Monday, 26 May 2025

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام


سمانہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ان کا ایک نام اسماء بھی بیان ہوا ہے۔

جناب سمانہ کنیز تھیں امام محمد تقیؑ کے حکم سے ۷۰ دینار (۱۰۰؍ دینار ۴۰۰۰۰؍ روپئے تقریباً ۲۸۰۰۰۰۰ روپئے ہوتے ہیں ۔)میں خریدی گئی تھیں وہ کثرت سے روزہ رکھتی تھیں نماز میں مشغول رہتی تھیں ، امام ہادیؑ نے ایک حدیث میں ذکر کیا ہے کہ ان کی والدہ عارف حق اور اہل بہشت ہیں ۔

جناب سمانہ کا مزار سامرا میں حرم عسکریینؑ میں امام ہادیؑ، امام عسکریؑ، جناب نرجسؑ، حکیمہؑ دختر امام جوادؑ، حُدَیث مادر امام عسکریؑ کے جوار میں ہے۔

سمانہ کا شمار خاتون راویان حدیث میں ہوتا ہے۔

امام ہادیؑ نے اپنی والدہ کے بارے میں فرمایا ہے: میری والدہ عارف حق امامت و اہل بہشت ہیں ، شیطان کا ان کی جانب گزر نہیں ہے اس کا مکر و حیلہ، وسوسہ و فریب نہیں پہونچتا ہے، نظر الہی کے سایہ میں ہیں غفلت کا گزر نہیں ہے ان میں اور مادران صدیق و صالح میں کوئی فرق نہیں ہے۔

مکتب حیات بخش اسلام جہالت کے احاطہ میں ، اختناق، ناروا عدم مساوات، بےجا نابرابری کی فضا میں جدید آئیڈیئے اور شعار کے ساتھ میدان جنگ میں داخل ہو چکا  تھا ،ظلم و ستم کی ایک عظیم کہانی یہ تھی کہ غلام بنائے جاتے اور بیچے خریدے جاتے تھے، بردہ فروش غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدترین سلوک کرتے تھے، ناحق غلامی کی زنجیریں ان کی گردنوں میں ڈال دی جاتی تھیں ،پیغمبر ؐاکرم نے ابتدا ہی سے ان کی آزادی کیلئے مختلف عنوانات اور متعدد راہیں ایجاد کی تھیں جیسے غلام آزاد کرنے کا بیحد ثواب بیان کرنا اور گناہوں کا کفارہ ہونا، ماہ رمضان کے روزے کے کفارہ میں غلام آزاد کرنا، عہد وپیمان، نذر شکنی میں غلام کی آزادی کو فقہ کی کتابوں میں مفصل بیان کیا گیا ہے، پیغمبرؐ کے بعد ائمۂ معصومینؑ نے بھی غلام کی آزادی کیلئے ہر ممکن طریقہ کو اختیار کیا اور اس کا حکم بھی دیا،اس کا ایک خوبصورت عنوان یہ تھا کہ ائمۂ معصومینؑ کا ازدواج کنیزوں سے کیا یہ قانون غلامی کے خلاف ایک عملی جنگ تھی۔

شیخ مفیدؒ کی کتاب الارشاد سے استفادہ ہوتا ہے کہ کئی ائمہ طاہرینؑ کی مادران گرامی کنیز تھیں جیسے امام سجادؑ،امام موسی کاظمؑ،امام جوادؑ،امام ہادیؑ،امام حسن عسکریؑ اورامام زمانہ(عجل)۔

اس کا سبب یہ تھا کہ ائمہؑ عملی طور پر یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ آزاد وکنیز کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ان کنیزوں نے تربیت اسلامی حاصل کرنے کے بعد بلندترین مقامات کو حاصل کرلیا اور ان سےحجت خدا بھی دنیا میں آئے۔ ([1])

امام جوادؑ کا ازدواج مغربی کنیز سمانہ سے ہوا جن سے امام علی نقیؑ کی ولادت ہوئی۔

نام،لقب اورکنیت:

سیرت نویسوں کے بیان میں مادر امام علی نقیؑ کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے انہوں نےان کا نام سمانہؔ مغربیہ، سوسنؔ و ماریہؔ قبطیہ لکھا ہے۔([2]) 

