Wednesday, 9 September 2026

اسلام فتوحات اور شہنشاہیت کےلئے آیاتھا .1

کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟ 
پہلی قسط: 
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین اور ہماری بنائی ہوئی شہنشاہیت،
اسلام کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے تاریخ میں کتنی زمینیں فتح کیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس مقصد کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ جب ہم اس سوال کا جواب قرآن سے لیتے ہیں تو ہمیں کہیں یہ نہیں ملتا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے ملک فتح کرنے، دوسری قوموں کی حکومتیں ختم کرنے یا مسلمانوں کی ایک بڑی عالمی شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ قرآن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رحمۃً للعالمین، بشیر، نذیر اور داعی الی اللہ قرار دیتا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوری دنیا کے لیے رحمت، خوشخبری دینے والے، خبردار کرنے والے اور اللہ کی طرف بلانے والے تھے۔ (الانبیاء: 107؛ الاحزاب: 45-46)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس پر قابو پانا سکھایا۔ مکہ کے تیرہ سال اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اس پورے دور میں اسلام کی بنیادی دعوت کسی ملک کو فتح کرنے کی نہیں بلکہ انسان کو بدلنے کی تھی۔ شرک کے مقابلے میں توحید، ظلم کے مقابلے میں عدل، جہالت کے مقابلے میں علم، تکبر کے مقابلے میں انسانیت، اور دنیا پرستی کے مقابلے میں آخرت کی جواب دہی کا شعور پیدا کیا گیا۔ قرآن بار بار یتیم اور مسکین کے حقوق، ناپ تول میں انصاف، سچائی، امانت اور انسانی ذمہ داری کی بات کرتا ہے۔ کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ اسلام کی کامیابی اس بات سے معلوم ہوگی کہ مسلمانوں کے پاس کتنی زمین ہوگی۔
اگر اسلام کا اصل مقصد سلطنت قائم کرنا ہوتا تو مکہ کے کمزور دور میں سب سے پہلے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی، لیکن قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کروایا: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ، یعنی ’’کہہ دیجیے، میں تم ہی جیسا بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ (الکہف: 110) گویا اسلام کی بنیاد انسان کے عقیدے اور شعور کی اصلاح تھی، سلطنت کی تعمیر نہیں۔
قرآن نے دعوت کا طریقہ بھی صاف بتا دیا: ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، یعنی ’’اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے بلاؤ۔‘‘ (النحل: 125) اور دین کے معاملے میں واضح اصول دیا: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ، ’’دین میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ (البقرۃ: 256) اس کا مطلب صاف ہے کہ اسلام انسان کے دل اور عقل کو مخاطب کرتا ہے، اسے زبردستی اپنا عقیدہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔
مدینہ پہنچنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سیاسی اور معاشرتی نظام ضرور قائم کیا، لیکن اس نظام کا مقصد بھی صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا۔ اس کی بنیاد عدل اور انسانی بھلائی پر تھی۔ قرآن کہتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ، ’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (النحل: 90) اس لیے کسی اسلامی حکومت کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ اس کے پاس کتنے شہر یا کتنے صوبے تھے، بلکہ اس بات سے کہ اس کے زیرِ سایہ انسان کو کتنا عدل، امن اور حق ملا۔
جنگ کے بارے میں بھی قرآن نے کوئی کھلی اور بے حد اجازت نہیں دی، بلکہ واضح حد مقرر کی: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا، ’’جو تم سے جنگ کرتے ہیں ان سے جنگ کرو، لیکن زیادتی نہ کرو۔‘‘ (البقرۃ: 190) یہاں ایک طرف جنگ کی اجازت ہے تو دوسری طرف زیادتی سے روک دیا گیا ہے۔ اس لیے تاریخ میں ہونے والی ہر جنگ کو صرف اس بنیاد پر اسلامی اور مقدس قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اسے مسلمانوں نے لڑا تھا۔
پھر قرآن یہ بھی کہتا ہے: وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا، ’’اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ۔‘‘ (الانفال: 61) یعنی اسلام کی اصل منزل امن ہے، جنگ نہیں؛ جنگ ایک ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن اسے اسلام کا مقصد نہیں بنایا جاسکتا۔
صلحِ حدیبیہ اس کی بہت خوب صورت مثال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا معاہدہ قبول کیا جس کی بعض شرائط مسلمانوں کو بظاہر سخت محسوس ہوتی تھیں، لیکن قرآن نے اسی واقعے کو فَتْحًا مُّبِينًا، یعنی ’’کھلی فتح‘‘ قرار دیا۔ (الفتح: 1) اگر فتح کا مطلب صرف زمین پر قبضہ اور دشمن کو شکست دینا ہوتا تو ایک امن معاہدے کو قرآن فتح نہ کہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امن کا راستہ کھلنا، لوگوں تک حق کی دعوت پہنچنے کا موقع پیدا ہونا اور خونریزی رک جانا بھی فتح ہوسکتا ہے۔
مکہ کی فتح اس سے بھی بڑی مثال ہے۔ جس شہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں پر ظلم کیا اور مسلمانوں کے خلاف کئی جنگیں کیں، آخرکار وہی شہر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے تھا۔ اگر اسلام صرف طاقت، انتقام اور شہنشاہیت کا دین ہوتا تو اس دن مکہ خون میں ڈوب جاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح کو انتقام کے بجائے رحمت اور معافی میں بدل دیا۔ یہی وہ فرق ہے جو اسلام کی فتح کو عام دنیاوی فتوحات سے الگ کرتا ہے۔
یہاں ہمیں دو مختلف تصور سمجھنے ہوں گے۔ دنیا کے بادشاہ کے لیے فتح کا مطلب ہوتا ہے کسی کی زمین حاصل کرنا، خزانہ اپنے قبضے میں لینا اور اپنا اقتدار بڑھانا؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے اصل فتح انسان کی اصلاح، دل کی تبدیلی، اخلاق کی بلندی اور معاشرے میں عدل کا قیام تھا۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد تاریخ نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ مسلم ریاست پھیلنے لگی اور شام، عراق، مصر، ایران، شمالی افریقہ، وسطی ایشیا، سندھ اور بعد میں اندلس تک مسلم سیاسی اقتدار پہنچ گیا۔ یہ سب تاریخی واقعات ہیں، ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مسلمانوں کی ہر فتح اسلام کی فتح تھی؟
اس سوال کا جواب ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ قرآن سے دینا ہوگا۔
قرآن نے کہیں یہ نہیں کہا کہ مسلمان دوسری قوموں کی زمینیں فتح کرکے اپنی سلطنت بڑھائیں۔ قرآن نے کہیں یہ نہیں کہا کہ کسی ملک پر قبضہ کرنا بذاتِ خود عبادت ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کی عظمت کا معیار بھی ان کے زیرِ اقتدار علاقے نہیں بتائے، بلکہ فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ، ’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (الحجرات: 13)
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جو سیاسی اور فوجی فتوحات ہوئیں، انہیں تاریخ کے واقعات کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔ ان کے اسباب پر بحث ہوسکتی ہے، ان کے نتائج کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، لیکن صرف اس وجہ سے کہ ان فتوحات میں حصہ لینے والے مسلمان تھے، انہیں اسلام کا مقصد یا اسلام کے لیے قابلِ فخر دینی کارنامہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مسلمان کا ہر عمل اسلام نہیں ہوتا؛ اسلام وہ ہے جو قرآن نے سکھایا۔
اگر ہم اس فرق کو ختم کردیں تو پھر کسی مسلمان بادشاہ کا ظلم بھی اسلامی بن جائے گا، اس کی اقتدار کی خواہش بھی اسلامی بن جائے گی، اس کی ہر جنگ جہاد کہلائے گی اور اس کی ہر سیاسی توسیع دین کی سربلندی قرار پائے گی۔ پھر ہم اسلام کو قرآن سے نہیں بلکہ بادشاہوں کی تاریخ سے سمجھنے لگیں گے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام کی سیرت ہمارے لیے بہت اہم ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام نے دین کی حفاظت زمینوں کی فتح سے نہیں کی، بلکہ قرآن، علم، اخلاق، عبادت، عدل، صبر، قربانی اور حق کی حفاظت کے ذریعے کی۔ انہوں نے دین کی کامیابی کو سلطنت کی وسعت سے نہیں بلکہ انسان کے ایمان، عقل اور کردار سے ناپا۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور ان کے بعد ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تاریخ اسی زاویے سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دین کو بادشاہت کی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے کردار اور قربانی کے ذریعے زندہ رکھا۔

