Saturday, 8 August 2026

اربعین

اربعین؛
✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری

 انسانیت کے روشن مستقبل کی طرف ایک سفر
دنیا میں ہر سال بے شمار اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ کچھ اپنی تعداد کی وجہ سے توجہ حاصل کرتے ہیں، کچھ اپنی شان و شوکت کی بنا پر یاد رکھے جاتے ہیں، اور کچھ سیاسی یا معاشی مقاصد کے باعث عالمی خبروں کا حصہ بنتے ہیں۔ مگر نجف سے کربلا تک ہونے والی مشیِ اربعین ان سب سے مختلف ہے۔ یہ نہ طاقت کی نمائش ہے، نہ دولت کا مظاہرہ، نہ کسی سیاسی جماعت کی ریلی اور نہ کسی مادی مفاد کی جستجو۔ یہ دراصل انسان کے اندر موجود خیر، محبت، وفاداری، ایثار، آزادی اور خدمت کے جذبے کا ایسا عملی اظہار ہے جس کی مثال عصر حاضر میں بہت کم ملتی ہے۔
یہ سفر بتاتا ہے کہ جب انسان کا مقصد بلند ہو تو راستے کی دشواریاں اس کے قدم نہیں روک سکتیں۔ سینکڑوں کلومیٹر کا پیدل سفر صرف جسمانی قوت سے طے نہیں ہوتا بلکہ یقین، محبت اور مقصد کی طاقت اسے ممکن بناتی ہے۔ یہی یقین انسان کو تھکن پر غالب آنے، مشکلات کو مسکرا کر قبول کرنے اور ہر قدم کو عبادت میں تبدیل کر دینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
اربعین ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا اصل حسن آسائش میں نہیں بلکہ مقصد میں ہے۔ وہ زندگی جو حق، عدل اور انسانی وقار کے لیے بسر ہو، وہی حقیقی زندگی ہے۔ کربلا اسی حقیقت کا نام ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا انسان کی شان نہیں، بلکہ حق کے لیے کھڑا ہونا اور ہر قیمت پر اصولوں کی حفاظت کرنا ہی عزت اور آزادی کی ضمانت ہے۔ امام حسینؑ کا پیغام کسی ایک قوم، زبان یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو انصاف، آزادی اور انسانی عظمت پر یقین رکھتا ہے۔
مشیِ اربعین کا ایک عظیم ترین سبق خدمتِ انسانیت ہے۔ اس سفر میں کوئی کسی سے اس کا نام، وطن، زبان یا مسلک نہیں پوچھتا۔ ہر شخص دوسرے کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ کوئی پانی پیش کرتا ہے، کوئی کھانا، کوئی آرام کی جگہ مہیا کرتا ہے، کوئی زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور کوئی صرف ایک مسکراہٹ کے ذریعے تھکے ہوئے مسافر کے حوصلے کو تازہ کر دیتا ہے۔ یہاں خدمت کا صلہ دنیا سے نہیں بلکہ خدا سے طلب کیا جاتا ہے، اسی لیے اخلاص ہر عمل میں جھلکتا ہے۔
اربعین یہ حقیقت بھی آشکار کرتی ہے کہ محبت دنیا کی سب سے بڑی قوت ہے۔ وہ کام جو طاقت، دولت اور قانون نہیں کر سکتے، محبت خاموشی سے انجام دے دیتی ہے۔ یہی محبت اجنبیوں کو اپنا بنا دیتی ہے، دلوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے، نفرتوں کو ختم کر دیتی ہے اور انسان کو انسان کے قریب لے آتی ہے۔ یہاں ایک لقمہ، ایک گھونٹ پانی، ایک دعا اور ایک خیرخواہانہ جملہ بھی انسانیت کی مشترکہ زبان بن جاتا ہے۔
یہ عظیم اجتماع اس تصور کو بھی عملی شکل دیتا ہے کہ پوری دنیا کے لوگ ایک ہی مقصد پر متحد ہو سکتے ہیں۔ مختلف زبانیں، مختلف رنگ، مختلف قومیں اور مختلف ثقافتیں یہاں کسی تقسیم کا سبب نہیں بنتیں بلکہ ایک دوسرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ امیر اور غریب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، عالم اور عامی ایک ہی راستے پر چلتے ہیں اور ہر شخص دوسرے کو برابر کا انسان سمجھ کر عزت دیتا ہے۔ یہی حقیقی مساوات اور انسانی اخوت ہے۔
مشیِ اربعین ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بڑے معجزے اجتماعی شعور سے جنم لیتے ہیں۔ جب لاکھوں انسان نظم، اعتماد، تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ ایک مقصد کے لیے نکلتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ یہ اجتماع ثابت کرتا ہے کہ معاشروں کی اصل طاقت اسلحہ یا سرمایہ نہیں بلکہ باہمی اعتماد، رضاکارانہ خدمت اور مشترکہ اقدار ہوتی ہیں۔
اس سفر میں صبر صرف برداشت کا نام نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھنے کا نام ہے۔ استقامت صرف مشکلات جھیلنے کا نام نہیں بلکہ منزل پر نظر رکھنے کا نام ہے۔ ہر قدم انسان کو اپنی ذات سے روشناس کراتا ہے، اس کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے، سادگی کا حسن دکھاتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ حقیقی عظمت ظاہری شان میں نہیں بلکہ کردار کی بلندی میں ہے۔
اربعین نسلوں کو جوڑنے والی ایک زندہ درسگاہ بھی ہے۔ یہاں بچے عمل سے سیکھتے ہیں، نوجوان خدمت کے ذریعے اپنی توانائی کو مثبت رخ دیتے ہیں، خواتین اپنی فعال شرکت سے معاشرے کی تعمیر میں حصہ لیتی ہیں اور بزرگ اپنے صبر، تجربے اور استقامت سے نئی نسل کو امید اور حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ یوں پورا خاندان ایک مقصد کے گرد جمع ہو کر معاشرتی ہم آہنگی کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔
اس مقدس سفر میں ہر قدم یہ اعلان کرتا ہے کہ دلوں کی تعمیر عمارتوں کی تعمیر سے زیادہ اہم ہے، تہذیبیں خدمت اور اخلاق سے پروان چڑھتی ہیں، خیرخواہی پوری انسانیت کی مشترکہ زبان ہے اور اختلاف کے باوجود احترام کے ساتھ جینا ممکن ہے۔ اجتماعی دعا، ذکرِ الٰہی اور یادِ حسینؑ انسان کے باطن کو زندہ کرتے ہیں اور اسے اپنے کردار کا ازسرِنو جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔
اربعین درحقیقت وفاداری کی تجدید، خود احتسابی کی دعوت، برداشت کی تربیت، نظمِ اجتماعی کی کامیاب مثال، رضاکارانہ خدمت کا عالمی معیار، انسانی اخوت کا عظیم مظاہرہ اور عالمی امن کا عملی پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ محبت کے ذریعے جوڑا جا سکتا ہے؛ نفرت کو انتقام سے نہیں بلکہ خدمت سے شکست دی جا سکتی ہے؛ اور ظلم کا مقابلہ صرف ہتھیار سے نہیں بلکہ زندہ ضمیر، ثابت قدمی اور حق پر استقامت سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
نجف سے کربلا تک کا یہ سفر دراصل انسان کے باطن کا سفر ہے۔ یہ انسان کو خود غرضی سے ایثار، بے حسی سے ہمدردی، خوف سے حوصلے، مایوسی سے امید، تفرقے سے اتحاد اور مقصد سے خالی زندگی سے بامقصد حیات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ انسانیت کے بہتر مستقبل کا زندہ منشور ہے۔
اگر آج کی دنیا اس عظیم سفر سے صرف اتنا ہی سبق سیکھ لے کہ محبت نفرت سے زیادہ طاقتور ہے، خدمت انسان کو عظیم بناتی ہے، عدل ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے، آزادی انسانی وقار کی روح ہے، اور حق پر ثابت قدم رہنا ہی تاریخ کا رخ بدلتا ہے، تو یقیناً دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پرامن، باوقار، عادل اور انسان دوست بن سکتی ہے۔ یہی مشیِ اربعین کا وہ ابدی پیغام ہے جو ہر سال نجف سے کربلا کے راستے پوری انسانیت کے نام بلند ہوتا ہے۔



#عزاداری
#اربعین
#مشی
#نجف
#کربلا
#عالمی
#اجتماع
#azadari
#arbaeen
#walk
#najaf
#karbala

Friday, 7 August 2026

عزاداری امام حسین علیہ السلام

عزاداری میں خود ساختہ ترجیحات

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے عزاداری کے ساتھ بعض ایسی چیزوں کو بھی جوڑ دیا جن کا تعلق دراصل انتظام، مقامی ثقافت یا سماجی روایات سے تھا، نہ کہ عزاداری کے بنیادی مقصد سے۔ یہ چیزیں اپنی جگہ مفید اور قابلِ احترام ہو سکتی ہیں، لیکن جب انہیں اصل دین یا عزاداری کا لازمی حصہ سمجھ لیا جائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ رفتہ رفتہ عزاداری میں بعض ایسے رسم و رواج بھی شامل ہوتے گئے جن کی بنیاد نہ قرآنِ مجید میں ملتی ہے، نہ سیرتِ رسولِ اکرمؐ و اہلِ بیتؑ میں، اور نہ ہی عزاداری کی ابتدائی تاریخ میں۔ ان میں سے بعض چیزیں مقامی ثقافتوں، بعض غیر مسلم معاشروں کی روایات اور بعض اوقات اہلِ سنت کے مذہبی و سماجی ماحول کے اثرات سے ہماری عزاداری میں داخل ہوئیں۔ یہ عمل کہیں شعوری تھا اور کہیں غیر شعوری، مگر وقت کے ساتھ ایسی بہت سی چیزیں، جو محض ایک رسم یا سماجی روایت تھیں، عزاداری کا لازمی حصہ سمجھی جانے لگیں۔
اصل خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب ان رسوم کو ایسا تقدس دے دیا گیا کہ گویا وہ بھی دین کا حکم، اہلِ بیتؑ کی سنت یا خود امام حسینؑ کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ یوں دین اور رسم، سنت اور عادت، مقصد اور ذریعہ کے درمیان فرق دھندلا گیا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات کسی رسم پر علمی گفتگو یا اس کی بنیاد کے بارے میں سوال کرنا بھی گویا دین پر اعتراض سمجھا جانے لگا، حالانکہ دین ہمیں ہر بات کو قرآن، سنت اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
آج ہماری توجہ کا بڑا حصہ اس بات پر ہوتا ہے کہ مجلس کہاں ہوگی، اسٹیج کیسا ہوگا، سجاوٹ کتنی ہوگی، جلوس کتنا بڑا ہوگا، آواز کا انتظام کیسا ہے یا کس رسم کو کس انداز سے ادا کیا جائے۔ لیکن بہت کم یہ سوچا جاتا ہے کہ مجلس سے کتنے لوگوں نے دین سیکھا، کتنے نوجوان امام حسینؑ کے مقصد سے آشنا ہوئے، کتنے لوگوں نے قرآن، نہج البلاغہ، صحیفۂ سجادیہ یا تاریخِ کربلا کا مطالعہ کیا، اور کتنے افراد اپنی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لے کر اٹھے۔
یوں رفتہ رفتہ ظاہری صورت نمایاں ہوتی گئی اور اصل پیغام پس منظر میں چلا گیا۔ ہم انتظامات پر تو بے حد محنت کرتے ہیں، لیکن علم، فکر اور تربیت پر اتنی توجہ نہیں دیتے، حالانکہ امام حسینؑ نے اپنی جان کسی رسم کو باقی رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ دین، حق، عدل اور انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیے قربانی دی تھی۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوص کے ساتھ یہ سوال کرے کہ کسی رائج عمل کی شرعی، تاریخی یا عقلی بنیاد کیا ہے، یا یہ کہ اس سے عزاداری کے اصل مقصد کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان، تو اس کی بات پر غور کرنے کے بجائے اسے فوراً “مقدسات کی توہین”، “عزاداری کی مخالفت” یا “اہلِ بیتؑ کی محبت کو کمزور کرنے” جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ اصلاح کی دعوت مخالفت نہیں ہوتی، اور تحقیق بے ادبی نہیں ہوتی۔ دین دلیل مانگنے سے نہیں، دلیل چھوڑ دینے سے کمزور ہوتا ہے۔
ہر وہ رسم جو امام حسینؑ کے پیغام کو عام کرے، لوگوں کو دین سے قریب کرے اور عزاداری کے وقار میں اضافہ کرے، یقیناً قابلِ احترام ہے۔ لیکن جو چیز اصل مقصد کو دھندلا دے، لوگوں کو علم سے دور کرے یا دین کی صحیح تصویر پیش نہ کر سکے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ محبتِ حسینؑ کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر رائج عمل کو بلا تحقیق مقدس مان لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر عمل کو قرآن، سنتِ رسولؐ، تعلیماتِ اہلِ بیتؑ اور مقصدِ کربلا کی روشنی میں دیکھا جائے۔
جب عزاداری علم کے بجائے رسم، فکر کے بجائے عادت اور مقصد کے بجائے ظاہری رسومات تک محدود ہو جائے تو اس کا اثر بھی محدود ہو جاتا ہے۔ حقیقی عزاداری وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، اس کے ایمان کو مضبوط کرے، اس کے اخلاق کو سنوارے، اسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے اور امام حسینؑ کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا کرے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظاہری انتظامات کو ان کی جگہ اہمیت دیں، مگر انہیں عزاداری کا معیار نہ بنائیں۔ عزاداری کی اصل زینت نہ سجاوٹ ہے، نہ بلند آوازیں، نہ بھیڑ، نہ نمود و نمائش اور نہ رسموں کی کثرت؛ اس کی اصل زینت علم، اخلاص، معرفتِ امام حسینؑ اور ان کے پیغام پر عمل ہے۔ جب یہ روح زندہ رہے گی تو عزاداری بھی زندہ رہے گی، اور امام حسینؑ کا پیغام بھی نسل در نسل اسی تازگی کے ساتھ منتقل ہوتا رہے گا۔

#عزاداری
#کربلا
#امام_حسین
#سید الشہدا
#تعزیہ
#azadari
#karbala
#imam 
#husain
#taziya

“مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔

مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا:

✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

معرفتِ الٰہی کی معراج،
کربلا تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم ترین امتحان ہے جہاں صبر، وفا، ایثار اور بندگی اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر ہوئے۔ ایک ہی دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام، ان کے اہلِ بیت اور وفادار اصحاب راہِ حق میں قربان کر دیے گئے، خیمے جلا دیے گئے، معصوم بچوں کو پیاس نے تڑپایا اور اہلِ بیت علیہم السلام کو اسیری کی منزلوں سے گزارا گیا۔ ایسے دل خراش مناظر کے بعد جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے ابنِ زیاد نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ آپ نے اللہ کا اپنے بھائی کے ساتھ کیا معاملہ دیکھا، تو آپ نے تاریخ کا وہ لازوال جواب دیا: “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔ یہ الفاظ کسی جذباتی کیفیت کا اظہار نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے قلب کی گواہی تھے جو معرفتِ الٰہی کے نور سے منور ہو چکا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اس جواب کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ نے ظلم کو ہرگز خوبصورت قرار نہیں دیا۔ ظلم اپنی حقیقت میں ظلم ہے، قاتل اپنے جرم کا ذمہ دار ہے اور باطل کبھی حق نہیں بن سکتا۔ آپ نے جس “جمال” کا مشاہدہ کیا، وہ اللہ کی راہ میں دی گئی بے مثال قربانی کا جمال تھا، حق پر استقامت کا جمال تھا، بندگی اور وفاداری کا جمال تھا، اور اس حکمتِ الٰہی کا جمال تھا جس نے کربلا کے خون کو اسلام کی دائمی حیات کا سرچشمہ بنا دیا۔ آپ کی نگاہ قاتل کے ظلم پر نہیں رکی، بلکہ اس رب کی تدبیر تک پہنچ گئی جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے۔
درحقیقت “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا” توحید کی نظری تعریف نہیں، بلکہ توحید سے جنم لینے والی معرفتِ الٰہی، رضا بالقضاء، تسلیم اور حسنِ ظن باللہ کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔ جب بندہ اپنے رب کو حکیم، عادل، رحیم اور علیم مان لیتا ہے تو وہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ بے حکمت نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ مصیبت کا انکار نہیں کرتا، اس پر روتا بھی ہے، مگر اپنے رب سے شکوہ نہیں کرتا۔ اس کی نگاہ آزمائش کے ظاہری درد سے آگے بڑھ کر اس کے اندر پوشیدہ حکمت اور الٰہی مقصد کو تلاش کرتی ہے۔ یہی معرفت، رضا کو جنم دیتی ہے، اور یہی رضا انسان کو اعتراض سے بچا کر اطمینان عطا کرتی ہے۔
قرآن بھی اسی حقیقت کی تعلیم دیتا ہے: ﴿وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ… وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾۔ انسان کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ ہم صرف ایک لمحہ دیکھتے ہیں، وہ ابتدا سے انتہا تک پورا نظام دیکھتا ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت واقعات کو صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ ایمان سے دیکھتے ہیں۔ جب نگاہ معرفت سے روشن ہو جائے تو انسان کو ہر آزمائش تربیت کا وسیلہ، ہر قربانی قربِ الٰہی کی منزل، اور ہر صبر ابدی کامیابی کی تمہید دکھائی دینے لگتا ہے۔
اسی لیے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ مختصر جملہ کسی ایک تاریخی لمحے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لیے ایک دائمی پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کی بلندی مصیبتوں سے بچ جانے میں نہیں، بلکہ مصیبتوں کے درمیان بھی اللہ کی حکمت پر اعتماد، اس کی قضا پر رضا، اور اس کی رحمت سے حسنِ ظن برقرار رکھنے میں ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی زبان سے شکوہ نہیں، حمد نکلتی ہے؛ اس کے دل میں مایوسی نہیں، یقین جاگزیں ہوتا ہے؛ اور پھر وہ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں خاموشی سے یہی گواہی دیتا ہے:
 “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔



#زینب
#کربلا
#شام
#عزاداری
#حسین
#zainab
#azadari
#syria
#husain
#karbala

مرجع شیعیان آیة الله العظمی آقای خوئی ره

آیت اللہ العظمیٰ امام الخوئی  طاب ثراہ کی علمی شخصیت کے امتیازات۔

✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری
شیعہ فقاہت کی تاریخ دراصل علم، تحقیق اور اجتہاد کے مسلسل ارتقا کی تاریخ ہے۔ ہر دور میں ایسے عظیم فقہاء پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے علم، فکر اور تحقیق سے فقہِ اہلِ بیت علیہم السلام کو مزید مضبوط، منظم اور مؤثر بنایا۔ کسی نے فقہی مباحث کو ترتیب دی، کسی نے اصولِ استنباط کو مستحکم کیا، کسی نے استدلال کی نئی راہیں کھولیں، اور کسی نے اجتہاد کو زمانے کے نئے مسائل سے ہم آہنگ کیا۔
اسی علمی سفر میں شیخ الطائفہ محمد بن حسن طوسی نے نجف اشرف کو فقاہت کا مرکز بنایا اور فقہ کو منقولات سے استدلال کی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ محقق حلی نے فقہی ابواب کو منطقی ترتیب عطا کی، علامہ حلی نے فقہِ استدلالی کو وسعت بخشی اور تقابلی منہج کو فروغ دیا۔ شہیدِ اول اور شہیدِ ثانی نے فقہی تطبیق اور تدقیق میں اضافہ کیا، جبکہ وحید بہبہانی نے اخباری جمود کے مقابل اصولی مکتب کو نئی زندگی عطا کر کے اجتہاد کی روح کو ازسرِنو بیدار کیا۔
یہی علمی روایت شیخ مرتضیٰ انصاری کے ہاتھوں اپنے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ انہوں نے اصولِ عملیہ، حجیتِ امارات، براءت، احتیاط، استصحاب اور تعادل و تراجیح جیسے مباحث کو اس انداز سے مرتب کیا کہ جدید اصولِ فقہ کی بنیاد استوار ہوگئی۔ ان کے بعد آخوند ملا محمد کاظم خراسانی نے کفایۃ الاصول کے ذریعے اصولی فکر کو فلسفیانہ گہرائی، منطقی ترتیب اور استدلالی جامعیت عطا کی، جبکہ آیت اللہ شیخ محمد حسین نائینی نے اسی روایت میں دقتِ نظر اور تحلیلِ عقلی کا اضافہ کیا۔
آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی اسی ارتقائی سلسلے کی ایک درخشاں اور فیصلہ کن کڑی ہیں۔ انہوں نے اپنے اسلاف کے علمی ورثے کو محض محفوظ نہیں رکھا بلکہ تنقیح، تحقیق، نقد اور تجدید کے ذریعے اسے نئے اجتہادی افق عطا کیے۔ ان کی فقاہت کا امتیاز کثرتِ فتاویٰ نہیں بلکہ اصالتِ منہج ہے۔ ان کے نزدیک اجتہاد کا مدار حجیتِ دلیل ہے، نہ کہ شہرتِ قول؛ وثاقتِ سند ہے، نہ کہ کثرتِ نقل؛ اور تحقیقِ موضوع ہے، نہ کہ تقلیدِ آراء۔
ان کے علمی مکتب میں فقہ، اصول اور رجال تین جداگانہ علوم نہیں بلکہ ایک ہی استنباطی نظام کے باہم مربوط اجزاء ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک علمِ رجال فقہ کا حاشیہ نہیں بلکہ مقدّمۂ استنباط ہے۔ جب تک سند کی حجیت ثابت نہ ہو، دلالت پر بحث مکمل نہیں ہوتی، اور جب تک دلالت واضح نہ ہو، حکمِ شرعی کا استنباط معتبر نہیں ہو سکتا۔ اس طرح انہوں نے سند، دلالت اور حجیت کے درمیان ایسا مضبوط علمی ربط قائم کیا جو معاصر فقاہت کی نمایاں خصوصیت بن گیا۔
اسی اجتہادی منہج کا ایک نہایت قابلِ توجہ پہلو ان کا قرآنی ذوق بھی ہے۔ آیت اللہ خوئیؒ کی خواہش تھی کہ وہ قرآنِ کریم کی ایک ایسی جامع تفسیر تحریر کریں جو اپنے استدلال، اصولی منہج اور علمی عمق کے اعتبار سے ایک مستقل مکتب کی نمائندہ ہو۔ اس عظیم منصوبے کے مقدمے کے طور پر انہوں نے «البیان فی تفسیر القرآن» تصنیف کی، جو علومِ قرآن، جمعِ قرآن، عدمِ تحریفِ قرآن اور اصولِ تفسیر پر ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہے۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی اسی نوعیت کے ایک جامع تفسیری منصوبے پر مصروف ہیں، تو انہوں نے علمی اخلاق، احترامِ اہلِ علم اور غیر ضروری تکرار سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے وہیں روک دینا مناسب سمجھا۔
یہ واقعہ ان کی شخصیت کے دو نہایت روشن پہلوؤں کو آشکار کرتا ہے۔ پہلا یہ کہ ان کے نزدیک علم کا مقصد شہرت یا تصنیفات کی کثرت نہیں بلکہ امت کی حقیقی علمی ضرورت کو پورا کرنا تھا۔ جہاں انہیں محسوس ہوا کہ ایک عظیم مفسر اسی میدان میں غیر معمولی خدمت انجام دے رہا ہے، وہاں انہوں نے مسابقت کے بجائے تعاون، احترام اور علمی وسعتِ ظرف کا راستہ اختیار کیا۔ یہ طرزِ عمل ان کی اخلاص پر مبنی علمی شخصیت کا بہترین مظہر ہے۔
دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ معنی خیز ہے۔ بظاہر انہوں نے تفسیرِ قرآن کے ایک عظیم منصوبے کو ترک کیا، لیکن اسی کے بعد ان کی علمی توانائی «معجم رجال الحدیث» کی تالیف پر مرکوز ہوگئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشیتِ الٰہی نے ان سے علمِ حدیث، علمِ رجال اور فقہِ استدلالی کے میدان میں ایک ایسی خدمت لینا مقدر کر رکھی تھی جس کی مثال اپنی جامعیت، دقتِ تحقیق اور دیرپا اثرات کے اعتبار سے بہت کم ملتی ہے۔ معجم رجال الحدیث صرف راویوں کا تعارف نہیں بلکہ جرح و تعدیل، طبقاتِ رواۃ، اتحاد و تعددِ عناوین، توثیقاتِ خاصہ و عامہ، تعارضِ اقوال، تشخیصِ مہملات، نقدِ اسانید اور مبانیِ حجیتِ خبر کا ایک بے مثال علمی انسائیکلوپیڈیا ہے، جس نے معاصر فقاہت کے استنباطی ڈھانچے کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔ اگر «البیان» ان کے قرآنی ذوق کی آئینہ دار ہے تو «معجم رجال الحدیث» ان کے اجتہادی مکتب کی کامل ترین ترجمان ہے۔
اصولِ فقہ میں آیت اللہ خوئیؒ کا منہج بھی اسی قدر منفرد ہے۔ حجیتِ خبرِ واحد، اصالۃ الظہور، اطلاق و تقیید، عام و خاص، مفاہیم، استصحاب، براءت، اشتغال، احتیاط، حکومت و ورود، تعارضِ ادلہ اور مرجحات جیسے دقیق مباحث میں ان کی تحلیل، دقتِ نظر اور منطقی استحکام انہیں معاصر اصولیین کی صفِ اول میں کھڑا کرتا ہے۔ ان کے ہاں اصول، فقہ پر حاکم نہیں بلکہ فقہ کا خادم ہے؛ اسی لیے ہر اصولی بحث کی قدر و قیمت اس کے عملی استنباط سے متعین ہوتی ہے۔
آیت اللہ خوئیؒ کی ایک اور نمایاں خصوصیت استقلالِ علمی ہے۔ انہوں نے شیخ طوسی، نجاشی، محقق حلی، علامہ حلی، شیخ انصاری اور آخوند خراسانی جیسے اکابر سے بھرپور استفادہ کیا، مگر کبھی شخصیت کو دلیل پر مقدم نہیں کیا۔ ان کے علمی منہج کا خلاصہ یہ ہے کہ دلیل، اشخاص کی محتاج نہیں؛ بلکہ اشخاص کی آراء دلیل کی روشنی میں پرکھی جاتی ہیں۔ یہی ایک حقیقی مجتہد اور آزاد محقق کی پہچان ہے۔
معاصر فقاہت پر ان کے اثرات غیر معمولی ہیں۔ نجف اشرف کے دروسِ خارج ہوں یا قم، مشہد، لبنان، برصغیر اور دنیا کے دیگر علمی مراکز، رجالی تحقیق، اصولی استدلال اور فقہی تنقیح میں ان کے منہج کی بازگشت نمایاں طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ بہت سے فقہاء نے ان کے بعض نتائج سے اختلاف کیا، لیکن ان کے منہجِ تحقیق کی اہمیت سے انکار ممکن نہ رہا۔ یہی کسی عظیم علمی مکتب کی کامیابی ہوتی ہے کہ اختلاف بھی اسی کے قائم کردہ علمی اصولوں اور زبان کے دائرے میں کیا جائے۔
تاریخِ فقاہت کا غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ شیخ طوسی نے نجف کی علمی بنیاد رکھی، شیخ انصاری نے اصولِ اجتہاد کو نئی زندگی بخشی، اور آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی نے فقہ، اصول اور رجال کو ایک ہم آہنگ استنباطی نظام میں ڈھال کر مدرسۂ نجف کی علمی روایت کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی حقیقی میراث صرف ان کے فتاویٰ یا تصانیف نہیں، بلکہ وہ تحقیقی منہج ہے جس نے دلیل کو محور، تحقیق کو معیار، علمی امانت کو شعار اور اجتہاد کو زندہ فکر کا عنوان بنا دیا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو ہر دور کے فقیہ، محقق اور طالبِ علم کو یہ سبق دیتا ہے کہ علم کی بقا شخصیت پرستی میں نہیں بلکہ دلیل کی پاسداری، تحقیق کی دیانت اور حق کی جستجو میں ہے۔


#خویی #فقیه #مرجع
#fiqh #shia #marja #khoei

منبر حسین علیہ السلام

منبرِ حسینؑ: 
بے ایمانوں اور بددیانتوں کے نرغے میں۔
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

منبرِ حسینؑ کوئی عام اسٹیج نہیں، یہ دین کی تعلیم و تربیت کا مرکز ہے۔ یہاں سے قرآن کی روشنی عام ہونا چاہیے، اہلِ بیتِ اطہارؑ کی سیرت و تعلیمات دلوں میں اترنی چاہییں، انسان کو اپنی اصلاح کا شعور ملنا چاہیے اور حق و باطل میں تمیز پیدا ہونی چاہیے۔ اس منبر کا مقصد محض جذبات ابھارنا نہیں، بلکہ فکر کی تعمیر، کردار کی اصلاح اور معاشرے کی رہنمائی ہے۔
جو شخص اس منبر پر بیٹھتا ہے، اسے خود کو امام حسینؑ کے پیغام کا امین سمجھنا چاہیے، نہ کہ محض ایک مقرر۔ اس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ امانت ہے، اس لیے اسے بولنے سے پہلے اپنے ضمیر، اپنے علم اور اپنے رب—تینوں کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس ہونا چاہیے۔
مگر افسوس کہ بہت سی جگہوں پر منظر بدل چکا ہے۔ منبر کی عظمت تو باقی ہے، لیکن بعض اہلِ منبر اس کی ذمہ داری کا حق ادا نہیں کر رہے۔ مطالعہ، تحقیق اور علمی دیانت کی جگہ آسان راستہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ یہ سوچنے کے بجائے کہ آج قرآن کا کون سا پیغام اور اہلِ بیتؑ کی سیرت کا کون سا سبق لوگوں تک پہنچایا جائے، ساری توجہ اس پر رہتی ہے کہ کون سا نیا قصہ سنایا جائے، کون سا سنسنی خیز واقعہ اور شوشہ چھیڑا جائے یا کون سا فرضی اعتراض گھڑ کر ایک گھنٹہ گزار لیا جائے۔
چنانچہ پہلے ایک خیالی مخالف بنایا جاتا ہے، پھر اس کی زبان میں وہ باتیں ڈال دی جاتی ہیں جو اس نے کبھی کہیں ہی نہیں، اور آخر میں انہی خود ساختہ اعتراضات کے جوابات دے کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا کوئی عظیم علمی معرکہ سر کر لیا گیا ہو۔
حالانکہ حقیقت میں نہ کوئی اعتراض موجود ہوتا ہے، نہ کوئی مناظرہ، نہ کوئی علمی خدمت؛ صرف وقت گزاری ہوتی ہے، اور وہ بھی منبرِ حسینؑ پر۔
یہ طرزِ عمل اس ڈاکٹر سے مختلف نہیں جو مریض کا علاج کرنے کے بجائے پہلے اس کے ذہن میں فرضی بیماریوں کا خوف پیدا کرے، پھر انہی بیماریوں کا علاج بھی خود ہی بیچنے لگے۔ اس سے صرف مریض ہی نہیں، پورا پیشہ بدنام ہوتا ہے۔
افسوس اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب یہی انداز ذکرِ اہلِ بیتؑ کے نام پر اختیار کیا جائے، جبکہ ذکرِ اہلِ بیتؑ کا مقصد جہالت کو بڑھانا نہیں بلکہ ختم کرنا ہے۔ وہ انسان کو قرآن، رسولِ اکرمؐ اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کی حقیقی تعلیمات سے جوڑتا ہے، بصیرت پیدا کرتا ہے، محبت و وحدت کو فروغ دیتا ہے اور ہدایت کے دروازے کھولتا ہے۔ اگر کسی گفتگو کا حاصل شکوک، نفرت، بے مقصد اختلاف اور اشتعال انگیزی ہو تو اسے ذکرِ اہلِ بیتؑ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اہلِ بیتؑ کا مکتب ہمیشہ حق، حکمت، بصیرت اور اخلاق کا علمبردار رہا ہے۔
منبر پر بیٹھ کر اختلافات کو ہوا دینا، معمولی مسائل کو معرکہ بنا دینا، بے بنیاد اعتراضات سے جذبات بھڑکانا اور فرضی کہانیوں کے سہارے داد وصول کرنا علم نہیں، بلکہ سامعین کی سادگی سے کھیلنا ہے۔
تعجب اس بات پر ہے کہ جب منبر کو ذریعۂ معاش بنا لیا گیا ہے تو اس کے ساتھ پیشہ ورانہ دیانت بھی کیوں نہیں نبھائی جاتی؟
 ہر شخص اپنی روزی کے لیے محنت کرتا ہے، اپنے شعبے میں مہارت پیدا کرتا ہے اور نئی معلومات حاصل کرتا ہے، مگر بعض اہلِ منبر برسوں تک ایک ہی انداز، ایک ہی قصے اور ایک ہی قسم کی بے بنیاد گفتگو دہراتے رہتے ہیں۔ اگر روزی امام حسینؑ کے منبر سے مل رہی ہے تو اس منبر کا حق بھی ادا کیجیے؛ مطالعہ کیجیے، تحقیق کیجیے اور علمی امانت کا پاس رکھیے، کیونکہ یہاں ادا ہونے والا ہر لفظ صرف سامعین تک نہیں، خدا کے حضور بھی پیش ہوتا ہے۔
آج بعض ذاکرین کی تقریریں سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ مقصد ذہنوں کو روشن کرنا نہیں بلکہ محض وقت گزارنا ہے۔ مجلس ختم ہونے کے بعد اگر ایک سامع خود سے پوچھے کہ آج قرآن سے کیا سیکھا؟ 
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کا کون سا نیا پہلو سمجھا؟
 یا اپنی زندگی میں کون سی اصلاح کا عزم لے کر جا رہا ہوں؟ 
تو اکثر اس کے پاس کوئی واضح جواب نہیں ہوتا۔
کیا یہی منبرِ حسینؑ کی ذمہ داری ہے؟
امام حسینؑ نے اپنی جان اس لیے نہیں دی تھی کہ ان کے نام پر منبر تماشہ گاہ بن جائے، جہاں دلیل کی جگہ دعوے، امانت کی جگہ مبالغہ، اصلاح کی جگہ تفریح اور علم کی جگہ سطحی خطابت پیش کی جائے۔
آخر ہم یہ سوال کیوں نہ اٹھائیں کہ جو ٹائم پاس ذاکر مسلسل اہلِ ایمان کو علماء، فقہاء اور مرجعیت سے بدظن کرنے میں لگے ہیں، وہ آخر کس کے مفادات کی خدمت کر رہے ہیں؟
 کیا یہی وہ ایجنڈا نہیں جسے استعمار صدیوں سے مختلف شکلوں میں آگے بڑھاتا آیا ہے تاکہ امت کا رشتہ اس کی مستند علمی قیادت سے کاٹ دیا جائے؟
 کیونکہ جب عوام علماء اور مرجعیت سے دور ہو جائیں گے تو دین کی صحیح اور مستند معرفت کہاں سے حاصل کریں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ مرجعیت سے تعلق کمزور کرنا صرف علماء سے دور کرنا نہیں، بلکہ چہاردہ معصومین علیہم السلام کی مستند تعلیمات تک پہنچنے کے راستے کو بھی کمزور کرنا ہے۔ جو شخص لوگوں کو علم کے سرچشموں سے کاٹ کر جذبات، خرافات اور سطحی خطابت کے حوالے کر دے، وہ دانستہ یا نادانستہ اسی فکر کو تقویت دیتا ہے جس سے استعمار ہمیشہ فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ اس لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے کردار محض لاعلمی کا نتیجہ ہیں یا کسی ایسے ایجنڈے کا حصہ، جس کا مقصد امت کو اس کے اصل فکری مراکز سے محروم کرنا ہے۔
مومنین کو بھی اب جاگنا ہوگا۔ ہر بلند آواز علم نہیں ہوتی، ہر جذباتی انداز اخلاص کی دلیل نہیں ہوتا اور ہر منبر پر بیٹھنے والا امانت دار بھی نہیں ہوتا۔ منبر کی حفاظت صرف خطیب کی نہیں، سامع کی بھی ذمہ داری ہے۔ جو قوم سوال کرنا چھوڑ دیتی ہے، وہ دھوکا کھانا شروع کر دیتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ منبرِ حسینؑ کو دوبارہ علم، تحقیق، اخلاص اور تقویٰ کا مرکز بنایا جائے۔ اس منبر پر وہی آواز باقی رہنی چاہیے جو امام حسینؑ کے پیغام کی ترجمان ہو، نہ کہ وہ آواز جو اپنی کم علمی کو فرضی اعتراضات، مصنوعی مناظروں اور جذباتی کاروبار کے ذریعے چھپاتی پھرے۔
منبرِ حسینؑ امانت ہے، اور امانت میں خیانت صرف مالی نہیں ہوتی۔ علمی خیانت بھی خیانت ہے، فکری خیانت بھی خیانت ہے، اور امام حسینؑ کے نام پر عوام کو گمراہ کرنا ایسی خیانت ہے جس کا حساب صرف تاریخ نہیں، خدا کے حضور بھی دینا ہوگا۔




#منبر #حسین # کربلا # عزاداری
#mimbar #azadari #husain # karbala

اربعین

اربعین ؛ ✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری  انسانیت کے روشن مستقبل کی طرف ایک سفر دنیا میں ہر سال بے شمار اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ کچ...