Friday, 21 June 2024

غدیر شناسی ۔قسط سوم ۔غدیر خم کے خصوصیات

 


 

غدیر خم کے خصوصیات:

الف: غدیر خم کی جغرافیائی حیثیت:

ارباب لغت، ماہرین جغرافیا و مؤرخین کے بیان کے مطابق غدیر خم مکہ ومدینہ کے درمیان واقع ہے مکہ سے دو کیلو میٹر اور مدینہ سے تین سو کیلو میٹر کے فاصلہ پر ایک تالاب خم نامی پایا جاتا تھا جس کو غدیر خم کے نام سے جانا جاتا ہے شمال و جنوب کے پہاڑی کے درمیان یہ تالاب مغرب سے مشرق کی طرف کھینچا گیا ہے اور دریاء سرخ سے متصل ہے، سیلاب کا راستہ ہموار زمین کی شکل میں ہے سمر نامی جنگلی درخت جس کو فارسی میں کنارا (بیر نامی پھل سے مشابہ ایک پھل کا درخت ہے) ۔کہا جاتا ہےمتفرق حالات میں پورے سیلابی راستے پر نظر آتا ہے اس ہموار زمین کے ایک طرف غدیر خم نامی بڑا سا تالاب ہے۔ غدیر کی اہمیت اس لئے بھی خاص تھی کیوں کہ اس کا پانی سال بھر سوکھتا نہیں تھا اور یہی بات دیگر تالاب سے اس کو ممتاز بناتی تھی کچھ درخت بھی اسی وجہ سے اس کے کنارے پر اگے ہوئے تھے جو مسافروں کی مشہور آرامگاہ تھی۔ مختلف مناطق میں سیلابی راستہ بہت سے تالاب پائے جاتے تھے جو اپنے نام کی وجہ سے دوسروں سے علاحدہ شناخت رکھتے تھے اس غدیر کو بھی دیگر تالاب سے جدا کرنے کے لئے خم کی طرف منسوب کردیا گیا۔ ان مطالب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غدیر خم کے مکہ و مدینہ کے درمیان وقوع کے سلسلے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے اگر کسی قسم کی بحث ہوتی بھی ہے تو اس کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ ان دو شہروں کے درمیان اس کا دقیق محل وقوع کیا ہے۔

اکثریت کا خیال ہے کہ غدیر خم جحفہ میں ہے ان کی مرادقطعی طور پر یہی ہے کہ وادی جحفہ میں ہے نہ کہ جحفہ گاؤں جو میقات ہے اس بات کی دلیل وہ مسافت ہے جو وادی جحفہ اور غدیر خم کے درمیان کی بتائی جاتی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جحفہ الگ ہے، غدیر خم جدا مقام ہے جس کے درمیان فاصلہ پایا جاتا ہے۔ وادی جحفہ غدیر خم سے شروع ہوکر دریاء سرخ پر ختم ہوتی ہے اس بنیاد پر غدیر خم وادی جحفہ کا حصہ ہے۔

ب: غدیر خم کے جغرافیائی صفات:

کتب تاریخ میں غدیر خم کی مکمل تصویر کشی کی گئی ہے ذیل میں ہم کچھ ان میں سے درج کررہے ہیں:

۱۔ چشمۂ غدیر: غدیر نامی تالاب کے کنارے ایک چشمہ ہے جس کا پانی تالاب میں گرتا ہے۔ یہ چشمہ غدیر نامی تالاب کی اہم ترین خصوصیت ہے۔

۲۔ آب گیر: لفظ غدیر تالاب کے معنی میں ہے، یعنی وہ جگہ جہاں سیلاب اور چشمہ کا پانی اکٹھا ہوتا ہے۔ تمام تاریخی عبارات میں اس منطقہ کا مشہور ترین نام آبگیر یا غدیر ہے۔

۳۔ درخت: خطبہ غدیر درختوں کے زیر سایہ سنایا گیا تھا، اور وہ درخت سمرہ کا تھا جو جنگلی درختوں اور لمبی لمبی شاخون اور پتوں سے گھرا ہوا تھا سمرہ کو فارسی میں کنار اور اردو میں۔۔۔۔کہا جاتا ہے، اشعار و احادیث میں ذوح کے نام سے تذکرہ ملتا ہے جس کے معنی بڑے درخت کے ہیں یہ سارے درخت اسی تالاب کے ارد گرد اگے ہوئے تھے ۔

۴۔ درختوں کا جھرمٹ: لفظ "غیضہ" عربی میں اس مقام کو کہتے ہیں جہاں بہت سارے درخت آپس میں ملے ہوئے ہوں غدیر کے ارد گرد ایسے درختوں کا جھرمٹ تھا جو غدیر کے پانی سے سیراب ہوتا تھا۔

۵۔ جنگلی گھانس: صحراء غیر میں "مَرِخ" ، اراک"، عشر" نامی گھانس بہت زیادہ تھی۔

ج: غدیر کی قدیمی آبادی:

منطقہ غدیر کے صفات و خصوصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے محققین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا رہتا ہے کہ کیا غدیر خم میں پہلے آبادی تھی یا نہیں؟

یاقوت حموی نے حازمی سے نقل کیا ہے: یہ وادی وخامت کے نام سے جانی جاتی ہے اور وخامت سے مراد اس کا ناقابل سکونت ہونا ہے۔ ایک دوسرے مقام پر حموی نے عرام سے نقل کیا ہے: اس علاقہ میں قبیلہ خذاعہ اور کنانہ کے لوگ زندگی گذارتے تھے لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔ عاتق بن غیث بلادی نےتین دلائل سےیہ بات ثابت کیا ہے اس علاقہ میں کچھ لوگ شہر یا اہم ترین دیہات کی صورت میں زندگی بسر کرتے تھے:

۱۔ چشمہ غدیر کا موجود ہونا: ماضی قریب میں اہل علاقہ سے ایک شخص نے دوبارہ اس کو کھود کر پانی حاصل کرنے کی کوشش کیا ہے اور یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ حجاز  میں ایک چشمہ کا وجود ایک دیہات کے وجود کے برابر جانا جاتا تھا۔ آثار باقی ماندہ اس علاقہ کی اس بات کا پتہ دیتےہیں کہ وہاں کی عمارتیں پتھروں سے تعمیر ہوئی تھیں اور ان کے ارد گرد حصار موجود تھا۔

۲۔ اطراف غدیر کی زمین صحرائی انداز کی ہے وہاں کے بسنے والے یہ بیان کرتے ہیں کہ پورے علاقہ میں نخلستان تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگ وہاں سکونت پذیر تھے۔

۳۔ شہادت امیر المؤمنینؑ کے بعد صحابہ وانصار و قریش کی اولادیں حجاز  کے جنگلوں میں بکھر گئیں اور باغات و آبادیاں بنائیں تاریخی صراحت سے جن مناطق میں گئے ان میں غدیر بھی تھا اور چونکہ غدیر خم سے زیادہ دور کے علاقوں میں پانی کے کنارے آبادی کا وجود ملتا ہے ایسے میں بعید نہیں ہے کہ غدیر خم کو بھی مسکن بنایا ہو اور اس کے اطراف کو آباد کیا ہو کیوں کہ یہ علاقہ جادہ اور دیگر آبادیوں سے نزدیک ہے اور پیغمبرؐ اکرم نے اس مقام پر سکونت فرمایا تھا۔

اس تین دلائل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے غدیر خم (جہاں آج چند خیمہ زن افراد ادھر ادھر ہیں) ایک دن شہر یا دیہات کی شکل میں آباد تھا۔ شیعی نقطہ نظر سے دیگر دلیلیں بھی مندرجہ بالا مطالب کی تائید کرتی ہیں جس میں بالصراحت اس علاقہ میں مسجد غدیر کو بیان کرتی ہیں اور چونکہ حجاج کرام کا گزر ادھر سے ہوتا تھا لہذا سکونت کے وسائل کا اس علاقہ میں فراہم ہونا طبیعی امر ہے۔

د: مسجد غدیر (مسجد پیغمبرؐ)

نبی اکرم اور مسلمانوں کے علاقہ غدیر خم میں قدم رنجہ فرمانے کے بعد وہ مقام جہاں نبیؐ اکرم ٹھہرے تھے نماز پڑھی اور خطبہ پڑھا تھا اور پھر اس کے بعد حضرت علیؑ کی ولایت و صایت کا اعلان فرمایا تھا اس جگہ پر مسجد تعمیر کی گئی جو چشمہ اور تالاب کے درمیانی حصہ میں ہے اس کو مسجد پیغمبرؐ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بکری کا بیان ہے غدیر اور چشمہ کے درمیان مسجد پیغمبرؐ ہے۔ حموی کا بیان ہے کہ صاحب مشارق نے کہا ہے خم وہ مقام ہے جہاں چشمہ گرتا ہے اور غدیر و چشمہ کے درمیان مسجد پیغمبرؐ ہے۔

مؤرخین کی تصریحات کی روشنی میں پہلی بار خلیفہ دوم نے غدیر میں مسجد پیغمبرؐ کے نشانات کو محو کرنے کی کوشش کیا تھا۔ ابن شہر آشوب نے کتاب مناقب میں بیان کیا ہے کہ مسجد پیغمبرؐ کے آثار کو عمر کے حکم سے مخفی کردیا گیا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تخریب سے پہلے آبادی تھی۔ دوبارہ دور امیر المؤمنینؑ میں مسجد پیغمبرؐ کا احیاء ہوا لیکن شہادت حضرت علیؑ کے بعد معاویہ کے حکم سے غدیر خم کے آثار مسمار کردئے گئے۔ ابن شہر آشوب نے مناقب میں بیان کیا ہے کہ صاحب کتاب الاغانی (ابو الفرج اصفہانی) نے ذکر کیا ہے کہ معاویہ نے دو سو خوارج کے ساتھ ایک نگہبان کو بھیجا تاکہ آثار غدیر کو ملیا میٹ کردے ۔

بعد کے ادوار میں دوبارہ مسجد تعمیر کی گئی چونکہ جادہ حجاج کے کنارے تھی لہذا مشہور مقام تھااہل سنت مؤرخین و جغرافیا نویسوں نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی جگہ کو بھی معین کیا، معاویہ کے ہاتھوں تخریب کے بعد عصر امام باقرؑ میں دوبارہ تعمیر ہوئی تھی غدیر کے تذکرہ میں فرمایا تھا: پیغمبرؐ اکرم جادہ کے داہنی طرف سے مسجد غدیر کی طرف تشریف لائے اور اس کا حکم جبرئیلؑ نے حضرتؐ کو دیا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ معاویہ کے بنی امیہ کے دور سلطنت میں بظاہر دور حکومت عمر بن عبد العزیز میں دوبارہ مسجد غدیر کی تعمیر ہوئی مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ متعصب و کور دل وہابیوں نے ماضی قریب میں مکمل طور پر مسجد کو تباہ کردیا اور نام و نشان مٹا دیا۔

 

 

 

 

 

 

#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#

#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#

 

No comments:

Post a Comment

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام

سما نہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ...