Friday, 4 September 2026

استاد انسان بنانےوالا معمار

استاد — انسان بنانے والا معمار

✍🏻 سیدکرامت حسین شعور جعفری

استاد صرف وہ شخص نہیں جو کتاب پڑھاتا ہے؛ وہ انسان کے ذہن کو روشنی، فکر کو سمت اور کردار کو بلندی عطا کرتا ہے۔ والدین انسان کو وجود دیتے ہیں، مگر استاد اس وجود کو مقصد اور شعور عطا کرتا ہے۔ وہ محض الفاظ نہیں سکھاتا، زندگی کو سمجھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
اسلام نے علم کو غیر معمولی مقام عطا کیا۔ قرآن کی پہلی وحی ہی ’’اقْرَأْ‘‘ سے شروع ہوئی:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی اور انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
(سورۂ علق: 1-5)
اور فرمایا:
هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘
(سورۂ زمر: 9)
رسولِ اکرم ص نے فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا
’’مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
(سنن ابن ماجہ)
یہ ارشاد استاد کے مقام کی عظمت کے لیے کافی ہے کہ تعلیم، انبیائے کرام کے مشن سے وابستہ ہے۔
استاد کی ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرنا نہیں؛ وہ نسلوں کے مستقبل کا امین ہے۔ اس کا ایک جملہ کسی طالب علم کی زندگی بدل سکتا ہے، ایک حوصلہ افزائی اس کے اندر اعتماد پیدا کرسکتی ہے اور ایک اچھی نصیحت برسوں تک اس کے ساتھ چل سکتی ہے۔
ایک اچھا استاد صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ کیسے سوچنا ہے۔ وہ علم کے ساتھ ادب، کامیابی کے ساتھ عاجزی، اختلاف کے ساتھ برداشت اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری سکھاتا ہے۔ کیونکہ تعلیم کا مقصد صرف پڑھے لکھے انسان پیدا کرنا نہیں، اچھے انسان پیدا کرنا ہے۔
استاد کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کا علم اس کے شاگردوں کے کردار میں زندہ رہتا ہے۔ ایک استاد کا شاگرد ڈاکٹر، انجینئر، عالم، ادیب یا سائنس دان بن سکتا ہے، مگر استاد کی حقیقی کامیابی تب ہوتی ہے جب اس کا شاگرد ایک اچھا انسان بن جائے۔
اسی لیے استاد کا احترام کسی ایک دن کا تقاضا نہیں۔ یومِ استاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری کامیابیوں کے پیچھے ان ہاتھوں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے کبھی ہماری انگلی پکڑ کر پہلا حرف لکھایا تھا۔
وقت گزر جاتا ہے، کلاسیں ختم ہوجاتی ہیں، کتابیں پرانی ہوجاتی ہیں، مگر سچا استاد دل سے کبھی رخصت نہیں ہوتا۔ اس کی آواز مشکل وقت میں سنائی دیتی ہے، اس کی نصیحت زندگی کے موڑ پر راستہ دکھاتی ہے، اور اس کا دیا ہوا علم اندھیروں میں چراغ بن کر جلتا رہتا ہے۔
استاد صرف شمع نہیں جو خود جل کر روشنی دے؛ وہ وہ ہاتھ ہے جو ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن کرتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف کتاب نہیں پڑھاتا، زندگی پڑھاتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف ذہن نہیں بناتا، کردار بناتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف شاگرد نہیں بناتا، انسان بناتا ہے۔
یومِ استاد پر تمام اساتذۂ کرام کو عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ سلام۔
اللہ تعالیٰ ہر مخلص استاد کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اس کی محنت کو صدقۂ جاریہ بنائے اور اس کے شاگردوں کو اس کے لیے باعثِ فخر بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Thursday, 3 September 2026

علیؑ کو سیاست سکھانے کی جسارت؟ پہلے صفین کا خون پڑھو

علیؑ کو سیاست سکھانے کی جسارت؟ پہلے صفین کا خون پڑھو…
سجاد نعمانی اپنے اموی خاندان شجرۂ ملعونہ بنی امیہ کی وفاداری کا حق ادا کرتے کرتے بدبختی کی اس منزل پر پہنچ گئے ہیں کہ اب انہیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سیاست پر تبصرہ کرنے اور شیرِ خدا کو سیاسی مصلحت کا سبق دینے کی جسارت ہونے لگی ہے۔
یہ وہ علی علیہ السلام ہیں جن کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«وأقضاهم علي»
’’اور ان سب میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں۔‘‘
یہ کسی بعد کے مؤرخ کا تبصرہ نہیں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے۔ یہ روایت اہلِ سنت کی متعدد کتب میں منقول ہے؛ مثلاً سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمة، باب فضائل أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حدیث 154 میں یہ الفاظ موجود ہیں: «وأقضاهم علي»۔
اب سوال یہ ہے کہ جس علی علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت میں فیصلہ و قضا کے اعتبار سے ممتاز فرمایا، انہیں آج کا کوئی دین فروش مُلا اپنی منافقت کی مصلحتوں کے ترازو میں تولنے کی جسارت کہاں سے لاتا ہے؟
سجاد نعمانی صاحب!
 علی علیہ السلام نے صفین کسی جذباتی کیفیت میں نہیں سجائی تھی۔ وہ ایک ایسے گروہ کے مقابل کھڑے ہوئے تھے جس نے امامِ وقت کے خلاف بغاوت اور سرکشی اختیار کی تھی۔
اور اس معاملے میں صرف شیعہ مصادر کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں؛ صحیح بخاری کی وہ حدیث کافی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
«تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
’’تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘
صحیح البخاری، کتاب الصلاة، حدیث 447۔
عمار رضی اللہ عنہ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے اور وہیں شہید ہوئے۔ اسی لیے حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں حدیثِ عمار سے استدلال کرتے ہوئے لکھا کہ اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید ہے، کیونکہ عمار کو معاویہ کے لشکر نے قتل کیا۔
اب سجاد نعمانی صاحب سے ہمارا سیدھا سوال ہے:
اگر علی علیہ السلام کو معاویہ کے مقابل صفین نہیں جانا چاہیے تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ’’الفئة الباغية‘‘ والی حدیث کا مصداق کون تھا؟
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم نہیں تھا کہ ایک دن علی علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان جنگ ہوگی؟
یا آج کے بے ایمان مُلا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ سیاسی بصیرت حاصل ہوگئی ہے؟
امام حسنؑ کی صلح، علیؑ کے خلاف دلیل نہیں
سجاد نعمانی صاحب اگر امام حسن علیہ السلام کی صلح کو حضرت علی علیہ السلام کے فیصلے کے مقابل دلیل بنانا چاہتے ہیں تو پہلے تاریخ کا بنیادی اصول سمجھ لیں:
حالات بدلتے ہیں، حکمتِ عملی بدلتی ہے؛ مگر حق نہیں بدلتا۔
امام حسن علیہ السلام نے اپنے زمانے کے حالات میں صلح کی۔ خود صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
«إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور شاید اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرا دے۔‘‘
صحیح البخاری، کتاب الصلح، حدیث 2704۔
یہ امام حسن علیہ السلام کی عظمت ہے، مگر اسے علی علیہ السلام کے خلاف دلیل بنانا تاریخی مغالطہ اور فکری بددیانتی ہے۔
اگر حسن علیہ السلام کی صلح درست تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ علی علیہ السلام کا صفین میں قیام غلط تھا۔
جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقع پر صلح کی اور دوسرے موقع پر جنگ کی، اسی طرح علی علیہ السلام نے اپنے حالات میں قتال کیا اور حسن علیہ السلام نے اپنے حالات میں صلح۔
جنگ ہمیشہ غلط نہیں ہوتی اور صلح ہمیشہ درست نہیں ہوتی؛ اصل معیار حق ہے، حالات ہیں اور مقصد ہے۔
پھر حسینؑ کہاں کھڑے ہوں گے؟
سجاد نعمانی صاحب کی مصلحتی سیاست کا سب سے بڑا امتحان یہاں شروع ہوتا ہے۔
اگر علی علیہ السلام کو معاویہ کے مقابل صفین سے بچنا چاہیے تھا، اگر ہر سیاسی نزاع کا حل صلح ہی ہے، اگر اقتدار کے مقابل مزاحمت ’’جذباتیت‘‘ ہے، تو پھر حسین علیہ السلام نے یزید کے سامنے سر کیوں نہیں جھکا دیا؟
کیوں بیعت قبول نہیں کرلی؟
کیوں مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کا سفر اختیار کیا؟
کیوں اپنی جان، اپنے اصحاب، اپنے جوانوں اور اپنے خاندان کو قربان کردیا؟
اس لیے کہ حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ ہر صلح صلحِ حسن نہیں ہوتی، ہر مصلحت حکمت نہیں ہوتی، اور ہر خاموشی امن نہیں ہوتی۔
حسن علیہ السلام نے جہاں امت کے خون کو بچانے کے لیے صلح کی، وہاں حسین علیہ السلام نے اس مقام پر قیام کیا جہاں خاموشی اور بیعت باطل اقتدار کو شرعی جواز عطا کردیتی۔
اصل مسئلہ معاویہ اور یزید کا دفاع ہے
مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی خاص سیاسی و تاریخی منصوبے کے تحت معاویہ کو ہر قیمت پر ’’مصلحت کا علمبردار‘‘ ثابت کرنا مقصود ہو تو سب سے پہلے حضرت علی ع کے موقف کو مشکوک بنایا جاتا ہے۔
پھر کہا جاتا ہے:
علی کو جنگ نہیں کرنی چاہیے تھی۔
علی کو صلح کرلینی چاہیے تھی۔
حسن نے صلح کی، علی نے کیوں نہ کی؟
اور یہی منطق آگے بڑھ کر حسین علیہ السلام کے قیام پر بھی سوال اٹھانے لگتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ کے ساتھ کھلواڑ شروع ہوتا ہے۔
علی علیہ السلام کو سیاست کا سبق دینے والے بھول جاتے ہیں کہ علی علیہ السلام سیاست کے طالب علم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مکتب کے تربیت یافتہ تھے۔
وہ علی علیہ السلام جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علم و قضا میں ممتاز فرمایا؛
وہ علی علیہ السلام جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«علي مني وأنا منه»
’’علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔‘‘
وہ علی علیہ السلام جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«من كنت مولاه فعلي مولاه»
’’جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔‘‘
ایسے علی علیہ السلام کے فیصلوں کو آج کے سیاسی خطیب کے ’’خواب‘‘، ’’تجزیے‘‘ یا ’’مصلحتی فارمولے‘‘ کی کسوٹی پر پرکھنا، علم نہیں بلکہ جسارت ہے۔
صفین کو سمجھو، پھر علیؑ پر تبصرہ کرو
صفین کو صرف ’’ایک جنگ‘‘ سمجھنے والے تاریخ نہیں سمجھتے۔
یہ سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ ہوئی یا صلح؟
اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کس کے خلاف تھی، کیوں تھی، کس نے بغاوت کی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس فتنے کے بارے میں پہلے سے کیا فرمایا تھا؟
عمار کا خون صفین کے میدان میں گرا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان پہلے ہی موجود تھا۔
علی علیہ السلام میدان میں موجود تھے۔
اب اگر اس پورے تاریخی تسلسل کے باوجود کوئی شخص علی علیہ السلام کو ہی سیاست کا ناقص طالب علم ثابت کرنے کی کوشش کرے تو مسئلہ تاریخ میں نہیں، اس شخص کی قرأتِ تاریخ میں ہے۔
سجاد نعمانی صاحب!
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے سے پہلے علی علیہ السلام کی سیاست پڑھ لیجیے۔
حسن علیہ السلام کی صلح کو علی علیہ السلام کے خلاف استعمال کرنے سے پہلے دونوں ادوار کے حالات سمجھ لیجیے۔
اور حسین علیہ السلام کے قیام کو ’’جذباتیت‘‘ یا ’’سیاسی ناپختگی‘‘ کے زاویے سے دیکھنے سے پہلے یہ طے کرلیجیے کہ کیا یزید کے سامنے بیعت کرنا واقعی وہ مصلحت تھی جسے آپ دین کی سیاست قرار دینا چاہتے ہیں؟
ہم صاف کہتے ہیں:
علی علیہ السلام کو معاویہ سے سیاست سیکھنے کی ضرورت نہیں تھی؛ معاویہ کو علی علیہ السلام کے سامنے اپنی سیاسی حیثیت ثابت کرنی تھی۔
اور حسین علیہ السلام کو یزید سے مصلحت کرنے کی ضرورت نہیں تھی؛ یزید کو حسین علیہ السلام کی بیعت کی ضرورت تھی۔
فرق صرف اتنا ہے کہ علی علیہ السلام نے بغاوت کے سامنے تلوار اٹھائی، حسن علیہ السلام نے مصلحت کے ذریعے امت کا خون بچایا، اور حسین علیہ السلام نے باطل کو اپنی بیعت کا تقدس دینے سے انکار کردیا۔
یہ اہلِ بیت علیہم السلام کی سیاست ہے—جس کے سامنے آج کے سیاسی خطیبوں کی تمام مصلحتیں، تاویلیں اور خواب پر مبنی تعبیرات ہیچ ہیں۔
اس سیاست کو سمجھنے کے لیے علی علیہ السلام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہوگا، نہ کہ اپنی محدود عقل کو علی علیہ السلام کے سامنے استاد بنا کر کھڑا کرنا ہوگا۔
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے نکلنے والو
 ذرا اپنی اوقاتِ علمی کا بھی حساب کرلو؛ تم ابھی تاریخ کے چند اوراق پڑھ کر خود کو سیاست کا افلاطون سمجھ بیٹھے ہو، جبکہ علی علیہ السلام وہ ہیں جن کی عدالت، بصیرت اور شجاعت پر تاریخ کے بڑے بڑے کرداروں نے اپنے فیصلے چھوڑے ہیں۔
جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «أقضاهم علي» کہہ کر امت کے درمیان فیصلے کی عظیم صلاحیت عطا فرمائی، اسے آج کا کوئی بدبخت ُ دین فروش ملا اپنے ’’سیاسی نسخوں‘‘ سے درست کرنے بیٹھے—تو یہ علی علیہ السلام کی کمزوری نہیں، اپنی فکری نجاست کی انتہا ہے۔
لہٰذا علی علیہ السلام کو سیاست کا سبق دینے سے پہلے اپنی کم فہمی کو علی علیہ السلام کی بصیرت پر مسلط کرنے کی جسارت سے باز آؤ۔
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے کی کوشش مت کرو؛�تاریخ تمہاری کتاب نہیں، علی علیہ السلام کا میدان ہے—اور صفین آج بھی تمہاری تعبیر کے منہ پر ایک سوال بن کر کھڑی ہے۔
✍🏻 شعور جعفری

استاد انسان بنانےوالا معمار

استاد — انسان بنانے والا معمار ✍🏻 سیدکرامت حسین شعور جعفری استاد صرف وہ شخص نہیں جو کتاب پڑھاتا ہے؛ وہ انسان کے ذہن کو روشنی، ف...