مفہوم غدیر خم
الف: لغوی معنی
۱۔ غدیر:
راغب اصفہانی کا بیان ہے: و الغدیر ! الماء الذی یغادرہ السیل فی مستنقع ینتھی الیہ، و جمعہ غدر و غدران(مفردات فی غریب القرآن، ص۶۰۲)
قیومی نے مصباح المنیر میں نقل کیا ہے: الغدیر، النھر و الجمع غدران، و الغدیرہ الذوا بہ و الجمع غدائر(مصباح المنیر، ص۱۰۹)
احتمال یہ بھی ہے کہ کلمہ "غدیر" مندرجہ ذیل دو معنوں میں مستعمل ہو:
اسم مفعول ہے مغادرۃ یعنی جانا اور باقی رکھنا۔ اسم فاعل ہے غدر کا جس کا معنی مکرو فریب کے ہیں (غدیر کجا است؟ قم۔ دلیل ما، ج۳، ص۴۳) کلمہ غدیر کی جمع چار صورتوں میں بیان ہوئی ہے غدر، غدر، اغدرہ و غدران۔
وہ گڈھا جس میں پانی جمع ہو اس کو غدیر کے نام سے موسوم کرنے کے اسباب کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے:
۱۔ غدیر اسم مفعول ہے کیوں کہ سیلاب بچا ہوا حصہ ہے جب گڈھا سیلاب کے پانی سے بھر جاتا ہے تو اس کو چھوڑ دیتے ہیں
۲۔ غدیر، غَدر کا اسم فاعل ہے کیوں کہ اپنے پاس آنے والے سے خیانت کرتا ہے اور ان سے پوشیدہ رہتا ہے، اپنے اہل سے خیانت کرتا ہے اور جب گرمیوں میں پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے تو سوکھ جاتا ہے (دانشنامہ امیر المؤمنین بر پایہ قرآن، حدیث و تاریخ، ج۲، ص۴۰۹)
زبیدی نے اپنی کتاب تاج العروس میں دوسری وجہ کو قوی بتاتے ہوئے کمیت کے شعر کو بعنوان دلیل ذکر کیا ہے۔ ماضی میں لوگ اس کی خیانت کی وجہ سے اس کو غدیر کے نام سے جانتے اور غدیر کے لقب سے یاد کرتے تھے (تاج العروس۔ مادہ غدر بمعنی خیانت)
۲۔ خم:
لسان العرب میں ابن منظور نے لفظ خم کے لغوی معنی کو نقل کیا ہے: خم غدیر بین مکة و المدینة بین بالجحفة خم جحفہ کے نزدیک مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور گڈھا ہے۔ اور ابن اثیر کا بیان ہے: ھو موضع بین مکة و المدینة تصب فیہ عین ھناک و بینھما مسجد سیدنا رسول الله (لسان العرب، ج۱۲، ص۱۹۱)
معجم البلدان حموی میں مرقوم ہے: قال زمخشری خم اسم رجل صباغ اضیف الیہ الغدیر الذی ھو بین مکة والمدینة بالجحفة۔ خم ایک رنگ ریز کا نام ہے جس کی طرف غدیر کو منسوب کردیا گیا ہے اور غدیر مکہ و مدینہ کے درمیان جحفہ کے نزدیک واقع ہے۔
قاموس المحیط میں درج ہے: خم بئر حفرھا عبد شمس بن عبد مناف بمکة
ایک مقام پر بیان ہوا ہے: اما الذی یضاف الیہ الغدیر فانہ دون الجحفةعلی میال
معجم البلدان کی عبارت ملاحظہ کریں:اسم موضع غدیر خم۔۔۔۔و خم موضع تصب منہ عین بین الغدیر و العین و بینھما مسجد رسول اللہ۔۔۔ و قال الحازمی: واد بین مکة و المدینة عند الجحفة بغدیر عندہ خطب رسول الله
ان عبارات کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہے کہ خم ایک مشہور و معروف تالاب تھا جو مکہ ومدینہ کے بیچ جحفہ کے علاقہ میں واقع تھا
خم پاکیزگی کے معنی میں ہے قلب مخموم یعنی وہ دل جو حسد سے پاک ہو۔ شاید وہ پانی جو اس میں جمع ہوتا تھا پاک و صاف اور پینے کے لائق ہوتا تھا اسی لئے حج کے معنوی سفر سے واپسی پر حجاج کا اجتماع اس مقام پر کیا گیا کہ وہ علاقہ نعمت حیات(پانی) سے بھرا ہوا تھا اور پانی بھی پاک و پاکیزہ ہر طرح کی آلودگی سے صاف تھا ایسے مقام پر اللہ کی عظیم ترین نعمت و لایت لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے اور لوگ پاکیزگی دل سے قبول کرلیں اور ہرگز حسد نہ کریں۔(تمام حوالہ جات کی تحقیق ضروری ہے کیوں کہ اندراج میں غلطی ہوئی ہے)
ب: اصطلاحی مفہوم و معنی:
مغربی عرب میں شرق سے اٹھنے والا سیلاب جو دریاء سرخ تک جاتا تھا متعدد گڈھوں سے گزرتا ہوا نکلتا تھا جب بارش ہوتی تو ان میں پانی بھر جاتا اور تالاب کی شکل اختیار کرلیتا جس سے علاقہ کے لوگ مہینوں استفادہ کرتے ان تالاب کو عربی میں غدیر کے نام سے جانا جاتا ہے اس خشک و بے آب علاقہ میں ان تالاب کی غیر معمولی اہمیت ہوا کرتی تھی، بارش کے بعد جمع شدہ پانی سے راہگیر استفادہ کرتے۔ غدیر وہ واقعہ ہے جو حجۃ الوداع سے واپسی پر اٹھارہ ذی الحجہ کو جحفہ سے قریب غدیر خم نامی مقام پر رونما ہوا جس میں پیغمبرؐ اکرم نے امیر المؤمنینؑ حضرت علیؑ کو اپنا جانشین بنایا۔
عربی لغات میں غدیر کے بیان شدہ مختلف معانی سے مندرجہ ذیل تعریف حاصل ہوتی ہے:
غدیر تالاب اور زمین کا وہ نشیبی حصہ جس میں بارش یا سیلاب کا پانی جمع ہوتا ہے اور عام طور پر وہ پانی گرمی کے موسم میں باقی نہیں رہتا ہے۔
ج: غدیر خم کے اسماء:
چونکہ ایک علاقہ کو جغرافیائی حیثیت سے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا رہا ہے لہذا غدیر خم کا بھی تاریخ میں اس کی جغرافیائی نوعیت اور حدود کے اعتبار سے مختلف نام ذکر ہوا ہے ہم یہاں پر چند دیگر اسماء کا تذکرہ کررہے ہیں۔
ا۔ وادی خم: جغرافیائی حیثیت سے چونکہ سیلاب کا علاقہ ہے اس لئے یہ نام دیا گیا عربی میں سیلابی علاقہ کو وادی کہتے ہیں
۲۔ جحفہ: کبھی کبھی جزء کو کل کا نام دے دیا جاتا ہے وادی خم جحفہ کا ایک حصہ ہے، حدیث میں آیا ہے کہ "پیغمبرؐ سے میں نے سنا کہ روز جحفہ فرمارہے تھے ۔۔۔۔۔ایک دوسری حدیث میں ہے "روز جحفہ پیغمبرؐ سے سنا کہ حضرت علیؑ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔۔۔۔زید بن ارقم کی حدیث میں ہے "پیغٖمبرؐ اکرم حجۃ الوداع میں غدیر جحفہ میں جو مکہ و مدینہ کے درمیان ہے سواری سےا ترے۔۔"
۳۔خرَّار: سکونی کا بیان ہے غدیر خم کو خرار بھی کہتے ہیں۔ یہ مفہوم معجم الکبریٰ سے موافقت رکھتا ہے جس میں بیان کیا گیا ہےخرَّار حجاز کی ایک وادی ہے جس کا سیلاب جحفہ میں بلندی سے پستی میں گرنا اور سیلاب کا تیزی سے گرنا ہے۔
۴۔ غُرَبَہ: یہ وہ نام ہے جس سے اس علاقہ کے لوگ غدیر کو یاد کرتے ہیں۔ بلادی کا بیان ہے: غدیر خم آج کل غُرَبہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ، وہ تالاب ہے جس کے کنارے کچھ خرمے کے درخت ہیں۔ یہ نام اس وجہ سے پڑا کہ علاقہ غدیر کے پڑوس میں ہے دونوں ایک ہی وادی کے دو حصے ہیں۔
#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#
#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#

No comments:
Post a Comment