✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
جس امت کی ہدایت کے لیے نبیِ رحمت، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے، جنہوں نے نفرت کے مقابلے میں محبت، ظلم کے مقابلے میں عدل، انتقام کے مقابلے میں عفو اور جاہلیت کے مقابلے میں انسانیت کا درس دیا، اسی امت کی تاریخ پڑھتے ہوئے دل ایک تلخ سوال پر آ کر رک جاتا ہے:
آخر یہ خونریزی کیوں؟
ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ دوسری قوموں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی تاریخ ظلم، جنگ، خونریزی اور بربریت سے خالی ہے۔ انسان جہاں بھی رہا، طاقت، اقتدار، تعصب، انتقام اور مفاد نے اسے بارہا ظلم کی طرف دھکیلا۔ دنیا کی تقریباً ہر قوم کے ماضی میں ایسے سیاہ ابواب موجود ہیں جنہیں پڑھ کر انسانیت شرمندہ ہوتی ہے۔
لیکن ہمارے دکھ کی شدت اس لیے زیادہ ہے کہ ہمیں صرف ایک مذہب نہیں ملا تھا، ہمیں نبیِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ملے تھے۔
ہمیں وہ رسول ملے جنہوں نے جاہلیت کے خونریز معاشرے کو انسانیت کا سبق دیا؛ جنہوں نے دشمن کے ساتھ بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا، فتح کے موقع پر انتقام کے بجائے عفو کا راستہ اختیار کیا، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی، عورتوں، بچوں اور بے گناہوں کو ظلم سے بچانے کی تعلیم دی اور انسان کی جان و عزت کو حرمت عطا کی۔
ہمیں قرآن ملا، ہمیں سیرتِ رسول ص ملی، ہمیں عدل و رحمت کا عملی نمونہ ملا، ہمیں اہلِ بیت علیہم السلام کی زندگیاں ملیں؛ پھر بھی ہماری تاریخ میں اتنا خون کیوں بہا؟
یہی سوال دل کو سب سے زیادہ دکھاتا ہے۔
دوسری قوموں کے ظلم پر حیرت ہوتی ہے، لیکن اپنی تاریخ کے ظلم پر شرمندگی ہوتی ہے؛ کیونکہ ہمارے پاس ظلم سے بچنے کے لیے صرف نظریہ نہیں تھا، ہمارے سامنے خود نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری زندگی موجود تھی۔
اس لیے ہمارا سوال دوسروں کو مجرم ٹھہرانے کے لیے نہیں، اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے ہے۔
آخر ہم نے محمد ص سے کیا سیکھا؟
رحمت یا انتقام؟�عدل یا طاقت؟
�اخوت یا نفرت؟
�انسانیت یا خونریزی؟
یہ سوال جتنا تاریخ سے ہے، اس سے کہیں زیادہ آج ہمارے اپنے ضمیر سے ہے۔
وہ نبی جنہوں نے انسان کو انسان کا خون بہانے سے روکا، دشمن کو معاف کیا، کمزور پر رحم کیا اور جان، مال اور عزت کی حرمت سکھائی۔
پھر بھی تاریخ کے صفحات کھولیں تو کہیں تلواریں ہیں، کہیں نیزے، کہیں جلتے ہوئے شہر اور کہیں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا بہتا ہوا خون۔
جنگِ اُحد کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر بھی انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی۔ ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کی بے حرمتی کی، ان کا سینہ چاک کیا، جگر نکالا اور اسے چبا ڈالا۔ یہ محض ایک شہید کے ساتھ بدسلوکی نہیں تھی؛ یہ جاہلیت کی اس وحشت کی انتہا تھی جسے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ مٹانے کے لیے آئے تھے۔ ایک طرف وہ نبی تھے جو دشمنوں کے لیے بھی رحمت تھے، اور دوسری طرف انتقام میں اندھی ہوئی وہ ذہنیت تھی جو مقتول کے جسم تک کو معاف کرنے پر آمادہ نہ تھی۔
سوچیے! جس معاشرے کو اسلام نے یہ سکھایا کہ انسان کی جان، عزت اور حرمت مقدس ہے، اسی معاشرے میں انتقام اس حد تک پہنچ گیا کہ شہید کا سینہ چاک کیا گیا اور اس کا جگر نکال کر چبایا گیا۔ یہ واقعہ صرف تاریخ کا ایک ہولناک منظر نہیں؛ یہ جاہلیت اور اسلام کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لیے ایک لرزا دینے والا آئینہ ہے۔
