✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
کائنات اگر ایک نغمہ ہے تو اس کی سب سے بلند لے محمد مصطفیٰؐ کا نام ہے؛ وقت اگر ایک بے کنار دریا ہے تو اس کے صفحات پر سب سے روشن موڑ بعثتِ محمدؐ ہے؛ اور انسانی تاریخ اگر ایک طویل داستان ہے تو اس کا سب سے درخشاں، سب سے بامعنی اور سب سے تابندہ باب سیرتِ محمدؐ ہے۔ آسمانوں کی وسعتیں اپنی جگہ، زمینوں کی پہنائیاں اپنی جگہ، زمانوں کے نشیب و فراز اپنی جگہ اور انسان کے فکر و شعور کی تمام منزلیں اپنی جگہ؛ مگر محمدؐ کی ذات وہ مرکز ہے جہاں رحمت، ہدایت، اخلاق، عدل، علم، حکمت اور انسانیت ایک ہی نور میں جمع ہو جاتے ہیں۔
تاریخ نے بڑے بڑے فاتح دیکھے، بادشاہ دیکھے، مفکر دیکھے، فلسفی دیکھے اور مصلح دیکھے۔ کسی نے سلطنتیں بنائیں، کسی نے علوم کے نئے دروازے کھولے، کسی نے فلسفے کی بنیاد رکھی اور کسی نے تلوار کے زور پر سرزمینیں فتح کیں؛ مگر محمدؐ کا معجزہ یہ ہے کہ آپؐ نے صرف زمین نہیں جیتی، دل جیتے؛ صرف معاشرہ نہیں بدلا، انسان بدلا؛ صرف زمانہ نہیں بدلا، زمانے کا مزاج بدل دیا۔ آپؐ نے انسان کو صرف یہ نہیں بتایا کہ خدا کو کیسے پوجنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ خدا کے بندوں کے ساتھ کیسے جینا ہے۔ آپؐ نے عبادت کو روح دی، اخلاق کو مرکز بنایا، عدل کو معاشرے کی بنیاد بنایا، علم کو فضیلت قرار دیا اور رحمت کو انسانی تعلقات کا مزاج بنا دیا۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن نے آپؐ کی بعثت کو کسی ایک قوم، قبیلے، خطے یا زمانے کی حدود میں مقید نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی آیت میں نبوت کا پورا افق سمیٹ دیا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
(الانبیاء: 107)
“اور ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔”
یہ مختصر آیت اپنے اندر نبوت کا ایک وسیع فلسفہ لیے ہوئے ہے۔ محمدؐ کسی ایک نسل کے نبی نہیں، کسی ایک خطے کے رہنما نہیں، کسی ایک عہد کے مصلح نہیں؛ آپؐ رحمةً للعالمین ہیں۔ آپؐ کی رحمت سرحدوں، نسلوں، زبانوں اور زمانوں سے بلند ہے۔ آپؐ کی بعثت انسانیت کے لیے ہدایت کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں زندگی کا راستہ بھی دکھائی دیتا ہے اور منزل بھی۔
محمدؐ کی آمد سے پہلے عرب کا معاشرہ قبائلی عصبیت، طبقاتی تفاوت، ظلم، انتقام اور جاہلی رسوم کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ بیٹی کی پیدائش بعض گھروں میں باعثِ ندامت سمجھی جاتی، کمزور کا حق طاقتور کے ہاتھ میں تھا، غلام کو انسان سے کم تر سمجھا جاتا اور قبیلہ قانون سے بلند تصور ہوتا تھا۔ ایسے ماحول میں محمدؐ آئے اور انسان کو اس کی اصل قدر سے آشنا کیا۔ آپؐ نے بتایا کہ انسان کی عظمت اس کے مال، نسب، رنگ اور قبیلے میں نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار میں ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
(الحجرات: 13)
یہ محض ایک مذہبی تعلیم نہیں تھی؛ یہ انسان کی عزت کا عالمی منشور تھا۔ یہ اعلان تھا کہ انسان کو اس کے خون سے نہیں، کردار سے پہچانو؛ خاندان سے نہیں، تقویٰ سے پہچانو؛ لباس سے نہیں، عمل سے پہچانو۔
لیکن محمدؐ کی عظمت کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ آپؐ نے انقلاب صرف باہر برپا نہیں کیا، انسان کے اندر برپا کیا۔ آپؐ نے شہر فتح کرنے سے پہلے دل فتح کیے، حکومت قائم کرنے سے پہلے کردار تعمیر کیے، معاشرہ بدلنے سے پہلے انسان کے باطن کو بدلا۔ اسی لیے آپؐ کی قائم کردہ تہذیب محض اقتدار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاق کی بنیاد پر زندہ رہی۔ آپؐ نے ریگستان کے ایک منتشر معاشرے کو ایسا شعور عطا کیا کہ وہ تاریخ کا منتشر ہجوم نہیں رہا بلکہ ایک امت بن گیا۔
قرآن نے آپؐ کی عظمت کے لیے الفاظ کا ایک ایسا انتخاب کیا جس میں پوری سیرت کا خلاصہ سمٹ آتا ہے:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
(القلم: 4)
“اور بے شک آپؐ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔”
غور کیجیے! قرآن نے رسولؐ کی عظمت بیان کرتے ہوئے آپؐ کے حسب و نسب، ظاہری جاہ و جلال یا دنیاوی اقتدار کو بنیاد نہیں بنایا؛ خُلُقٍ عَظِيمٍ کہا۔ گویا نبوت کا حسن صرف معجزے میں نہیں، کردار میں بھی ہے؛ رسالت کی روشنی صرف وحی کے الفاظ میں نہیں، رسولؐ کے اخلاق میں بھی ہے؛ اور محمدؐ کی سب سے بڑی پہچان صرف یہ نہیں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آپؐ اخلاق کی اس بلندی پر فائز ہیں جہاں انسانیت اپنی بہترین صورت میں دکھائی دیتی ہے۔
رسولؐ نے فرمایا:
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ»
“میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔”
(موطأ امام مالک، کتاب حسن الخلق)
یہ حدیث سیرتِ محمدؐ کو سمجھنے کی ایک بنیادی کلید ہے۔ اگر بعثت کا ایک عظیم مقصد اخلاق کی تکمیل ہے تو محمدؐ سے محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارے اخلاق میں بھی محمدؐ کی خوشبو پیدا ہو۔ زبان پر درود ہو مگر زبان سے کسی کی عزت محفوظ نہ ہو؛ مسجد میں حاضری ہو مگر بازار میں دھوکا ہو؛ محفل میں نعت ہو مگر گھر میں بدخلقی ہو؛ مذہبی گفتگو ہو مگر دل میں تکبر، حسد اور نفرت ہو—تو ہمیں اپنے دعوائے محبت اور حقیقتِ محبت کے درمیان موجود فاصلے کو ضرور دیکھنا چاہیے۔
سیرت کا اصل سوال یہی ہے: ہم محمدؐ کو کتنا جانتے ہیں، سے زیادہ یہ کہ ہم محمدؐ کو کتنا جیتے ہیں؟
سیرت صرف غزوات کے نام یاد کرنے کا نام نہیں، صرف ولادت کے واقعات سنانے کا نام نہیں، صرف نعت و درود کی محفلیں سجانے کا نام نہیں۔ سیرت تو اس لمحے شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے کردار کو رسولؐ کے کردار کے سامنے رکھتا ہے اور اپنے آپ سے پوچھتا ہے: میری زبان میں محمدؐ کی سچائی کتنی ہے؟ میرے معاملات میں محمدؐ کی امانت کتنی ہے؟ میرے دل میں محمدؐ کی رحمت کتنی ہے؟ میرے فیصلوں میں محمدؐ کا عدل کتنا ہے؟ میری معافی میں محمدؐ کا حلم کتنا ہے؟ اور میری زندگی میں محمدؐ کی سنت کتنی ہے؟
قرآن نے رسولؐ کو صرف قابلِ احترام شخصیت قرار نہیں دیا بلکہ اسوۂ حسنہ بنایا:
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾
(الاحزاب: 21)
یعنی محمدؐ صرف تاریخ میں گزر جانے والی ایک عظیم ہستی نہیں؛ محمدؐ آج بھی زندگی کا معیار ہیں۔ آپؐ کا کردار آج بھی اخلاق کا میزان ہے، آپؐ کا عدل آج بھی معاشرتی انصاف کا معیار ہے، آپؐ کی رحمت آج بھی انسانیت کے لیے پناہ ہے اور آپؐ کی سیرت آج بھی بھٹکتی ہوئی دنیا کے لیے راستہ ہے۔
اسی لیے سیرت کو پڑھنے کا حق صرف آنکھوں سے پڑھ لینا نہیں؛ اسے دل سے سمجھنا، عقل سے پرکھنا اور زندگی میں اتارنا ہے۔ محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہ نہیں کہ ہم محمدؐ کا نام کتنی بار لیتے ہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ محمدؐ کا نام ہماری زندگی کو کتنی بار بدلتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نعت ختم ہوتی ہے اور سیرت شروع ہوتی ہے؛ جہاں الفاظ خاموش ہوتے ہیں اور کردار بولنے لگتا ہے؛ جہاں محبت دعوے سے نکل کر عمل بن جاتی ہے۔
اور شاید اسی حقیقت کے لیے شاعر نے پوری کائناتِ محبت کو چند الفاظ میں سمیٹ دیا:
بعد از خدا، بزرگ توئی، قصہ مختصر۔
اللّٰهم صلِّ علىٰ محمدٍ وآلِ محمد۔
No comments:
Post a Comment