Friday, 21 June 2024

غدیر شناسی ۔ قسط 4 ۔روز غدیر سے پہلے کے واقعات

 

روز غدیر سے پہلے کے واقعات:


 

حجۃ الوداع کی اہمیت:

 مکہ سے پیغمبرؐاکرم کی ہجرت تاریخ اسلام کا اہم ترین پہلو ہے ہجرت کے بعد تین مرتبہ مکہ معظمہ کا سفر کیا پہلی مرتبہ       ۶ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد عمرہ کی غرض سے مکہ تشریف لائے اور مشرکین سے ہونے والے معاہدے کے فورا بعد واپس لوٹ گئے دوبارہ            ۸ھ میں فتح مکہ کے عنوان سے شہر مکہ میں وارد ہوئے اور بساط کفرو شرک کو لپیٹ کر طائف واپس ہوگئے واپسی میں مکہ آکر عمرہ انجام دیا پھر مدینہ واپس ہوئے تیسری اور آخری بار ہجرت کے بعد نبیؐ اکرم     ۱۰ھ میں مکہ تشریف لائے حجۃ الوداع کے لئے پہلی مرتبہ آپ نے باقاعدہ عمومی اعلان کرایا تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اس عبادت میں شریک ہوسکیں۔

اہداف سفر

ذی قعدہ         ۱۰ھ میں سورہ حج کی ۲۷ آیت کے نزول کے بعد پیغمبرؐاکرم نے عمومی اعلان حج فرمایا تاکہ سارے افراد جو توانائی رکھتے ہوں حج میں شریک ہوسکیں اس سے پہلے          ۹ھ میں مشرکین و مسلمین ساتھ ساتھ حج میں ہوئے تھے اسی سال سورہ توبہ کی آیت نمبر۳ کے حکم کے بموجب امیر المؤمنینؑ حضرت علیؑ نے پیغمبرؐ اسلام کی جانب سے یہ اعلان فرمایا تھا کہ اب سال آئندہ سے صرف مسلمان حج کریں گے اور مشرکین کو حج کا حق حاصل نہیں ہوگا چنانچہ      ۱۰ھ میں پہلی بار خانہ کعبہ مشرکوں سے خالی رہا اور حج ابراہیمی ہر قسم کی بدعتوں اور خرافات سے پاک و صاف انجام پایا۔

لوگ منتظر تھے کہ حج ابراہیمی و حج جاہلی کا فرق دیکھیں گے اور حج ابراہیمی کے جزئی احکام بلا واسطہ نبیؐ اکرم سے حاصل کریں گے اس سفر کو پیغمبرؐ اکرم نے حجۃ الوداع کے نام سے یاد فرمایا تاکہ اس کی یادیں اول میں جاگزیں ہوجائیں اس سفر کا مقصد دو اہم حکم الٰہی و قانون اسلامی کو بیان کرنا تھا جو اب تک باقاعدہ بیان نہیں ہوئے تھے ایک حج اسلامی یا حجۃ الاسلام کے احکام و اعمال، دوسرے مسئلہ خلافت و امامت تھا۔

مقدمات سفر

حکم پیغمبرؐ اسلام سے اطراف مدینہ میں منادی روانہ کئے گئے جن کے ذریعہ اس سفر کے عزائم کو لوگوں تک پہونچایا گیا تاکہ جو اس سفر میں شریک ہونا چاہتا ہے تیار ہوجائے، جن لوگوں تک خط و کتابت کے ذریعہ اس کی اطلاع دینا ممکن تھا انہیں خط و کتابت کے ذریعہ بتایا گیا مضمون خط یہ تھا "پیغمبرؐاکرم حج کا رادہ رکھتے ہیں جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں وہ نبیؐ اکرم کے ساتھ شریک ہوجائیں، اس عمومی اعلان کے بعد مدینہ کے اطراف سے شمال و مشرق کی طرف سے بہت بڑی تعداد مدینہ میں جمع ہونے لگی تاکہ رسولؐ اکرم کی ہمراہی کرسکیں مکہ و مدینہ کے درمیانی راستہ پر لوگ کھڑے انتظار کررہے تھے کہ نبیؐ آئیں تو ان کی ہمراہی میں حج کے لئے جائیں، یمن و جنوبی مکہ کے لوگ بھی وقت مقررہ پر پہونچنے لگے۔

امیر المؤمنین حضرت علیؑ ان دنوں ایک لشکر کے ہمراہ یمن و نجران کی مہم پر تشریف لے گئے تھے رسولؐ اکرم نے انہیں بھی خط لکھ کر سفر حجۃ الوداع کے سلسلے میں بتایا اور حکم دیا کہ لشکر کے ہمراہ مکہ چلے آئیں، مدینہ و اطراف مدینہ میں جوش و ولولہ، اور خوشی کی لہر دوڑ گئی خانوادۂ رسالت مآب، ازواج پیغمبرؐ بھی آمادہ سفر ہوگئے صرف امیر المؤمنینؑ مدینہ سے باہر تھے اس لئے حضرت زہراؑ و حضرات حسنین اس سفر میں جانے کے لئے آمادہ ہوگئے۔ حکم پیغمبرؐ سے تمام ازواج بھی شامل ہوگئیں یہ پہلا و آخری سفر تھا جس میں تمام امہات مؤمنین پیغمبرؐ کے ہمراہ تھیں رسولؐ اسلام نے ۶۶ اونٹ قربانی کے لئے خریدا اور ناجیہ بن جندب کو ان اونٹوں کا ذمہ دار بنایا تھا۔

رسولؐ اکرم نے حجاج کرام کے میقات کا تعین کیا اور ابودجانہ سماک بن خرشہ ساعدی انصاری کو مدینہ کے امور کا نگراں بنایا تاکہ شہر کے امن و امان کو برقرار رکھیں کچھ خاص امور کی ذمہ داری عمرو بن ام کلثوم کو عطا کرکے مدینہ میں رہنے کی تاکید فرمایا۔

مدینہ سے مکہ تک

۲۵/ذی قعدہ   ۱۰ھ صبح شنبہ پیغمبرؐ اکرم نے مدینہ سے سفر کا آغاز فرمایا آنحضرتؐ کے حکم سے لوگوں نے احرام باندھا حضرتؐ نے بھی غسل کے بعد دو لباس احرام میقات سے پہنا اور احرام پہننے کے لئے شہر سے نو کیلو میٹر دور ذو الحلیفہ کی جانب گئے۔

قافلہ نے مکہ تک کا دس روزہ سفر کا آغاز کیا ایک عظیم قافلہ جس میں سوار و پیدل تھے نبیؐ اکرم کے ہمراہ ہوگئے مدینہ سے مکہ کے درمیان مختلف قبائل کے افراد ساتھ ہوگئے اس خبر کے پھیلنے کے بعد دور دراز کے لوگ، مکہ کے اطراف میں رہنے والے، یمن وغیرہ میں بسنے والے افراد مکہ کی جانب چل پڑے تاکہ اعمال حج بلا واسطہ پیغمبرؐ سے سیکھ سکیں یہ پہلا سفر تھا جس میں حضرتؐ نے حج کے عنوان سے شرکت فرمایا اور اس بات کا رازدارانہ طور پر اعلان کیا کہ میری عمر کا آخری سال ہے جس سے زیادہ سے زیادہ افراد شریک ہوجائیں مثلا آپ نے فرمایا"مجھ سے مناسک حج سیکھ لو کیوں کہ اس کے بعد شاید میں حج کے لئے نہ آؤں" ایک لاکھ بیس ہزار افراد نے اس سال حج میں شرکت کیا جس میں ستر ہزار مدینہ سے حضرتؐ کے ساتھ آئے تھے وہ قافلہ جو ستر ہزار پر مشتمل مدینہ سے نکلا تھا ایک لاکھ افراد سے بڑھ گیا دس دن کی مسافت طے کرکے سہ شنبہ ۵/ذی الحجہ پہلا قافلہ حجۃ الاسلام کے لئے جلالت و شکوہ کے ساتھ وارد شہر مکہ ہوا۔

حضرت علیؑ کے ہمراہ یمن کے حجاج:

جن ایام میں نبیؐ اکرم نے سفر حج کا اعلان کیا ان دنوں حضرت علیؑ پیغمبرؐ اکرم کے حکم سے نجران و یمن ایک لشکر کے ہمراہ دعوت اسلام، اموال خمس و زکات و جزیہ کی جمع آوری کے لئے گئے ہوئے تھے نیز اس سفر کا ایک مقصد یمن کے باشندوں کے درمیان رونما ہوئے اختلاف کو ختم کرنا تھا۔ پیغمبرؐ نے مدینہ سے چلتے وقت امیر المؤمنین ؑ کو ایک خط لکھا اور حکم دیا کہ آپ بھی لشکر اور دیگر ان افراد کے ہمراہ جو حج کرنا چاہتے ہیں مکہ کی طرف آئیں۔

امیر المؤمنینؑ نجران و یمن کے امور کو انجام دے کر لشکر اور تیرہ ہزار یمنی باشندوں کے ساتھ مکہ کی جانب عازم ہوگئے جو تقریبا آٹھ سو کیلو میٹر کی مسافت تھی جن دنوں حضرت علیؑ یمن سے مکہ کے قریب پہونچے انہیں دنوں پیغمبرؐ اکرم کا کاروان مدینہ سے چل کر مکہ کے قریب پہونچا، جنوب مکہ میں سو کیلو میٹر کے فاصلہ پر یلملم کے مقام سے اہل یمن کو احرام باندھنے کا حکم دیا، حضرت علیؑ لشکر کا نگران بنا کر پیغمبرؐ اکرم سے ملاقات کے لئے اس مقام پر گئے جہاں مکہ کے قریب نبیؐ اکرم ٹھہرے ہوئے تھے اور سفر کی مکمل رپورٹ پیش کیا اور بتایا کہ ۳۴ اونٹ قربانی کے لئے ساتھ لائے ہیں حضرت علیؑ کی باتوں سے نبیؐ اکرم بہت خوش ہوئےاور قربانی کے سو سے زیادہ اونٹ ہونے پر اظہار مسرت فرمایا اور حکم دیا کہ علیؑ لشکر اور یمنی حجاج کو جتنی جلد ممکن ہو میرے پاس لاؤ حضرت علیؑ واپس ہوئے جب یمنی قافلہ کے پاس پہونچے وہ مکہ کے بالکل نزدیک تھا امامؑ نے لشکر کو نجرانی خلہ زیب تن کئے دیکھا تو آپ نے بغیر اجازت اس امر کے انجام دہی پر لشکر کے ذمہ دار سے فرمایا وای ہو تم پر یہ خلے انہیں کیوں دیدئے بارگاہ رسالت میں پہونچنے سے پہلے؟ میں نے تم کو اس کی اجازت نہیں دیا تھا اس لئے یہ لوگ مجھ سے مطالبہ کررہے تھے کہ اسی کو احرام کا لباس بنا لیں اور خود کو اسی سے مزین کرلیں بعدمیں واپس لوٹا دیں گے علیؑ نے خلے اتارنے کا حکم دیاان لوگوں نے وہ خلہ تہہ کرکے واپس کردیا۔ اس امر کے باعث کچھ لوگوں کے دلوں میں حضرت علیؑ سے خلش پیدا ہوگئی اور حالت یہ تھی کہ ان لوگوں نے عزم مصمم کرلیا تھا کہ نبیؐ اکرم سے مکہ پہونچ کر شکایت کریں گے۔ بہر حال یمنی قافلہ رسولؐ اکرم کے قافلہ کے ساتھ ۵/ذی الحجہ       ۱۰ ھ روز سہ شنبہ مکہ میں وارد ہوا۔