اور پھر سوال صرف ہند بنت عتبہ کا نہیں؛ سوال اس پوری ذہنیت کا ہے جو انسان کو دشمن سمجھتے سمجھتے اس کی لاش سے بھی انتقام لینے لگتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ایسی ہی جاہلیت کو ختم کرنے کے لیے انسانیت، رحم، عفو اور اخلاق کا چراغ روشن کیا تھا۔ مگر افسوس کہ بعد کی تاریخ میں بھی اسی امت کے اندر بارہا وہی جاہلی انتقام، خونریزی اور درندگی نئے ناموں اور نئے نعروں کے ساتھ واپس آتی رہی
پھر زمانہ آگے بڑھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد امت ابھی اس عظیم صدمے سے پوری طرح سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ اقتدار اور سیاسی اختلافات نے اس کے اندر دراڑیں ڈال دیں۔ جو لوگ کل تک ایک رسول، ایک قرآن اور ایک قبلے کے سائے میں جمع تھے، وہ رفتہ رفتہ ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہونے لگے۔
پھر جنگِ جمل ہوئی؛ مسلمان مسلمان کے مقابل کھڑا تھا۔
پھر صفین آئی؛ قرآن پڑھنے والے ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔
پھر نہروان نے دکھایا کہ اختلاف جب تعصب اور تکفیر کی شکل اختیار کرلے تو عبادت گزار ہاتھ بھی تلوار اٹھا سکتے ہیں۔
ایک ہی کعبہ، ایک ہی قرآن، ایک ہی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، مگر تلواریں ایک دوسرے کے سینوں پر!
یہیں سے امت کی تاریخ میں ایک ایسا باب کھلا جس میں سیاسی اختلاف صرف اختلاف نہ رہا؛ خونریزی، تکفیر اور اقتدار کی جنگ بن گیا۔ اور پھر یہ زخم صدیوں تک مختلف شکلوں میں رستا رہا۔
پھر حضرت علی علیہ السلام شہید ہوئے۔
اور تاریخ کا زخم مزید گہرا ہوگیا۔
محمد بن ابی بکر کا انجام تو اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا ہے۔ مصر میں انہیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو گدھے کی کھال میں بند کیا گیا اور پھر اسے آگ لگا دی گئی۔ یعنی انتقام کی آگ صرف ایک انسان کے قتل پر نہیں بجھی؛ مقتول کے جسم کو بھی آگ کے حوالے کیا گیا۔
محمد بن ابی بکر کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے؛ وہ حضرت ابوبکر کے صاحبزادے اور حضرت علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی تھے۔ ان کا اس طرح قتل کیا جانا اور پھر لاش کو گدھے کی کھال میں ڈال کر جلانا اس دور کی سیاسی کشمکش اور باہمی دشمنی کی اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جہاں اختلاف نے انسانیت کو بھی نگل لیا تھا۔
یہ صرف ایک قتل نہیں تھا؛ یہ اس بات کی دردناک علامت تھا کہ جب اقتدار کی جنگ دین، اخلاق اور انسانیت پر غالب آجائے تو مسلمان کے ہاتھ سے مسلمان کی لاش بھی محفوظ نہیں رہتی۔
پھر کربلا آئی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ صرف خون سے نہیں، شرمندگی سے بھی لکھ دی گئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے نواسے، حضرت امام حسین علیہ السلام، اپنے اہلِ بیت علیہم السلام اور باوفا اصحاب کے ساتھ کھڑے تھے، اور سامنے وہ لوگ تھے جو اسی امت سے نسبت رکھتے تھے۔
وہاں تلوار نے صرف امام حسین علیہ السلام کو شہید نہیں کیا؛ اس نے امت کے ضمیر پر ایسا زخم لگایا جس کا درد آج تک باقی ہے۔
پھر تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ اقتدار کی بھوک نے مقدس مقامات کی حرمت تک کو پامال کر دیا۔ مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور خود خانۂ کعبہ بھی سیاسی کشمکش سے محفوظ نہ رہ سکے۔
واقعۂ حرّہ میں مدینہ منورہ پر حملہ ہوا، شہر میں خون بہا اور اہلِ مدینہ کو شدید مصیبت سے گزرنا پڑا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ کا محاصرہ ہوا اور منجنیقوں سے شہر پر پتھر برسائے گئے؛ خانۂ کعبہ بھی اس جنگ کی زد میں آیا اور آگ لگنے سے اس کا ایک حصہ متاثر ہوا۔
