استاد — انسان بنانے والا معمار
✍🏻 سیدکرامت حسین شعور جعفری
استاد صرف وہ شخص نہیں جو کتاب پڑھاتا ہے؛ وہ انسان کے ذہن کو روشنی، فکر کو سمت اور کردار کو بلندی عطا کرتا ہے۔ والدین انسان کو وجود دیتے ہیں، مگر استاد اس وجود کو مقصد اور شعور عطا کرتا ہے۔ وہ محض الفاظ نہیں سکھاتا، زندگی کو سمجھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
اسلام نے علم کو غیر معمولی مقام عطا کیا۔ قرآن کی پہلی وحی ہی ’’اقْرَأْ‘‘ سے شروع ہوئی:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی اور انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
(سورۂ علق: 1-5)
اور فرمایا:
هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘
(سورۂ زمر: 9)
رسولِ اکرم ص نے فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا
’’مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
(سنن ابن ماجہ)
یہ ارشاد استاد کے مقام کی عظمت کے لیے کافی ہے کہ تعلیم، انبیائے کرام کے مشن سے وابستہ ہے۔
استاد کی ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرنا نہیں؛ وہ نسلوں کے مستقبل کا امین ہے۔ اس کا ایک جملہ کسی طالب علم کی زندگی بدل سکتا ہے، ایک حوصلہ افزائی اس کے اندر اعتماد پیدا کرسکتی ہے اور ایک اچھی نصیحت برسوں تک اس کے ساتھ چل سکتی ہے۔
ایک اچھا استاد صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ کیسے سوچنا ہے۔ وہ علم کے ساتھ ادب، کامیابی کے ساتھ عاجزی، اختلاف کے ساتھ برداشت اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری سکھاتا ہے۔ کیونکہ تعلیم کا مقصد صرف پڑھے لکھے انسان پیدا کرنا نہیں، اچھے انسان پیدا کرنا ہے۔
استاد کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کا علم اس کے شاگردوں کے کردار میں زندہ رہتا ہے۔ ایک استاد کا شاگرد ڈاکٹر، انجینئر، عالم، ادیب یا سائنس دان بن سکتا ہے، مگر استاد کی حقیقی کامیابی تب ہوتی ہے جب اس کا شاگرد ایک اچھا انسان بن جائے۔
اسی لیے استاد کا احترام کسی ایک دن کا تقاضا نہیں۔ یومِ استاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری کامیابیوں کے پیچھے ان ہاتھوں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے کبھی ہماری انگلی پکڑ کر پہلا حرف لکھایا تھا۔
وقت گزر جاتا ہے، کلاسیں ختم ہوجاتی ہیں، کتابیں پرانی ہوجاتی ہیں، مگر سچا استاد دل سے کبھی رخصت نہیں ہوتا۔ اس کی آواز مشکل وقت میں سنائی دیتی ہے، اس کی نصیحت زندگی کے موڑ پر راستہ دکھاتی ہے، اور اس کا دیا ہوا علم اندھیروں میں چراغ بن کر جلتا رہتا ہے۔
استاد صرف شمع نہیں جو خود جل کر روشنی دے؛ وہ وہ ہاتھ ہے جو ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن کرتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف کتاب نہیں پڑھاتا، زندگی پڑھاتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف ذہن نہیں بناتا، کردار بناتا ہے۔
سلام اس استاد کو جو صرف شاگرد نہیں بناتا، انسان بناتا ہے۔
یومِ استاد پر تمام اساتذۂ کرام کو عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ سلام۔
اللہ تعالیٰ ہر مخلص استاد کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اس کی محنت کو صدقۂ جاریہ بنائے اور اس کے شاگردوں کو اس کے لیے باعثِ فخر بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
No comments:
Post a Comment