مادر امام علی نقیؑ . کو اپنے زمانہ کی متقی ترین خاتون تحریر کیا ہے۔([3]) 

انکا صرف ایک لقب سیدہؔ ذکر ہوا ہے۔([4])   

ان کے فضل ومنزلت کی وجہ سے ان کی کنیت ام الفضل قرار پائی تھی۔([5])   

اعلام النساء المومنات میں بیان ہواہے:

 سمانہؔ مغربیہ امام ہادیؑ کی مادر گرامی سیدہ کے نام سے مشہور تھیں ان کی کنیت ام الفضل تھی وہ اپنے زمانہ کی بہترین خاتون تھیں ،زہد وتقویٰ میں کوئی ان کے مثل نہ تھا وہ زیادہ تر مستحبی روزہ رکھتی تھیں خدا نےبھی انہیں شرف عطاکیا تھا کہ انہیں امام معصومؑ کی ماں ہونے کا شرف بخشا۔([6])   

کنیزی سے حریم امامت تک:

محمد ابن فرج بیان کرتے ہیں کہ امام جواد ؑنے مجھے طلب کرکے فرمایا کہ ایک قافلہ مغرب کی طرف سے آیا ہے جس میں ایک بردہ فروش ہے اس کے پاس کچھ کنیزیں ہیں یہ ستر دینار لو اور ایک کنیز میرے لئے خرید واور اس کنیز کی نشانی اور علامت بتائی۔

میں نے جاکر اس علامت وصفت کی کنیز کو ڈھونڈھا اور ستر دینار میں خریدا، بردہ فروش نے سمانہ کو ایک ایسی عورت سے خریدا تھا جس کے پاس سمانہ نے تربیت پائی تھی وہ اسے مدینہ بیچنے کیلئے لایا سمانہ نیک ،عفیفہ اور پسندیدہ خاتون تھیں ۔([7]) 

کمال وشائستگی:

امام جوادؑ کا سمانہ سے کب ازدواج ہوا یہ معلوم نہیں ہوسکا لیکن آپ نے اس کنیز سے ازدواج کیا جو محمد ابن فرج نے آپ کیلئے خریدی تھی امام ہادیؑ اس با برکت ازدواج کا نتیجہ ہیں ،امام جوادؑ نے اپنی شریکہ حیات کو دختران پیغمبرؐ اسلام کے درمیان رکھ کر خود اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا،امام جوادؑ کی تعلیم وتربیت کا اتنی جلد اثر ہواکہ وہ کنیز زاہد ومتقی،صالح قاری قرآن اور عابدہ شب زندہ دار ہوگئیں اور بلند ترین درجہ حاصل کیا کیونکہ وہ امامؑ کی ماں قرار پائیں وہ اس عظیم خاندان کی ایک فرد ہوگئیں جسے خداوندعالم نے بندوں کی پناہ گاہ اور کشتی نجات قرار دیا ہے۔([8]) 

بہشتی خاتون:

حضرت امام ہادی ؑنے اپنی والدہ کےبارے میں بیان کیا ہے :

میری والدہ عالمہ میرے حق کی عارف تھیں وہ اہل بہشت سے ہیں وہ عظیم خاتون ہیں جن کے قریب سرکش شیطان نہیں پہونچ سکا،ظلم پیشہ ستمگاروں کی مکاری اور نیرنگی ان کو نہیں ملی وہ خدا وندعالم کی لطف ومہربانی اور توجہ کی نگاہ میں محفوظ رہیں ۔ ([9]) 

ولادت نور:

سمانہ مغربیہ امام جوادؑ کی شریکہ حیات ہونے پر فخر کرتی رہیں اور اس پر خداوندعالم کا شکر ادا کرتی تھیں ایک شب باربار خوش خبری ملی کہ تم دسویں وصی پیغمبرؐ اسلام سے باردار ہوگی۔([10])   