پھر تاریخ نے عبداللہ بن زبیر کے عہد میں مکہ کے ایک اور طویل محاصرے کو دیکھا۔ حرم کے اندر لڑائی ہوئی، خانۂ کعبہ کے گرد جنگ ہوئی اور بالآخر ابنِ زبیر قتل کر دیے گئے۔
یہ سب واقعات اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ جب اقتدار مذہب، اخلاق اور حرمت سے بڑا ہوجائے تو پھر وہ مدینہ کی گلیوں، مکہ کی وادیوں اور خانۂ کعبہ کی دیواروں تک کا لحاظ نہیں کرتا۔
جس دین نے حرم کو امن کی جگہ قرار دیا تھا، اسی امت کی سیاسی کشمکش نے کبھی مدینے کو میدانِ جنگ اور مکے کو محاصرے میں تبدیل کردیا۔
یہ تاریخ کا معمولی واقعہ نہیں؛ یہ امت کے لیے ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج بھی ہمارے پاس نہیں۔
اور اس خون آلود تاریخ کا سب سے دردناک باب آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ہے۔
جس خاندان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی محبت، احترام اور امت کی ذمہ داریوں سے جوڑا، اسی خاندان کے افراد کو کبھی قتل کیا گیا، کبھی قید کیا گیا، کبھی جلاوطن کیا گیا اور کبھی برسوں تاریک زندانوں میں سڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب کو شہید کیا گیا، اہلِ بیت علیہم السلام کو قید کرکے کوفہ و شام لے جایا گیا، اور پھر آنے والی نسلوں میں بھی آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نسبت رکھنے والے سادات اقتدار کے خوف اور سیاسی انتقام سے محفوظ نہ رہے۔
تاریخ کے بعض دردناک بیانات میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقتولین کے خون کو بھی عمارتوں کے گارے میں استعمال کیا گیا۔ ذرا تصور کیجیے! جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت نے عزت بخشی، ان کے خون تک کو بعض ظالم اقتدار کی عمارتوں کی تعمیر میں استعمال کرنے سے نہ ہچکچائے۔
بعض روایات میں آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے افراد کو زندہ دیواروں میں چن دینے جیسے لرزا دینے والے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔ کتنے ہی سادات ایسے تھے جن کی جوانیاں تاریک قید خانوں میں گزریں؛ نہ جرم ثابت کرنے کی ضرورت سمجھی گئی، نہ انصاف کا دروازہ کھولا گیا، صرف نسبت کافی تھی کہ وہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعلق رکھتے تھے یا حکمرانوں کی نگاہ میں خطرہ سمجھے جاتے تھے۔
یہ کیسی سیاست تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان سے نسبت جرم بن گئی؟
یہ کیسا اقتدار تھا جسے آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود خطرہ محسوس ہوتا تھا؟
اور یہ کیسی مسلمانی تھی کہ درباروں میں قرآن پڑھا جاتا تھا، مسجدیں آباد تھیں، اذانیں بلند ہوتی تھیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان کے خون سے زمین محفوظ نہ تھی؟
یہاں تاریخ ہمیں ایک نہایت تلخ حقیقت دکھاتی ہے:
تاج سر پر ہو سکتا ہے، تسبیح ہاتھ میں ہو سکتی ہے، محل میں قرآن کی تلاوت ہو سکتی ہے؛ لیکن اگر عدل نہیں تو ظلم، ظلم ہی رہتا ہے۔
اور اگر اقتدار کو بچانے کے لیے آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خون بہانا پڑے، ان کے بچوں کو قید کرنا پڑے، ان کے سادات کو زندانوں میں ڈالنا پڑے، تو پھر تاریخ کو یہ سوال ضرور کرنا چاہیے:
یہ اسلام کی حکومت تھی یا اسلام کے نام پر اقتدار کی حکومت؟
یہ سوال صرف ماضی سے نہیں ہے۔
یہ ہر اس زمانے سے ہے جہاں مذہب کا نام باقی رہ جائے، مگر رحمت، عدل اور انسانیت رخصت ہوجائے۔
نام بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، مگر انسان کا خون بہتا رہا۔
صدیاں گزریں تو منگولوں کی یلغار نے بغداد کو اجاڑ دیا؛ کتابیں دریا میں پھینکی گئیں، شہر خون میں ڈوبا اور اسلامی تہذیب کا ایک عظیم مرکز خاکستر ہوگیا۔
پھر تاریخ نے صلیبی جنگیں دیکھیں، پھر مختلف سلطنتوں کی جنگیں، پھر داخلی خانہ جنگیاں، پھر استعمار آیا؛ ہر دور نے مسلمانوں کے زخموں میں ایک نیا زخم شامل کیا۔
اور افسوس یہ ہے کہ بیرونی دشمنوں سے پہلے ہم نے خود اپنے اندر دشمن پیدا کرلیے تھے۔
فرقے ایک دوسرے سے لڑتے رہے، حکمران اقتدار کے لیے لڑتے رہے، مذہبی تعصبات نے دلوں میں دیواریں کھڑی کردیں، اور عام انسان ہر دور میں ان دیواروں کے نیچے کچلا جاتا رہا۔
پھر ہمارا زمانہ آیا۔
عراق اور شام نے ایک بار پھر وہ مناظر دیکھے جنہیں انسانیت دیکھ کر شرمندہ ہوجاتی ہے۔ جدید جنگوں، فرقہ وارانہ جنون اور دہشت گردی نے انسانوں کو قتل کیا، سر قلم کیے، زندہ جلایا، لاشوں کی بے حرمتی کی اور شہروں کو قبرستان بنا دیا۔
یہ کون لوگ ہیں؟
پھر ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ایک اور قیامت برپا ہوئی۔
پاکستان، عراق، شام اور یمن—وہ سرزمینیں جہاں اذانیں بلند ہوتی ہیں، قرآن پڑھا جاتا ہے، مساجد آباد ہیں—وہاں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا خون بہا۔
بے گناہوں کو بازاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں اور گھروں میں نشانہ بنایا گیا۔
گردنیں کاٹی گئیں۔
لاشیں مسخ کی گئیں۔
سر قلم کرکے خوف پھیلانے کے لیے نمائش بنائے گئے۔
بچوں تک کو نہیں بخشا گیا۔
داعش اور اس جیسے تکفیری گروہوں نے انسانیت کو وہ مناظر دکھائے جنہیں دیکھ کر درندے بھی شرما جائیں۔ لوگوں کو زندہ جلایا گیا، قیدیوں کو ذبح کیا گیا، بچوں اور عورتوں کو بھی اپنی وحشت کا نشانہ بنایا گیا؛ اور یہ سب کچھ کبھی اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ کیا گیا۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے!
قتل بھی دین کے نام پر،�ذبح بھی دین کے نام پر،�آگ بھی دین کے نام پر،�اور وحشت بھی دین کے نام پر!
کبھی یہ ہولناک خبریں بھی سامنے آئیں کہ مقتولوں کے سروں کے ساتھ کھیل تک کیا گیا، انسانی جسموں کو انتقام اور تذلیل کا سامان بنایا گیا۔ ایسی بربریت میں انسانیت تو دور، انسان ہونے کی آخری علامت بھی باقی نہیں رہتی۔
اور سوال پھر وہی ہے:
یہ کون لوگ تھے؟
کیا یہ کسی اور سیارے سے آئے تھے؟
کیا ان کی زبان پر کوئی اور کلمہ تھا؟
کیا ان کے گھروں میں قرآن نہیں تھا؟
کیا وہ مسلمانوں کے درمیان ہی نہیں پلے بڑھے تھے؟
مسلمان ہی تو تھے!
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ مسئلہ صرف بندوق کا نہیں، اس ذہنیت کا ہے جو انسان کو پہلے کافر بناتی ہے، پھر اس کے قتل کو ثواب سمجھاتی ہے۔
جب تکفیر دل میں اترتی ہے تو رحم نکل جاتا ہے۔
جب تعصب ایمان کا لباس پہن لیتا ہے تو انسان دشمن بن جاتا ہے۔
اور جب مذہب کو نفرت کا ہتھیار بنا دیا جائے تو پھر قرآن ہاتھ میں رہتا ہے، مگر قرآن کا انسان غائب ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کی جان کو حرمت دی تھی؛ ان لوگوں نے انسان کی جان کو اپنی وحشت کا ایندھن بنا دیا۔
یہ اسلام کی تعلیم نہیں؛ یہ اسلام کے نام پر انسانیت کا قتل ہے۔
اور سب سے زیادہ دردناک سوال یہ ہے:
ہم نے کربلا پڑھ کر بھی کیا سیکھا؟
ہم نے امام حسین علیہ السلام کا نام لے کر بھی ظلم سے نفرت کیوں نہ سیکھی؟
ہم نے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مان کر بھی ایک دوسرے کے لیے رحمت بننا کیوں نہ سیکھا؟
اگر مسلمان کا ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگ جائے اور پھر وہ اسی خون آلود ہاتھ کو دین کا ہاتھ سمجھنے لگے، تو اس سے بڑی فکری اور اخلاقی تباہی اور کیا ہوگی؟
یہی ہماری تاریخ کا سب سے خوفناک آئینہ ہے۔
قاتل کے سر پر مذہب کا نام ہو سکتا ہے،�مگر اس کے ہاتھ پر لگا خون اسے بے گناہ نہیں بنا دیتا۔
نام مسلمان ہونا کافی نہیں؛
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی رحمت کا وارث بننا ضروری ہے۔
یہ سب کچھ دیکھ کر دل پھر پوچھتا ہے:
کیا یہی وہ امت ہے جسے رسولِ رحمت ص نے بنایا تھا؟
ہمیں اپنے سوال کا جواب دوسروں سے نہیں، اپنے اندر سے تلاش کرنا ہوگا۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تاریخ میں ظالم کون تھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ظلم سے کیا سیکھا؟
ہم نے کربلا پڑھی، مگر کیا ظلم سے نفرت سیکھی؟
ہم نے امام حسین علیہ السلام کا نام لیا، مگر کیا ظلم کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا؟
ہم نے سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھی، مگر کیا رحمت، عفو، عدل اور انسانیت کو اپنی زندگی میں جگہ دی؟
ہم نے قرآن کی تلاوت کی، مگر کیا قرآن کے انسان کو پہچانا؟
ہم نے مسجدیں آباد کیں، مگر کیا انسان محفوظ ہوئے؟
ہم نے منبر آباد کیے، مگر کیا دلوں سے نفرت نکلی؟
ہم نے دین کی حفاظت کے نام پر بہت کچھ کیا، مگر کبھی یہ بھی سوچا کہ دین کے اخلاق کی حفاظت کون کرے گا؟
اسلام نے ہمیں انسانیت سے دور کرنے کے لیے نہیں، انسانیت کو بلندی دینے کے لیے جنم دیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔
لیکن ہماری تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ کبھی ہاتھ خون سے رنگے گئے اور کبھی زبانیں زہر سے۔
ہم نے مذہب کو عبادت گاہوں تک محدود کردیا اور اخلاق کو زندگی سے نکال دیا۔
ہم نے مسلک کو شناخت بنایا اور انسانیت کو بھلا دیا۔
ہم نے اختلاف کو دشمنی بنایا، دشمنی کو نفرت بنایا اور نفرت کو کبھی کبھی عبادت سمجھ لیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:
اگر ہمارے پاس رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت ہے، تو ہمارے معاشرے میں اتنی بے رحمی کیوں؟
اگر ہمارے پاس قرآن ہے، تو اتنا ظلم کیوں؟
اگر ہمارے پاس کربلا ہے، تو اتنی خاموشی کیوں؟
اگر ہمارے پاس امام حسین علیہ السلام ہیں، تو ہم ظلم کے سامنے اتنے بے حس کیوں؟
شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم دین سے دور ہیں؛
بلکہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو اپنی خواہشات کے قریب اور اس کی روح کو اپنی زندگی سے دور کردیا ہے۔
ہم رسول اللہ ص کا نام لیتے ہیں، مگر ان کی رحمت نہیں لیتے۔
ہم اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کے اخلاق، صبر، عدل اور قربانی کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔
ہم تاریخ کے قاتلوں پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر اپنے زمانے کے ظلم پر خاموش رہتے ہیں۔
یہی خاموشی تاریخ کو دوبارہ جنم دیتی ہے۔
کربلا صرف ماضی نہیں؛ کربلا ایک سوال ہے۔
ہر زمانے سے پوچھتی ہے:
ظلم کے سامنے تم کہاں کھڑے ہو؟
اور رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ کی سیرت بھی ہر زمانے سے یہی پوچھتی ہے:
تم انسان کے لیے رحمت کب بنو گے؟
شاید آج امت کو کسی نئے راستے سے زیادہ اسی ایک حقیقت کی ضرورت ہے:
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے نام لیوا بننے سے پہلے، محمد ص کی رحمت کے وارث بنو۔
کیونکہ دنیا کو ہماری تعداد کی نہیں،
ہمارے کردار کی ضرورت ہے۔
دنیا کو ہمارے نعروں کی نہیں،
ہمارے عدل کی ضرورت ہے۔
دنیا کو ہماری باہمی نفرت کی نہیں،
اس رحمت کی ضرورت ہے جس کے لیے نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ تشریف لائے تھے۔
اور شاید ہماری پوری خون آلود تاریخ کا سب سے مختصر سبق یہی ہے:
ہم نے رسولؐ کو مانا بہت،�رسولؐ کی رحمت کو اپنایا بہت کم۔
اب بھی وقت ہے کہ تاریخ کو صرف پڑھا نہ جائے، اس سے سبق بھی لیا جائے۔