مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا:
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری
معرفتِ الٰہی کی معراج،
کربلا تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم ترین امتحان ہے جہاں صبر، وفا، ایثار اور بندگی اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر ہوئے۔ ایک ہی دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام، ان کے اہلِ بیت اور وفادار اصحاب راہِ حق میں قربان کر دیے گئے، خیمے جلا دیے گئے، معصوم بچوں کو پیاس نے تڑپایا اور اہلِ بیت علیہم السلام کو اسیری کی منزلوں سے گزارا گیا۔ ایسے دل خراش مناظر کے بعد جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے ابنِ زیاد نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ آپ نے اللہ کا اپنے بھائی کے ساتھ کیا معاملہ دیکھا، تو آپ نے تاریخ کا وہ لازوال جواب دیا: “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔ یہ الفاظ کسی جذباتی کیفیت کا اظہار نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے قلب کی گواہی تھے جو معرفتِ الٰہی کے نور سے منور ہو چکا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اس جواب کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ نے ظلم کو ہرگز خوبصورت قرار نہیں دیا۔ ظلم اپنی حقیقت میں ظلم ہے، قاتل اپنے جرم کا ذمہ دار ہے اور باطل کبھی حق نہیں بن سکتا۔ آپ نے جس “جمال” کا مشاہدہ کیا، وہ اللہ کی راہ میں دی گئی بے مثال قربانی کا جمال تھا، حق پر استقامت کا جمال تھا، بندگی اور وفاداری کا جمال تھا، اور اس حکمتِ الٰہی کا جمال تھا جس نے کربلا کے خون کو اسلام کی دائمی حیات کا سرچشمہ بنا دیا۔ آپ کی نگاہ قاتل کے ظلم پر نہیں رکی، بلکہ اس رب کی تدبیر تک پہنچ گئی جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے۔
درحقیقت “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا” توحید کی نظری تعریف نہیں، بلکہ توحید سے جنم لینے والی معرفتِ الٰہی، رضا بالقضاء، تسلیم اور حسنِ ظن باللہ کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔ جب بندہ اپنے رب کو حکیم، عادل، رحیم اور علیم مان لیتا ہے تو وہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ بے حکمت نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ مصیبت کا انکار نہیں کرتا، اس پر روتا بھی ہے، مگر اپنے رب سے شکوہ نہیں کرتا۔ اس کی نگاہ آزمائش کے ظاہری درد سے آگے بڑھ کر اس کے اندر پوشیدہ حکمت اور الٰہی مقصد کو تلاش کرتی ہے۔ یہی معرفت، رضا کو جنم دیتی ہے، اور یہی رضا انسان کو اعتراض سے بچا کر اطمینان عطا کرتی ہے۔
قرآن بھی اسی حقیقت کی تعلیم دیتا ہے: ﴿وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ… وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾۔ انسان کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ ہم صرف ایک لمحہ دیکھتے ہیں، وہ ابتدا سے انتہا تک پورا نظام دیکھتا ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت واقعات کو صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ ایمان سے دیکھتے ہیں۔ جب نگاہ معرفت سے روشن ہو جائے تو انسان کو ہر آزمائش تربیت کا وسیلہ، ہر قربانی قربِ الٰہی کی منزل، اور ہر صبر ابدی کامیابی کی تمہید دکھائی دینے لگتا ہے۔
اسی لیے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ مختصر جملہ کسی ایک تاریخی لمحے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لیے ایک دائمی پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کی بلندی مصیبتوں سے بچ جانے میں نہیں، بلکہ مصیبتوں کے درمیان بھی اللہ کی حکمت پر اعتماد، اس کی قضا پر رضا، اور اس کی رحمت سے حسنِ ظن برقرار رکھنے میں ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی زبان سے شکوہ نہیں، حمد نکلتی ہے؛ اس کے دل میں مایوسی نہیں، یقین جاگزیں ہوتا ہے؛ اور پھر وہ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں خاموشی سے یہی گواہی دیتا ہے:
“مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا”۔
#زینب
#کربلا
#شام
#عزاداری
#حسین
#zainab
#azadari
#syria
#husain
#karbala
No comments:
Post a Comment