حیات و خدمات
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
کچھ شخصیات اپنی زندگی میں ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں اور ان کے جانے کے بعد بھی ان کے افکار، جدوجہد اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے راستہ دکھاتی رہتی ہیں۔ علامہ سید محمد دہلوی بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی طویل زندگی علم و معرفت، خطابت، اصلاحِ معاشرہ اور ملتِ تشیع کے حقوق کے تحفظ میں بسر کی۔ ان کی قیادت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے حل کے لیے پوری قوم کو منظم کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے۔
آج 20 اگست کو ان کی برسی کے موقع پر ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو یاد کرنا دراصل برصغیر کی شیعی تاریخ کے ایک اہم باب کو یاد کرنا ہے۔ ایک ایسا باب جس میں علم و خطابت کے ساتھ قومی بیداری، اجتماعی اتحاد اور حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد نمایاں نظر آتی ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی:
سید محمد دہلوی ولد سید آفتاب حسین بن سید غازی الدین نے 1317ھ بمطابق 1899ء میں ہندوستان کے ضلع بجنور، اترپردیش کے موضع پتن ہیٹری کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کا تعلق زیدی سادات سے تھا۔ آپ کے والد سید آفتاب حسین دہلی کی شیعہ جامع مسجد کے پیش نماز تھے۔
زندگی نے بچپن ہی میں آپ سے والدین کا سایہ چھین لیا۔ چار برس کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا اور پانچ برس کی عمر میں والدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یتیمی اور ابتدائی محرومیوں کے باوجود آپ نے تعلیم و تربیت کا سفر جاری رکھا اور آگے چل کر برصغیر کی ایک نمایاں علمی و ملی شخصیت بنے۔
علمی تربیت اور فکری نشوونما:
آپ نے اپنے زمانے کے ممتاز اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ دہلی میں شمس العلماء سید عباس حسین جارچوی، مولوی مرزا محمد حسن اور مولوی سید محمد ہارون زنگی پوری سے فیض حاصل کیا، جبکہ لکھنؤ کے مدرسہ ناظمیہ میں سید نجم العلماء اور مولوی سید مقبول احمد سے تعلیم پائی۔ مدرسہ ناظمیہ میں چار سال تک علمی تربیت حاصل کی۔
قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد اور علمِ کلام سے گہری دلچسپی نے آپ کی شخصیت کو محض ایک خطیب تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ آپ ایک صاحبِ مطالعہ عالم اور صاحبِ فکر رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ 1943ء میں ادارہ تفسیر القرآن کی اہمیت کے پیش نظر دہلی سے رام پور تشریف لے گئے اور تقریباً سات برس وہاں قیام کیا۔
خطابت کا منفرد مقام:
علامہ سید محمد دہلوی نے خطابت میں ایسا مقام حاصل کیا کہ انہیں خطیب اعظم کہا جانے لگا۔ ان کی خطابت کا اثر صرف آواز اور الفاظ تک محدود نہیں تھا؛ وہ دلیل، مطالعے اور فکری بصیرت کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔ ان کے لیے منبر محض خطاب کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، اصلاح اور بیداری کا ذریعہ تھا۔
اسی خطابت نے انہیں عوام سے جوڑا اور بعد میں یہی عوامی اعتماد ان کی ملی قیادت کی بنیاد بنا۔ وہ سمجھتے تھے کہ قوم کو صرف جذبات نہیں بلکہ شعور، تنظیم اور اجتماعی مقصد کی ضرورت ہے۔
قومی اور ملی خدمات:
علامہ سید محمد دہلوی کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی وسیع قومی اور ملی خدمات ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ملت کی ترقی صرف علمی و مذہبی بیداری سے نہیں بلکہ تعلیم، معاشرتی بہبود اور اجتماعی اداروں کی مضبوطی سے بھی وابستہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختلف ملی اور فلاحی اداروں کے ساتھ وابستہ رہ کر عملی خدمات انجام دیں۔
1931ء سے وہ انجمن وظیفہ سادات و مومنین سے وابستہ رہے اور اس ادارے کی ترقی و استحکام کے لیے مسلسل کام کیا۔ ساداتِ بارہ کے لیے ایک شاندار بورڈنگ کا قیام، بمبئی میں قیصر باغ کی تعمیر، دہلی میں امامیہ ہال اور جھنگ میں یتیم خانے کا قیام ان کی اجتماعی فکر اور خدمتِ ملت کے نمایاں مظاہر تھے۔ ان منصوبوں کے ذریعے انہوں نے تعلیم، رہائش، فلاح اور نئی نسل کی سرپرستی جیسے اہم شعبوں کی طرف توجہ دلائی۔
لکھنؤ کی تاریخی تحریک میں بھی انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور اپنے وقت کی ملی سرگرمیوں میں فعال حصہ لیا۔ ان کی خدمات کا یہ پہلو اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ وہ ملت کے مسائل کو صرف تقریروں اور تحریروں تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ جہاں عملی ضرورت محسوس ہوتی، خود میدان میں اتر کر قیادت کرتے تھے۔ یہی عملی مزاج آگے چل کر ان کی وسیع تر ملی اور قومی قیادت کی بنیاد بنا۔
یہ خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے نزدیک ملت کی ترقی صرف مذہبی اجتماعات تک محدود نہیں تھی؛ تعلیم، معاشرتی بہبود، یتیموں کی کفالت اور نئی نسل کی تربیت بھی اسی جدوجہد کا حصہ تھے۔
پاکستان ہجرت اور ایک نئے دور کا آغاز:
1950ء میں علامہ سید محمد دہلوی نے پاکستان ہجرت کی۔ پاکستان میں قدم رکھتے ہی ان کی ملی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ یہاں ملتِ تشیع کو اپنے مذہبی تشخص، اوقاف، دینی تعلیم، عزاداری اور تعلیمی نصاب سے متعلق متعدد مسائل کا سامنا تھا۔
قیامِ پاکستان کے ابتدائی دور میں جب بعض حلقوں کی جانب سے یہ تصور سامنے آیا کہ شیعانِ حیدرِ کرار کے دوسرے مسلمانوں سے الگ کوئی حقوق نہیں ہیں، تو اس سوچ کے مقابلے میں ملت کے مخصوص مذہبی اور تہذیبی حقوق کے تحفظ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔ اسی ماحول میں ادارہ تحفظِ حقوقِ شیعہ پاکستان کے قیام اور ملی حقوق کی منظم جدوجہد کی بنیاد پڑی۔
مجلسِ عمل علمائے شیعہ کی قیادت:
1960ء کی دہائی تک حالات مزید پیچیدہ ہوچکے تھے۔ اوقاف، نصابِ تعلیم، دینیات، عزاداری اور سرکاری اداروں میں امتیازی رویوں جیسے مسائل بڑھتے گئے۔ ایسے حالات میں جنوری 1964ء میں کراچی کے امام بارگاہ شاہِ کربلا، رضیہ کالونی میں ملک بھر کے علماء اور ممتاز شیعہ رہنماؤں کا ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔
اس اجتماع میں مجلسِ عمل علمائے شیعہ تشکیل دی گئی اور علامہ سید محمد دہلوی کو متفقہ طور پر اس کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد ملت کے مطالبات کو ایک منظم تحریک کی شکل دینے کا مرحلہ شروع ہوا۔
چار بنیادی مطالبات سامنے رکھے گئے: شیعہ طلبہ کے لیے علیحدہ دینیات کا انتظام، شیعہ اوقاف کے لیے علیحدہ بورڈ کا قیام، عزاداری کا تحفظ اور درسی کتب سے قابلِ اعتراض و دل آزار مواد کا اخراج۔
حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد:
ان مطالبات کے حصول کے لیے علامہ دہلوی نے حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے مسلسل رابطے کیے۔ صدرِ پاکستان، گورنروں، وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں کنونشن اور جلسے منعقد ہوئے، قراردادیں منظور کی گئیں، حکومت کو خطوط اور ٹیلی گرام بھیجے گئے اور عوام کو منظم کیا گیا۔
راولپنڈی کا عظیم الشان کنونشن، ملتان اور جھنگ کے اجتماعات، کراچی اور حیدرآباد کی سرگرمیاں اور ملک گیر احتجاج اسی مسلسل جدوجہد کا حصہ تھے۔ کئی مرتبہ حکومت نے یقین دہانیاں کرائیں، لیکن عمل درآمد میں تاخیر ہوتی رہی۔
بالآخر نومبر 1968ء میں راولپنڈی کے اجتماع کے موقع پر حکومت نے شیعہ مطالبات منظور کرنے کا اعلان کیا۔ بعد میں علیحدہ شیعہ دینیات کے نفاذ کے لیے بھی جدوجہد جاری رہی اور 1976ء میں میٹرک کا امتحان اسی نصاب کے تحت منعقد ہوا۔ اگرچہ اس سلسلے میں بھی بعد کے حالات نے کئی نئے مسائل پیدا کیے، لیکن یہ پیش رفت علامہ دہلوی کی طویل ملی جدوجہد کا ایک اہم ثمر تھی۔
علمی خدمات اور “نور العصر”:
قومی و اجتماعی سرگرمیوں کے ساتھ علامہ دہلوی علمی میدان میں بھی فعال رہے۔ ان کی معروف کتاب “نور العصر” ان کی علمی شخصیت کی نمایاں یادگار ہے۔ اس کتاب میں قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد، علمِ کلام اور فلسفے کے مباحث کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
علامہ مرتضیٰ حسین صدرالافاضل نے کتاب کے مقدمے میں اس کے علمی پہلوؤں کو سراہتے ہوئے لکھا کہ اس میں قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد اور علمِ کلام کے مباحث کو سادہ اور نتیجہ خیز دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور قرآنی شواہد کی روشنی میں امامت اور معرفتِ امام پر استدلال کیا گیا ہے۔
کتب سے ان کی محبت بھی غیر معمولی تھی۔ کراچی میں انہوں نے نادر کتب پر مشتمل ایک قیمتی لائبریری قائم کی، لیکن تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز دور میں ان کا ذاتی کتب خانہ بلوائیوں نے جلا دیا۔ یہ سانحہ ان کے علمی سرمایہ کے لیے بڑا نقصان تھا، مگر علم اور مطالعے سے ان کا رشتہ کبھی کمزور نہ ہوا۔
ایک پوری زندگی قوم کے نام:
علامہ سید محمد دہلوی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ وہ بیک وقت عالم، خطیب، مصنف، منتظم اور ملی قائد تھے۔ انہوں نے قوم کے مسائل کو سمجھا، انہیں زبان دی، لوگوں کو منظم کیا اور حکومت کے سامنے ان کے حل کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔
ستر برس کی عمر تک ان کی جواں ہمتی اور جدوجہد برقرار رہی۔ وہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ہر نئے مسئلے کے مقابلے میں زیادہ عزم کے ساتھ سامنے آتے رہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک صاحبِ بصیرت قائد اپنی قوم کو صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عمل، تنظیم اور مسلسل جدوجہد سے آگے لے جاتا ہے۔
رحلت:
29 جمادی الثانی 1391ھ، بمطابق 20 اگست 1971ء، علامہ سید محمد دہلوی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے جنازے میں سیاسی و سماجی شخصیات سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور انہیں کراچی کے باغِ خراسان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آج ان کی برسی پر انہیں یاد کرنا صرف ایک بزرگ عالم اور خطیب کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے دور کی یاد تازہ کرنا ہے جب ملت کے حقوق کے لیے اتحاد، نظم اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت تھی۔ علامہ سید محمد دہلوی کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف جذبات سے نہیں ہوتی؛ اس کے لیے علم، شعور، اتحاد، تنظیم اور قربانی درکار ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کی علمی، ملی اور قومی خدمات سے سچی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
No comments:
Post a Comment