس انداز سے سمجھائے کہ ان کے دلوں میں برائی سے نفرت پیدا ہو اور وہ حق کی طرف پلٹ آئیں۔ تبرّاء کسی انسان کو حق سے دور کرنے، دل میں نفرت بھرنے یا رشتوں میں دیواریں کھڑی کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ حق و باطل کے درمیان شعوری فرق پیدا کرنے کا نام ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے اندازِ تبرّاء پر بھی غور کرتے رہنا چاہیے۔ اگر ہماراعمل ، ہماری گفتگو، لہجہ یا طرزِ بیان ایسا ہو جائے کہ جو اہلِ سنت پہلے ہماری مجالس میں آتے تھے، عزاداروں کی خدمت کرتے تھے، ہمارے دکھ میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ محبت و اخوت سے پیش آتے تھے، وہ ہماری تبرّاء سن کر ہم سے دور ہونے لگیں، یہاں تک کہ مجلس کا نام سنتے ہی اپنا راستہ بدل لیں، تو ہمیں ایک لمحے کے لیے ضرور رک کر سوچنا چاہیے کہ کہیں خرابی تبرّاء کے اصل مقصد میں نہیں بلکہ ہمارے اندازِ بیان میں تو نہیں آگئی؟ 
حق بات کہنا ضرور ہے، مگر ایسی زبان میں کہ دل بند نہ ہوں بلکہ سوچنے پر مجبور ہوں؛ کیونکہ بہترین تبرّاء وہ ہے جو باطل سے نفرت پیدا کرے، مگر انسان کو حق سے قریب بھی کرے۔
اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ، حق بیان کرنا بھی ضروری ہے، مگر حق بیان کرنے اور دل توڑنے، نفرت پھیلانے اور کسی کو اپنے سے دور کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر ہماری گفتگو لوگوں کو حق کے قریب لانے کے بجائے اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں ہی سے متنفر کر دے تو ہمیں اپنے طرزِ بیان کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔
علماء اور اہلِ فکر سے ایک اور سنجیدہ سوال ہے: 
کیا تبرّاء کے بعض ایسے انداز، جن میں اصلاح اور دعوت کے بجائے اشتعال اور نفرت پیدا ہوئی، کہیں ہمارے درمیان فاصلے بڑھانے کا ذریعہ تو نہیں بنے؟ 
کیا یہ ممکن نہیں کہ دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو گہرا کرنے کے لیے ہماری اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا ہو؟ 
اور اگر ایک طرف بعض انتہائی اندازِ تبرّاء کو ہوا ملی تو دوسری طرف اس کے ردِعمل میں ’’اینٹی تبرّاء‘‘ تحریکیں بھی سامنے آئیں، تو کیا ہمیں دونوں پہلوؤں کا تاریخی اور تحقیقی جائزہ نہیں لینا چاہیے؟
ہمیں جذبات سے ہٹ کر یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے ان لوگوں کو بھی ہم سے دور کر دیا جو کبھی ہماری مجالس میں آتے، عزاداروں کی خدمت کرتے اور ہمارے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے؟
اگر کوئی طریقہ اہلِ بیتؑ کی محبت اور حق کی دعوت کے نام پر لوگوں کو حق کے قریب کرنے کے بجائے اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں ہی سے دور کر دے تو اس طریقے پر نظرِ ثانی کرنا کمزوری نہیں، بصیرت ہے۔ شاید وقت آگیا ہے کہ ہم تبرّاء کے اصل فلسفے کو دوبارہ سمجھیں، اپنے اندازِ بیان کا محاسبہ کریں اور یہ بھی تحقیق کریں کہ کہیں ہم کسی ایسی حکمتِ عملی کا شکار تو نہیں ہوئے جس کا فائدہ بالآخر دشمن کو پہنچا؟
علماء اور مومنین کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے: ہماری مجالس لوگوں کو حق کے قریب کر رہی ہے یا دور؟ 
اگر نتیجہ دوری ہے تو پھر ہمیں اپنے طریقۂ کار پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
#tabarra
#tawalla
#ahlebayt
#تبرا
#تولی
#اہلبیت
#برائت

