Monday, 26 May 2025

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۰۔والدہ امام محمد تقی علیہ السلام


سبیکہ امام رضا کی زوجہ اور امام جواد (محمد تقی) کی والدہ تھیں ، ان کے مختلف ناموں جیسے: درّہ، خیزران، ریحانہ، سُکینہ کا تذکرہ بھی آیا ہے، خیزران نام کا انتخاب امام رضا نے کیا تھا۔

آپ ام المومنین جناب ماریہ قبطیہ (زوجہ پیغمبرؐ اسلام) کے خاندان اہل نوبہ سے تھیں اسی وجہ سے انہیں سبیکہ نوبیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اہل نوبہ عیسائی تھے اور مسلمانوں سے شکست کے بعد سبیکہ (خیزران) اسیروں میں کنیز کے طور پر فروخت کی گئیں۔

وہ بلند ترین فضائل اخلاقی کی حامل تھیں اور اپنے زمانہ کی بہترین عورتوں میں سے تھیں ، پیغمبر اسلام نے انہیں ایک روایت میں «خیر الاماء» بہترین کنیز کہا ہے۔

ساتویں امامؑ نے آپ کے کچھ خصوصیات اس وقت بیان کئے ہیں جب آپ امام رضاؑ کے بیت الشرف میں آئی تھیں اور اپنے ایک صحابی یزید بن سلیط کے ذریعہ انہیں سلام بھجوایا تھا۔

آٹھویں امام خیزران کو پاکیزہ، پاکدامن، منزہ با فضیلت کے لفظوں سے یاد کیا ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ سبیکہؑ تقدس اور پاکیزگی میں مثل جناب مریمؑ تھیں اور پاکیزہ پیدا ہوئی تھیں ۔

امام جوادؑ کی مادر گرامی با عظمت خواتین میں سے ہیں جن کی تین معصوموں ؑ نے مدح کی ہے، رسولؐ اکرم نے انہیں پاک و پاکیزہ کنیزکہا ہے، امام کاظمؑ نے اپنے ایک صحابی کے توسط سے انہیں سلام پہونچایا ہے،امام علیؑ رضا نے ان کی تعریف کرتے ہوئے مریمؑ مادر عیسیٰؑ سے تشبیہ دی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ متقی اورپرہیزگار خاتون تھیں کیونکہ اگر ائمۂ معصومینؑ کسی سے اظہار محبت کریں ان کی مدح و تعریف میں زبان کھولیں تو نفسانی خواہشات کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ اس میں موجود پسندیدہ خصلت کی وجہ سے ہوگا اس بنا پر بعض تعریفات مادر امام جوادؑ اسی امر کی طرف لوٹتی ہیں ، مورخین نے انہیں ماریہؑ قبطیہ زوجہ پیغمبرؐ ؐاسلام کے خاندان سے تحریر کیا ہے۔

 نام و کنیت:

سیرت نویسوں نے مادر امام جوادؑ کے کئی نام ذکر کئے ہیں ، علامہ مجلسی کا بیان ہے کہ مادر امام جوادؑدرّہ نام کی کنیز تھیں جسے امام رضا ؑنے خیزران کا نام دیا وہ ماریہؑ قبطیہ کے خاندان سے تھیں ان کا نام سبیکہ اور ریحانہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔([1])  

کچھ لوگوں نے مادرامام جوادکا نام سبیکہ نوبیہ قرار دیا ہے۔

(نوبہ جنوب مصر” تقریباً موجودہ سوڈان“ میں ایک وسیع علاقہ ہےوہاں کے لوگ نصرانی ہیں ان کے بارے میں رسولخداؐ کا ارشاد ہے : اگر کوئی شخص اپنے لئے بھائی منتخب کرنا چاہتا ہے تو نوبہ کے لوگوں میں سے انتخاب کرے۔)

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی والدہ کا نام ریحانہ تھا۔([2])

ان کا نام سکینہ مرسیہ بھی بیان ہوا ہے۔([3])

 اعیان الشیعہ میں بیان ہوا ہے کہ سکینہ ، سبیکہ کی تصحیف ہے۔([4])  

سید کاظم قزوینی لکھتے ہیں :مادرامام جوادؑکے متعدد نام چند دلیلوں کی بنا پر ہیں ، جب امام جوادؑ شکم میں حالت حمل میں تھے تو انہیں درّہ نام دیا گیاکیونکہ ان کا چہرہ نور امامت سے درخشندہ رہتا تھا، سبیکہ اس لئے نام قرارپایاکہ ان کا چہرہ شمس طلائی کی طرح روشن تھا۔([5])

امام جوادؑکی مادرگرامی نہایت متقی اورفضیلت مآب خاتون تھیں ۔([6])

ان کی کنیت ام الحسن تھی،([7])  مشہور نظریہ کی بنا پر امام رضا ؑاور خیزران کی ازدواجی زندگی سے صرف امام جوادؑکی ولادت با سعادت ہوئی ہے۔([8])

 فرمان رسول اکرمؐ:

امام علی رضا ؑکے چچاعلی ابن جعفر بیان کرتے ہیں کہ جب امام رضاؑ کے بھائیوں اور چچاؤں نے امام رضاؑ کے خلاف آواز بلند کی خداوندعالم نے امامؑ کی مددفرمائی اور آپ نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں ،میں نے اٹھ کر امامؑ کے دست مبارک کو بوسہ دیا، آپ نے مجھ سے فرمایا چچا کیا آپ نے میرے والد کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ رسولخداؐ نے فرمایا میرے باپ فدا ہوجائیں پاکیزہ اور بہترین نوبیہ کنیز پر جس کے ذریعہ ایسا فرزند وجود میں آئےگا جو اپنے زمانہ کے لوگوں کے ستم سے اپنی منزل سے دور کیا جائےگا اور پردہ غیبت میں چلا جائے گا۔([9])  

محمد باقر کمرہ ای کا بیان ہے کہ اس سے امام زمانہ (عجل)مراد ہیں جو نوبی نژاد کنیز مادر امام جوادؑ کی نسل سے ہوں گے۔([10])  

 امام موسیٰ کاظمؑ کا سلام:

یزید ابن سلیط کا بیان ہےکہ میں حج وعمرہ کی ادائیگی کیلئے مکہ گیا ہوا تھا راستہ میں امام موسیٰ کاظمؑ سے ملاقات ہوئی امامؑ نے فرمایا اسی سال طاغوتی لوگ مجھے گرفتار کریں گے امامت کا فریضہ میرے فرزند علیؑ کے حوالہ جو ہمنام علیؑ ہے،پہلے علیؑ مولائے کائنات امیر ؑالمومنین ہیں دوسرے علیؑ چوتھے امام سجادؑ ہیں ، اسے علیؑ اول کی فہم وعلم، دین، مہر ومحبت عطاہوگی، محنت وصبر علیؑ ان چیزوں پر جسےوہ ناپسندکرتے ہوں گے،پھر فرمایا یزید جب اس جگہ سے گزرو اور اسے دیکھو اور یقینا دیکھوگے تو اسے بشارت دیدو کہ اس کو خدا ایک امانتدار فرزند عطا کرے گا وہ تمہیں اس کی خبر دے گا کہ تم نے مجھ سے اس جگہ ملاقات کی ہے تو اس وقت اسے اطلاع دیدوکہ جس کنیز سے وہ بچہ پیدا ہوگا خاندان ماریہؑ قبطیہ مادر ابراہیم فرزند رسولؐ اکرم سے ہوگی ،اے یزید! اگر ممکن ہوتومیرا سلام اس کنیز کو پہونچا دینا۔([11])  

شیخ عباس قمی کہتے ہیں کہ اس خاتون کی عظمت کیلئے یہ معتبر حدیث کافی ہے کہ امام موسیٰ کاظمؑ یزید ابن سلیط کواپنا سلام پہونچانے کا حکم دیتے ہیں جیساکہ جناب رسولخداؐ نے جناب جابر کے ذریعہ اپنا سلام امام محمدؑ باقر تک پہونچایاتھا۔([12])  

 خانۂ ولایت میں آنا:

جناب خیزرانؑ کی اسیری کی تاریخ معلوم نہیں ہے یزید ابن سلیط بیان کرتے ہیں بہت دنوں بعد میں نے اسی جگہ امام رضا ؑسے ملاقات کی جہاں امام کاظمؑ سے ملاقات ہوئی تھی انھوں نے میری ملاقات کی خبر دی اور فرمایا کہ جواطلاع میرے والد نے تمہیں دی تھی اسے بیان کرو ،میں نے امام رضا ؑسے اسے بیان کیا امام رضا ؑنے فرمایا ابھی وہ کنیز نہیں آئی ہے جب وہ ہمارے پاس آجائے گی تو میں انکا سلام اس تک پہونچادوں گا۔

یزید ابن سلیط کہتے ہیں کہ میں امامؑ کے ساتھ مکہ گیا امام رضا ؑنے اس سفر میں مادر امام جوادؑ کو جواولاد زید ابن علی ابن حسینؑ سے کنیز تھیں خریدا کچھ زمانہ گزرنے کے بعد وہی کنیز امام جوادؑ کی والدہ بنیں ۔ ([13])

بہر حال وہ پاکیزہ ،عفیفہ،بافضیلت خاتون امامؑ کے بیت الشرف میں آئیں اور اپنی نورانی زندگی کاآغازکیا ،امام رضاؑ کی بہنوں نے ان کا استقبال کیا اور ان کا بیحد احترام بھی کیا۔

 امام جواد ؑکی ولادت:

حکیمہؑ خاتون بنت امام موسی کاظمؑ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز میرے بھائی امام رضاؑ نے مجھے بلایا اور فرمایا: حکیمہؑ آج کی رات خیزران سے متبرک فرزند پیدا ہوگا ،تم ولادت کے وقت موجود رہو۔

حکیمہ کہتی ہیں کہ میں رات میں خیزران کے پاس رہی میرے بھائی نے مجھ کو قابلہ کے ہمراہ خیزران کے کمرہ میں چھوڑا چراغ روشن تھا اور دروازہ بند۔

جب دردزہ وضع حمل ہواتو ہم نے انہیں طشت میں بٹھایا چراغ گل کیا ہم نگرانی میں رہے ناگاہ ہم نے دیکھا کہ خورشید امامت جلوہ افروز ہواآپ پر ایک نازک پردہ احاطہ کئے ہوئے تھا۔

 یستطیع نورہ حتی أضاء البیت فابصرناہ فأخذتہ فوضعتہ فی حجرہ. ([14])

آپ کے وجود سے ایسا نور ساطع تھا جس نے پورے کمرہ کو نورانی بنادیا اور ہمیں چراغ کی کوئی ضرورت نہ رہی میں نے انہیں اپنے دامن میں لیا میرے بھائی امام رضا ؑکمرہ میں داخل ہوئے جبکہ میں نومولود کو سفید کپڑے میں لپیٹے تھی آپ نے نومولودکو مجھ سےلےکر گہوارہ میں رکھ دیا اور فرمایا: یاحکیمة الزمی مھدہ .اے حکیمہ اس گہوارہ سے جدا نہ ہونا۔

تیسرے روز نومولود نے اپنی آنکھیں کھولیں داہنے بائیں نگاہ کی اور بزبان فصیح بولے: أشہد أن لاالٰہ الا اللہ وأشہد ان محمداً رسول اللہ.

حکیمہ کہتی ہیں کہ مجھے تعجب ہوا میرے بھائی امام رضاؑ کمرہ میں آئے میں نے جو کچھ دیکھا اورسنا تھا ان سے عرض کیا آپ نےفرمایا: یاحکیمة ماترون من عجائبہ أکثر . اس کے بعد اس سے بھی زیادہ عجائبات کا تم مشاہدہ کروگی جو اب تک تم نے نہیں دیکھا ہے۔([15])  

 مادر پاکیزہ:

امام رضا ؑکے آخر عمر تک کوئی فرزند نہیں تھا خانوادہ کی نگاہیں اوراصحاب کی نظریں خیزران پر جمی ہوئی تھیں طولانی انتظار کرنا پڑا بعض اصحاب امامؑ نے یہ بھی کہا کہ آپ ایک فرزند کیلئے خدا کی بارگاہ میں دعا کریں امام نے ان لوگوں کو بشارت دی تھی کہ خداوندعالم خیزرانؑ کے فرزند کے ذریعہ ان کی نسل کی حفاظت کرےگا۔

امام جوادؑاپنے والد بزرگوار امام رضاؑ کی شہادت سے آٹھ سال قبل سنہ۱۹۵ ھ میں پیدا ہوئے امام رضاؑ خوشی کے عالم میں اصحاب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: قد ولد لی شبیہ موسیٰ بن عمران فالق البحار وشبیہ عیسیٰ بن مریم قدست ام ولدتہ قد خلقت طاہرۃ مطہرۃ۔ خداوندعالم نے مجھے ایسا فرزند عطا کیا ہے جو موسیؑ ابن عمران کے مثل ہے جنہوں نے دریا میں راستہ بنایا اور عیسیٰ ابن مریمؑ کی شبیہ ہے جن کی والدہ طاہرہ ومطہرہ تھیں ۔ ([16])



([1])- بحار الانوار،ج:۵،ص:۷۔

([2])- حیات سیاسی وفکری امامان شیعہ،ص:۴۷۲۔

([3])- کشف الغمۃ،ج:۲،ص:۳۴۳۔

([4])- ج:۲، ص:۳۲۔

([5])- الامام الجوادؑمن المہد الیٰ اللحد،ص:۱۹۔

([6])- عیون المعجزات،ص:۱۱۸۔

([7])- مناقب آل ابی طالب،ج:۴،ص:۴۱۱۔

([8])- الارشاد،ص:۶۱۵،معصوم یازدہم،ص:۱۶۷۔

([9])- اعلام الوریٰ، ص:۳۴۵، کشف الغمہ، ج:۲، ص:۳۵۱، الارشاد، ص:۶۱۵، ریاحین الشریعۃ، ج:۳، ص:۲۳۔

([10])- اصول کافی،ج:۲ ،ص: ۱۴۴۔

([11])- اصول کافی،ج:۲، ص:۲۹۔

([12])- انوار البہیہ ،ص:۳۹۱۔

([13])- اعلام الوریٰ ،ص: ۳۲۰،اصول کافی ،ج: ۲،ص: ۱۲۹۔

([14])- بحار الانوار،ج: ۵۰،ص:۱۰۔

([15])- دلائل الامامۃ،ص: ۳۸۳،اعیان الشیعہ،ج:۲ ،ص:۳۲۔

([16])- عیون المعجزات، ص: ۱۱۸، بحار الانوار، ج:۵۰، ص: ۱۵۔


#مادر_امام_علی_تقی#تعارف#خیزران#زوجہ_امام_علی_رضا#معصومین#ائمہ

مادران معصومین ایک تعارف۔۹۔والدہ امام علی رضا علیہ السلام

 

آپ امام موسی کاظم کی زوجہ، امام رضا اور فاطمہ (معصومۂ قم) کی والدہ تھیں ۔

آپ اشراف عجم سے کنیز تھیں جو عربوں کے درمیان پیدا ہوئی تھیں ، جناب حمیدہ کے توسط سے امام صادق نے انہیں خریدا اور امام کاظم کے حوالہ کیا، بعض مورخین نے لکھا ہے کہ آپ شمال افریقہ کے شہر نوبہ سے تعلق رکھتی تھیں ، بعض نے انہیں جنوب فرانس کے اہل جزیرہ مارسی سے قرار دیا ہے۔

شیخ صدوق نے ایک روایت علی بن میثم ست نقل کیا ہے جس میں ایک خواب کی جانب اشارہ کیا ہے کہ حمیدہ خاتون نے پیغمبر اسلام کو خواب میں دیکھا کہ آنحضرت ان سے فرما رہے ہیں : اے حمیدہ! نجمہ کو اپنے فرزند موسی کو عطا کر دو کیونکہ ان سے زمین کی بہترین مخلوق دنیا میں آئے گی، اس خواب کے بعد حمیدہ نے جناب نجمہ کو اپنے فرزند کو عطا کر دیا۔

امام موسی کاظم نے بھی جناب نجمہ کی خریداری کو پیغمبر کے اسی انداز کے حکم کے مطابق بیان فرمایا ہے۔

نجمہ ان سعادتمند اور عظیم کنیزوں میں سے ہیں جو ایک ستارۂ فروزاں کی مانند اپنے وطن اور خانوادہ سے نکلیں خداوندعالم کی مشیت اور ارادہ سے امامت کے درخشاں ستاروں کے مدار میں داخل ہو گئیں ، ان کی خریداری اور امام کاظمؑ سے ان کا ازدواج نبی مکرمؐ کے حکم سے انجام پایا ، سب سے پہلے عظیم تحفہ خداوندی جو ان کے مقدر میں آیا کہ وہ ایک معصوم امامؑ کی ماں قرار پائیں ، زمانۂ حمل سے لے کر نور الٰہی کے ظہور کے وقت تک ان کے واقعات و خیالات اتنے ہیں کہ سب ان کی روحانی عظمت اور فوق العادہ صلاحیت کے قائل ہیں ، ائمۂ معصومینؑ نے فرمایا ہے کہ لوگوں کے اندر ہمارے خصوصیات کے کلی ادراک کی گنجائش نہیں ہے۔([1])

لیکن معصومینؑ کی مادران گرامی نے روحانی کمال اس درجہ تک حاصل کیا کہ انہیں قبول کرنے کی قوت حاصل ہو گئی، نجمہؑ ایک کنیز کی صورت میں لائی گئی تھیں لیکن اسلام کے زیر سایہ امام معصومؑ کے ہاتھ سے آزاد ہوئیں ، آزادی کے ساتھ امام معصوم ؑکی شریکۂ حیات اور امامؑ کی ماں بننے کا بھی شرف ملا اور ان کی نسل سے وہ امامؑ عالم وجود میں آیا جس کے بارے میں متعدد بار امام صادؑق نے اپنے فرزند موسیٰ بن جعفرؑ سےفرمایا: "تمہاری صلب میں عالم آل محمدؐ آنے والا ہے کاش میں اس سے ملاقات کرتا۔"([2]) 

نام، کنیت اور لقب:

امام رضاؑ کی مادر گرامی کے متعدد نام تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں ، جیسے نجمہ،اروی، سکن، سمان اور تکتم، امام رضاؑ نے انہیں طاہرہ نام دیا۔([3])

 ریاحین الشریعۃ میں بیان ہوا ہے کہ والدۂ امام رضا کا نام سکن، نوبیہ، نجمہ، سمانہ اور تکتم ہے۔([4])

مناقب میں ان کا نام صقر اور ارواہ ہے، جب امام رضاؑکی ولادت ہوئی تو ان کا نام طاہرہ ہوا۔([5])

ان کا نام خیزران ، قلیم اور صفرا بھی ہے۔([6])ان کی کنیت ام البنین ہے۔([7])

ان کا لقب شقراء ہے۔([8]) انہیں مرسیہ بھی کہا جاتا ہے۔

یاقوت حموی نے معجم البلدان میں مرسی کو جزیرۂ سیشل کے شہروں میں ایک شہر قرار دیا ہے لیکن مرسی مشہور بندر مارسی ہے جو فرانس کے جنوب میں واقع ہے۔([9])

راہ سعادت پر گامزن:

ہشام احمدکابیان ہے : ایک روز جناب امام موسیٰ کاظمؑ نے مجھے طلب فرمایا اور کہا کہ تمہیں خبر ہےکہ کوئی قافلہ زمین مغرب سے آیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم نہیں ہے، امامؑ نے فرمایا: قافلہ آیا ہےاور اس کے ساتھ کچھ کنیزیں بھی ہیں ، اٹھو چلیں ، میں ان میں سے ایک کنیز خریدنا چاہتا ہوں ، جب ہم باہر آئے تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص کو دیکھا جو مغرب کی جانب سے آیا تھا اور اس کے ہمراہ کنیزیں بھی تھیں ،امامؑ نے اس سے فرمایا اپنی کنیزوں کو مجھے بتاؤ، وہ شخص ہر ایک کنیز کو لایا سات کنیزوں کو لاتا رہا لیکن امامؑ نے فرمایا کہ میں انہیں نہیں چاہتا اب دوسری کنیز نہیں ہے،صرف ایک بیمار کنیز ہے، امامؑ نے فرمایاکہ اسے لاؤ، اس شخص نے اسے قبول نہیں کیا ، امامؑ واپس آگئے، دوسرے روز بھی مجھے طلب کیا اور کہا کہ اس بردہ فروش کے پاس جاؤ اور اس بیمار کنیز کی جو بھی انتہائی قیمت طلب کرتا ہو معلوم کرو اس کی قیمت لے کر کنیز کو لاؤ، میں گیا اور جو قیمت بتائی تھی اتنے میں اسے خرید لیا، اس بردہ فروش نے کہا: تجھے خدا کی قسم ہے، کل وہ دوسرا شخص تمہارے ساتھ کون تھا؟ میں نے کہا بنی ہاشم سے تھا، اس نے پوچھا کس قبیلہ کا؟ میں نے کہا کہ میں اس زیادہ نہیں جانتا ہوں ، ان سوالات سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اس کنیز کو مغرب کے دور ترین شہر سے خریدا تو اہل کتاب کی ایک عورت نے مجھ سے کہا کہ یہ کون کنیز ہے جو تمہارے پاس ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے اس کو اپنے لئے خریدا ہے، اس نے کہا کہ اس کنیز کو تمہارے پاس رہنا مناسب نہیں ہے،اسے روئے زمین کے سب سے بہترین انسان کے پاس ہونا چاہئے، اس کے پاس بھی زیادہ زمانہ نہیں گذرے گا کہ اس سے ایک فرزند پیدا ہوگا جس سے بہتر دنیا کے مشرق و مغرب میں کوئی نہ ہوگا۔([10])

جب میں کنیز کوامام موسیٰ کاظمؑ کے پاس لایا تو زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا کہ امام رضاؑ کی ولادت ہوئی۔([11])

طبرسی نے اعلام الوریٰ میں اور بحرانی نے عوالم میں نقل کیا ہے کہ (امام صادؑق)  نے ہشام بن احمد سے فرمایا آگاہ رہوکہ نجمہ ؑسے ایک ایسا فرزند دنیامیں آئے گا جس کے اور خدا کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے۔([12])

اس مقام پر اشتباہ ہوا ہے بجائے امام کاظمؑ کے امام صادؑق درج ہو گیا ہے ، علامہ بحرانی نے اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔([13])

نجمہؑ کی خریداری حکم خدا سے:

ہشام کا بیان ہے: جب میں کنیز کو امام کاظمؑ کی خدمت میں لایا تو آپ کےکچھ اصحاب جمع ہوئے، امامؑ نے ان لوگوں سے فرمایا : بخدا!میں نے اس کنیز کو نہیں خریدا مگر حکم خدا سے، اصحاب نے امامؑ سے سوال کیا: ایسا کیوں کر ہوا ہے؟ امامؑ نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے جد اور پدر میرے پاس تشریف لائے ان کے ساتھ ایک ابریشم کا ٹکڑا تھا اس کو انہوں نے کھولا جس میں ایک ایسا پیراہن تھا جس سے اس کنیز کی صورت نمایاں تھی،میرے جد وپدر نے فرمایا: اس کنیز سے ایک ایسا فرزند آئے گا جو تمہارے بعد زمین میں سب سے بہترین انسان ہو گا۔پھر آپ نے حکم دیا کہ جب یہ مولود دنیا میں آئے تو اس کا نام علیؑ رکھنا ،خدا وندعالم اسے عدل ، مروت اور رحمت عطا کرے گا ،وہ شخص خوش نصیب ہے جو اس کی تصدیق کرے اور وائےہو اس کیلئے جو اس سے دشمنی کرے اور انکار کرے۔([14])

ازدواج:

امام کاظمؑ کی تمام ازواج کنیز تھیں ، جناب نجمہؑ کی امام کاظمؑ سے ازدواج کی تاریخ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔([15])

امام کاظمؑ کی والدہ حمیدہ ؑاس ازدواج کے بارے میں بیان کرتی ہیں جب نجمہؑ ہمارے گھر میں آئیں تو ایک شب میں نے خواب میں پیغمبر ؐاسلام کو دیکھا ،آپ نے فرمایا: اے حمیدہؑ! نجمہؑ کو اپنے فرزند موسیٰؑ کے ازدواج میں لاؤ، اس سے روئے زمین پر سب سے بہترین فرزند پیدا ہوگا ، میں نے اس حکم پر عمل کیا اور نجمہؑ کا عقد امام کاظمؑ سے کردیا۔([16])

جب یہ طے کر لیا کہ نجمہؑ کاامام کاظمؑ سےعقد کریں تو حمیدہؑ نے اپنے فرزند سے کہا:  میرے فرزند! تکتم وہ کنیز ہے جس سے زیادہ فضیلت والی خاتون میں نے اب تک نہیں دیکھی ،اس میں شک نہیں ہےکہ اگر اس کی نسل چلے گی تو پاک و مطہر ہوگی ، میں تم سے اس کے سلسلہ میں بھلائی اور نیکی کی درخواست کرتی ہوں ۔([17])

نجمہؑ کا علم و ادب:

حریم ولایت میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی نجمہؑ جناب حمیدہ ؑکے زیر تربیت رہیں انہوں نے اپنی استعداد ی کثرت کی وجہ سے بہت جلدی اسلامی آداب و سنن کو حمیدہؑ سےحاصل کرلیا۔”نجمہ عقل و دینداری میں بہترین عورتوں میں سے تھیں وہ حمیدہ ؑکی بیحد تعظیم کرتی تھیں ، حریم ولایت میں آنے کے وقت سےبغیرحمیدہ کی تعظیم واکرام کے ان کی خدمت میں نہیں جاتی تھیں ۔“ ([18])

 امام علی ؑرضا کی ولادت:

مادر امام رضاؑ روشن ضمیر اور پاک باطن خاتون تھیں وہ خود بارداری کے زمانہ میں بیان کرتی ہیں ، جب میں اپنے فرزند علیؑ سے باردارہوئی تو مجھے حمل کی کسی طرح کی سنگینی کا احساس نہیں ہوا، میں سونے کے عالم میں اپنے شکم سے تسبیح و تہلیل و تمجید کی آواز برابر سنتی تھی اور خوفزدہ رہتی تھی اورجب بیدار ہوتی تھی تو یہ آواز نہیں سنتی تھی۔ ([19])

یہی بیان مادرپیغمبرؐ اکرم جناب آمنہؑ اور مادر جناب فاطمہؑ زہرا جناب خدیجہؑ کا بھی روایت میں آیا ہے۔

معصومینؑ کے زمانۂ حمل اور ان کی والدہ کے بارے میں ائمہ طاہرینؑ کے کلمات سے استفادہ ہوتا ہے کہ نطفہ کا انعقاد ، ولادت کا اندازاور انکا رشد عام انسانوں سے الگ ہوتا ہے اسی لئے امام صادؑق نے جمیل بن دراج سے فرمایا: امامؑ کے بارے میں گفتگو نہ کرو کیونکہ وہ شکم مادر میں سنتے ہیں ،جب وہ شکم مادر سے دنیا میں آتے ہیں تو ایک فرشتہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان میں لکھ دیتا ہے:”تمہارےپروردگار کا کلمہ سچائی اور عدالت کے ساتھ مکمل ہو گیا۔“ اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والانہیں ہے، وہ سننے والا اور عالم ہے اور جب وہ امامت کے عہدہ پر پہونچتے ہیں تو ہر شہر میں ان کیلئے نورانی ستون بلند ہوتا ہےجس کے ذریعہ سے وہ بندوں کے اعمال دیکھتے ہیں۔([20])

امام رضاؑسے پوچھا گیا کہ اس عمود سے کیامرادہے جس کے ذریعہ امامؑ بندوں کے اعمال دیکھتا ہے؟ امامؑ نے فرمایا کہ اس سے مراد آہنی عمود نہیں ہے بلکہ وہ فرشتہ ہے جو ہر شہر میں مقرر ہے جس کے ذریعہ خداوند عالم ہر شہر کے لوگوں کو امامؑ تک پہونچادیتا ہے۔([21])

نجمہؑ اپنے فرزند کی ولادت کے بارے میں بیان کرتی ہیں جب میرا یہ فرزند پیدا ہوا  تو اپنے ہاتھوں کوزمین پر رکھا اور سر مطہر کو آسمان کی جانب بلند کیا، لبوں کو جنبش دی اور بات کی لیکن میں اسے سمجھ نہیں سکی اس کے بعد امام موسیٰ کاظمؑ تشریف لائے اور فرمایا: نجمہ پروردگار کا کرم تمہارے لئے مبارک ہو، فرزند کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر امامؑ کو دیا ، امامؑ نے اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور آب فرات طلب کیا اور فرزند کے دہن کو ترکیاپھر مولود کو مجھے عطا کیا : فرمایا کہ اسے لے لو کہ یہ زمین میں ذخیرۂ خدا اور میرے بعد حجت خدا ہے۔([22])

 اس بیان سے جو ہم کو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے:

(۱)- فرزند کی ولادت کے بعد ماں کو مبارکباد دینا، وہ ماں جو زمانۂ حمل اور وضع حمل کی حالت میں مشکلات کو برداشت کرتی ہے شوہر کی مسکراہٹ اور اعزہ و اقرباء کی مبارکباد سے روحانی اور جسمانی سکون پاتی ہے۔

(۲)-نو مولود کے کان میں اذان و اقامت کہنا : شیطان کے فریب سے بچہ کو محفوظ کرتا ہے، ائمہؑ نے اس بارے میں بہت زیادہ تاکید کی ہے۔

(۳)- بچہ کو پاکیزہ سفید کپڑے میں لپیٹ دینا، اس کی تاکید بھی پیغمبرؐنے کی ہے۔

(۴)- بچہ کےدہن کو آبِ فرات سے تر کرنا بھی روایت میں مذکورہے

عبادت سے عشق:

نجمہؑ کو عبادت پروردگار اور خلوت میں خدا سے ہم کلام ہونے میں زیادہ لذت محسوس ہوتی تھی، بچہ کی ولادت کے بعد بھی پہلو میں فرزند کے ہوتے ہوئے بھی خلوت میں لذت عبادت حاصل کرتی تھیں ۔

روایت میں وارد ہوا ہے کہ امام رضاؑ دودھ کی زیادہ ضرورت رکھتے تھے کیونکہ مکمل تخلیق رکھتے تھے ۔

مجلسی کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ امامؐ کا جسم بڑا تھا، نجمہ نے اپنے عزیزوں سے تقاضا کیا: أعینونی بِرضع فقیل لها انقص الدر، فقالت: لا أکذب واللہ ما نقص الدر و لٰکن علیّ ورد من صلواتی و تسبیحی و قد نقص منذ ولّدت۔

میری مدد کرو کہ ایک دایہ تلاش کرو، لوگوں نے ان سے کہا کیا تمہارا دودھ کم ہو گیا ہے جو کافی نہیں ہوتا ہے؟انہوں نے کہا: بخدا میں جھوٹ نہیں بولتی ہوں ، دودھ کم نہیں ہوا ہےلیکن شیرخورانی اور پرورش کی وجہ سے فرزند کی ولادت کے وقت سے نماز اور تسبیح میں کمی آگئی ہے۔([23])



([1])- اصول کافی، ج:۲،ص:۲۳۳۔

([2])- انوار البہیہ،ص:۳۲۶۔

([3])- اعلام الوریٰ،ص:۳۱۴،بحارالانوار،ج:۴۹،ص:۱۰۷،مدینۃ المعاجز،ج:۷،ص:۱۔

([4])- ریاحین الشریعۃ،ج:۳،ص:۲۰۔

([5])- عیون اخبار الرضا،ج:۱۵،مناقب ،ج:۴،ص:۳۹۷۔

([6])- الدرر النظیم،ص:۴۷۷۔

([7])- الارشاد،ص:۵۹۱۔

([8])- کشف الغمۃ،ج:۲،ص:۲۵۹۔

([9])- معصوم ہفتم،ص:۶۷۔

([10])- الارشاد،ص:۵۹۶،اصول کافی،ج:۲،ص:۵۲۸،کشف الغمۃ،ج:۲،ص:۲۴۴۔

([11])- عیون المعجزات،ص:۱۰۲،بحارالانوار،ج:۴۹،ص:۲۰،ریاحین الشریعۃ،ج:۳،ص:۲۰۔

([12])- اعلام الوریٰ،ص:۳۰۲۔

([13])- عوالم ،ج:۲۱،ص:۱۳۔

([14])- الدرر النظیم، ص:۴۷۷،اثبات الوصیۃ،ص:۳۷۹،مدینۃ العاجز،ج:۷،ص:۸۔

([15])- الارشاد،ص:۵۸۸۔

([16])- زنان مرد آفرین،ص:۱۷۵۔

([17])- عیون اخبار الرضا،ج:۱۱، اعلام الوریٰ،ص:۳۱۳۔

([18])- عیون اخبار الرضا،ج:۱۱۔

([19])- ینابیع المودت،ج:۲،ص:۲۶، مدینۃ المعاجز ،ج:۷،ص:۱۱۔

([20])- اصول کافی، ج:۲،ص:۲۹۴۔

([21])- اصول کافی، ج:۲،ص:۳۰۰، بصائر الدرجات، باب موالد الائمۃ،ص:۱۳۔

([22])- عیون اخبار الرضا،ص:۱۷،انوار الٰہیۃ،ص:۳۲۹۔

([23])- عیون اخبار الرضا،ج:۱،ص:۱۱۔


#مادر_امام_علی_رضا#تعارف#نجمہ#زوجہ_امام_کاظم_موسی#معصومین#ائمہ


اسلام فتوحات اور شہنشاہیت کےلئے آیاتھا .1

کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟  پہلی قسط:  ✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین ...