آیت اللہ العظمیٰ امام الخوئی طاب ثراہ کی علمی شخصیت کے امتیازات۔
✍️ سید کرامت حسین شعور جعفری
شیعہ فقاہت کی تاریخ دراصل علم، تحقیق اور اجتہاد کے مسلسل ارتقا کی تاریخ ہے۔ ہر دور میں ایسے عظیم فقہاء پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے علم، فکر اور تحقیق سے فقہِ اہلِ بیت علیہم السلام کو مزید مضبوط، منظم اور مؤثر بنایا۔ کسی نے فقہی مباحث کو ترتیب دی، کسی نے اصولِ استنباط کو مستحکم کیا، کسی نے استدلال کی نئی راہیں کھولیں، اور کسی نے اجتہاد کو زمانے کے نئے مسائل سے ہم آہنگ کیا۔
اسی علمی سفر میں شیخ الطائفہ محمد بن حسن طوسی نے نجف اشرف کو فقاہت کا مرکز بنایا اور فقہ کو منقولات سے استدلال کی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ محقق حلی نے فقہی ابواب کو منطقی ترتیب عطا کی، علامہ حلی نے فقہِ استدلالی کو وسعت بخشی اور تقابلی منہج کو فروغ دیا۔ شہیدِ اول اور شہیدِ ثانی نے فقہی تطبیق اور تدقیق میں اضافہ کیا، جبکہ وحید بہبہانی نے اخباری جمود کے مقابل اصولی مکتب کو نئی زندگی عطا کر کے اجتہاد کی روح کو ازسرِنو بیدار کیا۔
یہی علمی روایت شیخ مرتضیٰ انصاری کے ہاتھوں اپنے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ انہوں نے اصولِ عملیہ، حجیتِ امارات، براءت، احتیاط، استصحاب اور تعادل و تراجیح جیسے مباحث کو اس انداز سے مرتب کیا کہ جدید اصولِ فقہ کی بنیاد استوار ہوگئی۔ ان کے بعد آخوند ملا محمد کاظم خراسانی نے کفایۃ الاصول کے ذریعے اصولی فکر کو فلسفیانہ گہرائی، منطقی ترتیب اور استدلالی جامعیت عطا کی، جبکہ آیت اللہ شیخ محمد حسین نائینی نے اسی روایت میں دقتِ نظر اور تحلیلِ عقلی کا اضافہ کیا۔
آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی اسی ارتقائی سلسلے کی ایک درخشاں اور فیصلہ کن کڑی ہیں۔ انہوں نے اپنے اسلاف کے علمی ورثے کو محض محفوظ نہیں رکھا بلکہ تنقیح، تحقیق، نقد اور تجدید کے ذریعے اسے نئے اجتہادی افق عطا کیے۔ ان کی فقاہت کا امتیاز کثرتِ فتاویٰ نہیں بلکہ اصالتِ منہج ہے۔ ان کے نزدیک اجتہاد کا مدار حجیتِ دلیل ہے، نہ کہ شہرتِ قول؛ وثاقتِ سند ہے، نہ کہ کثرتِ نقل؛ اور تحقیقِ موضوع ہے، نہ کہ تقلیدِ آراء۔
ان کے علمی مکتب میں فقہ، اصول اور رجال تین جداگانہ علوم نہیں بلکہ ایک ہی استنباطی نظام کے باہم مربوط اجزاء ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک علمِ رجال فقہ کا حاشیہ نہیں بلکہ مقدّمۂ استنباط ہے۔ جب تک سند کی حجیت ثابت نہ ہو، دلالت پر بحث مکمل نہیں ہوتی، اور جب تک دلالت واضح نہ ہو، حکمِ شرعی کا استنباط معتبر نہیں ہو سکتا۔ اس طرح انہوں نے سند، دلالت اور حجیت کے درمیان ایسا مضبوط علمی ربط قائم کیا جو معاصر فقاہت کی نمایاں خصوصیت بن گیا۔
اسی اجتہادی منہج کا ایک نہایت قابلِ توجہ پہلو ان کا قرآنی ذوق بھی ہے۔ آیت اللہ خوئیؒ کی خواہش تھی کہ وہ قرآنِ کریم کی ایک ایسی جامع تفسیر تحریر کریں جو اپنے استدلال، اصولی منہج اور علمی عمق کے اعتبار سے ایک مستقل مکتب کی نمائندہ ہو۔ اس عظیم منصوبے کے مقدمے کے طور پر انہوں نے «البیان فی تفسیر القرآن» تصنیف کی، جو علومِ قرآن، جمعِ قرآن، عدمِ تحریفِ قرآن اور اصولِ تفسیر پر ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہے۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی اسی نوعیت کے ایک جامع تفسیری منصوبے پر مصروف ہیں، تو انہوں نے علمی اخلاق، احترامِ اہلِ علم اور غیر ضروری تکرار سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے وہیں روک دینا مناسب سمجھا۔
یہ واقعہ ان کی شخصیت کے دو نہایت روشن پہلوؤں کو آشکار کرتا ہے۔ پہلا یہ کہ ان کے نزدیک علم کا مقصد شہرت یا تصنیفات کی کثرت نہیں بلکہ امت کی حقیقی علمی ضرورت کو پورا کرنا تھا۔ جہاں انہیں محسوس ہوا کہ ایک عظیم مفسر اسی میدان میں غیر معمولی خدمت انجام دے رہا ہے، وہاں انہوں نے مسابقت کے بجائے تعاون، احترام اور علمی وسعتِ ظرف کا راستہ اختیار کیا۔ یہ طرزِ عمل ان کی اخلاص پر مبنی علمی شخصیت کا بہترین مظہر ہے۔
دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ معنی خیز ہے۔ بظاہر انہوں نے تفسیرِ قرآن کے ایک عظیم منصوبے کو ترک کیا، لیکن اسی کے بعد ان کی علمی توانائی «معجم رجال الحدیث» کی تالیف پر مرکوز ہوگئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشیتِ الٰہی نے ان سے علمِ حدیث، علمِ رجال اور فقہِ استدلالی کے میدان میں ایک ایسی خدمت لینا مقدر کر رکھی تھی جس کی مثال اپنی جامعیت، دقتِ تحقیق اور دیرپا اثرات کے اعتبار سے بہت کم ملتی ہے۔ معجم رجال الحدیث صرف راویوں کا تعارف نہیں بلکہ جرح و تعدیل، طبقاتِ رواۃ، اتحاد و تعددِ عناوین، توثیقاتِ خاصہ و عامہ، تعارضِ اقوال، تشخیصِ مہملات، نقدِ اسانید اور مبانیِ حجیتِ خبر کا ایک بے مثال علمی انسائیکلوپیڈیا ہے، جس نے معاصر فقاہت کے استنباطی ڈھانچے کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔ اگر «البیان» ان کے قرآنی ذوق کی آئینہ دار ہے تو «معجم رجال الحدیث» ان کے اجتہادی مکتب کی کامل ترین ترجمان ہے۔
اصولِ فقہ میں آیت اللہ خوئیؒ کا منہج بھی اسی قدر منفرد ہے۔ حجیتِ خبرِ واحد، اصالۃ الظہور، اطلاق و تقیید، عام و خاص، مفاہیم، استصحاب، براءت، اشتغال، احتیاط، حکومت و ورود، تعارضِ ادلہ اور مرجحات جیسے دقیق مباحث میں ان کی تحلیل، دقتِ نظر اور منطقی استحکام انہیں معاصر اصولیین کی صفِ اول میں کھڑا کرتا ہے۔ ان کے ہاں اصول، فقہ پر حاکم نہیں بلکہ فقہ کا خادم ہے؛ اسی لیے ہر اصولی بحث کی قدر و قیمت اس کے عملی استنباط سے متعین ہوتی ہے۔
آیت اللہ خوئیؒ کی ایک اور نمایاں خصوصیت استقلالِ علمی ہے۔ انہوں نے شیخ طوسی، نجاشی، محقق حلی، علامہ حلی، شیخ انصاری اور آخوند خراسانی جیسے اکابر سے بھرپور استفادہ کیا، مگر کبھی شخصیت کو دلیل پر مقدم نہیں کیا۔ ان کے علمی منہج کا خلاصہ یہ ہے کہ دلیل، اشخاص کی محتاج نہیں؛ بلکہ اشخاص کی آراء دلیل کی روشنی میں پرکھی جاتی ہیں۔ یہی ایک حقیقی مجتہد اور آزاد محقق کی پہچان ہے۔
معاصر فقاہت پر ان کے اثرات غیر معمولی ہیں۔ نجف اشرف کے دروسِ خارج ہوں یا قم، مشہد، لبنان، برصغیر اور دنیا کے دیگر علمی مراکز، رجالی تحقیق، اصولی استدلال اور فقہی تنقیح میں ان کے منہج کی بازگشت نمایاں طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ بہت سے فقہاء نے ان کے بعض نتائج سے اختلاف کیا، لیکن ان کے منہجِ تحقیق کی اہمیت سے انکار ممکن نہ رہا۔ یہی کسی عظیم علمی مکتب کی کامیابی ہوتی ہے کہ اختلاف بھی اسی کے قائم کردہ علمی اصولوں اور زبان کے دائرے میں کیا جائے۔
تاریخِ فقاہت کا غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ شیخ طوسی نے نجف کی علمی بنیاد رکھی، شیخ انصاری نے اصولِ اجتہاد کو نئی زندگی بخشی، اور آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی نے فقہ، اصول اور رجال کو ایک ہم آہنگ استنباطی نظام میں ڈھال کر مدرسۂ نجف کی علمی روایت کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی حقیقی میراث صرف ان کے فتاویٰ یا تصانیف نہیں، بلکہ وہ تحقیقی منہج ہے جس نے دلیل کو محور، تحقیق کو معیار، علمی امانت کو شعار اور اجتہاد کو زندہ فکر کا عنوان بنا دیا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو ہر دور کے فقیہ، محقق اور طالبِ علم کو یہ سبق دیتا ہے کہ علم کی بقا شخصیت پرستی میں نہیں بلکہ دلیل کی پاسداری، تحقیق کی دیانت اور حق کی جستجو میں ہے۔
#خویی #فقیه #مرجع
#fiqh #shia #marja #khoei
No comments:
Post a Comment