امام حسن ع و معاویه

امام حسنؑ اور معاویہ
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

صلح کے پردے میں سیاست، عہد شکنی کے سائے میں شہادت — 
تاریخ صرف گزرے ہوئے واقعات کا نام نہیں؛ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنے دعووں سے نہیں، اپنے کردار اور اعمال سے پہچانا جاتا ہے۔ امام حسنؑ اور معاویہ کا معاملہ بھی تاریخ کا ایسا ہی آئینہ ہے۔ ایک طرف رسولؐ کا وہ نواسہ ہے جسے “سید شباب اہل الجنة” کا اعزاز ملا، جس کی پرورش آغوشِ نبوت اور خانۂ وحی میں ہوئی، اور جس کے بارے میں خود رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا؛ دوسری طرف اقتدار کی وہ سیاست ہے جس کے لیے تلواریں اٹھیں، لشکر آمنے سامنے آئے اور جس کے خون آلود ماحول میں امام حسنؑ نے امت کو مزید قتل و غارت سے بچانے کے لیے صلح کا راستہ اختیار کیا۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی؛ اصل سوال تو یہ ہے کہ جس صلح نے جنگ روک دی، کیا اس نے دشمنی بھی ختم کردی؟ جس معاہدے نے تلواریں نیام میں ڈال دیں، کیا اس نے دلوں سے اقتدار کی کشمکش بھی مٹا دی؟ اور جس امامؑ نے امت کے خون کو بچانے کے لیے اپنا اقتدار قربان کردیا، آخر وہی سبطِ رسولؐ زہر کے گھونٹ پینے پر کیوں مجبور ہوئے؟ یہی وہ سوال ہے جہاں سے تاریخ کا اصل باب کھلتا ہے؛ کیونکہ امام حسنؑ اور معاویہ کی داستان کو سمجھنے کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ حسنؑ نے صلح کی تھی، بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ صلح کے بعد کیا ہوا تھا۔
رسولؐ نے امام حسنؑ کے بارے میں جو الفاظ فرمائے، وہ اس پورے واقعے کی بنیاد ہیں۔ صحیح بخاری میں ابو بکرہ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے امام حسنؑ کو دیکھا اور فرمایا: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»؛ یعنی: “میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرا دے گا۔” یہ روایت صحیح البخاری، کتاب الصلح، باب قول النبیؐ للحسن بن علیؑ: ابنی هذا سید، حدیث 2704 میں موجود ہے۔ اسی روایت میں امام حسنؑ کے معاویہ کے مقابل بڑی فوج کے ساتھ آنے، عمرو بن العاص کی جنگ کے ہولناک نتائج کے بارے میں گفتگو، پھر معاویہ کی جانب سے صلح کے لیے نمائندے بھیجے جانے اور آخرکار امام حسنؑ کے صلح قبول کرنے کا ذکر ہے۔ 
یہاں ایک جملہ پوری تاریخ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے: امام حسنؑ کے پاس جنگ کے لیے لشکر تھا، مگر انہوں نے جنگ کے بجائے صلح کو اختیار کیا۔ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: «اسْتَقْبَلَ وَاللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ أَمْثَالِ الْجِبَالِ»؛ “خدا کی قسم! حسن بن علی معاویہ کے مقابل پہاڑوں جیسی فوج لے کر آئے۔” پھر معاویہ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے صلح کی پیش کش کی اور امام حسنؑ نے شرائط کی ضمانت طلب کی؛ جب نمائندوں نے کہا «نَحْنُ لَكَ بِهِ»، “ہم اس کے ضامن ہیں”، تو صلح کا معاہدہ ہوا۔ صحیح البخاری، حدیث 2704۔  یہ شکست خوردہ آدمی کی صلح نہیں تھی؛ یہ اس شخص کا فیصلہ تھا جو جنگ جاری رکھ سکتا تھا مگر رسولؐ کی پیش گوئی کو اپنے عمل سے پورا کرتے ہوئے امت کے خون کو روکنے کو ترجیح دیتا ہے۔ انصاف پسند مؤرخ کے لیے امام حسنؑ کی صلح سیاسی شکست نہیں بلکہ اخلاقی فتح ہے؛ کیونکہ اقتدار حاصل کرنا آسان ہے، اقتدار چھوڑ کر خونریزی روک دینا مشکل۔
لیکن صلح کی اصل معنویت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم یہ بھی دیکھیں کہ معاویہ اور امام حسنؑ کے درمیان کشمکش کس تاریخی پس منظر میں پیدا ہوئی تھی۔ امام حسنؑ صرف ایک سیاسی حریف نہیں تھے؛ وہ امام علی ع کے فرزند تھے، اور علی ع کے بارے میں خود صحیح مسلم میں وہ روایت موجود ہے جس میں معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے کہا: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟» یعنی “تمہیں ابو تراب کو برا کہنے سے کس چیز نے روکا؟” سعد نے جواب دیا کہ میں علی علیہ السلام کو اس لیے برا نہیں کہہ سکتا کہ رسولؐ نے ان کے بارے میں ایسی تین فضیلتیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک بھی میرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ پھر سعد نے حدیثِ منزلت، خیبر اور مباہلہ کے واقعات بیان کیے اور کہا کہ مباہلہ کے موقع پر رسولؐ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کو بلایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي»، “اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔” یہ روایت صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 2404d میں موجود ہے۔  یوں امام حسنؑ اور معاویہ کا تعلق محض دو سیاسی مدعیوں کا تعلق نہیں رہتا؛ اس کے پیچھے علی علیہ السلام کے ساتھ برسوں جاری سیاسی کشمکش اور اہلِ بیت کے مقام کا پورا مسئلہ موجود تھا۔
یہاں ایک اور تاریخی نکتہ نہایت اہم ہے: امام حسنؑ نے صلح کرکے معاویہ کی حکومت کو اپنے دل و ضمیر میں حق تسلیم نہیں کیا؛ انہوں نے جنگ روکنے کا فیصلہ کیا۔ صحیح بخاری میں صلح کا واقعہ موجود ہے، لیکن صلح کی تمام شرائط وہاں تفصیل سے نہیں آئیں؛ بعد کے تاریخی مصادر میں ان شرائط کی مختلف تفصیلات ملتی ہیں۔ اس لیے محقق کو یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہیے کہ صحیح بخاری سے صلح کا وقوع قطعی طور پر ثابت ہے، جبکہ صلح کی تمام تفصیلی شرائط کے لیے الگ الگ تاریخی مصادر کی طرف رجوع ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک انصاف پسند مؤرخ جذبات کے بجائے درجہ بندی سے کام لیتا ہے: جو بات صحیح حدیث سے ثابت ہے اسے صحیح حدیث کہتا ہے، جو تاریخی روایت ہے اسے تاریخی روایت کہتا ہے، اور جس کی سند محلِ اختلاف ہے اسے قطعی حقیقت بنا کر پیش نہیں کرتا۔
پھر تاریخ اچانک ایک ایسے مقام پر پہنچتی ہے جہاں صلح کی روشن سطروں کے پیچھے زہر کا سیاہ باب کھلتا ہے۔ امام حسنؑ کی وفات کے بارے میں متعدد اہلِ سنت کے مصادر میں زہر دیے جانے کا ذکر ملتا ہے، اور اس سلسلے میں سب سے اہم شہادتوں میں سے ایک الحاکم النیسابوری کی المستدرک علی الصحیحین ہے۔ حاکم نے مستقل عنوان قائم کیا: «سَمَّتِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ زَوْجَتُهُ»، یعنی “امام حسنؑ کو ان کی زوجہ نے زہر دیا”، اور قتادہ سے روایت نقل کی: «سَمَّتِ ابْنَةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَكَانَتْ تَحْتَهُ وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا»؛ “اشعث بن قیس کی بیٹی، جو امام حسنؑ کے نکاح میں تھی، نے انہیں زہر دیا اور اس کام پر اسے مال دیا گیا۔” المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابہ، ج 4، حدیث 4868۔ یہ حوالہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں صرف یہ نہیں کہا گیا کہ امام حسنؑ کا انتقال ہوا، بلکہ زہر اور جعدہ کے کردار کا ذکر ایک معروف سنی محدث کی کتاب میں موجود ہے۔
اسی المستدرک میں ایک دوسری روایت عمیر بن اسحاق کے واسطے سے امام حسنؑ کا اپنا بیان نقل کرتی ہے: «لَقَدْ بَلَتْ طَائِفَةٌ مِنْ كَبِدِي، وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا فَمَا سُقِيتُ مِثْلَ هَذَا»؛ مفہوم یہ ہے: “میرے جگر کا ایک حصہ نکل چکا ہے، مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا، مگر اس مرتبہ جیسا زہر کبھی نہیں پلایا گیا۔” پھر جب امام حسین علیہ السلام نے دریافت کیا کہ کس نے زہر دیا تو امام حسنؑ نے قاتل کا نام لینے سے گریز کیا اور فرمایا کہ اگر وہی ہے جس کا مجھے گمان ہے تو اللہ اس سے زیادہ سخت انتقام لینے والا ہے۔ یہ روایت المستدرک علی الصحیحین، ج 4، حدیث 4869 میں موجود ہے۔  یہاں تاریخ کا ایک ایسا منظر سامنے آتا ہے جس میں مظلوم شخص اپنے قاتل کو پہچاننے کے باوجود اپنے بھائی کے ہاتھ کو انتقام کے لیے نہیں اٹھنے دیتا؛ یہ صرف صبر نہیں، حلم کی آخری منزل ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جعدہ نے زہر کیوں دیا؟
 کیا وہ محض ذاتی دشمنی تھی؟ 
یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی ہاتھ بھی تھا؟
