Sunday, 16 August 2026

اے آئی کے زمانہ میں اہل قلم کا امتحان

اے آئی کے زمانے میں اہلِ قلم کا امتحان:
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر دور اپنے ساتھ کچھ نئی سہولتیں لاتا ہے اور کچھ نئے امتحان بھی۔ مصنوعی ذہانت بھی ہمارے عہد کی ایک بڑی علمی سہولت ہے؛ اس نے معلومات تک رسائی، زبان کی اصلاح، ترجمے، تحقیق اور تحریر کے کئی مشکل مراحل کو آسان کر دیا ہے۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ ٹیکنالوجی نے علم کے طریقۂ کار کو بدلنے کی کوشش کی ہو۔ ایک زمانے میں گوگل آیا تو لوگوں کو یہ خدشہ بھی لاحق ہوا کہ اب کتابیں کون پڑھے گا، لائبریریوں کا کیا ہوگا اور یادداشت و تحقیق کی پرانی عادتیں کہاں رہیں گی؟ 
مگر وقت نے بتایا کہ گوگل نے کتاب کی ضرورت ختم نہیں کی؛ اس نے معلومات تک پہنچنے کا راستہ آسان کیا۔ اصل فرق اس بات سے پیدا ہوا کہ آدمی گوگل سے کیا تلاش کرتا ہے، اسے کتنا سمجھتا ہے اور اس معلومات کو اپنے علم کا حصہ کیسے بناتا ہے۔
اے آئی کا معاملہ بھی کسی حد تک ایسا ہی ہے، مگر اس میں ایک بنیادی فرق ہے: گوگل زیادہ تر ہمیں معلومات تک پہنچاتا تھا، جبکہ اے آئی ہمارے لیے معلومات کو ترتیب دے کر عبارت بھی بنا سکتا ہے۔ یہی سہولت اس کا سب سے بڑا فائدہ بھی ہے اور اہلِ قلم کے لیے سب سے بڑا امتحان بھی۔ اس لیے آج اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی استعمال کرنا چاہیے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اے آئی کے ہوتے ہوئے ہم خود کتنا پڑھ رہے ہیں، کتنا سوچ رہے ہیں اور کتنا اپنے ذہن سے لکھ رہے ہیں؟
قلم ہمیشہ صرف الفاظ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں رہا۔ ایک حقیقی قلم کار پہلے اپنے اندر ایک دنیا آباد کرتا ہے؛ کتابیں پڑھتا ہے، لوگوں کو دیکھتا ہے، حالات سے گزرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، اختلاف کرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے، پھر اپنے تجربے اور مطالعے کو الفاظ کا لباس پہناتا ہے۔ اسی لیے بڑے ادیب کی تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں صرف جملے نہیں ملتے، اس کی شخصیت بھی ملتی ہے۔ اس کے زمانے کی دھڑکن، اس کے مشاہدے کی گہرائی، اس کے دکھ کی حرارت اور اس کی فکر کی روشنی بھی ساتھ چلتی ہے۔ مشین عبارت بنا سکتی ہے، مگر زندگی نہیں گزار سکتی؛ معلومات جمع کر سکتی ہے، مگر تجربہ نہیں کر سکتی؛ جملہ درست کر سکتی ہے، مگر احساس پیدا نہیں کر سکتی۔
یہاں اے آئی کا ایک دوسرا اور زیادہ اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ جس شخص نے کبھی باقاعدہ مطالعہ نہیں کیا، جس نے اپنے خیالات کو ترتیب دے کر دو صفحے تو درکنار، دو پیراگراف تک بھی خود نہیں لکھے، وہ آج چند لمحوں میں بڑی آسانی سے ایک مکمل اور بظاہر شاندار مضمون تیار کروا سکتا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے: سوشل میڈیا پر لمبی لمبی تحریریں مسلسل نظر آ رہی ہیں، مگر ان تحریروں کے پیچھے موجود آدمی کا علمی قد اکثر وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ لفظوں کی کثرت علم کی گہرائی کی دلیل نہیں ہوتی۔ یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے کہ خوب صورت عبارت اور صاحبِ علم قلم کار ایک چیز نہیں۔ عبارت مستعار لی جا سکتی ہے، اسلوب کی نقالی کی جا سکتی ہے، مگر فکر، بصیرت اور علمی پختگی ادھار نہیں لی جا سکتی۔
ایک زمانہ تھا کہ کسی شخص کو صاحبِ قلم بننے کے لیے برسوں اپنی زبان اور فکر کی تربیت کرنا پڑتی تھی۔ کتابیں اس کی استاد ہوتی تھیں، کاغذ اس کا میدان اور قلم اس کا امتحان۔ ایک جملہ لکھنے کے بعد اسے کاٹنا، دوبارہ لکھنا، لفظ بدلنا، مفہوم کو صاف کرنا اور پھر اپنے ہی جملے سے مطمئن نہ ہونا—یہ سب قلم کاری کی تربیت کا حصہ تھا۔ آج یہ محنت چند لمحوں میں ختم کی جا سکتی ہے۔ مگر مسئلہ یہی ہے کہ جس محنت سے قلم کار بنتا ہے، اگر وہ محنت ہی ختم کر دی جائے تو قلم کار کہاں سے پیدا ہوگا؟
اے آئی کا سب سے خطرناک استعمال وہ ہے جب انسان اسے اپنے ذہن کا متبادل بنا لیتا ہے۔ سوال خود پیدا کرنے کے بجائے سوال بھی مشین سے پوچھتا ہے، جواب خود تلاش کرنے کے بجائے جواب بھی مشین سے لیتا ہے، پھر اسی جواب کو اپنی تحریر کے نام سے پیش کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کی اپنی فکری عضلات کمزور ہونے لگتی ہیں۔ جیسے جسم کو ہمیشہ سہارے پر رکھا جائے تو اس کی اپنی قوت کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی ذہن کو ہر وقت تیار شدہ خیالات کا عادی بنا دیا جائے تو اس کی تخلیقی قوت بھی ماند پڑ سکتی ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اہلِ قلم اے آئی سے دور رہیں۔ نہیں، زمانے کی نئی ایجاد سے آنکھیں بند کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ اسے ایک معاون، کاتب، مترجم، مرتب اور تحقیقی ساتھی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؛ مگر مصنف، مفکر اور صاحبِ نظر خود انسان کو رہنا چاہیے۔ اے آئی سے یہ پوچھنا مفید ہے کہ کسی موضوع کے مختلف پہلو کیا ہیں، کسی عبارت میں زبان کی کمزوری کہاں ہے، کسی تحقیق کے لیے کن سمتوں میں دیکھا جا سکتا ہے؛ لیکن یہ فیصلہ کہ کیا کہنا ہے، کیوں کہنا ہے اور کس انداز میں کہنا ہے—یہ ذمہ داری قلم کار کی اپنی ہونی چاہیے۔
آنے والے زمانے میں شاید لکھنے والے بہت ہوں گے، مگر ضروری نہیں کہ صاحبِ قلم بھی بہت ہوں۔ کیونکہ لکھ دینا آسان ہو جائے گا، مگر سوچنا پھر بھی مشکل رہے گا۔ عبارت بنانا آسان ہوگا، مگر اپنا نقطۂ نظر پیدا کرنا مشکل ہوگا۔ درجنوں مضامین تو تیار ہو جائیں گے، مگر ایک ایسی تحریر جو پڑھنے والے کو رکنے، سوچنے اور اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دے، وہ پھر بھی کسی زندہ ذہن ہی سے پیدا ہوگی۔
اس لیے اہلِ قلم کے لیے اے آئی کوئی دشمن نہیں؛ اصل خطرہ اپنی فکری ذمہ داری سے دستبردار ہو جانا ہے۔ مشین سے مدد لیجیے، مگر اپنا ذہن اس کے حوالے نہ کیجیے؛ اس سے زبان سنواریے، مگر اپنی آواز نہ کھوئیے؛ اس سے معلومات لیجیے، مگر اپنی بصیرت خود پیدا کیجیے۔ کیونکہ تاریخ میں یاد وہ نہیں رہتا جس نے سب سے زیادہ الفاظ لکھے، یاد وہ رہتا ہے جس نے اپنے الفاظ میں اپنا زمانہ، اپنا شعور اور اپنا سچ محفوظ کر دیا۔
اور شاید آنے والے عہد میں اصل صاحبِ قلم کی پہچان یہی ہوگی کہ اس کے پاس اے آئی موجود ہونے کے باوجود اس کی اپنی آواز موجود ہو۔

#اے آئی
#اہل_قلم
#شعور
#ai
#model

تبرا.مقصد اور عمارت طرز عمل

تبرّاء: مقصد اور ہمارا طرزِ عمل:
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

تبرّاء کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان برائی کو پہچانے، برے کردار اور غلط روش سے خود کو بچائے، لوگوں کو برائی کی حقیقت اس انداز سے سمجھائے کہ ان کے دلوں میں برائی سے نفرت پیدا ہو اور وہ حق کی طرف پلٹ آئیں۔ تبرّاء کسی انسان کو حق سے دور کرنے، دل میں نفرت بھرنے یا رشتوں میں دیواریں کھڑی کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ حق و باطل کے درمیان شعوری فرق پیدا کرنے کا نام ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے اندازِ تبرّاء پر بھی غور کرتے رہنا چاہیے۔ اگر ہماراعمل ، ہماری گفتگو، لہجہ یا طرزِ بیان ایسا ہو جائے کہ جو اہلِ سنت پہلے ہماری مجالس میں آتے تھے، عزاداروں کی خدمت کرتے تھے، ہمارے دکھ میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ محبت و اخوت سے پیش آتے تھے، وہ ہماری تبرّاء سن کر ہم سے دور ہونے لگیں، یہاں تک کہ مجلس کا نام سنتے ہی اپنا راستہ بدل لیں، تو ہمیں ایک لمحے کے لیے ضرور رک کر سوچنا چاہیے کہ کہیں خرابی تبرّاء کے اصل مقصد میں نہیں بلکہ ہمارے اندازِ بیان میں تو نہیں آگئی؟ 
حق بات کہنا ضرور ہے، مگر ایسی زبان میں کہ دل بند نہ ہوں بلکہ سوچنے پر مجبور ہوں؛ کیونکہ بہترین تبرّاء وہ ہے جو باطل سے نفرت پیدا کرے، مگر انسان کو حق سے قریب بھی کرے۔
اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ، حق بیان کرنا بھی ضروری ہے، مگر حق بیان کرنے اور دل توڑنے، نفرت پھیلانے اور کسی کو اپنے سے دور کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر ہماری گفتگو لوگوں کو حق کے قریب لانے کے بجائے اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں ہی سے متنفر کر دے تو ہمیں اپنے طرزِ بیان کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔
علماء اور اہلِ فکر سے ایک اور سنجیدہ سوال ہے: 
کیا تبرّاء کے بعض ایسے انداز، جن میں اصلاح اور دعوت کے بجائے اشتعال اور نفرت پیدا ہوئی، کہیں ہمارے درمیان فاصلے بڑھانے کا ذریعہ تو نہیں بنے؟ 
کیا یہ ممکن نہیں کہ دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو گہرا کرنے کے لیے ہماری اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا ہو؟ 
اور اگر ایک طرف بعض انتہائی اندازِ تبرّاء کو ہوا ملی تو دوسری طرف اس کے ردِعمل میں ’’اینٹی تبرّاء‘‘ تحریکیں بھی سامنے آئیں، تو کیا ہمیں دونوں پہلوؤں کا تاریخی اور تحقیقی جائزہ نہیں لینا چاہیے؟
ہمیں جذبات سے ہٹ کر یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے ان لوگوں کو بھی ہم سے دور کر دیا جو کبھی ہماری مجالس میں آتے، عزاداروں کی خدمت کرتے اور ہمارے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے؟
اگر کوئی طریقہ اہلِ بیتؑ کی محبت اور حق کی دعوت کے نام پر لوگوں کو حق کے قریب کرنے کے بجائے اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں ہی سے دور کر دے تو اس طریقے پر نظرِ ثانی کرنا کمزوری نہیں، بصیرت ہے۔ شاید وقت آگیا ہے کہ ہم تبرّاء کے اصل فلسفے کو دوبارہ سمجھیں، اپنے اندازِ بیان کا محاسبہ کریں اور یہ بھی تحقیق کریں کہ کہیں ہم کسی ایسی حکمتِ عملی کا شکار تو نہیں ہوئے جس کا فائدہ بالآخر دشمن کو پہنچا؟
علماء اور مومنین کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے: ہماری مجالس لوگوں کو حق کے قریب کر رہی ہے یا دور؟ 
اگر نتیجہ دوری ہے تو پھر ہمیں اپنے طریقۂ کار پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
#tabarra
#tawalla
#ahlebayt
#تبرا
#تولی
#اہلبیت
#برائت

امام حسن ع و معاویه

امام حسنؑ اور معاویہ
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

صلح کے پردے میں سیاست، عہد شکنی کے سائے میں شہادت — 
تاریخ صرف گزرے ہوئے واقعات کا نام نہیں؛ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنے دعووں سے نہیں، اپنے کردار اور اعمال سے پہچانا جاتا ہے۔ امام حسنؑ اور معاویہ کا معاملہ بھی تاریخ کا ایسا ہی آئینہ ہے۔ ایک طرف رسولؐ کا وہ نواسہ ہے جسے “سید شباب اہل الجنة” کا اعزاز ملا، جس کی پرورش آغوشِ نبوت اور خانۂ وحی میں ہوئی، اور جس کے بارے میں خود رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا؛ دوسری طرف اقتدار کی وہ سیاست ہے جس کے لیے تلواریں اٹھیں، لشکر آمنے سامنے آئے اور جس کے خون آلود ماحول میں امام حسنؑ نے امت کو مزید قتل و غارت سے بچانے کے لیے صلح کا راستہ اختیار کیا۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی؛ اصل سوال تو یہ ہے کہ جس صلح نے جنگ روک دی، کیا اس نے دشمنی بھی ختم کردی؟ جس معاہدے نے تلواریں نیام میں ڈال دیں، کیا اس نے دلوں سے اقتدار کی کشمکش بھی مٹا دی؟ اور جس امامؑ نے امت کے خون کو بچانے کے لیے اپنا اقتدار قربان کردیا، آخر وہی سبطِ رسولؐ زہر کے گھونٹ پینے پر کیوں مجبور ہوئے؟ یہی وہ سوال ہے جہاں سے تاریخ کا اصل باب کھلتا ہے؛ کیونکہ امام حسنؑ اور معاویہ کی داستان کو سمجھنے کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ حسنؑ نے صلح کی تھی، بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ صلح کے بعد کیا ہوا تھا۔
رسولؐ نے امام حسنؑ کے بارے میں جو الفاظ فرمائے، وہ اس پورے واقعے کی بنیاد ہیں۔ صحیح بخاری میں ابو بکرہ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے امام حسنؑ کو دیکھا اور فرمایا: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»؛ یعنی: “میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرا دے گا۔” یہ روایت صحیح البخاری، کتاب الصلح، باب قول النبیؐ للحسن بن علیؑ: ابنی هذا سید، حدیث 2704 میں موجود ہے۔ اسی روایت میں امام حسنؑ کے معاویہ کے مقابل بڑی فوج کے ساتھ آنے، عمرو بن العاص کی جنگ کے ہولناک نتائج کے بارے میں گفتگو، پھر معاویہ کی جانب سے صلح کے لیے نمائندے بھیجے جانے اور آخرکار امام حسنؑ کے صلح قبول کرنے کا ذکر ہے۔ 
یہاں ایک جملہ پوری تاریخ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے: امام حسنؑ کے پاس جنگ کے لیے لشکر تھا، مگر انہوں نے جنگ کے بجائے صلح کو اختیار کیا۔ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: «اسْتَقْبَلَ وَاللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ أَمْثَالِ الْجِبَالِ»؛ “خدا کی قسم! حسن بن علی معاویہ کے مقابل پہاڑوں جیسی فوج لے کر آئے۔” پھر معاویہ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے صلح کی پیش کش کی اور امام حسنؑ نے شرائط کی ضمانت طلب کی؛ جب نمائندوں نے کہا «نَحْنُ لَكَ بِهِ»، “ہم اس کے ضامن ہیں”، تو صلح کا معاہدہ ہوا۔ صحیح البخاری، حدیث 2704۔  یہ شکست خوردہ آدمی کی صلح نہیں تھی؛ یہ اس شخص کا فیصلہ تھا جو جنگ جاری رکھ سکتا تھا مگر رسولؐ کی پیش گوئی کو اپنے عمل سے پورا کرتے ہوئے امت کے خون کو روکنے کو ترجیح دیتا ہے۔ انصاف پسند مؤرخ کے لیے امام حسنؑ کی صلح سیاسی شکست نہیں بلکہ اخلاقی فتح ہے؛ کیونکہ اقتدار حاصل کرنا آسان ہے، اقتدار چھوڑ کر خونریزی روک دینا مشکل۔
لیکن صلح کی اصل معنویت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم یہ بھی دیکھیں کہ معاویہ اور امام حسنؑ کے درمیان کشمکش کس تاریخی پس منظر میں پیدا ہوئی تھی۔ امام حسنؑ صرف ایک سیاسی حریف نہیں تھے؛ وہ امام علی ع کے فرزند تھے، اور علی ع کے بارے میں خود صحیح مسلم میں وہ روایت موجود ہے جس میں معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے کہا: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟» یعنی “تمہیں ابو تراب کو برا کہنے سے کس چیز نے روکا؟” سعد نے جواب دیا کہ میں علی علیہ السلام کو اس لیے برا نہیں کہہ سکتا کہ رسولؐ نے ان کے بارے میں ایسی تین فضیلتیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک بھی میرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ پھر سعد نے حدیثِ منزلت، خیبر اور مباہلہ کے واقعات بیان کیے اور کہا کہ مباہلہ کے موقع پر رسولؐ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کو بلایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي»، “اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔” یہ روایت صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 2404d میں موجود ہے۔  یوں امام حسنؑ اور معاویہ کا تعلق محض دو سیاسی مدعیوں کا تعلق نہیں رہتا؛ اس کے پیچھے علی علیہ السلام کے ساتھ برسوں جاری سیاسی کشمکش اور اہلِ بیت کے مقام کا پورا مسئلہ موجود تھا۔
یہاں ایک اور تاریخی نکتہ نہایت اہم ہے: امام حسنؑ نے صلح کرکے معاویہ کی حکومت کو اپنے دل و ضمیر میں حق تسلیم نہیں کیا؛ انہوں نے جنگ روکنے کا فیصلہ کیا۔ صحیح بخاری میں صلح کا واقعہ موجود ہے، لیکن صلح کی تمام شرائط وہاں تفصیل سے نہیں آئیں؛ بعد کے تاریخی مصادر میں ان شرائط کی مختلف تفصیلات ملتی ہیں۔ اس لیے محقق کو یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہیے کہ صحیح بخاری سے صلح کا وقوع قطعی طور پر ثابت ہے، جبکہ صلح کی تمام تفصیلی شرائط کے لیے الگ الگ تاریخی مصادر کی طرف رجوع ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک انصاف پسند مؤرخ جذبات کے بجائے درجہ بندی سے کام لیتا ہے: جو بات صحیح حدیث سے ثابت ہے اسے صحیح حدیث کہتا ہے، جو تاریخی روایت ہے اسے تاریخی روایت کہتا ہے، اور جس کی سند محلِ اختلاف ہے اسے قطعی حقیقت بنا کر پیش نہیں کرتا۔
پھر تاریخ اچانک ایک ایسے مقام پر پہنچتی ہے جہاں صلح کی روشن سطروں کے پیچھے زہر کا سیاہ باب کھلتا ہے۔ امام حسنؑ کی وفات کے بارے میں متعدد اہلِ سنت کے مصادر میں زہر دیے جانے کا ذکر ملتا ہے، اور اس سلسلے میں سب سے اہم شہادتوں میں سے ایک الحاکم النیسابوری کی المستدرک علی الصحیحین ہے۔ حاکم نے مستقل عنوان قائم کیا: «سَمَّتِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ زَوْجَتُهُ»، یعنی “امام حسنؑ کو ان کی زوجہ نے زہر دیا”، اور قتادہ سے روایت نقل کی: «سَمَّتِ ابْنَةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَكَانَتْ تَحْتَهُ وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا»؛ “اشعث بن قیس کی بیٹی، جو امام حسنؑ کے نکاح میں تھی، نے انہیں زہر دیا اور اس کام پر اسے مال دیا گیا۔” المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابہ، ج 4، حدیث 4868۔ یہ حوالہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں صرف یہ نہیں کہا گیا کہ امام حسنؑ کا انتقال ہوا، بلکہ زہر اور جعدہ کے کردار کا ذکر ایک معروف سنی محدث کی کتاب میں موجود ہے۔
اسی المستدرک میں ایک دوسری روایت عمیر بن اسحاق کے واسطے سے امام حسنؑ کا اپنا بیان نقل کرتی ہے: «لَقَدْ بَلَتْ طَائِفَةٌ مِنْ كَبِدِي، وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا فَمَا سُقِيتُ مِثْلَ هَذَا»؛ مفہوم یہ ہے: “میرے جگر کا ایک حصہ نکل چکا ہے، مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا، مگر اس مرتبہ جیسا زہر کبھی نہیں پلایا گیا۔” پھر جب امام حسین علیہ السلام نے دریافت کیا کہ کس نے زہر دیا تو امام حسنؑ نے قاتل کا نام لینے سے گریز کیا اور فرمایا کہ اگر وہی ہے جس کا مجھے گمان ہے تو اللہ اس سے زیادہ سخت انتقام لینے والا ہے۔ یہ روایت المستدرک علی الصحیحین، ج 4، حدیث 4869 میں موجود ہے۔  یہاں تاریخ کا ایک ایسا منظر سامنے آتا ہے جس میں مظلوم شخص اپنے قاتل کو پہچاننے کے باوجود اپنے بھائی کے ہاتھ کو انتقام کے لیے نہیں اٹھنے دیتا؛ یہ صرف صبر نہیں، حلم کی آخری منزل ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جعدہ نے زہر کیوں دیا؟
 کیا وہ محض ذاتی دشمنی تھی؟ 
یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی ہاتھ بھی تھا؟
 یہاں اہلِ سنت کے مؤرخ ابن عبد البر کی الاستیعاب فی معرفة الاصحاب نہایت اہم ہوجاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: «وقال قتادة وأبو بكر بن حفص: سُمَّ الحسن بن علي، سمته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي»؛ “قتادہ اور ابو بکر بن حفص نے کہا: حسن بن علی کو زہر دیا گیا، انہیں ان کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی نے زہر دیا۔” پھر ابن عبد البر مزید لکھتے ہیں: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك»؛ “اور ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کام معاویہ کی خفیہ تدبیر اور اس کی طرف سے دی گئی ترغیب و لالچ کے نتیجے میں کیا۔” یہ عبارت الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 1، ص 389–390، مطبوعہ اختلاف کے ساتھ میں منقول ہے۔ 
یہاں بات بالکل صاف ہے۔ ابن عبد البر نے معاویہ کے ملوث ہونے کی نسبت اپنی طرف سے قطعی فیصلہ بنا کر پیش نہیں کی، بلکہ واضح الفاظ میں لکھا: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك» یعنی “ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جعدہ نے یہ کام معاویہ کی خفیہ تدبیر اور اس کی طرف سے دی گئی ترغیب و لالچ کے نتیجے میں کیا۔” اس سے ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ امام حسنؑ کو زہر دلوانے کی سازش میں معاویہ کے ملوث ہونے کی نسبت کوئی بعد کے شیعہ مصنف کی گھڑی ہوئی داستان نہیں، بلکہ قدیم اہلِ سنت کے معروف عالم ابن عبد البر کی کتاب الاستیعاب میں باقاعدہ نقل شدہ تاریخی روایت ہے۔ لہٰذا اس شہادت کو محض اس لیے نظرانداز کردینا کہ یہ معاویہ کے کردار پر سوال اٹھاتی ہے، علمی انصاف نہیں۔ تاریخ کے صفحات پر یہ نسبت موجود ہے، اہلِ سنت کے معتبر تاریخی ماخذ میں موجود ہے، اور ایک انصاف پسند مؤرخ کا کام یہ ہے کہ وہ اس شہادت کو پوری دیانت کے ساتھ سامنے رکھے، نہ اسے چھپائے اور نہ اس کی اہمیت گھٹائے۔
اس روایت کو مزید اہمیت اس وقت ملتی ہے جب ہم امام حسنؑ کے زہر سے متعلق دیگر سنی مصادر کو ساتھ رکھتے ہیں۔ الحاکم النیشاپوری نے جعدہ کے زہر دینے کا واقعہ نقل کیا؛ ابن عبد البر نے جعدہ کے کردار کے ساتھ معاویہ کی طرف تدسیس کی نسبت بھی نقل کی؛ اور سبط ابن الجوزی نے تذکرۃ الخواص میں شعبی کے حوالے سے اس نسبت کو مزید صراحت کے ساتھ نقل کیا۔ شعبی کی روایت میں الفاظ ہیں: «إِنَّمَا دَسَّ إِلَيْهَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: سُمِّي الْحَسَنَ وَأُزَوِّجُكِ يَزِيدَ وَأُعْطِيكِ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ»؛ یعنی: “معاویہ نے ہی اسے خفیہ طور پر پیغام بھیجا اور کہا: حسن کو زہر دے دو، میں تمہاری شادی یزید سے کردوں گا اور تمہیں ایک لاکھ درہم دوں گا۔” سبط ابن الجوزی اسی روایت میں یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ امام حسنؑ کی شہادت کے بعد جعدہ نے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا تو معاویہ نے مال تو بھیجا مگر یزید سے شادی کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ تذکرۃ الخواص، ص 192۔ 
یہاں ایک انصاف پسند مؤرخ کے سامنے یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے: کہ امام حسنؑ کو زہر دیے جانے اور جعدہ کے اس میں کردار کا ذکر اہلِ سنت کے متعدد قدیم مصادر میں موجود ہے؛ اور  معاویہ کے براہِ راست حکم دینے کی نسبت بھی ابن عبد البر اور سبط ابن الجوزی جیسے قدیم اہلِ سنت علماء کی کتابوں میں صاف طور پر نقل ہوئی ہے۔ اس لیے اس تاریخی شہادت کو نظرانداز کرنا درست نہیں۔ علمی تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ جو بات جس ماخذ میں موجود ہے اسے پوری دیانت کے ساتھ سامنے رکھا جائے، نہ اسے چھپایا جائے اور نہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے۔ تاریخ کے ان صفحات میں معاویہ کی طرف سے امام حسنؑ کو زہر دلوانے کی نسبت موجود ہے، اور ایک انصاف پسند مؤرخ اس شہادت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
یہاں ایک اور نہایت اہم سنی ماخذ سامنے آتا ہے: المستدرک میں جعدہ کے ذریعے زہر دیے جانے کی روایت کے ساتھ عنوان ہی «سمت الحسن بن علي زوجته» قائم کیا گیا ہے، اور قتادہ کی روایت میں صاف الفاظ ہیں کہ جعدہ کو اس کام پر مال دیا گیا۔ اس سے کم از کم یہ تاریخی حقیقت بہت مضبوط ہوجاتی ہے کہ امام حسنؑ کی وفات کو محض ایک طبعی موت کہنا درست نہیں؛ قدیم سنی روایات میں زہر کا واقعہ باقاعدہ محفوظ ہے۔ اور جب خود امام حسنؑ کا بیان بھی موجود ہو کہ «سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا»، “مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا”، تو واقعے کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔ 
پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ زہر کس نے دیا؛ سوال یہ بھی ہے کہ اس زہر سے سب سے زیادہ فائدہ کس سیاسی قوت کو پہنچتا تھا؟ امام حسنؑ کی موجودگی اموی اقتدار کے لیے ایک زندہ اخلاقی، دینی اور خاندانی مرکز تھی؛ وہ رسولؐ کے نواسے تھے، علی ع کے فرزند تھے، اور امت کے دل میں اہلِ بیت کی محبت کی زندہ علامت تھے۔ ان کی موجودگی میں اموی اقتدار کو ایک ایسی شخصیت کے سامنے رہنا تھا جس کی نسبت اقتدار سے نہیں، رسولؐ سے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک انصاف پسند مؤرخ جب واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مسلسل تاریخی سلسلے میں دیکھتا ہے تو سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے: کیا امام حسنؑ کی شہادت کو اس سیاسی کشمکش سے بالکل الگ سمجھا جاسکتا ہے؟ 
معتبر قدیم تاریخی موقف کا جواب نفی میں ہے؛ 
اس پوری داستان میں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے: امام حسنؑ کی مظلومیت موت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی؛ ان کی تدفین بھی سیاسی کشمکش اور مزاحمت سے محفوظ نہ رہ سکی۔ اہلِ سنت کے قدیم مؤرخ محمد بن سعد نے الطبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ جب امام حسنؑ کی وفات ہوئی اور اہلِ بیت انہیں رسولؐ کے قریب دفن کرنا چاہتے تھے تو مروان نے اس کی سخت مخالفت کی، بنی امیہ کو جمع کیا، سب نے ہتھیار پہن لیے اور حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ «حَتَّى كَانَتْ بَيْنَهُمْ الْمُرَامَاةُ بِالنَّبْلِ»؛ یعنی “یہاں تک کہ ان کے درمیان تیروں سے ایک دوسرے پر تیر اندازی ہونے لگی۔” یہ روایت محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ، ترجمۃ امام حسنؑ، ص 86 میں منقول ہے۔ یہی واقعہ ابن عساکر نے تاریخ مدینۃ دمشق، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 13، ص 292* میں بھی نقل کیا ہے، جبکہ ذہبی نے سیر أعلام النبلاء، ج 3، ص 276 میں بھی «وكانت بينهم مراماة» کے الفاظ سے اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ (مركز الهدى للدراسات الإسلامية⁠) یوں تاریخ کا المیہ اور بھی گہرا ہوجاتا ہے: جس نواسۂ رسولؐ نے اپنی زندگی میں امت کے خون کو روکنے کے لیے جنگ چھوڑ کر صلح اختیار کی، اس کی میت بھی قبر تک سکون سے نہ پہنچ سکی؛ اس کے جنازے کو رسولؐ کے جوار تک لے جانے پر تیروں کی نوبت آگئی، اور آخرکار امام حسنؑ کی اپنی وصیت اور خونریزی سے بچنے کی خواہش کے مطابق انہیں جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ 
یہاں امام حسنؑ کی وصیت کا اخلاقی حسن بھی سامنے آتا ہے: اگر نانا رسولؐ کے قریب دفن کرنے میں خونریزی کا اندیشہ ہو تو میری خاطر ایک قطرہ خون بھی نہ بہانا، مجھے بقیع لے جانا۔ یعنی جس شخص نے زندگی میں جنگ روکنے کے لیے اپنا سیاسی حق قربان کیا، اس نے موت کے بعد بھی اپنی قبر کے لیے مسلمانوں کا خون بہنے نہیں دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسنؑ کی شخصیت محض ایک تاریخی شخصیت نہیں رہتی بلکہ اخلاق کی زندہ تفسیر بن جاتی ہے۔
اور شاید یہی امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان سب سے بڑا فرق ہے: ایک طرف وہ شخصیت ہے جس کے پاس لشکر تھا مگر اس نے تلوار روک دی؛ جس کے پاس اقتدار کا امکان تھا مگر اس نے امت کا خون بچایا؛ جسے زہر دیا گیا مگر اس نے قاتل کا نام لے کر انتقام کا دروازہ نہیں کھولا؛ اور دوسری طرف وہ سیاسی اقتدار ہے جس نے علی علیہ السلام کے مقابل جنگ کی، حسنؑ کے مقابل جنگ کی، پھر صلح کی، اور اسی دور کے اختتام پر حسنؑ زہر سے دنیا سے رخصت ہوئے۔ تاریخ ان دونوں کو ایک ہی ترازو میں رکھ کر نہیں دیکھ سکتی؛ کیونکہ ایک نے اقتدار کو قربان کیا اور دوسرے نے اقتدار کو مقصد بنایا۔
یہاں صحیح مسلم کی وہ روایت پھر یاد آتی ہے جس میں معاویہ کا سعد بن ابی وقاص سے سوال محفوظ ہے: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟» اور سعد کا جواب بھی تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے کہ میں علی کو برا نہیں کہہ سکتا، کیونکہ رسولؐ نے ان کے بارے میں ایسی فضیلتیں بیان کی ہیں جن کے مقابل دنیا کی بڑی سے بڑی دولت بھی ہیچ ہے۔  جب یہ روایت امام حسنؑ کی شہادت کی تاریخی روایات کے ساتھ رکھی جاتی ہے تو پورا منظرنامہ زیادہ واضح ہوجاتا ہے: یہ صرف دو خاندانوں کی سیاسی رقابت نہیں تھی؛ یہ اہلِ بیت کے مقام اور اموی اقتدار کے درمیان ایک طویل کشمکش تھی۔
اس لیے ایک انصاف پسند مؤرخ کے لیے امام حسنؑ کی شہادت کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ “جعدہ نے زہر دیا یا نہیں”، بلکہ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جعدہ کو کس نے آمادہ کیا، کیوں کیا، اور اس قتل سے سیاسی طور پر فائدہ کس کو پہنچا؟
 اب یہاں یہ فیصلہ کرنا امام حسن علیہ السلام کا اصل قاتل کون ہے ؟ کوئی مشکل نہیں، کیونکہ زہر کا واقعہ اپنی جگہ موجود ہے، جعدہ کا کردار اپنی جگہ موجود ہے، امام حسنؑ کا اپنا بیان اپنی جگہ موجود ہے، اور معاویہ کی تدسیس کی نسبت بھی قدیم تاریخی کتابوں میں محفوظ ہے۔ تاریخ کا کام کسی کردار کو بچانے کے لیے سوال مٹانا نہیں، بلکہ سوال کو اس کے تمام شواہد کے ساتھ زندہ رکھنا ہے۔
امام حسنؑ کی زندگی کا المیہ یہی تھا کہ انہوں نے جنگ روک دی مگر دشمنی نہ رکی؛ انہوں نے صلح کردی مگر سیاسی کشمکش ختم نہ ہوئی؛ انہوں نے امت کا خون بچایا مگر خود زہر سے نہ بچ سکے۔ انہوں نے تلوار رکھ دی تو تاریخ نے ان کے ہاتھ میں صبر رکھ دیا؛ ان کے جگر پر زہر رکھا گیا تو ان کے لبوں پر پھر بھی انتقام نہیں آیا۔ جب امام حسین علیہ السلام نے پوچھا کہ کس نے زہر دیا تو امام حسنؑ نے قاتل کا نام بتانے کے بجائے فرمایا کہ اگر وہی ہے جس کا مجھے گمان ہے تو اللہ اس سے زیادہ سخت انتقام لینے والا ہے۔ المستدرک، ج 4، حدیث 4869۔
  یہ ایک ایسا جملہ ہے جس میں پوری حقیقت سمٹ گئی ہے: مظلومیت ہے، مگر انتقام نہیں؛ درد ہے، مگر امت کے انتشار کا بھی خیال ہے، 
اور یہی وجہ ہے کہ امام حسنؑ کی شہادت کو صرف “ایک سیاسی قتل” کہنا بھی ان کی عظمت کم کردیتا ہے۔ یہ صبر کی شہادت تھی، حلم کی شہادت تھی، اہلِ بیت کی مظلومیت کا ایک اور باب تھا۔ کربلا ابھی آنے والی تھی، مگر کربلا کا ایک پیش خیمہ مدینہ میں خاموشی سے لکھا جاچکا تھا؛ امام حسین ابھی میدانِ کربلا میں جانے والے تھے، مگر ان کے بڑے بھائی حسنؑ پہلے ہی اپنے جگر کے ٹکڑے زہر کے ذریعے قربان کرچکے تھے۔ ایک نے صبر سے تاریخ کو بچایا، دوسرے نے خون سے تاریخ کو جگایا۔
پس اگر ایک انصاف پسند مؤرخ اہلِ سنت کے معتبر مصادر کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کرے تو وہ اتنا ضرور کہے گا کہ امام حسنؑ کی صلح صحیح بخاری سے ثابت ہے، ان کا “سیدشباب اھل الجنہ” ہونا اور مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کا ذریعہ بننا رسولؐ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، معاویہ کا علی علیہ السلام کے بارے میں سعد سے “سبّ” کے متعلق سوال صحیح مسلم میں محفوظ ہے، امام حسنؑ کو زہر دیے جانے اور جعدہ کے کردار کا ذکر الحاکم، ابن عبد البر اور دیگر تاریخی مصادر میں موجود ہے، جبکہ معاویہ کی طرف سے جعدہ کو اکسانے کی نسبت ابن عبد البر اور سبط ابن الجوزی جیسے اہلِ سنت کے مصادر میں موجود ہے؛ 
امام حسنؑ نے اقتدار چھوڑا، مگر حق نہیں چھوڑا؛ انہوں نے جنگ چھوڑ دی، مگر اصول نہیں چھوڑے؛ انہوں نے دشمن کو معاف کیا، مگر تاریخ کو بھولنے کی اجازت نہیں دی؛ انہوں نے قاتل کا نام نہیں لیا، مگر اپنے جگر پر زہر کی گواہی چھوڑ دی۔ معاویہ نے ایک سیاسی سلطنت حاصل کی، مگر امام حسنؑ نے وہ مقام حاصل کیا جسے اقتدار کی کوئی تختی نہیں دے سکتی: رسولؐ کے دل کا مقام، اہلِ بیت کی محبت کا مقام اور مظلوم تاریخ کی دائمی شہادت۔
تاریخ کے اوراق آج بھی خاموش نہیں؛ وہ پوچھتے ہیں: جس نواسۂ رسولؐ کو خود رسولؐ نے «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ» کہا تھا، اس کے جگر میں زہر کس نے پہنچایا؟
 جعدہ کا ہاتھ کس کے اشارے پر اٹھا؟ 
اس قتل سے فائدہ کس اقتدار کو ہوا؟ 
ابن عبد البر نے ایک تاریخی جواب محفوظ کیا، سبط ابن الجوزی نے اسے مزید تفصیل دی، اور امام حسنؑ نے خود اپنے جگر کی گواہی دے دی۔ اب تاریخ کا کام یہ نہیں کہ وہ سوال کو دفن کردے؛ تاریخ کا کام یہ ہے کہ شواہد کو سامنے رکھے اور فیصلہ آنے والی نسلوں کے ضمیر پر چھوڑ دے۔
 آخر میں امام حسنؑ کی پوری زندگی کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو شاید اس سے بہتر جملہ نہ ہو: انہوں نے امت کو بچانے کے لیے اپنی حکومت چھوڑ دی، مسلمانوں کو بچانے کے لیے اپنی تلوار چھوڑ دی، اپنے بھائی کو انتقام سے روکنے کے لیے قاتل کا نام چھوڑ دیا، مگر ظالم سیاست انہیں چھوڑ نہ سکی؛ چنانچہ حسنؑ نے دنیا چھوڑ دی، مگر دنیا کے ضمیر میں اپنا سوال چھوڑ گئے۔
سلام ہو امام حسنؑ پر؛ سبطِ رسولؐ پر؛ مظلومِ مدینہ پر؛ مسمومِ مدینہ پر؛ اس جگرِ پارۂ رسولؐ پر جس نے امت کے لیے صبر کیا، جس نے اقتدار کے مقابل اخلاق کو منتخب کیا، اور جس نے زہر کے آخری گھونٹ میں بھی اپنے بھائی حسین علیہ السلام کو یہی سبق دیا کہ قاتل سے پہلے اللہ کی عدالت کو یاد رکھو۔
 حوالہ جات
صحیح البخاری: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب الصلح، باب: «قول النبیؐ للحسن بن علی: ابنی هذا سید»، حدیث 2704۔ اس میں امام حسنؑ کے معاویہ کے مقابل بڑی فوج کے ساتھ آنے، معاویہ کی طرف سے صلح کی کوشش اور رسولؐ کا امام حسنؑ کو “سید” قرار دینے والا فرمان موجود ہے۔ 
صحیح مسلم: مسلم بن حجاج النیسابوری، الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 2404d۔ اصل عبارت: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟»؛ اس روایت میں معاویہ کا سعد بن ابی وقاص سے علی علیہ السلام کے بارے میں سوال اور سعد کا انکار، نیز حدیثِ منزلت، خیبر اور مباہلہ کا ذکر ہے۔ 
المستدرک علی الصحیحین: ابو عبد اللہ الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابہ، باب «سمت الحسن بن علی زوجته»، ج 4، حدیث 4868۔ اصل عبارت: «سَمَّتِ ابْنَةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَكَانَتْ تَحْتَهُ وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا»؛ “اشعث بن قیس کی بیٹی نے امام حسنؑ کو زہر دیا اور اس کام پر اسے مال دیا گیا۔” 
المستدرک علی الصحیحین: ج 4، حدیث 4869؛ عمیر بن اسحاق سے امام حسنؑ کا قول: «لَقَدْ بَلَتْ طَائِفَةٌ مِنْ كَبِدِي، وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا فَمَا سُقِيتُ مِثْلَ هَذَا»؛ “میرے جگر کا ایک حصہ نکل چکا ہے، مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا، مگر اس مرتبہ جیسا کبھی نہیں پلایا گیا۔” 
ابن عبد البر: ابو عمر یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، ترجمۃ امام حسنؑ، ج 1، ص 389–390، مطبوعہ کے اختلاف کے ساتھ۔ اصل عبارت: «وقال قتادة وأبو بكر بن حفص: سُمَّ الحسن بن علي، سمته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي»، اور پھر: «وقالت طائفة: كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها وما بذل لها في ذلك»۔ 
سبط ابن الجوزی: یوسف بن قزغلی، تذکرۃ الخواص، ص 192؛ شعبی کی طرف منسوب روایت میں: «إِنَّمَا دَسَّ إِلَيْهَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: سُمِّي الْحَسَنَ وَأُزَوِّجُكِ يَزِيدَ وَأُعْطِيكِ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ»؛ معاویہ کی طرف سے جعدہ کو اکسانے کی صریح تاریخی نسبت۔  
#hasan
#imam
#sulhe_hasan
#kareem
#nabi
#حسن
#معاویہ
#صلح
#کریم

Saturday, 8 August 2026

اربعین

اربعین؛
✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری

 انسانیت کے روشن مستقبل کی طرف ایک سفر
دنیا میں ہر سال بے شمار اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ کچھ اپنی تعداد کی وجہ سے توجہ حاصل کرتے ہیں، کچھ اپنی شان و شوکت کی بنا پر یاد رکھے جاتے ہیں، اور کچھ سیاسی یا معاشی مقاصد کے باعث عالمی خبروں کا حصہ بنتے ہیں۔ مگر نجف سے کربلا تک ہونے والی مشیِ اربعین ان سب سے مختلف ہے۔ یہ نہ طاقت کی نمائش ہے، نہ دولت کا مظاہرہ، نہ کسی سیاسی جماعت کی ریلی اور نہ کسی مادی مفاد کی جستجو۔ یہ دراصل انسان کے اندر موجود خیر، محبت، وفاداری، ایثار، آزادی اور خدمت کے جذبے کا ایسا عملی اظہار ہے جس کی مثال عصر حاضر میں بہت کم ملتی ہے۔
یہ سفر بتاتا ہے کہ جب انسان کا مقصد بلند ہو تو راستے کی دشواریاں اس کے قدم نہیں روک سکتیں۔ سینکڑوں کلومیٹر کا پیدل سفر صرف جسمانی قوت سے طے نہیں ہوتا بلکہ یقین، محبت اور مقصد کی طاقت اسے ممکن بناتی ہے۔ یہی یقین انسان کو تھکن پر غالب آنے، مشکلات کو مسکرا کر قبول کرنے اور ہر قدم کو عبادت میں تبدیل کر دینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
اربعین ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا اصل حسن آسائش میں نہیں بلکہ مقصد میں ہے۔ وہ زندگی جو حق، عدل اور انسانی وقار کے لیے بسر ہو، وہی حقیقی زندگی ہے۔ کربلا اسی حقیقت کا نام ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا انسان کی شان نہیں، بلکہ حق کے لیے کھڑا ہونا اور ہر قیمت پر اصولوں کی حفاظت کرنا ہی عزت اور آزادی کی ضمانت ہے۔ امام حسینؑ کا پیغام کسی ایک قوم، زبان یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو انصاف، آزادی اور انسانی عظمت پر یقین رکھتا ہے۔
مشیِ اربعین کا ایک عظیم ترین سبق خدمتِ انسانیت ہے۔ اس سفر میں کوئی کسی سے اس کا نام، وطن، زبان یا مسلک نہیں پوچھتا۔ ہر شخص دوسرے کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ کوئی پانی پیش کرتا ہے، کوئی کھانا، کوئی آرام کی جگہ مہیا کرتا ہے، کوئی زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور کوئی صرف ایک مسکراہٹ کے ذریعے تھکے ہوئے مسافر کے حوصلے کو تازہ کر دیتا ہے۔ یہاں خدمت کا صلہ دنیا سے نہیں بلکہ خدا سے طلب کیا جاتا ہے، اسی لیے اخلاص ہر عمل میں جھلکتا ہے۔
اربعین یہ حقیقت بھی آشکار کرتی ہے کہ محبت دنیا کی سب سے بڑی قوت ہے۔ وہ کام جو طاقت، دولت اور قانون نہیں کر سکتے، محبت خاموشی سے انجام دے دیتی ہے۔ یہی محبت اجنبیوں کو اپنا بنا دیتی ہے، دلوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے، نفرتوں کو ختم کر دیتی ہے اور انسان کو انسان کے قریب لے آتی ہے۔ یہاں ایک لقمہ، ایک گھونٹ پانی، ایک دعا اور ایک خیرخواہانہ جملہ بھی انسانیت کی مشترکہ زبان بن جاتا ہے۔
یہ عظیم اجتماع اس تصور کو بھی عملی شکل دیتا ہے کہ پوری دنیا کے لوگ ایک ہی مقصد پر متحد ہو سکتے ہیں۔ مختلف زبانیں، مختلف رنگ، مختلف قومیں اور مختلف ثقافتیں یہاں کسی تقسیم کا سبب نہیں بنتیں بلکہ ایک دوسرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ امیر اور غریب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، عالم اور عامی ایک ہی راستے پر چلتے ہیں اور ہر شخص دوسرے کو برابر کا انسان سمجھ کر عزت دیتا ہے۔ یہی حقیقی مساوات اور انسانی اخوت ہے۔
مشیِ اربعین ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بڑے معجزے اجتماعی شعور سے جنم لیتے ہیں۔ جب لاکھوں انسان نظم، اعتماد، تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ ایک مقصد کے لیے نکلتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ یہ اجتماع ثابت کرتا ہے کہ معاشروں کی اصل طاقت اسلحہ یا سرمایہ نہیں بلکہ باہمی اعتماد، رضاکارانہ خدمت اور مشترکہ اقدار ہوتی ہیں۔
اس سفر میں صبر صرف برداشت کا نام نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھنے کا نام ہے۔ استقامت صرف مشکلات جھیلنے کا نام نہیں بلکہ منزل پر نظر رکھنے کا نام ہے۔ ہر قدم انسان کو اپنی ذات سے روشناس کراتا ہے، اس کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے، سادگی کا حسن دکھاتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ حقیقی عظمت ظاہری شان میں نہیں بلکہ کردار کی بلندی میں ہے۔
اربعین نسلوں کو جوڑنے والی ایک زندہ درسگاہ بھی ہے۔ یہاں بچے عمل سے سیکھتے ہیں، نوجوان خدمت کے ذریعے اپنی توانائی کو مثبت رخ دیتے ہیں، خواتین اپنی فعال شرکت سے معاشرے کی تعمیر میں حصہ لیتی ہیں اور بزرگ اپنے صبر، تجربے اور استقامت سے نئی نسل کو امید اور حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ یوں پورا خاندان ایک مقصد کے گرد جمع ہو کر معاشرتی ہم آہنگی کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔
اس مقدس سفر میں ہر قدم یہ اعلان کرتا ہے کہ دلوں کی تعمیر عمارتوں کی تعمیر سے زیادہ اہم ہے، تہذیبیں خدمت اور اخلاق سے پروان چڑھتی ہیں، خیرخواہی پوری انسانیت کی مشترکہ زبان ہے اور اختلاف کے باوجود احترام کے ساتھ جینا ممکن ہے۔ اجتماعی دعا، ذکرِ الٰہی اور یادِ حسینؑ انسان کے باطن کو زندہ کرتے ہیں اور اسے اپنے کردار کا ازسرِنو جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔
اربعین درحقیقت وفاداری کی تجدید، خود احتسابی کی دعوت، برداشت کی تربیت، نظمِ اجتماعی کی کامیاب مثال، رضاکارانہ خدمت کا عالمی معیار، انسانی اخوت کا عظیم مظاہرہ اور عالمی امن کا عملی پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ محبت کے ذریعے جوڑا جا سکتا ہے؛ نفرت کو انتقام سے نہیں بلکہ خدمت سے شکست دی جا سکتی ہے؛ اور ظلم کا مقابلہ صرف ہتھیار سے نہیں بلکہ زندہ ضمیر، ثابت قدمی اور حق پر استقامت سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
نجف سے کربلا تک کا یہ سفر دراصل انسان کے باطن کا سفر ہے۔ یہ انسان کو خود غرضی سے ایثار، بے حسی سے ہمدردی، خوف سے حوصلے، مایوسی سے امید، تفرقے سے اتحاد اور مقصد سے خالی زندگی سے بامقصد حیات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ انسانیت کے بہتر مستقبل کا زندہ منشور ہے۔
اگر آج کی دنیا اس عظیم سفر سے صرف اتنا ہی سبق سیکھ لے کہ محبت نفرت سے زیادہ طاقتور ہے، خدمت انسان کو عظیم بناتی ہے، عدل ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے، آزادی انسانی وقار کی روح ہے، اور حق پر ثابت قدم رہنا ہی تاریخ کا رخ بدلتا ہے، تو یقیناً دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پرامن، باوقار، عادل اور انسان دوست بن سکتی ہے۔ یہی مشیِ اربعین کا وہ ابدی پیغام ہے جو ہر سال نجف سے کربلا کے راستے پوری انسانیت کے نام بلند ہوتا ہے۔



#عزاداری
#اربعین
#مشی
#نجف
#کربلا
#عالمی
#اجتماع
#azadari
#arbaeen
#walk
#najaf
#karbala

Friday, 7 August 2026

عزاداری امام حسین علیہ السلام

عزاداری میں خود ساختہ ترجیحات

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے عزاداری کے ساتھ بعض ایسی چیزوں کو بھی جوڑ دیا جن کا تعلق دراصل انتظام، مقامی ثقافت یا سماجی روایات سے تھا، نہ کہ عزاداری کے بنیادی مقصد سے۔ یہ چیزیں اپنی جگہ مفید اور قابلِ احترام ہو سکتی ہیں، لیکن جب انہیں اصل دین یا عزاداری کا لازمی حصہ سمجھ لیا جائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ رفتہ رفتہ عزاداری میں بعض ایسے رسم و رواج بھی شامل ہوتے گئے جن کی بنیاد نہ قرآنِ مجید میں ملتی ہے، نہ سیرتِ رسولِ اکرمؐ و اہلِ بیتؑ میں، اور نہ ہی عزاداری کی ابتدائی تاریخ میں۔ ان میں سے بعض چیزیں مقامی ثقافتوں، بعض غیر مسلم معاشروں کی روایات اور بعض اوقات اہلِ سنت کے مذہبی و سماجی ماحول کے اثرات سے ہماری عزاداری میں داخل ہوئیں۔ یہ عمل کہیں شعوری تھا اور کہیں غیر شعوری، مگر وقت کے ساتھ ایسی بہت سی چیزیں، جو محض ایک رسم یا سماجی روایت تھیں، عزاداری کا لازمی حصہ سمجھی جانے لگیں۔
اصل خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب ان رسوم کو ایسا تقدس دے دیا گیا کہ گویا وہ بھی دین کا حکم، اہلِ بیتؑ کی سنت یا خود امام حسینؑ کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ یوں دین اور رسم، سنت اور عادت، مقصد اور ذریعہ کے درمیان فرق دھندلا گیا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات کسی رسم پر علمی گفتگو یا اس کی بنیاد کے بارے میں سوال کرنا بھی گویا دین پر اعتراض سمجھا جانے لگا، حالانکہ دین ہمیں ہر بات کو قرآن، سنت اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
آج ہماری توجہ کا بڑا حصہ اس بات پر ہوتا ہے کہ مجلس کہاں ہوگی، اسٹیج کیسا ہوگا، سجاوٹ کتنی ہوگی، جلوس کتنا بڑا ہوگا، آواز کا انتظام کیسا ہے یا کس رسم کو کس انداز سے ادا کیا جائے۔ لیکن بہت کم یہ سوچا جاتا ہے کہ مجلس سے کتنے لوگوں نے دین سیکھا، کتنے نوجوان امام حسینؑ کے مقصد سے آشنا ہوئے، کتنے لوگوں نے قرآن، نہج البلاغہ، صحیفۂ سجادیہ یا تاریخِ کربلا کا مطالعہ کیا، اور کتنے افراد اپنی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لے کر اٹھے۔
یوں رفتہ رفتہ ظاہری صورت نمایاں ہوتی گئی اور اصل پیغام پس منظر میں چلا گیا۔ ہم انتظامات پر تو بے حد محنت کرتے ہیں، لیکن علم، فکر اور تربیت پر اتنی توجہ نہیں دیتے، حالانکہ امام حسینؑ نے اپنی جان کسی رسم کو باقی رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ دین، حق، عدل اور انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیے قربانی دی تھی۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوص کے ساتھ یہ سوال کرے کہ کسی رائج عمل کی شرعی، تاریخی یا عقلی بنیاد کیا ہے، یا یہ کہ اس سے عزاداری کے اصل مقصد کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان، تو اس کی بات پر غور کرنے کے بجائے اسے فوراً “مقدسات کی توہین”، “عزاداری کی مخالفت” یا “اہلِ بیتؑ کی محبت کو کمزور کرنے” جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ اصلاح کی دعوت مخالفت نہیں ہوتی، اور تحقیق بے ادبی نہیں ہوتی۔ دین دلیل مانگنے سے نہیں، دلیل چھوڑ دینے سے کمزور ہوتا ہے۔
ہر وہ رسم جو امام حسینؑ کے پیغام کو عام کرے، لوگوں کو دین سے قریب کرے اور عزاداری کے وقار میں اضافہ کرے، یقیناً قابلِ احترام ہے۔ لیکن جو چیز اصل مقصد کو دھندلا دے، لوگوں کو علم سے دور کرے یا دین کی صحیح تصویر پیش نہ کر سکے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ محبتِ حسینؑ کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر رائج عمل کو بلا تحقیق مقدس مان لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر عمل کو قرآن، سنتِ رسولؐ، تعلیماتِ اہلِ بیتؑ اور مقصدِ کربلا کی روشنی میں دیکھا جائے۔
جب عزاداری علم کے بجائے رسم، فکر کے بجائے عادت اور مقصد کے بجائے ظاہری رسومات تک محدود ہو جائے تو اس کا اثر بھی محدود ہو جاتا ہے۔ حقیقی عزاداری وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، اس کے ایمان کو مضبوط کرے، اس کے اخلاق کو سنوارے، اسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے اور امام حسینؑ کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا کرے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظاہری انتظامات کو ان کی جگہ اہمیت دیں، مگر انہیں عزاداری کا معیار نہ بنائیں۔ عزاداری کی اصل زینت نہ سجاوٹ ہے، نہ بلند آوازیں، نہ بھیڑ، نہ نمود و نمائش اور نہ رسموں کی کثرت؛ اس کی اصل زینت علم، اخلاص، معرفتِ امام حسینؑ اور ان کے پیغام پر عمل ہے۔ جب یہ روح زندہ رہے گی تو عزاداری بھی زندہ رہے گی، اور امام حسینؑ کا پیغام بھی نسل در نسل اسی تازگی کے ساتھ منتقل ہوتا رہے گا۔

#عزاداری
#کربلا
#امام_حسین
#سید الشہدا
#تعزیہ
#azadari
#karbala
#imam 
#husain
#taziya

“مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔

مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا:

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

معرفتِ الٰہی کی معراج،
کربلا تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم ترین امتحان ہے جہاں صبر، وفا، ایثار اور بندگی اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر ہوئے۔ ایک ہی دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام، ان کے اہلِ بیت اور وفادار اصحاب راہِ حق میں قربان کر دیے گئے، خیمے جلا دیے گئے، معصوم بچوں کو پیاس نے تڑپایا اور اہلِ بیت علیہم السلام کو اسیری کی منزلوں سے گزارا گیا۔ ایسے دل خراش مناظر کے بعد جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے ابنِ زیاد نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ آپ نے اللہ کا اپنے بھائی کے ساتھ کیا معاملہ دیکھا، تو آپ نے تاریخ کا وہ لازوال جواب دیا: “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔ یہ الفاظ کسی جذباتی کیفیت کا اظہار نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے قلب کی گواہی تھے جو معرفتِ الٰہی کے نور سے منور ہو چکا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اس جواب کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ نے ظلم کو ہرگز خوبصورت قرار نہیں دیا۔ ظلم اپنی حقیقت میں ظلم ہے، قاتل اپنے جرم کا ذمہ دار ہے اور باطل کبھی حق نہیں بن سکتا۔ آپ نے جس “جمال” کا مشاہدہ کیا، وہ اللہ کی راہ میں دی گئی بے مثال قربانی کا جمال تھا، حق پر استقامت کا جمال تھا، بندگی اور وفاداری کا جمال تھا، اور اس حکمتِ الٰہی کا جمال تھا جس نے کربلا کے خون کو اسلام کی دائمی حیات کا سرچشمہ بنا دیا۔ آپ کی نگاہ قاتل کے ظلم پر نہیں رکی، بلکہ اس رب کی تدبیر تک پہنچ گئی جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے۔
درحقیقت “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا” توحید کی نظری تعریف نہیں، بلکہ توحید سے جنم لینے والی معرفتِ الٰہی، رضا بالقضاء، تسلیم اور حسنِ ظن باللہ کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔ جب بندہ اپنے رب کو حکیم، عادل، رحیم اور علیم مان لیتا ہے تو وہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ بے حکمت نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ مصیبت کا انکار نہیں کرتا، اس پر روتا بھی ہے، مگر اپنے رب سے شکوہ نہیں کرتا۔ اس کی نگاہ آزمائش کے ظاہری درد سے آگے بڑھ کر اس کے اندر پوشیدہ حکمت اور الٰہی مقصد کو تلاش کرتی ہے۔ یہی معرفت، رضا کو جنم دیتی ہے، اور یہی رضا انسان کو اعتراض سے بچا کر اطمینان عطا کرتی ہے۔
قرآن بھی اسی حقیقت کی تعلیم دیتا ہے: ﴿وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ… وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾۔ انسان کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ ہم صرف ایک لمحہ دیکھتے ہیں، وہ ابتدا سے انتہا تک پورا نظام دیکھتا ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت واقعات کو صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ ایمان سے دیکھتے ہیں۔ جب نگاہ معرفت سے روشن ہو جائے تو انسان کو ہر آزمائش تربیت کا وسیلہ، ہر قربانی قربِ الٰہی کی منزل، اور ہر صبر ابدی کامیابی کی تمہید دکھائی دینے لگتا ہے۔
اسی لیے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ مختصر جملہ کسی ایک تاریخی لمحے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لیے ایک دائمی پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کی بلندی مصیبتوں سے بچ جانے میں نہیں، بلکہ مصیبتوں کے درمیان بھی اللہ کی حکمت پر اعتماد، اس کی قضا پر رضا، اور اس کی رحمت سے حسنِ ظن برقرار رکھنے میں ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی زبان سے شکوہ نہیں، حمد نکلتی ہے؛ اس کے دل میں مایوسی نہیں، یقین جاگزیں ہوتا ہے؛ اور پھر وہ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں خاموشی سے یہی گواہی دیتا ہے:
 “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔



#زینب
#کربلا
#شام
#عزاداری
#حسین
#zainab
#azadari
#syria
#husain
#karbala

مرجع شیعیان آیة الله العظمی آقای خوئی ره

آیت اللہ العظمیٰ امام الخوئی  طاب ثراہ کی علمی شخصیت کے امتیازات۔

✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری
شیعہ فقاہت کی تاریخ دراصل علم، تحقیق اور اجتہاد کے مسلسل ارتقا کی تاریخ ہے۔ ہر دور میں ایسے عظیم فقہاء پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے علم، فکر اور تحقیق سے فقہِ اہلِ بیت علیہم السلام کو مزید مضبوط، منظم اور مؤثر بنایا۔ کسی نے فقہی مباحث کو ترتیب دی، کسی نے اصولِ استنباط کو مستحکم کیا، کسی نے استدلال کی نئی راہیں کھولیں، اور کسی نے اجتہاد کو زمانے کے نئے مسائل سے ہم آہنگ کیا۔
اسی علمی سفر میں شیخ الطائفہ محمد بن حسن طوسی نے نجف اشرف کو فقاہت کا مرکز بنایا اور فقہ کو منقولات سے استدلال کی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ محقق حلی نے فقہی ابواب کو منطقی ترتیب عطا کی، علامہ حلی نے فقہِ استدلالی کو وسعت بخشی اور تقابلی منہج کو فروغ دیا۔ شہیدِ اول اور شہیدِ ثانی نے فقہی تطبیق اور تدقیق میں اضافہ کیا، جبکہ وحید بہبہانی نے اخباری جمود کے مقابل اصولی مکتب کو نئی زندگی عطا کر کے اجتہاد کی روح کو ازسرِنو بیدار کیا۔
یہی علمی روایت شیخ مرتضیٰ انصاری کے ہاتھوں اپنے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ انہوں نے اصولِ عملیہ، حجیتِ امارات، براءت، احتیاط، استصحاب اور تعادل و تراجیح جیسے مباحث کو اس انداز سے مرتب کیا کہ جدید اصولِ فقہ کی بنیاد استوار ہوگئی۔ ان کے بعد آخوند ملا محمد کاظم خراسانی نے کفایۃ الاصول کے ذریعے اصولی فکر کو فلسفیانہ گہرائی، منطقی ترتیب اور استدلالی جامعیت عطا کی، جبکہ آیت اللہ شیخ محمد حسین نائینی نے اسی روایت میں دقتِ نظر اور تحلیلِ عقلی کا اضافہ کیا۔
آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی اسی ارتقائی سلسلے کی ایک درخشاں اور فیصلہ کن کڑی ہیں۔ انہوں نے اپنے اسلاف کے علمی ورثے کو محض محفوظ نہیں رکھا بلکہ تنقیح، تحقیق، نقد اور تجدید کے ذریعے اسے نئے اجتہادی افق عطا کیے۔ ان کی فقاہت کا امتیاز کثرتِ فتاویٰ نہیں بلکہ اصالتِ منہج ہے۔ ان کے نزدیک اجتہاد کا مدار حجیتِ دلیل ہے، نہ کہ شہرتِ قول؛ وثاقتِ سند ہے، نہ کہ کثرتِ نقل؛ اور تحقیقِ موضوع ہے، نہ کہ تقلیدِ آراء۔
ان کے علمی مکتب میں فقہ، اصول اور رجال تین جداگانہ علوم نہیں بلکہ ایک ہی استنباطی نظام کے باہم مربوط اجزاء ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک علمِ رجال فقہ کا حاشیہ نہیں بلکہ مقدّمۂ استنباط ہے۔ جب تک سند کی حجیت ثابت نہ ہو، دلالت پر بحث مکمل نہیں ہوتی، اور جب تک دلالت واضح نہ ہو، حکمِ شرعی کا استنباط معتبر نہیں ہو سکتا۔ اس طرح انہوں نے سند، دلالت اور حجیت کے درمیان ایسا مضبوط علمی ربط قائم کیا جو معاصر فقاہت کی نمایاں خصوصیت بن گیا۔
اسی اجتہادی منہج کا ایک نہایت قابلِ توجہ پہلو ان کا قرآنی ذوق بھی ہے۔ آیت اللہ خوئیؒ کی خواہش تھی کہ وہ قرآنِ کریم کی ایک ایسی جامع تفسیر تحریر کریں جو اپنے استدلال، اصولی منہج اور علمی عمق کے اعتبار سے ایک مستقل مکتب کی نمائندہ ہو۔ اس عظیم منصوبے کے مقدمے کے طور پر انہوں نے «البیان فی تفسیر القرآن» تصنیف کی، جو علومِ قرآن، جمعِ قرآن، عدمِ تحریفِ قرآن اور اصولِ تفسیر پر ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہے۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی اسی نوعیت کے ایک جامع تفسیری منصوبے پر مصروف ہیں، تو انہوں نے علمی اخلاق، احترامِ اہلِ علم اور غیر ضروری تکرار سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے وہیں روک دینا مناسب سمجھا۔
یہ واقعہ ان کی شخصیت کے دو نہایت روشن پہلوؤں کو آشکار کرتا ہے۔ پہلا یہ کہ ان کے نزدیک علم کا مقصد شہرت یا تصنیفات کی کثرت نہیں بلکہ امت کی حقیقی علمی ضرورت کو پورا کرنا تھا۔ جہاں انہیں محسوس ہوا کہ ایک عظیم مفسر اسی میدان میں غیر معمولی خدمت انجام دے رہا ہے، وہاں انہوں نے مسابقت کے بجائے تعاون، احترام اور علمی وسعتِ ظرف کا راستہ اختیار کیا۔ یہ طرزِ عمل ان کی اخلاص پر مبنی علمی شخصیت کا بہترین مظہر ہے۔
دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ معنی خیز ہے۔ بظاہر انہوں نے تفسیرِ قرآن کے ایک عظیم منصوبے کو ترک کیا، لیکن اسی کے بعد ان کی علمی توانائی «معجم رجال الحدیث» کی تالیف پر مرکوز ہوگئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشیتِ الٰہی نے ان سے علمِ حدیث، علمِ رجال اور فقہِ استدلالی کے میدان میں ایک ایسی خدمت لینا مقدر کر رکھی تھی جس کی مثال اپنی جامعیت، دقتِ تحقیق اور دیرپا اثرات کے اعتبار سے بہت کم ملتی ہے۔ معجم رجال الحدیث صرف راویوں کا تعارف نہیں بلکہ جرح و تعدیل، طبقاتِ رواۃ، اتحاد و تعددِ عناوین، توثیقاتِ خاصہ و عامہ، تعارضِ اقوال، تشخیصِ مہملات، نقدِ اسانید اور مبانیِ حجیتِ خبر کا ایک بے مثال علمی انسائیکلوپیڈیا ہے، جس نے معاصر فقاہت کے استنباطی ڈھانچے کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔ اگر «البیان» ان کے قرآنی ذوق کی آئینہ دار ہے تو «معجم رجال الحدیث» ان کے اجتہادی مکتب کی کامل ترین ترجمان ہے۔
اصولِ فقہ میں آیت اللہ خوئیؒ کا منہج بھی اسی قدر منفرد ہے۔ حجیتِ خبرِ واحد، اصالۃ الظہور، اطلاق و تقیید، عام و خاص، مفاہیم، استصحاب، براءت، اشتغال، احتیاط، حکومت و ورود، تعارضِ ادلہ اور مرجحات جیسے دقیق مباحث میں ان کی تحلیل، دقتِ نظر اور منطقی استحکام انہیں معاصر اصولیین کی صفِ اول میں کھڑا کرتا ہے۔ ان کے ہاں اصول، فقہ پر حاکم نہیں بلکہ فقہ کا خادم ہے؛ اسی لیے ہر اصولی بحث کی قدر و قیمت اس کے عملی استنباط سے متعین ہوتی ہے۔
آیت اللہ خوئیؒ کی ایک اور نمایاں خصوصیت استقلالِ علمی ہے۔ انہوں نے شیخ طوسی، نجاشی، محقق حلی، علامہ حلی، شیخ انصاری اور آخوند خراسانی جیسے اکابر سے بھرپور استفادہ کیا، مگر کبھی شخصیت کو دلیل پر مقدم نہیں کیا۔ ان کے علمی منہج کا خلاصہ یہ ہے کہ دلیل، اشخاص کی محتاج نہیں؛ بلکہ اشخاص کی آراء دلیل کی روشنی میں پرکھی جاتی ہیں۔ یہی ایک حقیقی مجتہد اور آزاد محقق کی پہچان ہے۔
معاصر فقاہت پر ان کے اثرات غیر معمولی ہیں۔ نجف اشرف کے دروسِ خارج ہوں یا قم، مشہد، لبنان، برصغیر اور دنیا کے دیگر علمی مراکز، رجالی تحقیق، اصولی استدلال اور فقہی تنقیح میں ان کے منہج کی بازگشت نمایاں طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ بہت سے فقہاء نے ان کے بعض نتائج سے اختلاف کیا، لیکن ان کے منہجِ تحقیق کی اہمیت سے انکار ممکن نہ رہا۔ یہی کسی عظیم علمی مکتب کی کامیابی ہوتی ہے کہ اختلاف بھی اسی کے قائم کردہ علمی اصولوں اور زبان کے دائرے میں کیا جائے۔
تاریخِ فقاہت کا غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ شیخ طوسی نے نجف کی علمی بنیاد رکھی، شیخ انصاری نے اصولِ اجتہاد کو نئی زندگی بخشی، اور آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی نے فقہ، اصول اور رجال کو ایک ہم آہنگ استنباطی نظام میں ڈھال کر مدرسۂ نجف کی علمی روایت کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی حقیقی میراث صرف ان کے فتاویٰ یا تصانیف نہیں، بلکہ وہ تحقیقی منہج ہے جس نے دلیل کو محور، تحقیق کو معیار، علمی امانت کو شعار اور اجتہاد کو زندہ فکر کا عنوان بنا دیا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو ہر دور کے فقیہ، محقق اور طالبِ علم کو یہ سبق دیتا ہے کہ علم کی بقا شخصیت پرستی میں نہیں بلکہ دلیل کی پاسداری، تحقیق کی دیانت اور حق کی جستجو میں ہے۔


#خویی #فقیه #مرجع
#fiqh #shia #marja #khoei

منبر حسین علیہ السلام

منبرِ حسینؑ: 
بے ایمانوں اور بددیانتوں کے نرغے میں۔
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

منبرِ حسینؑ کوئی عام اسٹیج نہیں، یہ دین کی تعلیم و تربیت کا مرکز ہے۔ یہاں سے قرآن کی روشنی عام ہونا چاہیے، اہلِ بیتِ اطہارؑ کی سیرت و تعلیمات دلوں میں اترنی چاہییں، انسان کو اپنی اصلاح کا شعور ملنا چاہیے اور حق و باطل میں تمیز پیدا ہونی چاہیے۔ اس منبر کا مقصد محض جذبات ابھارنا نہیں، بلکہ فکر کی تعمیر، کردار کی اصلاح اور معاشرے کی رہنمائی ہے۔
جو شخص اس منبر پر بیٹھتا ہے، اسے خود کو امام حسینؑ کے پیغام کا امین سمجھنا چاہیے، نہ کہ محض ایک مقرر۔ اس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ امانت ہے، اس لیے اسے بولنے سے پہلے اپنے ضمیر، اپنے علم اور اپنے رب—تینوں کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس ہونا چاہیے۔
مگر افسوس کہ بہت سی جگہوں پر منظر بدل چکا ہے۔ منبر کی عظمت تو باقی ہے، لیکن بعض اہلِ منبر اس کی ذمہ داری کا حق ادا نہیں کر رہے۔ مطالعہ، تحقیق اور علمی دیانت کی جگہ آسان راستہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ یہ سوچنے کے بجائے کہ آج قرآن کا کون سا پیغام اور اہلِ بیتؑ کی سیرت کا کون سا سبق لوگوں تک پہنچایا جائے، ساری توجہ اس پر رہتی ہے کہ کون سا نیا قصہ سنایا جائے، کون سا سنسنی خیز واقعہ اور شوشہ چھیڑا جائے یا کون سا فرضی اعتراض گھڑ کر ایک گھنٹہ گزار لیا جائے۔
چنانچہ پہلے ایک خیالی مخالف بنایا جاتا ہے، پھر اس کی زبان میں وہ باتیں ڈال دی جاتی ہیں جو اس نے کبھی کہیں ہی نہیں، اور آخر میں انہی خود ساختہ اعتراضات کے جوابات دے کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا کوئی عظیم علمی معرکہ سر کر لیا گیا ہو۔
حالانکہ حقیقت میں نہ کوئی اعتراض موجود ہوتا ہے، نہ کوئی مناظرہ، نہ کوئی علمی خدمت؛ صرف وقت گزاری ہوتی ہے، اور وہ بھی منبرِ حسینؑ پر۔
یہ طرزِ عمل اس ڈاکٹر سے مختلف نہیں جو مریض کا علاج کرنے کے بجائے پہلے اس کے ذہن میں فرضی بیماریوں کا خوف پیدا کرے، پھر انہی بیماریوں کا علاج بھی خود ہی بیچنے لگے۔ اس سے صرف مریض ہی نہیں، پورا پیشہ بدنام ہوتا ہے۔
افسوس اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب یہی انداز ذکرِ اہلِ بیتؑ کے نام پر اختیار کیا جائے، جبکہ ذکرِ اہلِ بیتؑ کا مقصد جہالت کو بڑھانا نہیں بلکہ ختم کرنا ہے۔ وہ انسان کو قرآن، رسولِ اکرمؐ اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کی حقیقی تعلیمات سے جوڑتا ہے، بصیرت پیدا کرتا ہے، محبت و وحدت کو فروغ دیتا ہے اور ہدایت کے دروازے کھولتا ہے۔ اگر کسی گفتگو کا حاصل شکوک، نفرت، بے مقصد اختلاف اور اشتعال انگیزی ہو تو اسے ذکرِ اہلِ بیتؑ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اہلِ بیتؑ کا مکتب ہمیشہ حق، حکمت، بصیرت اور اخلاق کا علمبردار رہا ہے۔
منبر پر بیٹھ کر اختلافات کو ہوا دینا، معمولی مسائل کو معرکہ بنا دینا، بے بنیاد اعتراضات سے جذبات بھڑکانا اور فرضی کہانیوں کے سہارے داد وصول کرنا علم نہیں، بلکہ سامعین کی سادگی سے کھیلنا ہے۔
تعجب اس بات پر ہے کہ جب منبر کو ذریعۂ معاش بنا لیا گیا ہے تو اس کے ساتھ پیشہ ورانہ دیانت بھی کیوں نہیں نبھائی جاتی؟
 ہر شخص اپنی روزی کے لیے محنت کرتا ہے، اپنے شعبے میں مہارت پیدا کرتا ہے اور نئی معلومات حاصل کرتا ہے، مگر بعض اہلِ منبر برسوں تک ایک ہی انداز، ایک ہی قصے اور ایک ہی قسم کی بے بنیاد گفتگو دہراتے رہتے ہیں۔ اگر روزی امام حسینؑ کے منبر سے مل رہی ہے تو اس منبر کا حق بھی ادا کیجیے؛ مطالعہ کیجیے، تحقیق کیجیے اور علمی امانت کا پاس رکھیے، کیونکہ یہاں ادا ہونے والا ہر لفظ صرف سامعین تک نہیں، خدا کے حضور بھی پیش ہوتا ہے۔
آج بعض ذاکرین کی تقریریں سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ مقصد ذہنوں کو روشن کرنا نہیں بلکہ محض وقت گزارنا ہے۔ مجلس ختم ہونے کے بعد اگر ایک سامع خود سے پوچھے کہ آج قرآن سے کیا سیکھا؟ 
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کا کون سا نیا پہلو سمجھا؟
 یا اپنی زندگی میں کون سی اصلاح کا عزم لے کر جا رہا ہوں؟ 
تو اکثر اس کے پاس کوئی واضح جواب نہیں ہوتا۔
کیا یہی منبرِ حسینؑ کی ذمہ داری ہے؟
امام حسینؑ نے اپنی جان اس لیے نہیں دی تھی کہ ان کے نام پر منبر تماشہ گاہ بن جائے، جہاں دلیل کی جگہ دعوے، امانت کی جگہ مبالغہ، اصلاح کی جگہ تفریح اور علم کی جگہ سطحی خطابت پیش کی جائے۔
آخر ہم یہ سوال کیوں نہ اٹھائیں کہ جو ٹائم پاس ذاکر مسلسل اہلِ ایمان کو علماء، فقہاء اور مرجعیت سے بدظن کرنے میں لگے ہیں، وہ آخر کس کے مفادات کی خدمت کر رہے ہیں؟
 کیا یہی وہ ایجنڈا نہیں جسے استعمار صدیوں سے مختلف شکلوں میں آگے بڑھاتا آیا ہے تاکہ امت کا رشتہ اس کی مستند علمی قیادت سے کاٹ دیا جائے؟
 کیونکہ جب عوام علماء اور مرجعیت سے دور ہو جائیں گے تو دین کی صحیح اور مستند معرفت کہاں سے حاصل کریں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ مرجعیت سے تعلق کمزور کرنا صرف علماء سے دور کرنا نہیں، بلکہ چہاردہ معصومین علیہم السلام کی مستند تعلیمات تک پہنچنے کے راستے کو بھی کمزور کرنا ہے۔ جو شخص لوگوں کو علم کے سرچشموں سے کاٹ کر جذبات، خرافات اور سطحی خطابت کے حوالے کر دے، وہ دانستہ یا نادانستہ اسی فکر کو تقویت دیتا ہے جس سے استعمار ہمیشہ فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ اس لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے کردار محض لاعلمی کا نتیجہ ہیں یا کسی ایسے ایجنڈے کا حصہ، جس کا مقصد امت کو اس کے اصل فکری مراکز سے محروم کرنا ہے۔
مومنین کو بھی اب جاگنا ہوگا۔ ہر بلند آواز علم نہیں ہوتی، ہر جذباتی انداز اخلاص کی دلیل نہیں ہوتا اور ہر منبر پر بیٹھنے والا امانت دار بھی نہیں ہوتا۔ منبر کی حفاظت صرف خطیب کی نہیں، سامع کی بھی ذمہ داری ہے۔ جو قوم سوال کرنا چھوڑ دیتی ہے، وہ دھوکا کھانا شروع کر دیتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ منبرِ حسینؑ کو دوبارہ علم، تحقیق، اخلاص اور تقویٰ کا مرکز بنایا جائے۔ اس منبر پر وہی آواز باقی رہنی چاہیے جو امام حسینؑ کے پیغام کی ترجمان ہو، نہ کہ وہ آواز جو اپنی کم علمی کو فرضی اعتراضات، مصنوعی مناظروں اور جذباتی کاروبار کے ذریعے چھپاتی پھرے۔
منبرِ حسینؑ امانت ہے، اور امانت میں خیانت صرف مالی نہیں ہوتی۔ علمی خیانت بھی خیانت ہے، فکری خیانت بھی خیانت ہے، اور امام حسینؑ کے نام پر عوام کو گمراہ کرنا ایسی خیانت ہے جس کا حساب صرف تاریخ نہیں، خدا کے حضور بھی دینا ہوگا۔




#منبر #حسین # کربلا # عزاداری
#mimbar #azadari #husain # karbala

Monday, 26 May 2025

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام


سمانہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ان کا ایک نام اسماء بھی بیان ہوا ہے۔

جناب سمانہ کنیز تھیں امام محمد تقیؑ کے حکم سے ۷۰ دینار (۱۰۰؍ دینار ۴۰۰۰۰؍ روپئے تقریباً ۲۸۰۰۰۰۰ روپئے ہوتے ہیں ۔)میں خریدی گئی تھیں وہ کثرت سے روزہ رکھتی تھیں نماز میں مشغول رہتی تھیں ، امام ہادیؑ نے ایک حدیث میں ذکر کیا ہے کہ ان کی والدہ عارف حق اور اہل بہشت ہیں ۔

جناب سمانہ کا مزار سامرا میں حرم عسکریینؑ میں امام ہادیؑ، امام عسکریؑ، جناب نرجسؑ، حکیمہؑ دختر امام جوادؑ، حُدَیث مادر امام عسکریؑ کے جوار میں ہے۔

سمانہ کا شمار خاتون راویان حدیث میں ہوتا ہے۔

امام ہادیؑ نے اپنی والدہ کے بارے میں فرمایا ہے: میری والدہ عارف حق امامت و اہل بہشت ہیں ، شیطان کا ان کی جانب گزر نہیں ہے اس کا مکر و حیلہ، وسوسہ و فریب نہیں پہونچتا ہے، نظر الہی کے سایہ میں ہیں غفلت کا گزر نہیں ہے ان میں اور مادران صدیق و صالح میں کوئی فرق نہیں ہے۔

مکتب حیات بخش اسلام جہالت کے احاطہ میں ، اختناق، ناروا عدم مساوات، بےجا نابرابری کی فضا میں جدید آئیڈیئے اور شعار کے ساتھ میدان جنگ میں داخل ہو چکا  تھا ،ظلم و ستم کی ایک عظیم کہانی یہ تھی کہ غلام بنائے جاتے اور بیچے خریدے جاتے تھے، بردہ فروش غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدترین سلوک کرتے تھے، ناحق غلامی کی زنجیریں ان کی گردنوں میں ڈال دی جاتی تھیں ،پیغمبر ؐاکرم نے ابتدا ہی سے ان کی آزادی کیلئے مختلف عنوانات اور متعدد راہیں ایجاد کی تھیں جیسے غلام آزاد کرنے کا بیحد ثواب بیان کرنا اور گناہوں کا کفارہ ہونا، ماہ رمضان کے روزے کے کفارہ میں غلام آزاد کرنا، عہد وپیمان، نذر شکنی میں غلام کی آزادی کو فقہ کی کتابوں میں مفصل بیان کیا گیا ہے، پیغمبرؐ کے بعد ائمۂ معصومینؑ نے بھی غلام کی آزادی کیلئے ہر ممکن طریقہ کو اختیار کیا اور اس کا حکم بھی دیا،اس کا ایک خوبصورت عنوان یہ تھا کہ ائمۂ معصومینؑ کا ازدواج کنیزوں سے کیا یہ قانون غلامی کے خلاف ایک عملی جنگ تھی۔

شیخ مفیدؒ کی کتاب الارشاد سے استفادہ ہوتا ہے کہ کئی ائمہ طاہرینؑ کی مادران گرامی کنیز تھیں جیسے امام سجادؑ،امام موسی کاظمؑ،امام جوادؑ،امام ہادیؑ،امام حسن عسکریؑ اورامام زمانہ(عجل)۔

اس کا سبب یہ تھا کہ ائمہؑ عملی طور پر یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ آزاد وکنیز کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ان کنیزوں نے تربیت اسلامی حاصل کرنے کے بعد بلندترین مقامات کو حاصل کرلیا اور ان سےحجت خدا بھی دنیا میں آئے۔ ([1])

امام جوادؑ کا ازدواج مغربی کنیز سمانہ سے ہوا جن سے امام علی نقیؑ کی ولادت ہوئی۔

نام،لقب اورکنیت:

سیرت نویسوں کے بیان میں مادر امام علی نقیؑ کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے انہوں نےان کا نام سمانہؔ مغربیہ، سوسنؔ و ماریہؔ قبطیہ لکھا ہے۔([2]) 

مادر امام علی نقیؑ . کو اپنے زمانہ کی متقی ترین خاتون تحریر کیا ہے۔([3]) 

انکا صرف ایک لقب سیدہؔ ذکر ہوا ہے۔([4])   

ان کے فضل ومنزلت کی وجہ سے ان کی کنیت ام الفضل قرار پائی تھی۔([5])   

اعلام النساء المومنات میں بیان ہواہے:

 سمانہؔ مغربیہ امام ہادیؑ کی مادر گرامی سیدہ کے نام سے مشہور تھیں ان کی کنیت ام الفضل تھی وہ اپنے زمانہ کی بہترین خاتون تھیں ،زہد وتقویٰ میں کوئی ان کے مثل نہ تھا وہ زیادہ تر مستحبی روزہ رکھتی تھیں خدا نےبھی انہیں شرف عطاکیا تھا کہ انہیں امام معصومؑ کی ماں ہونے کا شرف بخشا۔([6])   

کنیزی سے حریم امامت تک:

محمد ابن فرج بیان کرتے ہیں کہ امام جواد ؑنے مجھے طلب کرکے فرمایا کہ ایک قافلہ مغرب کی طرف سے آیا ہے جس میں ایک بردہ فروش ہے اس کے پاس کچھ کنیزیں ہیں یہ ستر دینار لو اور ایک کنیز میرے لئے خرید واور اس کنیز کی نشانی اور علامت بتائی۔

میں نے جاکر اس علامت وصفت کی کنیز کو ڈھونڈھا اور ستر دینار میں خریدا، بردہ فروش نے سمانہ کو ایک ایسی عورت سے خریدا تھا جس کے پاس سمانہ نے تربیت پائی تھی وہ اسے مدینہ بیچنے کیلئے لایا سمانہ نیک ،عفیفہ اور پسندیدہ خاتون تھیں ۔([7]) 

کمال وشائستگی:

امام جوادؑ کا سمانہ سے کب ازدواج ہوا یہ معلوم نہیں ہوسکا لیکن آپ نے اس کنیز سے ازدواج کیا جو محمد ابن فرج نے آپ کیلئے خریدی تھی امام ہادیؑ اس با برکت ازدواج کا نتیجہ ہیں ،امام جوادؑ نے اپنی شریکہ حیات کو دختران پیغمبرؐ اسلام کے درمیان رکھ کر خود اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا،امام جوادؑ کی تعلیم وتربیت کا اتنی جلد اثر ہواکہ وہ کنیز زاہد ومتقی،صالح قاری قرآن اور عابدہ شب زندہ دار ہوگئیں اور بلند ترین درجہ حاصل کیا کیونکہ وہ امامؑ کی ماں قرار پائیں وہ اس عظیم خاندان کی ایک فرد ہوگئیں جسے خداوندعالم نے بندوں کی پناہ گاہ اور کشتی نجات قرار دیا ہے۔([8]) 

بہشتی خاتون:

حضرت امام ہادی ؑنے اپنی والدہ کےبارے میں بیان کیا ہے :

میری والدہ عالمہ میرے حق کی عارف تھیں وہ اہل بہشت سے ہیں وہ عظیم خاتون ہیں جن کے قریب سرکش شیطان نہیں پہونچ سکا،ظلم پیشہ ستمگاروں کی مکاری اور نیرنگی ان کو نہیں ملی وہ خدا وندعالم کی لطف ومہربانی اور توجہ کی نگاہ میں محفوظ رہیں ۔ ([9]) 

ولادت نور:

سمانہ مغربیہ امام جوادؑ کی شریکہ حیات ہونے پر فخر کرتی رہیں اور اس پر خداوندعالم کا شکر ادا کرتی تھیں ایک شب باربار خوش خبری ملی کہ تم دسویں وصی پیغمبرؐ اسلام سے باردار ہوگی۔([10])   

امام ہادیؑ۱۵ رجب ؁۰۲۱۲۰ھ میں بصریا (مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پرگاؤں ) میں پیدا ہوئے آپ کے پدر بزرگوار امام جوادؑ نے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور ولادت کے ساتویں روز سر مونڈوایا اور بال کے برابر چاندی فقیروں میں صدقہ کیا اور ایک گوسفند عقیقہ کے طورپرذبح کرایا۔([11])   

 



([1])- خاندان وحی،ص: ۵۸۱،حیاۃ الامام موسی ابن جعفر،ج:۱ ،ص:۳۷۔

([2])- الارشاد،ص: ۶۳۵،بحارالانوار،ج: ۵۰،ص: ۱۱۴۔

([3])- عیون المعجزات،ص:۱۳۰۔

([4])- مناقب آل ابیطالبؑ،ج:۴ ،ص:۴۳۳۔

([5])- الدررالنظیم،ص:۷۲۱۔

([6])- اعلام النساء المومنات،ص:۴۴۸۔

([7])- دلائل الامامۃ،ص: ۴۱۰،مدینۃ المعاجز،ج:۷ ،ص:۴۱۹ ،ریاحین الشریعہ،ج:۳ ،ص: ۲۳۔

([8])- حیاۃ الامام الہادی،ص:۱۲۔

([9])- اعلام الوریٰ،ص:۳۳۹ ،الدررالنظیم،ص:۷۲۴ ،اعیان الشیعہ،ج: ۲،ص:۳۶۔

([10])- اصول کافی،ج:۲ ،ص:۲۹۹۔

([11])- حیاۃ الامام الہادیؑ، ص:۱۴۔


اے آئی کے زمانہ میں اہل قلم کا امتحان

اے آئی کے زمانے میں اہلِ قلم کا امتحان: ✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر دور اپنے ساتھ کچھ نئی سہولتیں لا...