امام ہادیؑ۱۵ رجب ؁۰۲۱۲۰ھ میں بصریا (مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پرگاؤں ) میں پیدا ہوئے آپ کے پدر بزرگوار امام جوادؑ نے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور ولادت کے ساتویں روز سر مونڈوایا اور بال کے برابر چاندی فقیروں میں صدقہ کیا اور ایک گوسفند عقیقہ کے طورپرذبح کرایا۔([11])   

 



([1])- خاندان وحی،ص: ۵۸۱،حیاۃ الامام موسی ابن جعفر،ج:۱ ،ص:۳۷۔

([2])- الارشاد،ص: ۶۳۵،بحارالانوار،ج: ۵۰،ص: ۱۱۴۔

([3])- عیون المعجزات،ص:۱۳۰۔

([4])- مناقب آل ابیطالبؑ،ج:۴ ،ص:۴۳۳۔

([5])- الدررالنظیم،ص:۷۲۱۔

([6])- اعلام النساء المومنات،ص:۴۴۸۔

([7])- دلائل الامامۃ،ص: ۴۱۰،مدینۃ المعاجز،ج:۷ ،ص:۴۱۹ ،ریاحین الشریعہ،ج:۳ ،ص: ۲۳۔

([8])- حیاۃ الامام الہادی،ص:۱۲۔

([9])- اعلام الوریٰ،ص:۳۳۹ ،الدررالنظیم،ص:۷۲۴ ،اعیان الشیعہ،ج: ۲،ص:۳۶۔

([10])- اصول کافی،ج:۲ ،ص:۲۹۹۔

([11])- حیاۃ الامام الہادیؑ، ص:۱۴۔


مادران معصومین ایک تعارف۔۱۰۔والدہ امام محمد تقی علیہ السلام


سبیکہ امام رضا کی زوجہ اور امام جواد (محمد تقی) کی والدہ تھیں ، ان کے مختلف ناموں جیسے: درّہ، خیزران، ریحانہ، سُکینہ کا تذکرہ بھی آیا ہے، خیزران نام کا انتخاب امام رضا نے کیا تھا۔

آپ ام المومنین جناب ماریہ قبطیہ (زوجہ پیغمبرؐ اسلام) کے خاندان اہل نوبہ سے تھیں اسی وجہ سے انہیں سبیکہ نوبیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اہل نوبہ عیسائی تھے اور مسلمانوں سے شکست کے بعد سبیکہ (خیزران) اسیروں میں کنیز کے طور پر فروخت کی گئیں۔

وہ بلند ترین فضائل اخلاقی کی حامل تھیں اور اپنے زمانہ کی بہترین عورتوں میں سے تھیں ، پیغمبر اسلام نے انہیں ایک روایت میں «خیر الاماء» بہترین کنیز کہا ہے۔

ساتویں امامؑ نے آپ کے کچھ خصوصیات اس وقت بیان کئے ہیں جب آپ امام رضاؑ کے بیت الشرف میں آئی تھیں اور اپنے ایک صحابی یزید بن سلیط کے ذریعہ انہیں سلام بھجوایا تھا۔

آٹھویں امام خیزران کو پاکیزہ، پاکدامن، منزہ با فضیلت کے لفظوں سے یاد کیا ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ سبیکہؑ تقدس اور پاکیزگی میں مثل جناب مریمؑ تھیں اور پاکیزہ پیدا ہوئی تھیں ۔

امام جوادؑ کی مادر گرامی با عظمت خواتین میں سے ہیں جن کی تین معصوموں ؑ نے مدح کی ہے، رسولؐ اکرم نے انہیں پاک و پاکیزہ کنیزکہا ہے، امام کاظمؑ نے اپنے ایک صحابی کے توسط سے انہیں سلام پہونچایا ہے،امام علیؑ رضا نے ان کی تعریف کرتے ہوئے مریمؑ مادر عیسیٰؑ سے تشبیہ دی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ متقی اورپرہیزگار خاتون تھیں کیونکہ اگر ائمۂ معصومینؑ کسی سے اظہار محبت کریں ان کی مدح و تعریف میں زبان کھولیں تو نفسانی خواہشات کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ اس میں موجود پسندیدہ خصلت کی وجہ سے ہوگا اس بنا پر بعض تعریفات مادر امام جوادؑ اسی امر کی طرف لوٹتی ہیں ، مورخین نے انہیں ماریہؑ قبطیہ زوجہ پیغمبرؐ ؐاسلام کے خاندان سے تحریر کیا ہے۔

 نام و کنیت:

سیرت نویسوں نے مادر امام جوادؑ کے کئی نام ذکر کئے ہیں ، علامہ مجلسی کا بیان ہے کہ مادر امام جوادؑدرّہ نام کی کنیز تھیں جسے امام رضا ؑنے خیزران کا نام دیا وہ ماریہؑ قبطیہ کے خاندان سے تھیں ان کا نام سبیکہ اور ریحانہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔([1])  

کچھ لوگوں نے مادرامام جوادکا نام سبیکہ نوبیہ قرار دیا ہے۔

(نوبہ جنوب مصر” تقریباً موجودہ سوڈان“ میں ایک وسیع علاقہ ہےوہاں کے لوگ نصرانی ہیں ان کے بارے میں رسولخداؐ کا ارشاد ہے : اگر کوئی شخص اپنے لئے بھائی منتخب کرنا چاہتا ہے تو نوبہ کے لوگوں میں سے انتخاب کرے۔)

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی والدہ کا نام ریحانہ تھا۔([2])

ان کا نام سکینہ مرسیہ بھی بیان ہوا ہے۔([3])

 اعیان الشیعہ میں بیان ہوا ہے کہ سکینہ ، سبیکہ کی تصحیف ہے۔([4])  

سید کاظم قزوینی لکھتے ہیں :مادرامام جوادؑکے متعدد نام چند دلیلوں کی بنا پر ہیں ، جب امام جوادؑ شکم میں حالت حمل میں تھے تو انہیں درّہ نام دیا گیاکیونکہ ان کا چہرہ نور امامت سے درخشندہ رہتا تھا، سبیکہ اس لئے نام قرارپایاکہ ان کا چہرہ شمس طلائی کی طرح روشن تھا۔([5])

امام جوادؑکی مادرگرامی نہایت متقی اورفضیلت مآب خاتون تھیں ۔([6])

ان کی کنیت ام الحسن تھی،([7])  مشہور نظریہ کی بنا پر امام رضا ؑاور خیزران کی ازدواجی زندگی سے صرف امام جوادؑکی ولادت با سعادت ہوئی ہے۔([8])

 فرمان رسول اکرمؐ:

امام علی رضا ؑکے چچاعلی ابن جعفر بیان کرتے ہیں کہ جب امام رضاؑ کے بھائیوں اور چچاؤں نے امام رضاؑ کے خلاف آواز بلند کی خداوندعالم نے امامؑ کی مددفرمائی اور آپ نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں ،میں نے اٹھ کر امامؑ کے دست مبارک کو بوسہ دیا، آپ نے مجھ سے فرمایا چچا کیا آپ نے میرے والد کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ رسولخداؐ نے فرمایا میرے باپ فدا ہوجائیں پاکیزہ اور بہترین نوبیہ کنیز پر جس کے ذریعہ ایسا فرزند وجود میں آئےگا جو اپنے زمانہ کے لوگوں کے ستم سے اپنی منزل سے دور کیا جائےگا اور پردہ غیبت میں چلا جائے گا۔([9])  

محمد باقر کمرہ ای کا بیان ہے کہ اس سے امام زمانہ (عجل)مراد ہیں جو نوبی نژاد کنیز مادر امام جوادؑ کی نسل سے ہوں گے۔([10])  

 امام موسیٰ کاظمؑ کا سلام:

یزید ابن سلیط کا بیان ہےکہ میں حج وعمرہ کی ادائیگی کیلئے مکہ گیا ہوا تھا راستہ میں امام موسیٰ کاظمؑ سے ملاقات ہوئی امامؑ نے فرمایا اسی سال طاغوتی لوگ مجھے گرفتار کریں گے امامت کا فریضہ میرے فرزند علیؑ کے حوالہ جو ہمنام علیؑ ہے،پہلے علیؑ مولائے کائنات امیر ؑالمومنین ہیں دوسرے علیؑ چوتھے امام سجادؑ ہیں ، اسے علیؑ اول کی فہم وعلم، دین، مہر ومحبت عطاہوگی، محنت وصبر علیؑ ان چیزوں پر جسےوہ ناپسندکرتے ہوں گے،پھر فرمایا یزید جب اس جگہ سے گزرو اور اسے دیکھو اور یقینا دیکھوگے تو اسے بشارت دیدو کہ اس کو خدا ایک امانتدار فرزند عطا کرے گا وہ تمہیں اس کی خبر دے گا کہ تم نے مجھ سے اس جگہ ملاقات کی ہے تو اس وقت اسے اطلاع دیدوکہ جس کنیز سے وہ بچہ پیدا ہوگا خاندان ماریہؑ قبطیہ مادر ابراہیم فرزند رسولؐ اکرم سے ہوگی ،اے یزید! اگر ممکن ہوتومیرا سلام اس کنیز کو پہونچا دینا۔([11])  

شیخ عباس قمی کہتے ہیں کہ اس خاتون کی عظمت کیلئے یہ معتبر حدیث کافی ہے کہ امام موسیٰ کاظمؑ یزید ابن سلیط کواپنا سلام پہونچانے کا حکم دیتے ہیں جیساکہ جناب رسولخداؐ نے جناب جابر کے ذریعہ اپنا سلام امام محمدؑ باقر تک پہونچایاتھا۔([12])  

 خانۂ ولایت میں آنا:

جناب خیزرانؑ کی اسیری کی تاریخ معلوم نہیں ہے یزید ابن سلیط بیان کرتے ہیں بہت دنوں بعد میں نے اسی جگہ امام رضا ؑسے ملاقات کی جہاں امام کاظمؑ سے ملاقات ہوئی تھی انھوں نے میری ملاقات کی خبر دی اور فرمایا کہ جواطلاع میرے والد نے تمہیں دی تھی اسے بیان کرو ،میں نے امام رضا ؑسے اسے بیان کیا امام رضا ؑنے فرمایا ابھی وہ کنیز نہیں آئی ہے جب وہ ہمارے پاس آجائے گی تو میں انکا سلام اس تک پہونچادوں گا۔

یزید ابن سلیط کہتے ہیں کہ میں امامؑ کے ساتھ مکہ گیا امام رضا ؑنے اس سفر میں مادر امام جوادؑ کو جواولاد زید ابن علی ابن حسینؑ سے کنیز تھیں خریدا کچھ زمانہ گزرنے کے بعد وہی کنیز امام جوادؑ کی والدہ بنیں ۔ ([13])

بہر حال وہ پاکیزہ ،عفیفہ،بافضیلت خاتون امامؑ کے بیت الشرف میں آئیں اور اپنی نورانی زندگی کاآغازکیا ،امام رضاؑ کی بہنوں نے ان کا استقبال کیا اور ان کا بیحد احترام بھی کیا۔

 امام جواد ؑکی ولادت:

حکیمہؑ خاتون بنت امام موسی کاظمؑ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز میرے بھائی امام رضاؑ نے مجھے بلایا اور فرمایا: حکیمہؑ آج کی رات خیزران سے متبرک فرزند پیدا ہوگا ،تم ولادت کے وقت موجود رہو۔

حکیمہ کہتی ہیں کہ میں رات میں خیزران کے پاس رہی میرے بھائی نے مجھ کو قابلہ کے ہمراہ خیزران کے کمرہ میں چھوڑا چراغ روشن تھا اور دروازہ بند۔

جب دردزہ وضع حمل ہواتو ہم نے انہیں طشت میں بٹھایا چراغ گل کیا ہم نگرانی میں رہے ناگاہ ہم نے دیکھا کہ خورشید امامت جلوہ افروز ہواآپ پر ایک نازک پردہ احاطہ کئے ہوئے تھا۔

 یستطیع نورہ حتی أضاء البیت فابصرناہ فأخذتہ فوضعتہ فی حجرہ. ([14])

آپ کے وجود سے ایسا نور ساطع تھا جس نے پورے کمرہ کو نورانی بنادیا اور ہمیں چراغ کی کوئی ضرورت نہ رہی میں نے انہیں اپنے دامن میں لیا میرے بھائی امام رضا ؑکمرہ میں داخل ہوئے جبکہ میں نومولود کو سفید کپڑے میں لپیٹے تھی آپ نے نومولودکو مجھ سےلےکر گہوارہ میں رکھ دیا اور فرمایا: یاحکیمة الزمی مھدہ .اے حکیمہ اس گہوارہ سے جدا نہ ہونا۔

تیسرے روز نومولود نے اپنی آنکھیں کھولیں داہنے بائیں نگاہ کی اور بزبان فصیح بولے: أشہد أن لاالٰہ الا اللہ وأشہد ان محمداً رسول اللہ.

حکیمہ کہتی ہیں کہ مجھے تعجب ہوا میرے بھائی امام رضاؑ کمرہ میں آئے میں نے جو کچھ دیکھا اورسنا تھا ان سے عرض کیا آپ نےفرمایا: یاحکیمة ماترون من عجائبہ أکثر . اس کے بعد اس سے بھی زیادہ عجائبات کا تم مشاہدہ کروگی جو اب تک تم نے نہیں دیکھا ہے۔([15])  

 مادر پاکیزہ:

امام رضا ؑکے آخر عمر تک کوئی فرزند نہیں تھا خانوادہ کی نگاہیں اوراصحاب کی نظریں خیزران پر جمی ہوئی تھیں طولانی انتظار کرنا پڑا بعض اصحاب امامؑ نے یہ بھی کہا کہ آپ ایک فرزند کیلئے خدا کی بارگاہ میں دعا کریں امام نے ان لوگوں کو بشارت دی تھی کہ خداوندعالم خیزرانؑ کے فرزند کے ذریعہ ان کی نسل کی حفاظت کرےگا۔

امام جوادؑاپنے والد بزرگوار امام رضاؑ کی شہادت سے آٹھ سال قبل سنہ۱۹۵ ھ میں پیدا ہوئے امام رضاؑ خوشی کے عالم میں اصحاب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: قد ولد لی شبیہ موسیٰ بن عمران فالق البحار وشبیہ عیسیٰ بن مریم قدست ام ولدتہ قد خلقت طاہرۃ مطہرۃ۔ خداوندعالم نے مجھے ایسا فرزند عطا کیا ہے جو موسیؑ ابن عمران کے مثل ہے جنہوں نے دریا میں راستہ بنایا اور عیسیٰ ابن مریمؑ کی شبیہ ہے جن کی والدہ طاہرہ ومطہرہ تھیں ۔ ([16])



([1])- بحار الانوار،ج:۵،ص:۷۔

([2])- حیات سیاسی وفکری امامان شیعہ،ص:۴۷۲۔

([3])- کشف الغمۃ،ج:۲،ص:۳۴۳۔

([4])- ج:۲، ص:۳۲۔

([5])- الامام الجوادؑمن المہد الیٰ اللحد،ص:۱۹۔

([6])- عیون المعجزات،ص:۱۱۸۔

([7])- مناقب آل ابی طالب،ج:۴،ص:۴۱۱۔

([8])- الارشاد،ص:۶۱۵،معصوم یازدہم،ص:۱۶۷۔

([9])- اعلام الوریٰ، ص:۳۴۵، کشف الغمہ، ج:۲، ص:۳۵۱، الارشاد، ص:۶۱۵، ریاحین الشریعۃ، ج:۳، ص:۲۳۔

([10])- اصول کافی،ج:۲ ،ص: ۱۴۴۔

([11])- اصول کافی،ج:۲، ص:۲۹۔

([12])- انوار البہیہ ،ص:۳۹۱۔

([13])- اعلام الوریٰ ،ص: ۳۲۰،اصول کافی ،ج: ۲،ص: ۱۲۹۔

([14])- بحار الانوار،ج: ۵۰،ص:۱۰۔

([15])- دلائل الامامۃ،ص: ۳۸۳،اعیان الشیعہ،ج:۲ ،ص:۳۲۔

([16])- عیون المعجزات، ص: ۱۱۸، بحار الانوار، ج:۵۰، ص: ۱۵۔


#مادر_امام_علی_تقی#تعارف#خیزران#زوجہ_امام_علی_رضا#معصومین#ائمہ

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام

سما نہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ...