✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری
انسانیت کے روشن مستقبل کی طرف ایک سفر
دنیا میں ہر سال بے شمار اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ کچھ اپنی تعداد کی وجہ سے توجہ حاصل کرتے ہیں، کچھ اپنی شان و شوکت کی بنا پر یاد رکھے جاتے ہیں، اور کچھ سیاسی یا معاشی مقاصد کے باعث عالمی خبروں کا حصہ بنتے ہیں۔ مگر نجف سے کربلا تک ہونے والی مشیِ اربعین ان سب سے مختلف ہے۔ یہ نہ طاقت کی نمائش ہے، نہ دولت کا مظاہرہ، نہ کسی سیاسی جماعت کی ریلی اور نہ کسی مادی مفاد کی جستجو۔ یہ دراصل انسان کے اندر موجود خیر، محبت، وفاداری، ایثار، آزادی اور خدمت کے جذبے کا ایسا عملی اظہار ہے جس کی مثال عصر حاضر میں بہت کم ملتی ہے۔
یہ سفر بتاتا ہے کہ جب انسان کا مقصد بلند ہو تو راستے کی دشواریاں اس کے قدم نہیں روک سکتیں۔ سینکڑوں کلومیٹر کا پیدل سفر صرف جسمانی قوت سے طے نہیں ہوتا بلکہ یقین، محبت اور مقصد کی طاقت اسے ممکن بناتی ہے۔ یہی یقین انسان کو تھکن پر غالب آنے، مشکلات کو مسکرا کر قبول کرنے اور ہر قدم کو عبادت میں تبدیل کر دینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
اربعین ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا اصل حسن آسائش میں نہیں بلکہ مقصد میں ہے۔ وہ زندگی جو حق، عدل اور انسانی وقار کے لیے بسر ہو، وہی حقیقی زندگی ہے۔ کربلا اسی حقیقت کا نام ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا انسان کی شان نہیں، بلکہ حق کے لیے کھڑا ہونا اور ہر قیمت پر اصولوں کی حفاظت کرنا ہی عزت اور آزادی کی ضمانت ہے۔ امام حسینؑ کا پیغام کسی ایک قوم، زبان یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو انصاف، آزادی اور انسانی عظمت پر یقین رکھتا ہے۔
مشیِ اربعین کا ایک عظیم ترین سبق خدمتِ انسانیت ہے۔ اس سفر میں کوئی کسی سے اس کا نام، وطن، زبان یا مسلک نہیں پوچھتا۔ ہر شخص دوسرے کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ کوئی پانی پیش کرتا ہے، کوئی کھانا، کوئی آرام کی جگہ مہیا کرتا ہے، کوئی زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور کوئی صرف ایک مسکراہٹ کے ذریعے تھکے ہوئے مسافر کے حوصلے کو تازہ کر دیتا ہے۔ یہاں خدمت کا صلہ دنیا سے نہیں بلکہ خدا سے طلب کیا جاتا ہے، اسی لیے اخلاص ہر عمل میں جھلکتا ہے۔
اربعین یہ حقیقت بھی آشکار کرتی ہے کہ محبت دنیا کی سب سے بڑی قوت ہے۔ وہ کام جو طاقت، دولت اور قانون نہیں کر سکتے، محبت خاموشی سے انجام دے دیتی ہے۔ یہی محبت اجنبیوں کو اپنا بنا دیتی ہے، دلوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے، نفرتوں کو ختم کر دیتی ہے اور انسان کو انسان کے قریب لے آتی ہے۔ یہاں ایک لقمہ، ایک گھونٹ پانی، ایک دعا اور ایک خیرخواہانہ جملہ بھی انسانیت کی مشترکہ زبان بن جاتا ہے۔
یہ عظیم اجتماع اس تصور کو بھی عملی شکل دیتا ہے کہ پوری دنیا کے لوگ ایک ہی مقصد پر متحد ہو سکتے ہیں۔ مختلف زبانیں، مختلف رنگ، مختلف قومیں اور مختلف ثقافتیں یہاں کسی تقسیم کا سبب نہیں بنتیں بلکہ ایک دوسرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ امیر اور غریب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، عالم اور عامی ایک ہی راستے پر چلتے ہیں اور ہر شخص دوسرے کو برابر کا انسان سمجھ کر عزت دیتا ہے۔ یہی حقیقی مساوات اور انسانی اخوت ہے۔
مشیِ اربعین ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بڑے معجزے اجتماعی شعور سے جنم لیتے ہیں۔ جب لاکھوں انسان نظم، اعتماد، تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ ایک مقصد کے لیے نکلتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ یہ اجتماع ثابت کرتا ہے کہ معاشروں کی اصل طاقت اسلحہ یا سرمایہ نہیں بلکہ باہمی اعتماد، رضاکارانہ خدمت اور مشترکہ اقدار ہوتی ہیں۔
اس سفر میں صبر صرف برداشت کا نام نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھنے کا نام ہے۔ استقامت صرف مشکلات جھیلنے کا نام نہیں بلکہ منزل پر نظر رکھنے کا نام ہے۔ ہر قدم انسان کو اپنی ذات سے روشناس کراتا ہے، اس کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے، سادگی کا حسن دکھاتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ حقیقی عظمت ظاہری شان میں نہیں بلکہ کردار کی بلندی میں ہے۔
اربعین نسلوں کو جوڑنے والی ایک زندہ درسگاہ بھی ہے۔ یہاں بچے عمل سے سیکھتے ہیں، نوجوان خدمت کے ذریعے اپنی توانائی کو مثبت رخ دیتے ہیں، خواتین اپنی فعال شرکت سے معاشرے کی تعمیر میں حصہ لیتی ہیں اور بزرگ اپنے صبر، تجربے اور استقامت سے نئی نسل کو امید اور حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ یوں پورا خاندان ایک مقصد کے گرد جمع ہو کر معاشرتی ہم آہنگی کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔
اس مقدس سفر میں ہر قدم یہ اعلان کرتا ہے کہ دلوں کی تعمیر عمارتوں کی تعمیر سے زیادہ اہم ہے، تہذیبیں خدمت اور اخلاق سے پروان چڑھتی ہیں، خیرخواہی پوری انسانیت کی مشترکہ زبان ہے اور اختلاف کے باوجود احترام کے ساتھ جینا ممکن ہے۔ اجتماعی دعا، ذکرِ الٰہی اور یادِ حسینؑ انسان کے باطن کو زندہ کرتے ہیں اور اسے اپنے کردار کا ازسرِنو جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔
اربعین درحقیقت وفاداری کی تجدید، خود احتسابی کی دعوت، برداشت کی تربیت، نظمِ اجتماعی کی کامیاب مثال، رضاکارانہ خدمت کا عالمی معیار، انسانی اخوت کا عظیم مظاہرہ اور عالمی امن کا عملی پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ محبت کے ذریعے جوڑا جا سکتا ہے؛ نفرت کو انتقام سے نہیں بلکہ خدمت سے شکست دی جا سکتی ہے؛ اور ظلم کا مقابلہ صرف ہتھیار سے نہیں بلکہ زندہ ضمیر، ثابت قدمی اور حق پر استقامت سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
نجف سے کربلا تک کا یہ سفر دراصل انسان کے باطن کا سفر ہے۔ یہ انسان کو خود غرضی سے ایثار، بے حسی سے ہمدردی، خوف سے حوصلے، مایوسی سے امید، تفرقے سے اتحاد اور مقصد سے خالی زندگی سے بامقصد حیات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ انسانیت کے بہتر مستقبل کا زندہ منشور ہے۔
اگر آج کی دنیا اس عظیم سفر سے صرف اتنا ہی سبق سیکھ لے کہ محبت نفرت سے زیادہ طاقتور ہے، خدمت انسان کو عظیم بناتی ہے، عدل ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے، آزادی انسانی وقار کی روح ہے، اور حق پر ثابت قدم رہنا ہی تاریخ کا رخ بدلتا ہے، تو یقیناً دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پرامن، باوقار، عادل اور انسان دوست بن سکتی ہے۔ یہی مشیِ اربعین کا وہ ابدی پیغام ہے جو ہر سال نجف سے کربلا کے راستے پوری انسانیت کے نام بلند ہوتا ہے۔
#عزاداری
#اربعین
#مشی
#نجف
#کربلا
#عالمی
#اجتماع
#azadari
#arbaeen
#walk
#najaf
#karbala