مسلمانوں سے ایک سوال

مسلمانوں سے ایک سوال،

  33سال بمقابلہ 3 سال — احادیث کا یہ فرق کیوں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی احادیث ہمارے دین کا اہم سرمایہ ہیں۔ اس لیے تاریخِ اسلام کو سمجھنے والے ہر شخص کے سامنے ایک سوال ضرور آنا چاہیے۔
حضرت علیؑ نے رسولؐ خدا کی آغوش میں آنکھ کھولی، آپؐ کے ساتھ بچپن گزارا اور آپؐ ہی کی تربیت میں پلے بڑھے۔ بعثت سے پہلے تقریباً 10 سال اور بعثت کے بعد رسول اللہ کی رحلت تک تقریباً 23 سال آپؐ کے ساتھ رہے؛ یعنی مجموعی طور پر تقریباً 33 سال کا ساتھ۔ رسولؐ خدا کی زندگی کا شاید ہی کوئی اہم مرحلہ ہو جس میں حضرت علیؑ شریک نہ رہے ہوں۔ لیکن اہلِ سنت کے مشہور شمار کے مطابق حضرت علیؑ سے تقریباً 586 احادیث منقول ہیں۔
اب دوسری طرف ابو ہریرہ کو دیکھیے۔ وہ تقریباً 7 ہجری میں اسلام لائے اور رسول اللہ کی رحلت سے پہلے صرف تقریباً تین سال آپؐ کی صحبت میں رہے۔ لیکن ان سے منقول احادیث کی تعداد 5374 بتائی جاتی ہے۔
تو سوال بالکل سادہ ہے:
جس علیؑ نے رسولؐ کے ساتھ تقریباً 33 سال گزارے، ان کی روایات 586؛ اور جو تقریباً 3 سال ساتھ رہے، ان کی روایات 5374؟ آخر ایسا کیوں ہوا؟
کیا یہ فرق محض اتفاق ہے؟ یا ہمیں تاریخ کے ان خاموش صفحات کو بھی کھولنا چاہیے جہاں شاید یہ طے ہوا کہ رسولؐ کے علم تک پہنچنے والے بابِ علم، علیؑ، تک امت کی رسائی کتنی رہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ علم کا دروازہ ہمارے سامنے موجود تھا، مگر تاریخ کے کسی موڑ پر اس دروازے تک پہنچنے کا راستہ محدود کر دیا گیا؟
جبکہ رسول خدا کا فرمان ہے 
“أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ، وَعَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِينَةَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ”
ترجمہ:
میں علم کا شہر ہوں، اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں؛ پس جو شخص اس شہر میں داخل ہونا چاہے، اسے دروازے سے آنا چاہیے،
حوالہ:
الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابة، ج 3، ص 137، حدیث 4637۔ 
اور اگر یہ سب محض اتفاق تھا تو پھر سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے:
33 سالہ رفاقت سے 586 روایات، اور تقریباً 3 سالہ صحبت سے 5374—کیا تاریخ ہم سے اس غیر معمولی فرق کی کوئی واضح وجہ پوچھنے کی اجازت نہیں دیتی؟
یہ کسی کی توہین نہیں، نہ کسی پر الزام ہے۔ یہ صرف ایک سوال ہے؛ لیکن ایسا سوال جو ہمیں اپنی تاریخ، اپنے حدیثی ذخیرے اور علمِ رسولؐ تک پہنچنے کے ذرائع کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
عالمِ اسلام! اب ذرا رُک کر سوچیے…
یہ صرف 586 اور 5374 کا فرق نہیں؛ یہ سوال ہے کہ رسولؐ کے علم تک امت کس راستے سے پہنچی، اور کس راستے سے محروم رہی؟
اگر بابِ علم علیؑ ہمارے سامنے تھا، تو پھر علم کے اس دروازے تک ہماری رسائی اتنی محدود کیوں رہی؟
کیا یہ محض اتفاق تھا، یا تاریخ کے کسی موڑ پر علم کا راستہ ہی بدل دیا گیا؟
عالمِ اسلام! صرف اعداد کو مت دیکھیے؛ ان اعداد کے پیچھے چھپی تاریخ کو پڑھیے۔
اور پھر خود سے فیصلہ کیجیے:
یہ فرق صرف روایتوں کا ہے… یا روایت کی تاریخ کا بھی؟
شعور جعفری

Friday, 4 September 2026

استاد انسان بنانےوالا معمار

استاد — انسان بنانے والا معمار

✍🏻 سیدکرامت حسین شعور جعفری

استاد صرف وہ شخص نہیں جو کتاب پڑھاتا ہے؛ وہ انسان کے ذہن کو روشنی، فکر کو سمت اور کردار کو بلندی عطا کرتا ہے۔ والدین انسان کو وجود دیتے ہیں، مگر استاد اس وجود کو مقصد اور شعور عطا کرتا ہے۔ وہ محض الفاظ نہیں سکھاتا، زندگی کو سمجھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
اسلام نے علم کو غیر معمولی مقام عطا کیا۔ قرآن کی پہلی وحی ہی ’’اقْرَأْ‘‘ سے شروع ہوئی:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی اور انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
(سورۂ علق: 1-5)
اور فرمایا:
هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘
(سورۂ زمر: 9)
رسولِ اکرم ص نے فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا
’’مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
(سنن ابن ماجہ)
یہ ارشاد استاد کے مقام کی عظمت کے لیے کافی ہے کہ تعلیم، انبیائے کرام کے مشن سے وابستہ ہے۔
استاد کی ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرنا نہیں؛ وہ نسلوں کے مستقبل کا امین ہے۔ اس کا ایک جملہ کسی طالب علم کی زندگی بدل سکتا ہے، ایک حوصلہ افزائی اس کے اندر اعتماد پیدا کرسکتی ہے اور ایک اچھی نصیحت برسوں تک اس کے ساتھ چل سکتی ہے۔
ایک اچھا استاد صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ کیسے سوچنا ہے۔ وہ علم کے ساتھ ادب، کامیابی کے ساتھ عاجزی، اختلاف کے ساتھ برداشت اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری سکھاتا ہے۔ کیونکہ تعلیم کا مقصد صرف پڑھے لکھے انسان پیدا کرنا نہیں، اچھے انسان پیدا کرنا ہے۔
استاد کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کا علم اس کے شاگردوں کے کردار میں زندہ رہتا ہے۔ ایک استاد کا شاگرد ڈاکٹر، انجینئر، عالم، ادیب یا سائنس دان بن سکتا ہے، مگر استاد کی حقیقی کامیابی تب ہوتی ہے جب اس کا شاگرد ایک اچھا انسان بن جائے۔
اسی لیے استاد کا احترام کسی ایک دن کا تقاضا نہیں۔ یومِ استاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری کامیابیوں کے پیچھے ان ہاتھوں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے کبھی ہماری انگلی پکڑ کر پہلا حرف لکھایا تھا۔
وقت گزر جاتا ہے، کلاسیں ختم ہوجاتی ہیں، کتابیں پرانی ہوجاتی ہیں، مگر سچا استاد دل سے کبھی رخصت نہیں ہوتا۔ اس کی آواز مشکل وقت میں سنائی دیتی ہے، اس کی نصیحت زندگی کے موڑ پر راستہ دکھاتی ہے، اور اس کا دیا ہوا علم اندھیروں میں چراغ بن کر جلتا رہتا ہے۔
استاد صرف شمع نہیں جو خود جل کر روشنی دے؛ وہ وہ ہاتھ ہے جو ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن کرتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف کتاب نہیں پڑھاتا، زندگی پڑھاتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف ذہن نہیں بناتا، کردار بناتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف شاگرد نہیں بناتا، انسان بناتا ہے۔
یومِ استاد پر تمام اساتذۂ کرام کو عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ سلام۔
اللہ تعالیٰ ہر مخلص استاد کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اس کی محنت کو صدقۂ جاریہ بنائے اور اس کے شاگردوں کو اس کے لیے باعثِ فخر بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Thursday, 3 September 2026

علیؑ کو سیاست سکھانے کی جسارت؟ پہلے صفین کا خون پڑھو

علیؑ کو سیاست سکھانے کی جسارت؟ پہلے صفین کا خون پڑھو…
سجاد نعمانی اپنے اموی خاندان شجرۂ ملعونہ بنی امیہ کی وفاداری کا حق ادا کرتے کرتے بدبختی کی اس منزل پر پہنچ گئے ہیں کہ اب انہیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سیاست پر تبصرہ کرنے اور شیرِ خدا کو سیاسی مصلحت کا سبق دینے کی جسارت ہونے لگی ہے۔
یہ وہ علی علیہ السلام ہیں جن کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«وأقضاهم علي»
’’اور ان سب میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں۔‘‘
یہ کسی بعد کے مؤرخ کا تبصرہ نہیں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے۔ یہ روایت اہلِ سنت کی متعدد کتب میں منقول ہے؛ مثلاً سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمة، باب فضائل أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حدیث 154 میں یہ الفاظ موجود ہیں: «وأقضاهم علي»۔
اب سوال یہ ہے کہ جس علی علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت میں فیصلہ و قضا کے اعتبار سے ممتاز فرمایا، انہیں آج کا کوئی دین فروش مُلا اپنی منافقت کی مصلحتوں کے ترازو میں تولنے کی جسارت کہاں سے لاتا ہے؟
سجاد نعمانی صاحب!
 علی علیہ السلام نے صفین کسی جذباتی کیفیت میں نہیں سجائی تھی۔ وہ ایک ایسے گروہ کے مقابل کھڑے ہوئے تھے جس نے امامِ وقت کے خلاف بغاوت اور سرکشی اختیار کی تھی۔
اور اس معاملے میں صرف شیعہ مصادر کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں؛ صحیح بخاری کی وہ حدیث کافی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
«تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
’’تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘
صحیح البخاری، کتاب الصلاة، حدیث 447۔
عمار رضی اللہ عنہ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے اور وہیں شہید ہوئے۔ اسی لیے حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں حدیثِ عمار سے استدلال کرتے ہوئے لکھا کہ اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید ہے، کیونکہ عمار کو معاویہ کے لشکر نے قتل کیا۔
اب سجاد نعمانی صاحب سے ہمارا سیدھا سوال ہے:
اگر علی علیہ السلام کو معاویہ کے مقابل صفین نہیں جانا چاہیے تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ’’الفئة الباغية‘‘ والی حدیث کا مصداق کون تھا؟
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم نہیں تھا کہ ایک دن علی علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان جنگ ہوگی؟
یا آج کے بے ایمان مُلا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ سیاسی بصیرت حاصل ہوگئی ہے؟
امام حسنؑ کی صلح، علیؑ کے خلاف دلیل نہیں
سجاد نعمانی صاحب اگر امام حسن علیہ السلام کی صلح کو حضرت علی علیہ السلام کے فیصلے کے مقابل دلیل بنانا چاہتے ہیں تو پہلے تاریخ کا بنیادی اصول سمجھ لیں:
حالات بدلتے ہیں، حکمتِ عملی بدلتی ہے؛ مگر حق نہیں بدلتا۔
امام حسن علیہ السلام نے اپنے زمانے کے حالات میں صلح کی۔ خود صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
«إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور شاید اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرا دے۔‘‘
صحیح البخاری، کتاب الصلح، حدیث 2704۔
یہ امام حسن علیہ السلام کی عظمت ہے، مگر اسے علی علیہ السلام کے خلاف دلیل بنانا تاریخی مغالطہ اور فکری بددیانتی ہے۔
اگر حسن علیہ السلام کی صلح درست تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ علی علیہ السلام کا صفین میں قیام غلط تھا۔
جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقع پر صلح کی اور دوسرے موقع پر جنگ کی، اسی طرح علی علیہ السلام نے اپنے حالات میں قتال کیا اور حسن علیہ السلام نے اپنے حالات میں صلح۔
جنگ ہمیشہ غلط نہیں ہوتی اور صلح ہمیشہ درست نہیں ہوتی؛ اصل معیار حق ہے، حالات ہیں اور مقصد ہے۔
پھر حسینؑ کہاں کھڑے ہوں گے؟
سجاد نعمانی صاحب کی مصلحتی سیاست کا سب سے بڑا امتحان یہاں شروع ہوتا ہے۔
اگر علی علیہ السلام کو معاویہ کے مقابل صفین سے بچنا چاہیے تھا، اگر ہر سیاسی نزاع کا حل صلح ہی ہے، اگر اقتدار کے مقابل مزاحمت ’’جذباتیت‘‘ ہے، تو پھر حسین علیہ السلام نے یزید کے سامنے سر کیوں نہیں جھکا دیا؟
کیوں بیعت قبول نہیں کرلی؟
کیوں مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کا سفر اختیار کیا؟
کیوں اپنی جان، اپنے اصحاب، اپنے جوانوں اور اپنے خاندان کو قربان کردیا؟
اس لیے کہ حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ ہر صلح صلحِ حسن نہیں ہوتی، ہر مصلحت حکمت نہیں ہوتی، اور ہر خاموشی امن نہیں ہوتی۔
حسن علیہ السلام نے جہاں امت کے خون کو بچانے کے لیے صلح کی، وہاں حسین علیہ السلام نے اس مقام پر قیام کیا جہاں خاموشی اور بیعت باطل اقتدار کو شرعی جواز عطا کردیتی۔
اصل مسئلہ معاویہ اور یزید کا دفاع ہے
مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی خاص سیاسی و تاریخی منصوبے کے تحت معاویہ کو ہر قیمت پر ’’مصلحت کا علمبردار‘‘ ثابت کرنا مقصود ہو تو سب سے پہلے حضرت علی ع کے موقف کو مشکوک بنایا جاتا ہے۔
پھر کہا جاتا ہے:
علی کو جنگ نہیں کرنی چاہیے تھی۔
علی کو صلح کرلینی چاہیے تھی۔
حسن نے صلح کی، علی نے کیوں نہ کی؟
اور یہی منطق آگے بڑھ کر حسین علیہ السلام کے قیام پر بھی سوال اٹھانے لگتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ کے ساتھ کھلواڑ شروع ہوتا ہے۔
علی علیہ السلام کو سیاست کا سبق دینے والے بھول جاتے ہیں کہ علی علیہ السلام سیاست کے طالب علم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مکتب کے تربیت یافتہ تھے۔
وہ علی علیہ السلام جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علم و قضا میں ممتاز فرمایا؛
وہ علی علیہ السلام جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«علي مني وأنا منه»
’’علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔‘‘
وہ علی علیہ السلام جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«من كنت مولاه فعلي مولاه»
’’جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔‘‘
ایسے علی علیہ السلام کے فیصلوں کو آج کے سیاسی خطیب کے ’’خواب‘‘، ’’تجزیے‘‘ یا ’’مصلحتی فارمولے‘‘ کی کسوٹی پر پرکھنا، علم نہیں بلکہ جسارت ہے۔
صفین کو سمجھو، پھر علیؑ پر تبصرہ کرو
صفین کو صرف ’’ایک جنگ‘‘ سمجھنے والے تاریخ نہیں سمجھتے۔
یہ سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ ہوئی یا صلح؟
اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کس کے خلاف تھی، کیوں تھی، کس نے بغاوت کی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس فتنے کے بارے میں پہلے سے کیا فرمایا تھا؟
عمار کا خون صفین کے میدان میں گرا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان پہلے ہی موجود تھا۔
علی علیہ السلام میدان میں موجود تھے۔
اب اگر اس پورے تاریخی تسلسل کے باوجود کوئی شخص علی علیہ السلام کو ہی سیاست کا ناقص طالب علم ثابت کرنے کی کوشش کرے تو مسئلہ تاریخ میں نہیں، اس شخص کی قرأتِ تاریخ میں ہے۔
سجاد نعمانی صاحب!
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے سے پہلے علی علیہ السلام کی سیاست پڑھ لیجیے۔
حسن علیہ السلام کی صلح کو علی علیہ السلام کے خلاف استعمال کرنے سے پہلے دونوں ادوار کے حالات سمجھ لیجیے۔
اور حسین علیہ السلام کے قیام کو ’’جذباتیت‘‘ یا ’’سیاسی ناپختگی‘‘ کے زاویے سے دیکھنے سے پہلے یہ طے کرلیجیے کہ کیا یزید کے سامنے بیعت کرنا واقعی وہ مصلحت تھی جسے آپ دین کی سیاست قرار دینا چاہتے ہیں؟
ہم صاف کہتے ہیں:
علی علیہ السلام کو معاویہ سے سیاست سیکھنے کی ضرورت نہیں تھی؛ معاویہ کو علی علیہ السلام کے سامنے اپنی سیاسی حیثیت ثابت کرنی تھی۔
اور حسین علیہ السلام کو یزید سے مصلحت کرنے کی ضرورت نہیں تھی؛ یزید کو حسین علیہ السلام کی بیعت کی ضرورت تھی۔
فرق صرف اتنا ہے کہ علی علیہ السلام نے بغاوت کے سامنے تلوار اٹھائی، حسن علیہ السلام نے مصلحت کے ذریعے امت کا خون بچایا، اور حسین علیہ السلام نے باطل کو اپنی بیعت کا تقدس دینے سے انکار کردیا۔
یہ اہلِ بیت علیہم السلام کی سیاست ہے—جس کے سامنے آج کے سیاسی خطیبوں کی تمام مصلحتیں، تاویلیں اور خواب پر مبنی تعبیرات ہیچ ہیں۔
اس سیاست کو سمجھنے کے لیے علی علیہ السلام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہوگا، نہ کہ اپنی محدود عقل کو علی علیہ السلام کے سامنے استاد بنا کر کھڑا کرنا ہوگا۔
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے نکلنے والو
 ذرا اپنی اوقاتِ علمی کا بھی حساب کرلو؛ تم ابھی تاریخ کے چند اوراق پڑھ کر خود کو سیاست کا افلاطون سمجھ بیٹھے ہو، جبکہ علی علیہ السلام وہ ہیں جن کی عدالت، بصیرت اور شجاعت پر تاریخ کے بڑے بڑے کرداروں نے اپنے فیصلے چھوڑے ہیں۔
جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «أقضاهم علي» کہہ کر امت کے درمیان فیصلے کی عظیم صلاحیت عطا فرمائی، اسے آج کا کوئی بدبخت ُ دین فروش ملا اپنے ’’سیاسی نسخوں‘‘ سے درست کرنے بیٹھے—تو یہ علی علیہ السلام کی کمزوری نہیں، اپنی فکری نجاست کی انتہا ہے۔
لہٰذا علی علیہ السلام کو سیاست کا سبق دینے سے پہلے اپنی کم فہمی کو علی علیہ السلام کی بصیرت پر مسلط کرنے کی جسارت سے باز آؤ۔
علی علیہ السلام کو سیاست سکھانے کی کوشش مت کرو؛�تاریخ تمہاری کتاب نہیں، علی علیہ السلام کا میدان ہے—اور صفین آج بھی تمہاری تعبیر کے منہ پر ایک سوال بن کر کھڑی ہے۔
✍🏻 شعور جعفری

اسلام فتوحات اور شہنشاہیت کےلئے آیاتھا .1

کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟  پہلی قسط:  ✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین ...