سمانہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی
کنیت ام الفضل تھی، آپ امام
محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ان کا ایک نام اسماء
بھی بیان ہوا ہے۔
جناب
سمانہ کنیز تھیں امام محمد تقیؑ کے حکم سے ۷۰ دینار (۱۰۰؍ دینار ۴۰۰۰۰؍ روپئے تقریباً
۲۸۰۰۰۰۰ روپئے ہوتے ہیں ۔)میں خریدی گئی تھیں وہ کثرت سے روزہ رکھتی تھیں نماز میں مشغول رہتی تھیں ، امام ہادیؑ نے ایک حدیث
میں ذکر کیا ہے کہ ان کی والدہ عارف حق اور اہل بہشت ہیں ۔
جناب
سمانہ کا مزار سامرا میں حرم عسکریینؑ میں امام ہادیؑ، امام عسکریؑ، جناب نرجسؑ، حکیمہؑ
دختر امام جوادؑ، حُدَیث مادر امام عسکریؑ کے جوار میں ہے۔
سمانہ
کا شمار خاتون راویان حدیث میں ہوتا ہے۔
امام
ہادیؑ نے اپنی والدہ کے بارے میں فرمایا ہے: میری والدہ عارف حق امامت و اہل بہشت ہیں
، شیطان کا ان کی جانب گزر نہیں ہے اس کا مکر و حیلہ، وسوسہ و فریب نہیں پہونچتا ہے،
نظر الہی کے سایہ میں ہیں غفلت کا گزر نہیں ہے ان میں اور مادران صدیق و صالح میں کوئی
فرق نہیں ہے۔
مکتب
حیات بخش اسلام جہالت کے احاطہ میں ، اختناق، ناروا عدم مساوات، بےجا نابرابری کی فضا میں جدید آئیڈیئے اور شعار کے ساتھ
میدان جنگ میں داخل ہو چکا تھا ،ظلم و ستم کی ایک عظیم کہانی یہ تھی کہ غلام بنائے
جاتے اور بیچے خریدے جاتے تھے، بردہ فروش غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی
بدترین سلوک کرتے تھے، ناحق غلامی کی زنجیریں ان کی گردنوں میں ڈال دی جاتی تھیں ،پیغمبر
ؐاکرم نے ابتدا ہی سے ان کی آزادی کیلئے مختلف عنوانات اور متعدد راہیں ایجاد کی تھیں
جیسے غلام آزاد کرنے کا بیحد ثواب بیان کرنا اور گناہوں کا کفارہ ہونا، ماہ رمضان
کے روزے کے کفارہ میں غلام آزاد کرنا، عہد وپیمان، نذر شکنی میں غلام کی آزادی کو
فقہ کی کتابوں میں مفصل بیان کیا گیا ہے، پیغمبرؐ کے بعد ائمۂ معصومینؑ نے بھی غلام
کی آزادی کیلئے ہر ممکن طریقہ کو اختیار کیا اور اس کا حکم بھی دیا،اس کا ایک خوبصورت
عنوان یہ تھا کہ ائمۂ معصومینؑ کا ازدواج کنیزوں سے کیا یہ قانون غلامی کے خلاف ایک
عملی جنگ تھی۔
شیخ
مفیدؒ کی کتاب الارشاد سے استفادہ ہوتا ہے کہ کئی ائمہ طاہرینؑ کی مادران گرامی کنیز
تھیں جیسے امام سجادؑ،امام موسی کاظمؑ،امام جوادؑ،امام ہادیؑ،امام حسن
عسکریؑ اورامام زمانہ(عجل)۔
اس
کا سبب یہ تھا کہ ائمہؑ عملی طور پر یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ آزاد وکنیز کے درمیان
کوئی فرق نہیں ہے ان کنیزوں نے تربیت اسلامی حاصل کرنے کے بعد بلندترین مقامات کو حاصل
کرلیا اور ان سےحجت خدا بھی دنیا میں آئے۔ ([1])
امام
جوادؑ کا ازدواج مغربی کنیز سمانہ سے ہوا جن سے امام علی نقیؑ کی ولادت ہوئی۔
نام،لقب اورکنیت:
سیرت
نویسوں کے بیان میں مادر امام علی نقیؑ کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے انہوں نےان
کا نام سمانہؔ مغربیہ، سوسنؔ و ماریہؔ قبطیہ لکھا ہے۔([2])
مادر
امام علی نقیؑ . کو اپنے
زمانہ کی متقی ترین خاتون تحریر کیا ہے۔([3])
انکا
صرف ایک لقب سیدہؔ ذکر ہوا ہے۔([4])
ان
کے فضل ومنزلت کی وجہ سے ان کی کنیت ام الفضل قرار پائی تھی۔([5])
اعلام
النساء المومنات میں بیان ہواہے:
سمانہؔ مغربیہ امام ہادیؑ کی مادر گرامی سیدہ کے
نام سے مشہور تھیں ان کی کنیت ام الفضل تھی وہ اپنے زمانہ کی بہترین خاتون تھیں ،زہد
وتقویٰ میں کوئی ان کے مثل نہ تھا وہ زیادہ تر مستحبی روزہ رکھتی تھیں خدا نےبھی انہیں
شرف عطاکیا تھا کہ انہیں امام معصومؑ کی ماں ہونے کا شرف بخشا۔([6])
کنیزی سے حریم امامت تک:
محمد
ابن فرج بیان کرتے ہیں کہ امام جواد ؑنے مجھے طلب کرکے فرمایا کہ ایک قافلہ مغرب کی
طرف سے آیا ہے جس میں ایک بردہ فروش ہے اس کے پاس کچھ کنیزیں ہیں یہ ستر دینار لو
اور ایک کنیز میرے لئے خرید واور اس کنیز کی نشانی اور علامت بتائی۔
میں
نے جاکر اس علامت وصفت کی کنیز کو ڈھونڈھا اور ستر دینار میں خریدا، بردہ فروش نے سمانہ
کو ایک ایسی عورت سے خریدا تھا جس کے پاس سمانہ نے تربیت پائی تھی وہ اسے مدینہ بیچنے
کیلئے لایا سمانہ نیک ،عفیفہ اور پسندیدہ خاتون تھیں ۔([7])
کمال وشائستگی:
امام
جوادؑ کا سمانہ سے کب ازدواج ہوا یہ معلوم نہیں ہوسکا لیکن آپ نے اس کنیز سے ازدواج
کیا جو محمد ابن فرج نے آپ کیلئے خریدی تھی امام ہادیؑ اس با برکت ازدواج کا نتیجہ
ہیں ،امام جوادؑ نے اپنی شریکہ حیات کو دختران پیغمبرؐ اسلام کے درمیان رکھ کر خود
اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا،امام جوادؑ کی تعلیم وتربیت کا اتنی جلد اثر ہواکہ وہ
کنیز زاہد ومتقی،صالح قاری قرآن اور عابدہ شب زندہ دار ہوگئیں اور بلند ترین درجہ
حاصل کیا کیونکہ وہ امامؑ کی ماں قرار پائیں وہ اس عظیم خاندان کی ایک فرد ہوگئیں جسے
خداوندعالم نے بندوں کی پناہ گاہ اور کشتی نجات قرار دیا ہے۔([8])
بہشتی خاتون:
حضرت
امام ہادی ؑنے اپنی والدہ کےبارے میں بیان کیا ہے :
میری
والدہ عالمہ میرے حق کی عارف تھیں وہ اہل بہشت سے ہیں وہ عظیم خاتون ہیں جن کے قریب
سرکش شیطان نہیں پہونچ سکا،ظلم پیشہ ستمگاروں کی مکاری اور نیرنگی ان کو نہیں ملی وہ
خدا وندعالم کی لطف ومہربانی اور توجہ کی نگاہ میں محفوظ رہیں ۔ ([9])
ولادت نور:
سمانہ
مغربیہ امام جوادؑ کی شریکہ حیات ہونے پر فخر کرتی رہیں اور اس پر خداوندعالم کا شکر
ادا کرتی تھیں ایک شب باربار خوش خبری ملی کہ تم دسویں وصی پیغمبرؐ اسلام سے باردار
ہوگی۔([10])
امام
ہادیؑ۱۵ رجب ۰۲۱۲۰ھ میں بصریا (مدینہ سے تین
میل کے فاصلہ پرگاؤں ) میں پیدا ہوئے آپ کے پدر بزرگوار امام جوادؑ نے داہنے کان
میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور ولادت کے ساتویں روز سر مونڈوایا اور بال
کے برابر چاندی فقیروں میں صدقہ کیا اور ایک گوسفند عقیقہ کے طورپرذبح کرایا۔([11])