سبیکہ امام
رضا کی زوجہ اور امام جواد (محمد تقی) کی والدہ تھیں ، ان کے مختلف ناموں جیسے: درّہ،
خیزران، ریحانہ، سُکینہ کا تذکرہ بھی آیا ہے، خیزران نام کا انتخاب امام رضا نے
کیا تھا۔
آپ
ام المومنین جناب ماریہ قبطیہ (زوجہ پیغمبرؐ اسلام) کے خاندان اہل نوبہ سے تھیں اسی
وجہ سے انہیں سبیکہ نوبیہ بھی کہا جاتا ہے۔
اہل نوبہ عیسائی تھے اور مسلمانوں سے شکست کے بعد سبیکہ (خیزران) اسیروں میں کنیز کے طور پر فروخت کی گئیں۔
وہ
بلند ترین فضائل اخلاقی کی حامل تھیں اور اپنے زمانہ کی بہترین عورتوں میں سے تھیں
، پیغمبر اسلام نے انہیں ایک روایت میں «خیر الاماء» بہترین کنیز کہا ہے۔
ساتویں امامؑ نے آپ کے کچھ خصوصیات اس وقت بیان کئے ہیں
جب آپ امام رضاؑ کے بیت الشرف میں
آئی تھیں اور اپنے ایک صحابی یزید بن سلیط کے ذریعہ انہیں سلام بھجوایا تھا۔
آٹھویں امام خیزران کو پاکیزہ، پاکدامن، منزہ با فضیلت کے
لفظوں سے یاد کیا ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ سبیکہؑ تقدس اور پاکیزگی میں مثل جناب مریمؑ تھیں اور پاکیزہ پیدا ہوئی تھیں ۔
امام
جوادؑ کی مادر گرامی با عظمت خواتین میں سے ہیں جن کی تین معصوموں ؑ نے مدح کی ہے، رسولؐ اکرم نے انہیں پاک و پاکیزہ کنیزکہا
ہے، امام کاظمؑ نے اپنے ایک صحابی کے توسط سے انہیں سلام پہونچایا ہے،امام علیؑ رضا
نے ان کی تعریف کرتے ہوئے مریمؑ مادر عیسیٰؑ سے
تشبیہ دی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ متقی اورپرہیزگار خاتون تھیں کیونکہ اگر ائمۂ
معصومینؑ کسی سے اظہار محبت کریں ان کی مدح و تعریف میں زبان کھولیں تو نفسانی خواہشات
کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ اس میں موجود
پسندیدہ خصلت کی وجہ سے ہوگا اس بنا پر
بعض تعریفات مادر امام جوادؑ اسی امر کی طرف لوٹتی ہیں ، مورخین نے انہیں ماریہؑ قبطیہ
زوجہ پیغمبرؐ ؐاسلام کے خاندان سے تحریر کیا ہے۔
نام و کنیت:
سیرت
نویسوں نے مادر امام جوادؑ کے کئی نام ذکر کئے ہیں ، علامہ مجلسی کا بیان ہے کہ مادر
امام جوادؑدرّہ نام کی کنیز تھیں جسے امام رضا ؑنے خیزران کا نام دیا وہ ماریہؑ قبطیہ
کے خاندان سے تھیں ان کا نام سبیکہ اور ریحانہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔([1])
کچھ
لوگوں نے مادرامام جوادکا نام سبیکہ نوبیہ قرار دیا ہے۔
(نوبہ
جنوب مصر” تقریباً موجودہ سوڈان“ میں ایک
وسیع علاقہ ہےوہاں کے لوگ نصرانی ہیں ان کے بارے میں رسولخداؐ کا ارشاد ہے : اگر کوئی
شخص اپنے لئے بھائی منتخب کرنا چاہتا ہے تو نوبہ کے لوگوں میں سے انتخاب کرے۔)
یہ
بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی والدہ کا نام ریحانہ تھا۔([2])
ان
کا نام سکینہ مرسیہ بھی بیان ہوا ہے۔([3])
اعیان الشیعہ میں بیان ہوا ہے کہ سکینہ ، سبیکہ کی تصحیف ہے۔([4])
سید کاظم قزوینی لکھتے ہیں :مادرامام جوادؑکے متعدد نام چند
دلیلوں کی بنا پر ہیں ، جب امام جوادؑ شکم میں حالت حمل میں تھے تو انہیں درّہ نام
دیا گیاکیونکہ ان کا چہرہ نور امامت سے درخشندہ رہتا تھا، سبیکہ اس
لئے نام قرارپایاکہ ان کا چہرہ شمس طلائی کی طرح روشن تھا۔([5])
امام
جوادؑکی مادرگرامی نہایت متقی اورفضیلت مآب خاتون تھیں ۔([6])
ان
کی کنیت ام الحسن تھی،([7]) مشہور نظریہ کی بنا پر امام رضا ؑاور خیزران کی ازدواجی
زندگی سے صرف امام جوادؑکی ولادت با سعادت ہوئی ہے۔([8])
فرمان رسول اکرمؐ:
امام علی رضا ؑکے چچاعلی ابن جعفر بیان کرتے ہیں کہ جب امام
رضاؑ کے بھائیوں اور چچاؤں نے امام رضاؑ کے خلاف آواز بلند کی خداوندعالم نے امامؑ
کی مددفرمائی اور آپ نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں ،میں نے اٹھ کر امامؑ کے دست مبارک
کو بوسہ دیا، آپ نے مجھ سے فرمایا چچا کیا آپ نے میرے والد کو فرماتے ہوئے نہیں سنا
کہ رسولخداؐ نے فرمایا میرے باپ فدا ہوجائیں پاکیزہ اور بہترین نوبیہ کنیز پر جس کے
ذریعہ ایسا فرزند وجود میں آئےگا جو اپنے زمانہ کے لوگوں کے ستم سے اپنی منزل سے دور
کیا جائےگا اور پردہ غیبت میں چلا جائے گا۔([9])
محمد
باقر کمرہ ای کا بیان ہے کہ اس سے امام زمانہ (عجل)مراد ہیں جو نوبی نژاد کنیز مادر
امام جوادؑ کی نسل سے ہوں گے۔([10])
امام موسیٰ کاظمؑ کا سلام:
یزید ابن سلیط کا بیان ہےکہ میں حج وعمرہ کی ادائیگی کیلئے
مکہ گیا ہوا تھا راستہ میں امام موسیٰ کاظمؑ سے ملاقات ہوئی امامؑ نے فرمایا اسی سال
طاغوتی لوگ مجھے گرفتار کریں گے امامت کا فریضہ میرے فرزند علیؑ کے حوالہ جو ہمنام
علیؑ ہے،پہلے علیؑ مولائے کائنات امیر ؑالمومنین ہیں دوسرے علیؑ چوتھے امام سجادؑ ہیں
، اسے علیؑ اول کی فہم وعلم، دین، مہر ومحبت عطاہوگی، محنت وصبر علیؑ ان چیزوں پر جسےوہ
ناپسندکرتے ہوں گے،پھر فرمایا یزید جب اس جگہ سے گزرو اور اسے دیکھو اور یقینا دیکھوگے
تو اسے بشارت دیدو کہ اس کو خدا ایک امانتدار فرزند عطا کرے گا وہ تمہیں اس کی خبر
دے گا کہ تم نے مجھ سے اس جگہ ملاقات کی ہے تو اس وقت اسے اطلاع دیدوکہ جس کنیز سے
وہ بچہ پیدا ہوگا خاندان ماریہؑ قبطیہ مادر ابراہیم فرزند رسولؐ اکرم سے ہوگی ،اے یزید!
اگر ممکن ہوتومیرا سلام اس کنیز کو پہونچا دینا۔([11])
شیخ
عباس قمی کہتے ہیں کہ اس خاتون کی عظمت کیلئے یہ
معتبر حدیث کافی ہے کہ امام موسیٰ کاظمؑ یزید ابن سلیط کواپنا سلام پہونچانے کا حکم
دیتے ہیں جیساکہ جناب رسولخداؐ نے جناب جابر کے ذریعہ اپنا سلام امام محمدؑ باقر تک
پہونچایاتھا۔([12])
خانۂ ولایت میں آنا:
جناب
خیزرانؑ کی اسیری کی تاریخ معلوم نہیں ہے یزید ابن سلیط بیان کرتے ہیں بہت دنوں بعد
میں نے اسی جگہ امام رضا ؑسے ملاقات کی جہاں امام کاظمؑ سے ملاقات ہوئی تھی انھوں نے
میری ملاقات کی خبر دی اور فرمایا کہ جواطلاع میرے والد نے تمہیں دی تھی اسے بیان کرو
،میں نے امام رضا ؑسے اسے بیان کیا امام رضا ؑنے فرمایا ابھی وہ کنیز نہیں آئی ہے
جب وہ ہمارے پاس آجائے گی تو میں انکا سلام اس تک پہونچادوں گا۔
یزید
ابن سلیط کہتے ہیں کہ میں امامؑ کے ساتھ مکہ گیا امام رضا ؑنے اس سفر میں مادر امام
جوادؑ کو جواولاد زید ابن علی ابن حسینؑ
سے کنیز تھیں خریدا کچھ زمانہ گزرنے کے بعد وہی کنیز امام جوادؑ کی والدہ بنیں ۔ ([13])
بہر حال وہ پاکیزہ ،عفیفہ،بافضیلت خاتون امامؑ کے بیت الشرف
میں آئیں اور اپنی نورانی زندگی کاآغازکیا ،امام رضاؑ کی بہنوں نے ان کا استقبال
کیا اور ان کا بیحد احترام بھی کیا۔
امام جواد ؑکی ولادت:
حکیمہؑ
خاتون بنت امام موسی کاظمؑ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز میرے بھائی امام رضاؑ نے مجھے
بلایا اور فرمایا: حکیمہؑ آج کی رات خیزران سے متبرک فرزند پیدا ہوگا ،تم ولادت کے
وقت موجود رہو۔
حکیمہ
کہتی ہیں کہ میں رات میں خیزران کے پاس رہی میرے بھائی نے مجھ کو قابلہ کے ہمراہ خیزران
کے کمرہ میں چھوڑا چراغ روشن تھا اور دروازہ بند۔
جب دردزہ وضع حمل ہواتو ہم نے انہیں طشت میں بٹھایا چراغ
گل کیا ہم نگرانی میں رہے ناگاہ ہم نے دیکھا کہ خورشید امامت جلوہ افروز ہواآپ پر
ایک نازک پردہ احاطہ کئے ہوئے تھا۔
یستطیع نورہ حتی أضاء البیت فابصرناہ
فأخذتہ فوضعتہ فی حجرہ.
([14])
آپ کے وجود سے ایسا نور ساطع تھا جس نے پورے کمرہ کو نورانی
بنادیا اور ہمیں چراغ کی کوئی ضرورت نہ رہی میں نے انہیں اپنے دامن میں لیا میرے بھائی
امام رضا ؑکمرہ میں داخل ہوئے جبکہ میں نومولود کو سفید کپڑے میں لپیٹے تھی آپ نے
نومولودکو مجھ سےلےکر گہوارہ میں رکھ دیا اور فرمایا: یاحکیمة الزمی مھدہ .اے حکیمہ اس گہوارہ سے جدا نہ ہونا۔
تیسرے
روز نومولود نے اپنی آنکھیں کھولیں داہنے بائیں نگاہ کی اور بزبان فصیح بولے: أشہد أن لاالٰہ الا اللہ وأشہد
ان محمداً رسول اللہ.
حکیمہ کہتی
ہیں کہ مجھے تعجب ہوا میرے بھائی امام رضاؑ کمرہ میں آئے میں نے جو کچھ دیکھا اورسنا
تھا ان سے عرض کیا آپ نےفرمایا: یاحکیمة ماترون من عجائبہ أکثر . اس کے بعد اس سے بھی زیادہ عجائبات
کا تم مشاہدہ کروگی جو اب تک تم نے نہیں دیکھا ہے۔([15])
مادر پاکیزہ:
امام
رضا ؑکے آخر عمر تک کوئی فرزند نہیں تھا خانوادہ کی نگاہیں اوراصحاب کی نظریں خیزران
پر جمی ہوئی تھیں طولانی انتظار کرنا پڑا بعض اصحاب امامؑ نے یہ بھی کہا کہ آپ ایک
فرزند کیلئے خدا کی بارگاہ میں دعا کریں امام نے ان لوگوں کو بشارت دی تھی کہ خداوندعالم
خیزرانؑ کے فرزند کے ذریعہ ان کی نسل کی حفاظت کرےگا۔
امام جوادؑاپنے والد بزرگوار امام رضاؑ کی شہادت سے آٹھ سال قبل سنہ۱۹۵ ھ میں پیدا ہوئے امام رضاؑ خوشی کے عالم میں اصحاب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: قد ولد لی شبیہ موسیٰ بن عمران فالق البحار وشبیہ عیسیٰ بن مریم قدست ام ولدتہ قد خلقت طاہرۃ مطہرۃ۔ خداوندعالم نے مجھے ایسا فرزند عطا کیا ہے جو موسیؑ ابن عمران کے مثل ہے جنہوں نے دریا میں راستہ بنایا اور عیسیٰ ابن مریمؑ کی شبیہ ہے جن کی والدہ طاہرہ ومطہرہ تھیں ۔ ([16])
No comments:
Post a Comment