 یہاں اہلِ سنت کے مؤرخ ابن عبد البر کی الاستیعاب فی معرفة الاصحاب نہایت اہم ہوجاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: «وقال قتادة وأبو بكر بن حفص: سُمَّ الحسن بن علي، سمته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي»؛ “قتادہ اور ابو بکر بن حفص نے کہا: حسن بن علی کو زہر دیا گیا، انہیں ان کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی نے زہر دیا۔” پھر ابن عبد البر مزید لکھتے ہیں: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك»؛ “اور ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کام معاویہ کی خفیہ تدبیر اور اس کی طرف سے دی گئی ترغیب و لالچ کے نتیجے میں کیا۔” یہ عبارت الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 1، ص 389–390، مطبوعہ اختلاف کے ساتھ میں منقول ہے۔ 
یہاں بات بالکل صاف ہے۔ ابن عبد البر نے معاویہ کے ملوث ہونے کی نسبت اپنی طرف سے قطعی فیصلہ بنا کر پیش نہیں کی، بلکہ واضح الفاظ میں لکھا: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك» یعنی “ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جعدہ نے یہ کام معاویہ کی خفیہ تدبیر اور اس کی طرف سے دی گئی ترغیب و لالچ کے نتیجے میں کیا۔” اس سے ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ امام حسنؑ کو زہر دلوانے کی سازش میں معاویہ کے ملوث ہونے کی نسبت کوئی بعد کے شیعہ مصنف کی گھڑی ہوئی داستان نہیں، بلکہ قدیم اہلِ سنت کے معروف عالم ابن عبد البر کی کتاب الاستیعاب میں باقاعدہ نقل شدہ تاریخی روایت ہے۔ لہٰذا اس شہادت کو محض اس لیے نظرانداز کردینا کہ یہ معاویہ کے کردار پر سوال اٹھاتی ہے، علمی انصاف نہیں۔ تاریخ کے صفحات پر یہ نسبت موجود ہے، اہلِ سنت کے معتبر تاریخی ماخذ میں موجود ہے، اور ایک انصاف پسند مؤرخ کا کام یہ ہے کہ وہ اس شہادت کو پوری دیانت کے ساتھ سامنے رکھے، نہ اسے چھپائے اور نہ اس کی اہمیت گھٹائے۔
اس روایت کو مزید اہمیت اس وقت ملتی ہے جب ہم امام حسنؑ کے زہر سے متعلق دیگر سنی مصادر کو ساتھ رکھتے ہیں۔ الحاکم النیشاپوری نے جعدہ کے زہر دینے کا واقعہ نقل کیا؛ ابن عبد البر نے جعدہ کے کردار کے ساتھ معاویہ کی طرف تدسیس کی نسبت بھی نقل کی؛ اور سبط ابن الجوزی نے تذکرۃ الخواص میں شعبی کے حوالے سے اس نسبت کو مزید صراحت کے ساتھ نقل کیا۔ شعبی کی روایت میں الفاظ ہیں: «إِنَّمَا دَسَّ إِلَيْهَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: سُمِّي الْحَسَنَ وَأُزَوِّجُكِ يَزِيدَ وَأُعْطِيكِ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ»؛ یعنی: “معاویہ نے ہی اسے خفیہ طور پر پیغام بھیجا اور کہا: حسن کو زہر دے دو، میں تمہاری شادی یزید سے کردوں گا اور تمہیں ایک لاکھ درہم دوں گا۔” سبط ابن الجوزی اسی روایت میں یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ امام حسنؑ کی شہادت کے بعد جعدہ نے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا تو معاویہ نے مال تو بھیجا مگر یزید سے شادی کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ تذکرۃ الخواص، ص 192۔ 
یہاں ایک انصاف پسند مؤرخ کے سامنے یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے: کہ امام حسنؑ کو زہر دیے جانے اور جعدہ کے اس میں کردار کا ذکر اہلِ سنت کے متعدد قدیم مصادر میں موجود ہے؛ اور  معاویہ کے براہِ راست حکم دینے کی نسبت بھی ابن عبد البر اور سبط ابن الجوزی جیسے قدیم اہلِ سنت علماء کی کتابوں میں صاف طور پر نقل ہوئی ہے۔ اس لیے اس تاریخی شہادت کو نظرانداز کرنا درست نہیں۔ علمی تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ جو بات جس ماخذ میں موجود ہے اسے پوری دیانت کے ساتھ سامنے رکھا جائے، نہ اسے چھپایا جائے اور نہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے۔ تاریخ کے ان صفحات میں معاویہ کی طرف سے امام حسنؑ کو زہر دلوانے کی نسبت موجود ہے، اور ایک انصاف پسند مؤرخ اس شہادت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
یہاں ایک اور نہایت اہم سنی ماخذ سامنے آتا ہے: المستدرک میں جعدہ کے ذریعے زہر دیے جانے کی روایت کے ساتھ عنوان ہی «سمت الحسن بن علي زوجته» قائم کیا گیا ہے، اور قتادہ کی روایت میں صاف الفاظ ہیں کہ جعدہ کو اس کام پر مال دیا گیا۔ اس سے کم از کم یہ تاریخی حقیقت بہت مضبوط ہوجاتی ہے کہ امام حسنؑ کی وفات کو محض ایک طبعی موت کہنا درست نہیں؛ قدیم سنی روایات میں زہر کا واقعہ باقاعدہ محفوظ ہے۔ اور جب خود امام حسنؑ کا بیان بھی موجود ہو کہ «سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا»، “مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا”، تو واقعے کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔ 
پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ زہر کس نے دیا؛ سوال یہ بھی ہے کہ اس زہر سے سب سے زیادہ فائدہ کس سیاسی قوت کو پہنچتا تھا؟ امام حسنؑ کی موجودگی اموی اقتدار کے لیے ایک زندہ اخلاقی، دینی اور خاندانی مرکز تھی؛ وہ رسولؐ کے نواسے تھے، علی ع کے فرزند تھے، اور امت کے دل میں اہلِ بیت کی محبت کی زندہ علامت تھے۔ ان کی موجودگی میں اموی اقتدار کو ایک ایسی شخصیت کے سامنے رہنا تھا جس کی نسبت اقتدار سے نہیں، رسولؐ سے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک انصاف پسند مؤرخ جب واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مسلسل تاریخی سلسلے میں دیکھتا ہے تو سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے: کیا امام حسنؑ کی شہادت کو اس سیاسی کشمکش سے بالکل الگ سمجھا جاسکتا ہے؟ 
معتبر قدیم تاریخی موقف کا جواب نفی میں ہے؛ 
اس پوری داستان میں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے: امام حسنؑ کی مظلومیت موت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی؛ ان کی تدفین بھی سیاسی کشمکش اور مزاحمت سے محفوظ نہ رہ سکی۔ اہلِ سنت کے قدیم مؤرخ محمد بن سعد نے الطبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ جب امام حسنؑ کی وفات ہوئی اور اہلِ بیت انہیں رسولؐ کے قریب دفن کرنا چاہتے تھے تو مروان نے اس کی سخت مخالفت کی، بنی امیہ کو جمع کیا، سب نے ہتھیار پہن لیے اور حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ «حَتَّى كَانَتْ بَيْنَهُمْ الْمُرَامَاةُ بِالنَّبْلِ»؛ یعنی “یہاں تک کہ ان کے درمیان تیروں سے ایک دوسرے پر تیر اندازی ہونے لگی۔” یہ روایت محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ، ترجمۃ امام حسنؑ، ص 86 میں منقول ہے۔ یہی واقعہ ابن عساکر نے تاریخ مدینۃ دمشق، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 13، ص 292* میں بھی نقل کیا ہے، جبکہ ذہبی نے سیر أعلام النبلاء، ج 3، ص 276 میں بھی «وكانت بينهم مراماة» کے الفاظ سے اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ (مركز الهدى للدراسات الإسلامية⁠) یوں تاریخ کا المیہ اور بھی گہرا ہوجاتا ہے: جس نواسۂ رسولؐ نے اپنی زندگی میں امت کے خون کو روکنے کے لیے جنگ چھوڑ کر صلح اختیار کی، اس کی میت بھی قبر تک سکون سے نہ پہنچ سکی؛ اس کے جنازے کو رسولؐ کے جوار تک لے جانے پر تیروں کی نوبت آگئی، اور آخرکار امام حسنؑ کی اپنی وصیت اور خونریزی سے بچنے کی خواہش کے مطابق انہیں جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ 
یہاں امام حسنؑ کی وصیت کا اخلاقی حسن بھی سامنے آتا ہے: اگر نانا رسولؐ کے قریب دفن کرنے میں خونریزی کا اندیشہ ہو تو میری خاطر ایک قطرہ خون بھی نہ بہانا، مجھے بقیع لے جانا۔ یعنی جس شخص نے زندگی میں جنگ روکنے کے لیے اپنا سیاسی حق قربان کیا، اس نے موت کے بعد بھی اپنی قبر کے لیے مسلمانوں کا خون بہنے نہیں دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسنؑ کی شخصیت محض ایک تاریخی شخصیت نہیں رہتی بلکہ اخلاق کی زندہ تفسیر بن جاتی ہے۔
