عزائے حسینیٌ کا آخری دن۔
ہم نے کیا کھویا، کیا پایا؟
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
۸ ربیع الاول امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کا آخری دن ہے۔ یہ صرف سوگ کے اختتام کا دن نہیں، بلکہ اپنے طرزِ عزاداری اور پورے محرم کا جائزہ لینے کا بھی موقع ہے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
ہم نے اس سال مجالس میں بہت کچھ سنا؛ لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں سے کتنا ہمارے دل و دماغ میں اترا؟ ایمان میں کتنی پختگی آئی؟ اپنے عقائد کو سمجھنے میں ہم نے کتنی پیش رفت کی؟ کربلا کی تاریخ اور امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مقصد کو ہم نے کتنا سمجھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری مجالس نے ہمارے اعمال، اخلاق، رویّوں اور روزمرہ زندگی میں کتنی تبدیلی پیدا کی؟
اگر محرم کے بعد بھی ہمارے اندر جھوٹ، بد اخلاقی، غیبت، تعصب، ظلم، ناانصافی اور دوسروں کے حقوق کی پامالی پہلے کی طرح موجود ہے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہماری عزاداری نے ہمیں کتنا بدلا۔ کیونکہ مجلس کا مقصد صرف آنکھوں کو نم کرنا نہیں، انسان کو بہتر بنانا بھی ہے۔
کربلا کا پیغام یہی ہے کہ انسان حق کو پہچانے، ظلم کے سامنے نہ جھکے اور اپنے کردار سے اپنے ایمان کا ثبوت دے۔ اس لیے ۸ ربیع الاول پر دوسروں کو پرکھنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں:
ہم نے اس محرم میں کتنا سنا، کتنا سمجھا اور کتنا اپنی زندگی میں اتارا؟
ہر سال کی طرح اس سال بھی محرم میں ہمارے ہندو اور اہلِ سنت برادران نے امام حسین علیہ السلام سے اپنی عقیدت اور محبت کے اظہار کے لیے مختلف جھانکیاں، مجسمے اور دیگر طریقے اختیار کیے۔ امام حسین علیہ السلام کسی ایک طبقے یا مذہب کے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے امام ہیں۔ ہر انسان اپنی عقیدت، فہم اور طرزِ اظہار کے مطابق انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے میں آزاد ہے۔
یقیناً ایسی رسومات اور اعمال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اصل امتحان یہاں صاحبانِ ایمان کا ہے۔ ہمیں یہ فرق ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ عقیدت اپنی جگہ، مگر ہر رسم اور ہر طرزِ اظہار دین یا عزاداری کا حصہ نہیں بن جاتا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم دوسروں کی بنائی ہوئی جھانکیوں، مجسموں اور غیر اسلامی رسومات پر عقیدت کے مخملی پردے ڈال دیں، اور جو چیز آج صرف ان کے اظہارِ عقیدت کا ایک طریقہ ہے، وہ آنے والے برسوں میں ہمارے ہاں مقدساتِ عزاء کا درجہ حاصل کرلے۔
بدقسمتی سے اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ بہت سی غیر ثابت شدہ رسموں اور طریقوں کو محض عقیدت کے نام پر قبول کیا گیا، پھر رفتہ رفتہ وہ عزاداری کا لازمی حصہ سمجھ لیے گئے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محبتِ حسین علیہ السلام کے ساتھ شعورِ حسین علیہ السلام کو بھی زندہ رکھیں، تاکہ عقیدت ہمیں دین کی حدود سے دور نہیں بلکہ اصل پیغامِ کربلا کے قریب لے جائے۔
یہ ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ اس میں نہ اندھی عقیدت کی گنجائش ہے اور نہ کسی پر تبلیغی ڈنڈا چلانے کی۔ ضرورت حکمت، سنجیدگی، احترام اور دینی بصیرت کی ہے۔ دوسروں کی عقیدت کا احترام اپنی جگہ، لیکن اپنی عزاداری کی دینی حدود اور اس کے اصل پیغام کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ حقیقی احترام یہی ہے کہ محبتِ حسین علیہ السلام کو ہر غیر ضروری رسم کی آمیزش سے محفوظ رکھا جائے۔
محرم ہمیں صرف رونے اور غم منانے کا نہیں، بلکہ رک کر سوچنے اور اپنے عمل کا جائزہ لینے کا بھی درس دیتا ہے۔ اگر ہم عزاداری کے نام پر ہر نئی چیز کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرتے چلے گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن پیغامِ حسین علیہ السلام رسم و رواج کے ہجوم میں دب کر رہ جائے۔ عزاداری کا اصل مقصد صرف غم کا اظہار نہیں، بلکہ کربلا کی حقیقت، امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور ان کے قیام کے مقصد کو زندہ رکھنا ہے۔
آئیے ۸ ربیع الاول، ایامِ عزائے حسینی علیہ السلام کے اختتام پر، دوسروں کو پرکھنے کے بجائے ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں:
ہم نے عزاداری کو کتنا سمجھا ہے، اور اسے کتنا رسم بنا دیا ہے؟
#عزاداری
#امام
#حسین
#کربلا
#azadari
#imam
#husain
#karbala
No comments:
Post a Comment