آپ
امام موسی کاظم کی زوجہ، امام رضا اور فاطمہ (معصومۂ قم) کی والدہ تھیں ۔
آپ
اشراف عجم سے کنیز تھیں جو عربوں کے درمیان پیدا ہوئی تھیں ، جناب حمیدہ کے توسط سے
امام صادق نے انہیں خریدا اور امام کاظم کے حوالہ کیا، بعض مورخین نے لکھا ہے کہ آپ
شمال افریقہ کے شہر نوبہ سے تعلق رکھتی تھیں ، بعض نے انہیں جنوب فرانس کے اہل
جزیرہ مارسی سے قرار دیا ہے۔
شیخ صدوق نے ایک روایت علی بن میثم ست نقل کیا ہے جس میں
ایک خواب کی جانب اشارہ کیا ہے کہ حمیدہ خاتون نے پیغمبر اسلام کو خواب میں دیکھا کہ
آنحضرت ان سے فرما رہے ہیں : اے حمیدہ! نجمہ کو اپنے فرزند موسی کو عطا کر دو کیونکہ
ان سے زمین کی بہترین مخلوق دنیا میں آئے گی، اس خواب کے بعد حمیدہ نے جناب نجمہ کو
اپنے فرزند کو عطا کر دیا۔
امام
موسی کاظم نے بھی جناب نجمہ کی خریداری کو پیغمبر کے اسی انداز کے حکم کے مطابق بیان
فرمایا ہے۔
نجمہ
ان سعادتمند اور عظیم کنیزوں میں سے ہیں جو ایک ستارۂ فروزاں کی مانند اپنے وطن اور
خانوادہ سے نکلیں خداوندعالم کی مشیت اور ارادہ سے امامت کے درخشاں ستاروں کے مدار
میں داخل ہو گئیں ، ان کی خریداری اور امام کاظمؑ سے ان کا ازدواج نبی مکرمؐ کے حکم
سے انجام پایا ، سب سے پہلے عظیم تحفہ خداوندی جو ان کے مقدر میں آیا کہ وہ ایک معصوم
امامؑ کی ماں قرار پائیں ، زمانۂ حمل سے لے کر نور الٰہی کے ظہور کے وقت تک ان کے
واقعات و خیالات اتنے ہیں کہ سب ان کی روحانی عظمت اور فوق العادہ صلاحیت کے قائل ہیں
، ائمۂ معصومینؑ نے فرمایا ہے کہ لوگوں کے اندر ہمارے خصوصیات کے کلی ادراک کی گنجائش
نہیں ہے۔([1])
لیکن معصومینؑ کی مادران گرامی
نے روحانی کمال اس درجہ تک حاصل کیا کہ انہیں قبول کرنے کی قوت حاصل ہو گئی، نجمہؑ
ایک کنیز کی صورت میں لائی گئی تھیں لیکن اسلام کے زیر سایہ امام معصومؑ کے ہاتھ سے
آزاد ہوئیں ، آزادی کے ساتھ امام معصوم ؑکی شریکۂ حیات اور امامؑ کی ماں بننے کا
بھی شرف ملا اور ان کی نسل سے وہ امامؑ عالم وجود میں آیا جس کے بارے میں متعدد بار
امام صادؑق نے اپنے فرزند موسیٰ بن جعفرؑ سےفرمایا: "تمہاری صلب میں عالم آل
محمدؐ آنے والا ہے کاش میں اس سے ملاقات کرتا۔"([2])
نام، کنیت اور لقب:
امام
رضاؑ کی مادر گرامی کے متعدد نام تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں ، جیسے نجمہ،اروی،
سکن، سمان اور تکتم، امام رضاؑ نے انہیں طاہرہ نام دیا۔([3])
ریاحین الشریعۃ میں بیان ہوا ہے کہ والدۂ امام رضا
کا نام سکن، نوبیہ، نجمہ، سمانہ اور تکتم ہے۔([4])
مناقب
میں ان کا نام صقر اور ارواہ ہے، جب امام رضاؑکی ولادت ہوئی تو ان کا نام طاہرہ ہوا۔([5])
ان
کا نام خیزران ، قلیم اور صفرا بھی ہے۔([6])ان
کی کنیت ام البنین ہے۔([7])
ان
کا لقب شقراء ہے۔([8]) انہیں مرسیہ
بھی کہا جاتا ہے۔
یاقوت
حموی نے معجم البلدان میں مرسی کو جزیرۂ سیشل کے شہروں میں ایک شہر قرار دیا ہے لیکن مرسی مشہور بندر مارسی ہے جو فرانس
کے جنوب میں واقع ہے۔([9])
راہ سعادت پر گامزن:
ہشام احمدکابیان ہے : ایک روز جناب امام موسیٰ کاظمؑ نے مجھے
طلب فرمایا اور کہا کہ تمہیں خبر ہےکہ کوئی قافلہ زمین مغرب سے آیا ہے؟ میں نے عرض
کیا کہ مجھے معلوم نہیں ہے، امامؑ نے فرمایا: قافلہ آیا ہےاور اس کے ساتھ کچھ کنیزیں
بھی ہیں ، اٹھو چلیں ، میں ان میں سے ایک کنیز خریدنا چاہتا ہوں ، جب ہم باہر آئے
تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص کو دیکھا جو مغرب کی جانب سے آیا تھا اور اس کے ہمراہ
کنیزیں بھی تھیں ،امامؑ نے اس سے فرمایا اپنی کنیزوں کو مجھے بتاؤ، وہ شخص ہر ایک
کنیز کو لایا سات کنیزوں کو لاتا رہا لیکن امامؑ نے فرمایا کہ میں انہیں نہیں چاہتا
اب دوسری کنیز نہیں ہے،صرف ایک بیمار کنیز ہے، امامؑ نے فرمایاکہ اسے لاؤ، اس شخص
نے اسے قبول نہیں کیا ، امامؑ واپس آگئے، دوسرے روز بھی مجھے طلب کیا اور کہا کہ اس
بردہ فروش کے پاس جاؤ اور اس بیمار کنیز کی جو بھی انتہائی قیمت طلب کرتا ہو معلوم
کرو اس کی قیمت لے کر کنیز کو لاؤ، میں گیا اور جو قیمت بتائی تھی اتنے میں اسے خرید
لیا، اس بردہ فروش نے کہا: تجھے خدا کی قسم ہے، کل وہ دوسرا شخص تمہارے ساتھ کون تھا؟
میں نے کہا بنی ہاشم سے تھا، اس نے پوچھا کس قبیلہ کا؟ میں نے کہا کہ میں اس زیادہ
نہیں جانتا ہوں ، ان سوالات سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اس کنیز کو
مغرب کے دور ترین شہر سے خریدا تو اہل کتاب کی ایک عورت نے مجھ سے کہا کہ یہ کون کنیز
ہے جو تمہارے پاس ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے اس کو اپنے لئے خریدا ہے، اس نے کہا کہ
اس کنیز کو تمہارے پاس رہنا مناسب نہیں ہے،اسے روئے زمین کے سب سے بہترین انسان کے
پاس ہونا چاہئے، اس کے پاس بھی زیادہ زمانہ نہیں گذرے گا کہ اس سے ایک فرزند پیدا ہوگا
جس سے بہتر دنیا کے مشرق و مغرب میں کوئی نہ ہوگا۔([10])
جب
میں کنیز کوامام موسیٰ کاظمؑ کے پاس لایا تو زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا کہ امام رضاؑ
کی ولادت ہوئی۔([11])
طبرسی
نے اعلام الوریٰ میں اور بحرانی نے عوالم میں
نقل کیا ہے کہ (امام صادؑق) نے ہشام بن احمد
سے فرمایا آگاہ رہوکہ نجمہ ؑسے ایک ایسا فرزند دنیامیں آئے گا جس کے اور خدا کے درمیان
کوئی حجاب نہیں ہے۔([12])
اس
مقام پر اشتباہ ہوا ہے بجائے امام کاظمؑ کے امام صادؑق درج ہو گیا ہے ، علامہ بحرانی
نے اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔([13])
نجمہؑ کی خریداری حکم
خدا سے:
ہشام کا بیان ہے: جب میں کنیز کو امام کاظمؑ کی خدمت میں
لایا تو آپ کےکچھ اصحاب جمع ہوئے، امامؑ نے ان لوگوں سے فرمایا : بخدا!میں نے اس کنیز
کو نہیں خریدا مگر حکم خدا سے، اصحاب نے امامؑ سے سوال کیا: ایسا کیوں کر ہوا ہے؟ امامؑ
نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے جد اور پدر میرے پاس تشریف لائے ان کے
ساتھ ایک ابریشم کا ٹکڑا تھا اس کو انہوں نے کھولا جس میں ایک ایسا پیراہن تھا جس سے
اس کنیز کی صورت نمایاں تھی،میرے جد وپدر نے فرمایا: اس کنیز سے ایک ایسا فرزند آئے
گا جو تمہارے بعد زمین میں سب سے بہترین انسان ہو گا۔پھر آپ نے حکم دیا کہ جب یہ مولود
دنیا میں آئے تو اس کا نام علیؑ رکھنا ،خدا وندعالم اسے عدل ، مروت اور رحمت عطا کرے
گا ،وہ شخص خوش نصیب ہے جو اس کی تصدیق کرے اور وائےہو اس کیلئے جو اس سے دشمنی کرے
اور انکار کرے۔([14])
ازدواج:
امام
کاظمؑ کی تمام ازواج کنیز تھیں ، جناب نجمہؑ کی امام کاظمؑ سے ازدواج کی تاریخ معلوم
نہیں ہوسکی ہے۔([15])
امام کاظمؑ کی والدہ حمیدہ ؑاس ازدواج کے بارے میں بیان کرتی
ہیں جب نجمہؑ ہمارے گھر میں آئیں تو ایک شب میں نے خواب میں پیغمبر ؐاسلام کو دیکھا
،آپ نے فرمایا: اے حمیدہؑ! نجمہؑ کو اپنے فرزند موسیٰؑ کے ازدواج میں لاؤ، اس سے
روئے زمین پر سب سے بہترین فرزند پیدا ہوگا ، میں نے اس حکم پر عمل کیا اور نجمہؑ کا
عقد امام کاظمؑ سے کردیا۔([16])
جب
یہ طے کر لیا کہ نجمہؑ کاامام کاظمؑ سےعقد کریں تو حمیدہؑ نے اپنے فرزند سے کہا: میرے فرزند! تکتم وہ کنیز ہے جس سے زیادہ فضیلت والی خاتون میں نے اب تک نہیں
دیکھی ،اس میں شک نہیں ہےکہ اگر اس کی نسل چلے گی تو پاک و مطہر ہوگی ، میں تم سے اس
کے سلسلہ میں بھلائی اور نیکی کی درخواست کرتی ہوں ۔([17])
نجمہؑ کا علم و ادب:
حریم
ولایت میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی نجمہؑ جناب حمیدہ ؑکے زیر تربیت رہیں انہوں نے اپنی
استعداد ی کثرت کی وجہ سے بہت جلدی اسلامی آداب و سنن کو حمیدہؑ سےحاصل کرلیا۔”نجمہ
عقل و دینداری میں بہترین عورتوں میں سے تھیں وہ حمیدہ ؑکی بیحد تعظیم کرتی تھیں ،
حریم ولایت میں آنے کے وقت سےبغیرحمیدہ کی تعظیم واکرام کے ان کی خدمت میں نہیں جاتی
تھیں ۔“ ([18])
امام علی ؑرضا کی ولادت:
مادر
امام رضاؑ روشن ضمیر اور پاک باطن خاتون تھیں وہ خود بارداری کے زمانہ میں بیان کرتی
ہیں ، جب میں اپنے فرزند علیؑ سے باردارہوئی تو مجھے حمل کی کسی طرح کی سنگینی کا احساس
نہیں ہوا، میں سونے کے عالم میں اپنے شکم سے تسبیح و تہلیل و تمجید کی آواز برابر
سنتی تھی اور خوفزدہ رہتی تھی اورجب بیدار ہوتی تھی تو یہ آواز نہیں سنتی تھی۔ ([19])
یہی
بیان مادرپیغمبرؐ اکرم جناب آمنہؑ اور مادر جناب فاطمہؑ زہرا جناب خدیجہؑ کا بھی روایت
میں آیا ہے۔
معصومینؑ
کے زمانۂ حمل اور ان کی والدہ کے بارے میں ائمہ طاہرینؑ کے کلمات سے استفادہ ہوتا
ہے کہ نطفہ کا انعقاد ، ولادت کا اندازاور انکا رشد عام انسانوں سے الگ ہوتا ہے اسی
لئے امام صادؑق نے جمیل بن دراج سے فرمایا: امامؑ کے بارے میں گفتگو نہ کرو کیونکہ
وہ شکم مادر میں سنتے ہیں ،جب وہ شکم مادر سے دنیا میں آتے ہیں تو ایک فرشتہ ان کی
دونوں آنکھوں کے درمیان میں لکھ دیتا ہے:”تمہارےپروردگار کا کلمہ سچائی اور عدالت
کے ساتھ مکمل ہو گیا۔“ اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والانہیں ہے، وہ سننے والا اور عالم
ہے اور جب وہ امامت کے عہدہ پر پہونچتے ہیں تو ہر شہر میں ان کیلئے نورانی ستون بلند
ہوتا ہےجس کے ذریعہ سے وہ بندوں کے اعمال دیکھتے ہیں۔([20])
امام رضاؑسے پوچھا گیا کہ اس عمود سے کیامرادہے جس کے ذریعہ
امامؑ بندوں کے اعمال دیکھتا ہے؟ امامؑ نے فرمایا کہ اس سے مراد آہنی عمود نہیں ہے
بلکہ وہ فرشتہ ہے جو ہر شہر میں مقرر ہے جس کے ذریعہ خداوند عالم ہر شہر کے لوگوں کو
امامؑ تک پہونچادیتا ہے۔([21])
نجمہؑ
اپنے فرزند کی ولادت کے بارے میں بیان کرتی ہیں جب میرا یہ فرزند پیدا ہوا تو اپنے ہاتھوں کوزمین پر رکھا اور سر مطہر کو آسمان
کی جانب بلند کیا، لبوں کو جنبش دی اور بات کی لیکن میں اسے سمجھ نہیں سکی اس کے بعد
امام موسیٰ کاظمؑ تشریف لائے اور فرمایا: نجمہ پروردگار کا کرم تمہارے لئے مبارک ہو،
فرزند کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر امامؑ کو دیا ، امامؑ نے اس کے داہنے کان میں اذان
اور بائیں کان میں اقامت کہی اور آب فرات طلب کیا اور فرزند کے دہن کو ترکیاپھر مولود
کو مجھے عطا کیا : فرمایا کہ اسے لے لو کہ یہ زمین میں ذخیرۂ خدا اور میرے بعد حجت
خدا ہے۔([22])
اس بیان سے جو ہم کو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے:
(۱)-
فرزند کی ولادت کے بعد ماں کو مبارکباد دینا، وہ ماں جو زمانۂ حمل اور وضع حمل کی
حالت میں مشکلات کو برداشت کرتی ہے شوہر کی مسکراہٹ اور اعزہ و اقرباء کی مبارکباد
سے روحانی اور جسمانی سکون پاتی ہے۔
(۲)-نو
مولود کے کان میں اذان و اقامت کہنا : شیطان کے فریب سے بچہ کو محفوظ کرتا ہے، ائمہؑ
نے اس بارے میں بہت زیادہ تاکید کی ہے۔
(۳)-
بچہ کو پاکیزہ سفید کپڑے میں لپیٹ دینا، اس کی تاکید بھی پیغمبرؐنے کی ہے۔
(۴)-
بچہ کےدہن کو آبِ فرات سے تر کرنا بھی روایت میں مذکورہے
عبادت سے عشق:
نجمہؑ
کو عبادت پروردگار اور خلوت میں خدا سے ہم کلام ہونے میں زیادہ لذت محسوس ہوتی تھی،
بچہ کی ولادت کے بعد بھی پہلو میں فرزند کے ہوتے ہوئے بھی خلوت میں لذت عبادت حاصل
کرتی تھیں ۔
روایت
میں وارد ہوا ہے کہ امام رضاؑ دودھ کی زیادہ ضرورت رکھتے تھے کیونکہ مکمل تخلیق رکھتے
تھے ۔
مجلسی کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ امامؐ کا جسم بڑا
تھا، نجمہ نے اپنے عزیزوں سے تقاضا کیا: أعینونی بِرضع فقیل لها انقص الدر، فقالت: لا أکذب
واللہ ما نقص الدر و لٰکن علیّ ورد من صلواتی و تسبیحی و قد نقص منذ ولّدت۔
میری
مدد کرو کہ ایک دایہ تلاش کرو، لوگوں نے ان سے کہا کیا تمہارا دودھ کم ہو گیا ہے جو
کافی نہیں ہوتا ہے؟انہوں نے کہا: بخدا میں جھوٹ نہیں بولتی ہوں ، دودھ کم نہیں ہوا
ہےلیکن شیرخورانی اور پرورش کی وجہ سے فرزند کی ولادت کے وقت سے نماز اور تسبیح میں
کمی آگئی ہے۔([23])
No comments:
Post a Comment