اور شاید یہی امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان سب سے بڑا فرق ہے: ایک طرف وہ شخصیت ہے جس کے پاس لشکر تھا مگر اس نے تلوار روک دی؛ جس کے پاس اقتدار کا امکان تھا مگر اس نے امت کا خون بچایا؛ جسے زہر دیا گیا مگر اس نے قاتل کا نام لے کر انتقام کا دروازہ نہیں کھولا؛ اور دوسری طرف وہ سیاسی اقتدار ہے جس نے علی علیہ السلام کے مقابل جنگ کی، حسنؑ کے مقابل جنگ کی، پھر صلح کی، اور اسی دور کے اختتام پر حسنؑ زہر سے دنیا سے رخصت ہوئے۔ تاریخ ان دونوں کو ایک ہی ترازو میں رکھ کر نہیں دیکھ سکتی؛ کیونکہ ایک نے اقتدار کو قربان کیا اور دوسرے نے اقتدار کو مقصد بنایا۔
یہاں صحیح مسلم کی وہ روایت پھر یاد آتی ہے جس میں معاویہ کا سعد بن ابی وقاص سے سوال محفوظ ہے: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟» اور سعد کا جواب بھی تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے کہ میں علی کو برا نہیں کہہ سکتا، کیونکہ رسولؐ نے ان کے بارے میں ایسی فضیلتیں بیان کی ہیں جن کے مقابل دنیا کی بڑی سے بڑی دولت بھی ہیچ ہے۔  جب یہ روایت امام حسنؑ کی شہادت کی تاریخی روایات کے ساتھ رکھی جاتی ہے تو پورا منظرنامہ زیادہ واضح ہوجاتا ہے: یہ صرف دو خاندانوں کی سیاسی رقابت نہیں تھی؛ یہ اہلِ بیت کے مقام اور اموی اقتدار کے درمیان ایک طویل کشمکش تھی۔
اس لیے ایک انصاف پسند مؤرخ کے لیے امام حسنؑ کی شہادت کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ “جعدہ نے زہر دیا یا نہیں”، بلکہ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جعدہ کو کس نے آمادہ کیا، کیوں کیا، اور اس قتل سے سیاسی طور پر فائدہ کس کو پہنچا؟
 اب یہاں یہ فیصلہ کرنا امام حسن علیہ السلام کا اصل قاتل کون ہے ؟ کوئی مشکل نہیں، کیونکہ زہر کا واقعہ اپنی جگہ موجود ہے، جعدہ کا کردار اپنی جگہ موجود ہے، امام حسنؑ کا اپنا بیان اپنی جگہ موجود ہے، اور معاویہ کی تدسیس کی نسبت بھی قدیم تاریخی کتابوں میں محفوظ ہے۔ تاریخ کا کام کسی کردار کو بچانے کے لیے سوال مٹانا نہیں، بلکہ سوال کو اس کے تمام شواہد کے ساتھ زندہ رکھنا ہے۔
امام حسنؑ کی زندگی کا المیہ یہی تھا کہ انہوں نے جنگ روک دی مگر دشمنی نہ رکی؛ انہوں نے صلح کردی مگر سیاسی کشمکش ختم نہ ہوئی؛ انہوں نے امت کا خون بچایا مگر خود زہر سے نہ بچ سکے۔ انہوں نے تلوار رکھ دی تو تاریخ نے ان کے ہاتھ میں صبر رکھ دیا؛ ان کے جگر پر زہر رکھا گیا تو ان کے لبوں پر پھر بھی انتقام نہیں آیا۔ جب امام حسین علیہ السلام نے پوچھا کہ کس نے زہر دیا تو امام حسنؑ نے قاتل کا نام بتانے کے بجائے فرمایا کہ اگر وہی ہے جس کا مجھے گمان ہے تو اللہ اس سے زیادہ سخت انتقام لینے والا ہے۔ المستدرک، ج 4، حدیث 4869۔
  یہ ایک ایسا جملہ ہے جس میں پوری حقیقت سمٹ گئی ہے: مظلومیت ہے، مگر انتقام نہیں؛ درد ہے، مگر امت کے انتشار کا بھی خیال ہے، 
اور یہی وجہ ہے کہ امام حسنؑ کی شہادت کو صرف “ایک سیاسی قتل” کہنا بھی ان کی عظمت کم کردیتا ہے۔ یہ صبر کی شہادت تھی، حلم کی شہادت تھی، اہلِ بیت کی مظلومیت کا ایک اور باب تھا۔ کربلا ابھی آنے والی تھی، مگر کربلا کا ایک پیش خیمہ مدینہ میں خاموشی سے لکھا جاچکا تھا؛ امام حسین ابھی میدانِ کربلا میں جانے والے تھے، مگر ان کے بڑے بھائی حسنؑ پہلے ہی اپنے جگر کے ٹکڑے زہر کے ذریعے قربان کرچکے تھے۔ ایک نے صبر سے تاریخ کو بچایا، دوسرے نے خون سے تاریخ کو جگایا۔
پس اگر ایک انصاف پسند مؤرخ اہلِ سنت کے معتبر مصادر کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کرے تو وہ اتنا ضرور کہے گا کہ امام حسنؑ کی صلح صحیح بخاری سے ثابت ہے، ان کا “سیدشباب اھل الجنہ” ہونا اور مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کا ذریعہ بننا رسولؐ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، معاویہ کا علی علیہ السلام کے بارے میں سعد سے “سبّ” کے متعلق سوال صحیح مسلم میں محفوظ ہے، امام حسنؑ کو زہر دیے جانے اور جعدہ کے کردار کا ذکر الحاکم، ابن عبد البر اور دیگر تاریخی مصادر میں موجود ہے، جبکہ معاویہ کی طرف سے جعدہ کو اکسانے کی نسبت ابن عبد البر اور سبط ابن الجوزی جیسے اہلِ سنت کے مصادر میں موجود ہے؛ 
امام حسنؑ نے اقتدار چھوڑا، مگر حق نہیں چھوڑا؛ انہوں نے جنگ چھوڑ دی، مگر اصول نہیں چھوڑے؛ انہوں نے دشمن کو معاف کیا، مگر تاریخ کو بھولنے کی اجازت نہیں دی؛ انہوں نے قاتل کا نام نہیں لیا، مگر اپنے جگر پر زہر کی گواہی چھوڑ دی۔ معاویہ نے ایک سیاسی سلطنت حاصل کی، مگر امام حسنؑ نے وہ مقام حاصل کیا جسے اقتدار کی کوئی تختی نہیں دے سکتی: رسولؐ کے دل کا مقام، اہلِ بیت کی محبت کا مقام اور مظلوم تاریخ کی دائمی شہادت۔
تاریخ کے اوراق آج بھی خاموش نہیں؛ وہ پوچھتے ہیں: جس نواسۂ رسولؐ کو خود رسولؐ نے «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ» کہا تھا، اس کے جگر میں زہر کس نے پہنچایا؟
 جعدہ کا ہاتھ کس کے اشارے پر اٹھا؟ 
اس قتل سے فائدہ کس اقتدار کو ہوا؟ 
ابن عبد البر نے ایک تاریخی جواب محفوظ کیا، سبط ابن الجوزی نے اسے مزید تفصیل دی، اور امام حسنؑ نے خود اپنے جگر کی گواہی دے دی۔ اب تاریخ کا کام یہ نہیں کہ وہ سوال کو دفن کردے؛ تاریخ کا کام یہ ہے کہ شواہد کو سامنے رکھے اور فیصلہ آنے والی نسلوں کے ضمیر پر چھوڑ دے۔
 آخر میں امام حسنؑ کی پوری زندگی کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو شاید اس سے بہتر جملہ نہ ہو: انہوں نے امت کو بچانے کے لیے اپنی حکومت چھوڑ دی، مسلمانوں کو بچانے کے لیے اپنی تلوار چھوڑ دی، اپنے بھائی کو انتقام سے روکنے کے لیے قاتل کا نام چھوڑ دیا، مگر ظالم سیاست انہیں چھوڑ نہ سکی؛ چنانچہ حسنؑ نے دنیا چھوڑ دی، مگر دنیا کے ضمیر میں اپنا سوال چھوڑ گئے۔
سلام ہو امام حسنؑ پر؛ سبطِ رسولؐ پر؛ مظلومِ مدینہ پر؛ مسمومِ مدینہ پر؛ اس جگرِ پارۂ رسولؐ پر جس نے امت کے لیے صبر کیا، جس نے اقتدار کے مقابل اخلاق کو منتخب کیا، اور جس نے زہر کے آخری گھونٹ میں بھی اپنے بھائی حسین علیہ السلام کو یہی سبق دیا کہ قاتل سے پہلے اللہ کی عدالت کو یاد رکھو۔
 حوالہ جات
صحیح البخاری: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب الصلح، باب: «قول النبیؐ للحسن بن علی: ابنی هذا سید»، حدیث 2704۔ اس میں امام حسنؑ کے معاویہ کے مقابل بڑی فوج کے ساتھ آنے، معاویہ کی طرف سے صلح کی کوشش اور رسولؐ کا امام حسنؑ کو “سید” قرار دینے والا فرمان موجود ہے۔ 
صحیح مسلم: مسلم بن حجاج النیسابوری، الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 2404d۔ اصل عبارت: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟»؛ اس روایت میں معاویہ کا سعد بن ابی وقاص سے علی علیہ السلام کے بارے میں سوال اور سعد کا انکار، نیز حدیثِ منزلت، خیبر اور مباہلہ کا ذکر ہے۔ 
المستدرک علی الصحیحین: ابو عبد اللہ الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابہ، باب «سمت الحسن بن علی زوجته»، ج 4، حدیث 4868۔ اصل عبارت: «سَمَّتِ ابْنَةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَكَانَتْ تَحْتَهُ وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا»؛ “اشعث بن قیس کی بیٹی نے امام حسنؑ کو زہر دیا اور اس کام پر اسے مال دیا گیا۔” 
المستدرک علی الصحیحین: ج 4، حدیث 4869؛ عمیر بن اسحاق سے امام حسنؑ کا قول: «لَقَدْ بَلَتْ طَائِفَةٌ مِنْ كَبِدِي، وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا فَمَا سُقِيتُ مِثْلَ هَذَا»؛ “میرے جگر کا ایک حصہ نکل چکا ہے، مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا، مگر اس مرتبہ جیسا کبھی نہیں پلایا گیا۔” 
ابن عبد البر: ابو عمر یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 1، ص 389–390، مطبوعہ کے اختلاف کے ساتھ۔ اصل عبارت: «وقال قتادة وأبو بكر بن حفص: سُمَّ الحسن بن علي، سمته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي»، اور پھر: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك»۔ 
سبط ابن الجوزی: یوسف بن قزغلی، تذکرۃ الخواص، ص 192؛ شعبی کی طرف منسوب روایت میں: «إِنَّمَا دَسَّ إِلَيْهَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: سُمِّي الْحَسَنَ وَأُزَوِّجُكِ يَزِيدَ وَأُعْطِيكِ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ»؛ معاویہ کی طرف سے جعدہ کو اکسانے کی صریح تاریخی نسبت۔  
#hasan
#imam
#sulhe_hasan
#kareem
#nabi
#حسن
#معاویہ
#صلح
#کریم

Saturday, 8 August 2026

اربعین

اربعین؛
✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری

 انسانیت کے روشن مستقبل کی طرف ایک سفر
دنیا میں ہر سال بے شمار اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ کچھ اپنی تعداد کی وجہ سے توجہ حاصل کرتے ہیں، کچھ اپنی شان و شوکت کی بنا پر یاد رکھے جاتے ہیں، اور کچھ سیاسی یا معاشی مقاصد کے باعث عالمی خبروں کا حصہ بنتے ہیں۔ مگر نجف سے کربلا تک ہونے والی مشیِ اربعین ان سب سے مختلف ہے۔ یہ نہ طاقت کی نمائش ہے، نہ دولت کا مظاہرہ، نہ کسی سیاسی جماعت کی ریلی اور نہ کسی مادی مفاد کی جستجو۔ یہ دراصل انسان کے اندر موجود خیر، محبت، وفاداری، ایثار، آزادی اور خدمت کے جذبے کا ایسا عملی اظہار ہے جس کی مثال عصر حاضر میں بہت کم ملتی ہے۔
یہ سفر بتاتا ہے کہ جب انسان کا مقصد بلند ہو تو راستے کی دشواریاں اس کے قدم نہیں روک سکتیں۔ سینکڑوں کلومیٹر کا پیدل سفر صرف جسمانی قوت سے طے نہیں ہوتا بلکہ یقین، محبت اور مقصد کی طاقت اسے ممکن بناتی ہے۔ یہی یقین انسان کو تھکن پر غالب آنے، مشکلات کو مسکرا کر قبول کرنے اور ہر قدم کو عبادت میں تبدیل کر دینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
اربعین ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا اصل حسن آسائش میں نہیں بلکہ مقصد میں ہے۔ وہ زندگی جو حق، عدل اور انسانی وقار کے لیے بسر ہو، وہی حقیقی زندگی ہے۔ کربلا اسی حقیقت کا نام ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا انسان کی شان نہیں، بلکہ حق کے لیے کھڑا ہونا اور ہر قیمت پر اصولوں کی حفاظت کرنا ہی عزت اور آزادی کی ضمانت ہے۔ امام حسینؑ کا پیغام کسی ایک قوم، زبان یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو انصاف، آزادی اور انسانی عظمت پر یقین رکھتا ہے۔
مشیِ اربعین کا ایک عظیم ترین سبق خدمتِ انسانیت ہے۔ اس سفر میں کوئی کسی سے اس کا نام، وطن، زبان یا مسلک نہیں پوچھتا۔ ہر شخص دوسرے کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ کوئی پانی پیش کرتا ہے، کوئی کھانا، کوئی آرام کی جگہ مہیا کرتا ہے، کوئی زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور کوئی صرف ایک مسکراہٹ کے ذریعے تھکے ہوئے مسافر کے حوصلے کو تازہ کر دیتا ہے۔ یہاں خدمت کا صلہ دنیا سے نہیں بلکہ خدا سے طلب کیا جاتا ہے، اسی لیے اخلاص ہر عمل میں جھلکتا ہے۔
اربعین یہ حقیقت بھی آشکار کرتی ہے کہ محبت دنیا کی سب سے بڑی قوت ہے۔ وہ کام جو طاقت، دولت اور قانون نہیں کر سکتے، محبت خاموشی سے انجام دے دیتی ہے۔ یہی محبت اجنبیوں کو اپنا بنا دیتی ہے، دلوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے، نفرتوں کو ختم کر دیتی ہے اور انسان کو انسان کے قریب لے آتی ہے۔ یہاں ایک لقمہ، ایک گھونٹ پانی، ایک دعا اور ایک خیرخواہانہ جملہ بھی انسانیت کی مشترکہ زبان بن جاتا ہے۔
یہ عظیم اجتماع اس تصور کو بھی عملی شکل دیتا ہے کہ پوری دنیا کے لوگ ایک ہی مقصد پر متحد ہو سکتے ہیں۔ مختلف زبانیں، مختلف رنگ، مختلف قومیں اور مختلف ثقافتیں یہاں کسی تقسیم کا سبب نہیں بنتیں بلکہ ایک دوسرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ امیر اور غریب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، عالم اور عامی ایک ہی راستے پر چلتے ہیں اور ہر شخص دوسرے کو برابر کا انسان سمجھ کر عزت دیتا ہے۔ یہی حقیقی مساوات اور انسانی اخوت ہے۔
مشیِ اربعین ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بڑے معجزے اجتماعی شعور سے جنم لیتے ہیں۔ جب لاکھوں انسان نظم، اعتماد، تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ ایک مقصد کے لیے نکلتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ یہ اجتماع ثابت کرتا ہے کہ معاشروں کی اصل طاقت اسلحہ یا سرمایہ نہیں بلکہ باہمی اعتماد، رضاکارانہ خدمت اور مشترکہ اقدار ہوتی ہیں۔
اس سفر میں صبر صرف برداشت کا نام نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھنے کا نام ہے۔ استقامت صرف مشکلات جھیلنے کا نام نہیں بلکہ منزل پر نظر رکھنے کا نام ہے۔ ہر قدم انسان کو اپنی ذات سے روشناس کراتا ہے، اس کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے، سادگی کا حسن دکھاتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ حقیقی عظمت ظاہری شان میں نہیں بلکہ کردار کی بلندی میں ہے۔
اربعین نسلوں کو جوڑنے والی ایک زندہ درسگاہ بھی ہے۔ یہاں بچے عمل سے سیکھتے ہیں، نوجوان خدمت کے ذریعے اپنی توانائی کو مثبت رخ دیتے ہیں، خواتین اپنی فعال شرکت سے معاشرے کی تعمیر میں حصہ لیتی ہیں اور بزرگ اپنے صبر، تجربے اور استقامت سے نئی نسل کو امید اور حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ یوں پورا خاندان ایک مقصد کے گرد جمع ہو کر معاشرتی ہم آہنگی کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔
اس مقدس سفر میں ہر قدم یہ اعلان کرتا ہے کہ دلوں کی تعمیر عمارتوں کی تعمیر سے زیادہ اہم ہے، تہذیبیں خدمت اور اخلاق سے پروان چڑھتی ہیں، خیرخواہی پوری انسانیت کی مشترکہ زبان ہے اور اختلاف کے باوجود احترام کے ساتھ جینا ممکن ہے۔ اجتماعی دعا، ذکرِ الٰہی اور یادِ حسینؑ انسان کے باطن کو زندہ کرتے ہیں اور اسے اپنے کردار کا ازسرِنو جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔
اربعین درحقیقت وفاداری کی تجدید، خود احتسابی کی دعوت، برداشت کی تربیت، نظمِ اجتماعی کی کامیاب مثال، رضاکارانہ خدمت کا عالمی معیار، انسانی اخوت کا عظیم مظاہرہ اور عالمی امن کا عملی پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ محبت کے ذریعے جوڑا جا سکتا ہے؛ نفرت کو انتقام سے نہیں بلکہ خدمت سے شکست دی جا سکتی ہے؛ اور ظلم کا مقابلہ صرف ہتھیار سے نہیں بلکہ زندہ ضمیر، ثابت قدمی اور حق پر استقامت سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
نجف سے کربلا تک کا یہ سفر دراصل انسان کے باطن کا سفر ہے۔ یہ انسان کو خود غرضی سے ایثار، بے حسی سے ہمدردی، خوف سے حوصلے، مایوسی سے امید، تفرقے سے اتحاد اور مقصد سے خالی زندگی سے بامقصد حیات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ انسانیت کے بہتر مستقبل کا زندہ منشور ہے۔
اگر آج کی دنیا اس عظیم سفر سے صرف اتنا ہی سبق سیکھ لے کہ محبت نفرت سے زیادہ طاقتور ہے، خدمت انسان کو عظیم بناتی ہے، عدل ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے، آزادی انسانی وقار کی روح ہے، اور حق پر ثابت قدم رہنا ہی تاریخ کا رخ بدلتا ہے، تو یقیناً دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پرامن، باوقار، عادل اور انسان دوست بن سکتی ہے۔ یہی مشیِ اربعین کا وہ ابدی پیغام ہے جو ہر سال نجف سے کربلا کے راستے پوری انسانیت کے نام بلند ہوتا ہے۔



#عزاداری
#اربعین
#مشی
#نجف
#کربلا
#عالمی
#اجتماع
#azadari
#arbaeen
#walk
#najaf
#karbala

Friday, 7 August 2026

عزاداری امام حسین علیہ السلام

عزاداری میں خود ساختہ ترجیحات

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے عزاداری کے ساتھ بعض ایسی چیزوں کو بھی جوڑ دیا جن کا تعلق دراصل انتظام، مقامی ثقافت یا سماجی روایات سے تھا، نہ کہ عزاداری کے بنیادی مقصد سے۔ یہ چیزیں اپنی جگہ مفید اور قابلِ احترام ہو سکتی ہیں، لیکن جب انہیں اصل دین یا عزاداری کا لازمی حصہ سمجھ لیا جائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ رفتہ رفتہ عزاداری میں بعض ایسے رسم و رواج بھی شامل ہوتے گئے جن کی بنیاد نہ قرآنِ مجید میں ملتی ہے، نہ سیرتِ رسولِ اکرمؐ و اہلِ بیتؑ میں، اور نہ ہی عزاداری کی ابتدائی تاریخ میں۔ ان میں سے بعض چیزیں مقامی ثقافتوں، بعض غیر مسلم معاشروں کی روایات اور بعض اوقات اہلِ سنت کے مذہبی و سماجی ماحول کے اثرات سے ہماری عزاداری میں داخل ہوئیں۔ یہ عمل کہیں شعوری تھا اور کہیں غیر شعوری، مگر وقت کے ساتھ ایسی بہت سی چیزیں، جو محض ایک رسم یا سماجی روایت تھیں، عزاداری کا لازمی حصہ سمجھی جانے لگیں۔
اصل خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب ان رسوم کو ایسا تقدس دے دیا گیا کہ گویا وہ بھی دین کا حکم، اہلِ بیتؑ کی سنت یا خود امام حسینؑ کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ یوں دین اور رسم، سنت اور عادت، مقصد اور ذریعہ کے درمیان فرق دھندلا گیا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات کسی رسم پر علمی گفتگو یا اس کی بنیاد کے بارے میں سوال کرنا بھی گویا دین پر اعتراض سمجھا جانے لگا، حالانکہ دین ہمیں ہر بات کو قرآن، سنت اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
آج ہماری توجہ کا بڑا حصہ اس بات پر ہوتا ہے کہ مجلس کہاں ہوگی، اسٹیج کیسا ہوگا، سجاوٹ کتنی ہوگی، جلوس کتنا بڑا ہوگا، آواز کا انتظام کیسا ہے یا کس رسم کو کس انداز سے ادا کیا جائے۔ لیکن بہت کم یہ سوچا جاتا ہے کہ مجلس سے کتنے لوگوں نے دین سیکھا، کتنے نوجوان امام حسینؑ کے مقصد سے آشنا ہوئے، کتنے لوگوں نے قرآن، نہج البلاغہ، صحیفۂ سجادیہ یا تاریخِ کربلا کا مطالعہ کیا، اور کتنے افراد اپنی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لے کر اٹھے۔
یوں رفتہ رفتہ ظاہری صورت نمایاں ہوتی گئی اور اصل پیغام پس منظر میں چلا گیا۔ ہم انتظامات پر تو بے حد محنت کرتے ہیں، لیکن علم، فکر اور تربیت پر اتنی توجہ نہیں دیتے، حالانکہ امام حسینؑ نے اپنی جان کسی رسم کو باقی رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ دین، حق، عدل اور انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیے قربانی دی تھی۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوص کے ساتھ یہ سوال کرے کہ کسی رائج عمل کی شرعی، تاریخی یا عقلی بنیاد کیا ہے، یا یہ کہ اس سے عزاداری کے اصل مقصد کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان، تو اس کی بات پر غور کرنے کے بجائے اسے فوراً “مقدسات کی توہین”، “عزاداری کی مخالفت” یا “اہلِ بیتؑ کی محبت کو کمزور کرنے” جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ اصلاح کی دعوت مخالفت نہیں ہوتی، اور تحقیق بے ادبی نہیں ہوتی۔ دین دلیل مانگنے سے نہیں، دلیل چھوڑ دینے سے کمزور ہوتا ہے۔
ہر وہ رسم جو امام حسینؑ کے پیغام کو عام کرے، لوگوں کو دین سے قریب کرے اور عزاداری کے وقار میں اضافہ کرے، یقیناً قابلِ احترام ہے۔ لیکن جو چیز اصل مقصد کو دھندلا دے، لوگوں کو علم سے دور کرے یا دین کی صحیح تصویر پیش نہ کر سکے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ محبتِ حسینؑ کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر رائج عمل کو بلا تحقیق مقدس مان لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر عمل کو قرآن، سنتِ رسولؐ، تعلیماتِ اہلِ بیتؑ اور مقصدِ کربلا کی روشنی میں دیکھا جائے۔
جب عزاداری علم کے بجائے رسم، فکر کے بجائے عادت اور مقصد کے بجائے ظاہری رسومات تک محدود ہو جائے تو اس کا اثر بھی محدود ہو جاتا ہے۔ حقیقی عزاداری وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، اس کے ایمان کو مضبوط کرے، اس کے اخلاق کو سنوارے، اسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے اور امام حسینؑ کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا کرے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظاہری انتظامات کو ان کی جگہ اہمیت دیں، مگر انہیں عزاداری کا معیار نہ بنائیں۔ عزاداری کی اصل زینت نہ سجاوٹ ہے، نہ بلند آوازیں، نہ بھیڑ، نہ نمود و نمائش اور نہ رسموں کی کثرت؛ اس کی اصل زینت علم، اخلاص، معرفتِ امام حسینؑ اور ان کے پیغام پر عمل ہے۔ جب یہ روح زندہ رہے گی تو عزاداری بھی زندہ رہے گی، اور امام حسینؑ کا پیغام بھی نسل در نسل اسی تازگی کے ساتھ منتقل ہوتا رہے گا۔

#عزاداری
#کربلا
#امام_حسین
#سید الشہدا
#تعزیہ
#azadari
#karbala
#imam 
#husain
#taziya

“مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔

مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا:

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

معرفتِ الٰہی کی معراج،
کربلا تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم ترین امتحان ہے جہاں صبر، وفا، ایثار اور بندگی اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر ہوئے۔ ایک ہی دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام، ان کے اہلِ بیت اور وفادار اصحاب راہِ حق میں قربان کر دیے گئے، خیمے جلا دیے گئے، معصوم بچوں کو پیاس نے تڑپایا اور اہلِ بیت علیہم السلام کو اسیری کی منزلوں سے گزارا گیا۔ ایسے دل خراش مناظر کے بعد جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے ابنِ زیاد نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ آپ نے اللہ کا اپنے بھائی کے ساتھ کیا معاملہ دیکھا، تو آپ نے تاریخ کا وہ لازوال جواب دیا: “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔ یہ الفاظ کسی جذباتی کیفیت کا اظہار نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے قلب کی گواہی تھے جو معرفتِ الٰہی کے نور سے منور ہو چکا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اس جواب کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ نے ظلم کو ہرگز خوبصورت قرار نہیں دیا۔ ظلم اپنی حقیقت میں ظلم ہے، قاتل اپنے جرم کا ذمہ دار ہے اور باطل کبھی حق نہیں بن سکتا۔ آپ نے جس “جمال” کا مشاہدہ کیا، وہ اللہ کی راہ میں دی گئی بے مثال قربانی کا جمال تھا، حق پر استقامت کا جمال تھا، بندگی اور وفاداری کا جمال تھا، اور اس حکمتِ الٰہی کا جمال تھا جس نے کربلا کے خون کو اسلام کی دائمی حیات کا سرچشمہ بنا دیا۔ آپ کی نگاہ قاتل کے ظلم پر نہیں رکی، بلکہ اس رب کی تدبیر تک پہنچ گئی جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے۔
درحقیقت “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا” توحید کی نظری تعریف نہیں، بلکہ توحید سے جنم لینے والی معرفتِ الٰہی، رضا بالقضاء، تسلیم اور حسنِ ظن باللہ کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔ جب بندہ اپنے رب کو حکیم، عادل، رحیم اور علیم مان لیتا ہے تو وہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ بے حکمت نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ مصیبت کا انکار نہیں کرتا، اس پر روتا بھی ہے، مگر اپنے رب سے شکوہ نہیں کرتا۔ اس کی نگاہ آزمائش کے ظاہری درد سے آگے بڑھ کر اس کے اندر پوشیدہ حکمت اور الٰہی مقصد کو تلاش کرتی ہے۔ یہی معرفت، رضا کو جنم دیتی ہے، اور یہی رضا انسان کو اعتراض سے بچا کر اطمینان عطا کرتی ہے۔
قرآن بھی اسی حقیقت کی تعلیم دیتا ہے: ﴿وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ… وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾۔ انسان کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ ہم صرف ایک لمحہ دیکھتے ہیں، وہ ابتدا سے انتہا تک پورا نظام دیکھتا ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت واقعات کو صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ ایمان سے دیکھتے ہیں۔ جب نگاہ معرفت سے روشن ہو جائے تو انسان کو ہر آزمائش تربیت کا وسیلہ، ہر قربانی قربِ الٰہی کی منزل، اور ہر صبر ابدی کامیابی کی تمہید دکھائی دینے لگتا ہے۔
اسی لیے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ مختصر جملہ کسی ایک تاریخی لمحے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لیے ایک دائمی پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کی بلندی مصیبتوں سے بچ جانے میں نہیں، بلکہ مصیبتوں کے درمیان بھی اللہ کی حکمت پر اعتماد، اس کی قضا پر رضا، اور اس کی رحمت سے حسنِ ظن برقرار رکھنے میں ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی زبان سے شکوہ نہیں، حمد نکلتی ہے؛ اس کے دل میں مایوسی نہیں، یقین جاگزیں ہوتا ہے؛ اور پھر وہ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں خاموشی سے یہی گواہی دیتا ہے:
 “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔



#زینب
#کربلا
#شام
#عزاداری
#حسین
#zainab
#azadari
#syria
#husain
#karbala

مرجع شیعیان آیة الله العظمی آقای خوئی ره

آیت اللہ العظمیٰ امام الخوئی  طاب ثراہ کی علمی شخصیت کے امتیازات۔

✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری
شیعہ فقاہت کی تاریخ دراصل علم، تحقیق اور اجتہاد کے مسلسل ارتقا کی تاریخ ہے۔ ہر دور میں ایسے عظیم فقہاء پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے علم، فکر اور تحقیق سے فقہِ اہلِ بیت علیہم السلام کو مزید مضبوط، منظم اور مؤثر بنایا۔ کسی نے فقہی مباحث کو ترتیب دی، کسی نے اصولِ استنباط کو مستحکم کیا، کسی نے استدلال کی نئی راہیں کھولیں، اور کسی نے اجتہاد کو زمانے کے نئے مسائل سے ہم آہنگ کیا۔
اسی علمی سفر میں شیخ الطائفہ محمد بن حسن طوسی نے نجف اشرف کو فقاہت کا مرکز بنایا اور فقہ کو منقولات سے استدلال کی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ محقق حلی نے فقہی ابواب کو منطقی ترتیب عطا کی، علامہ حلی نے فقہِ استدلالی کو وسعت بخشی اور تقابلی منہج کو فروغ دیا۔ شہیدِ اول اور شہیدِ ثانی نے فقہی تطبیق اور تدقیق میں اضافہ کیا، جبکہ وحید بہبہانی نے اخباری جمود کے مقابل اصولی مکتب کو نئی زندگی عطا کر کے اجتہاد کی روح کو ازسرِنو بیدار کیا۔
یہی علمی روایت شیخ مرتضیٰ انصاری کے ہاتھوں اپنے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ انہوں نے اصولِ عملیہ، حجیتِ امارات، براءت، احتیاط، استصحاب اور تعادل و تراجیح جیسے مباحث کو اس انداز سے مرتب کیا کہ جدید اصولِ فقہ کی بنیاد استوار ہوگئی۔ ان کے بعد آخوند ملا محمد کاظم خراسانی نے کفایۃ الاصول کے ذریعے اصولی فکر کو فلسفیانہ گہرائی، منطقی ترتیب اور استدلالی جامعیت عطا کی، جبکہ آیت اللہ شیخ محمد حسین نائینی نے اسی روایت میں دقتِ نظر اور تحلیلِ عقلی کا اضافہ کیا۔
آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی اسی ارتقائی سلسلے کی ایک درخشاں اور فیصلہ کن کڑی ہیں۔ انہوں نے اپنے اسلاف کے علمی ورثے کو محض محفوظ نہیں رکھا بلکہ تنقیح، تحقیق، نقد اور تجدید کے ذریعے اسے نئے اجتہادی افق عطا کیے۔ ان کی فقاہت کا امتیاز کثرتِ فتاویٰ نہیں بلکہ اصالتِ منہج ہے۔ ان کے نزدیک اجتہاد کا مدار حجیتِ دلیل ہے، نہ کہ شہرتِ قول؛ وثاقتِ سند ہے، نہ کہ کثرتِ نقل؛ اور تحقیقِ موضوع ہے، نہ کہ تقلیدِ آراء۔
ان کے علمی مکتب میں فقہ، اصول اور رجال تین جداگانہ علوم نہیں بلکہ ایک ہی استنباطی نظام کے باہم مربوط اجزاء ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک علمِ رجال فقہ کا حاشیہ نہیں بلکہ مقدّمۂ استنباط ہے۔ جب تک سند کی حجیت ثابت نہ ہو، دلالت پر بحث مکمل نہیں ہوتی، اور جب تک دلالت واضح نہ ہو، حکمِ شرعی کا استنباط معتبر نہیں ہو سکتا۔ اس طرح انہوں نے سند، دلالت اور حجیت کے درمیان ایسا مضبوط علمی ربط قائم کیا جو معاصر فقاہت کی نمایاں خصوصیت بن گیا۔
اسی اجتہادی منہج کا ایک نہایت قابلِ توجہ پہلو ان کا قرآنی ذوق بھی ہے۔ آیت اللہ خوئیؒ کی خواہش تھی کہ وہ قرآنِ کریم کی ایک ایسی جامع تفسیر تحریر کریں جو اپنے استدلال، اصولی منہج اور علمی عمق کے اعتبار سے ایک مستقل مکتب کی نمائندہ ہو۔ اس عظیم منصوبے کے مقدمے کے طور پر انہوں نے «البیان فی تفسیر القرآن» تصنیف کی، جو علومِ قرآن، جمعِ قرآن، عدمِ تحریفِ قرآن اور اصولِ تفسیر پر ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہے۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی اسی نوعیت کے ایک جامع تفسیری منصوبے پر مصروف ہیں، تو انہوں نے علمی اخلاق، احترامِ اہلِ علم اور غیر ضروری تکرار سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے وہیں روک دینا مناسب سمجھا۔
یہ واقعہ ان کی شخصیت کے دو نہایت روشن پہلوؤں کو آشکار کرتا ہے۔ پہلا یہ کہ ان کے نزدیک علم کا مقصد شہرت یا تصنیفات کی کثرت نہیں بلکہ امت کی حقیقی علمی ضرورت کو پورا کرنا تھا۔ جہاں انہیں محسوس ہوا کہ ایک عظیم مفسر اسی میدان میں غیر معمولی خدمت انجام دے رہا ہے، وہاں انہوں نے مسابقت کے بجائے تعاون، احترام اور علمی وسعتِ ظرف کا راستہ اختیار کیا۔ یہ طرزِ عمل ان کی اخلاص پر مبنی علمی شخصیت کا بہترین مظہر ہے۔
دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ معنی خیز ہے۔ بظاہر انہوں نے تفسیرِ قرآن کے ایک عظیم منصوبے کو ترک کیا، لیکن اسی کے بعد ان کی علمی توانائی «معجم رجال الحدیث» کی تالیف پر مرکوز ہوگئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشیتِ الٰہی نے ان سے علمِ حدیث، علمِ رجال اور فقہِ استدلالی کے میدان میں ایک ایسی خدمت لینا مقدر کر رکھی تھی جس کی مثال اپنی جامعیت، دقتِ تحقیق اور دیرپا اثرات کے اعتبار سے بہت کم ملتی ہے۔ معجم رجال الحدیث صرف راویوں کا تعارف نہیں بلکہ جرح و تعدیل، طبقاتِ رواۃ، اتحاد و تعددِ عناوین، توثیقاتِ خاصہ و عامہ، تعارضِ اقوال، تشخیصِ مہملات، نقدِ اسانید اور مبانیِ حجیتِ خبر کا ایک بے مثال علمی انسائیکلوپیڈیا ہے، جس نے معاصر فقاہت کے استنباطی ڈھانچے کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔ اگر «البیان» ان کے قرآنی ذوق کی آئینہ دار ہے تو «معجم رجال الحدیث» ان کے اجتہادی مکتب کی کامل ترین ترجمان ہے۔
اصولِ فقہ میں آیت اللہ خوئیؒ کا منہج بھی اسی قدر منفرد ہے۔ حجیتِ خبرِ واحد، اصالۃ الظہور، اطلاق و تقیید، عام و خاص، مفاہیم، استصحاب، براءت، اشتغال، احتیاط، حکومت و ورود، تعارضِ ادلہ اور مرجحات جیسے دقیق مباحث میں ان کی تحلیل، دقتِ نظر اور منطقی استحکام انہیں معاصر اصولیین کی صفِ اول میں کھڑا کرتا ہے۔ ان کے ہاں اصول، فقہ پر حاکم نہیں بلکہ فقہ کا خادم ہے؛ اسی لیے ہر اصولی بحث کی قدر و قیمت اس کے عملی استنباط سے متعین ہوتی ہے۔
آیت اللہ خوئیؒ کی ایک اور نمایاں خصوصیت استقلالِ علمی ہے۔ انہوں نے شیخ طوسی، نجاشی، محقق حلی، علامہ حلی، شیخ انصاری اور آخوند خراسانی جیسے اکابر سے بھرپور استفادہ کیا، مگر کبھی شخصیت کو دلیل پر مقدم نہیں کیا۔ ان کے علمی منہج کا خلاصہ یہ ہے کہ دلیل، اشخاص کی محتاج نہیں؛ بلکہ اشخاص کی آراء دلیل کی روشنی میں پرکھی جاتی ہیں۔ یہی ایک حقیقی مجتہد اور آزاد محقق کی پہچان ہے۔
معاصر فقاہت پر ان کے اثرات غیر معمولی ہیں۔ نجف اشرف کے دروسِ خارج ہوں یا قم، مشہد، لبنان، برصغیر اور دنیا کے دیگر علمی مراکز، رجالی تحقیق، اصولی استدلال اور فقہی تنقیح میں ان کے منہج کی بازگشت نمایاں طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ بہت سے فقہاء نے ان کے بعض نتائج سے اختلاف کیا، لیکن ان کے منہجِ تحقیق کی اہمیت سے انکار ممکن نہ رہا۔ یہی کسی عظیم علمی مکتب کی کامیابی ہوتی ہے کہ اختلاف بھی اسی کے قائم کردہ علمی اصولوں اور زبان کے دائرے میں کیا جائے۔
تاریخِ فقاہت کا غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ شیخ طوسی نے نجف کی علمی بنیاد رکھی، شیخ انصاری نے اصولِ اجتہاد کو نئی زندگی بخشی، اور آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی نے فقہ، اصول اور رجال کو ایک ہم آہنگ استنباطی نظام میں ڈھال کر مدرسۂ نجف کی علمی روایت کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی حقیقی میراث صرف ان کے فتاویٰ یا تصانیف نہیں، بلکہ وہ تحقیقی منہج ہے جس نے دلیل کو محور، تحقیق کو معیار، علمی امانت کو شعار اور اجتہاد کو زندہ فکر کا عنوان بنا دیا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو ہر دور کے فقیہ، محقق اور طالبِ علم کو یہ سبق دیتا ہے کہ علم کی بقا شخصیت پرستی میں نہیں بلکہ دلیل کی پاسداری، تحقیق کی دیانت اور حق کی جستجو میں ہے۔


#خویی #فقیه #مرجع
#fiqh #shia #marja #khoei

نہم ربیع الاول حقیقت کیاہے

۹ ربیع الاول: حقیقت کیا ہے؟ ✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری  ۹ربیع الاول کے بارے میں ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ یہ وہ دن ہے ج...