اعمال حج کی ابتداءکی تیاری:

پیغمبرؐ اکرم تین دن دو رات یعنی ۵/۶/۷/ ذی الحجہ مکہ میں گذار آٹھ ذی الحجہ کا بھی کچھ حصہ وہیں قیام فرمایا ابطح کے علاقہ میں حجاج کے خیموں کے کنارے نبیؐ بھی سکونت پذیر رہے جب کہ مکہ میں آپ کے بہت سے عزیزو اقارب تھے اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ حضرتؐ ہمارے یہاں قیام فرمائیں۔

آٹھ ذی الحجہ ظہر کے پہلے تک (یوم ترویہ) نبیؐ مکہ سے منی کی طرف بڑھتے ہوئے حجاج کے مجمع کو دیکھتے رہے پھر آپ بھی کچھ لمحہ بعد وہیں پہونچ گئے، منی میں نماز ظہر و عصر با جماعت ادا ہوئی اور پھر حکم دیا کہ چونکہ تین روز منی میں قیام رہے گا لہذا مسجد خیف کے ارد گرد خیمے نصب کئے جائیں، نماز مغرب و عشاء بھی با جماعت ادا کی گئی رات وہیں بسر ہوئی پھر صبح عرفات کی طرف کوچ کرنا تھا نماز صبح با جماعت ادا کرنے کے بعد طلوع آفتاب کا انتظار فرمایا نویں ذی الحجہ روز عرفہ سورج نکلا تو عرفات کی جانب روانہ ہوئے۔

عرفات و مشعر الحرام کا وقوف:

قافلہ چلنے کے لئے تیار تھا تاکہ ظہر تک عرفات پہونچ جائیں یہ پہلا عمل تھا جس سے اعمال حج کی ابتداء ہونی تھی، لبیک کہتے ہوئے حجاج کا قافلہ منی سے نکلا مشعر الحرام پہونچا نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد میدان عرفات میں وارد ہوا۔

عرفات مغفرت و دعا کا مقام ہے پیغمبرؐاکرم نے اپنی دعاوں سے اس دن اس بات کو ثابت فرمادیا پیغمبرؐ اکرم روز عرفہ مندرجہ ذیل دعا بکثرت قرأت فرماتے تھے:لااله الا الله وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک و ھو علی کل شیء قدیر

عرفات میں خیمہ زن جنہوں نے نبیؐ کو نہیں دیکھا تھا حضرتؐ کی زیارت و دیدار کے لئے حاضر ہوئے اور آپ کی عبا کے کنارے کو پکڑ کر کہتے ہیں عطا فرمادیں حضرتؐ نے اپنی عبا انہیں دے دیا۔

میدان عرفات میں نبیؐ اکرم نے ایک اور اہم ترین کام انجام دیا اور وہ حضرت علیؑ کا خصوصی تعارف کرانا تھا جس کو فریقین کی کتب سیر و تاریخ میں دیکھا جاسکتا ہے، جابر کی روایت میں ولایت امیر المؤمنینؑ کی تصریح ملتی ہے  "۔۔۔۔سعادت مند وہ ہے جو میرے بعد تمہاری اطاعت کرے اور میرے بعد تمہاری اطاعت سے سرکشی کرنے والا شقی ہے"

۹/ذی الحجہ کے سورج کے غروب کے ساتھ ہی وقوف عرفات کا وقت تمام ہوا، حجاج کا کارواں غروب آفتاب کے بعد مشعر الحرام کی طرف روانہ ہو گیا رات مشعر الحرام میں گزاری اور وقت وقوف کا انتظار کرتے رہے، مشعر الحرام میں وقوف کا وقت اذان صبح سے طلوع آفتاب تک تھا، حجاج اسلامی اور مشرکین کے اعمال حج میں ایک فرق یہی ہے مشرکین غروب آفتاب سے پہلے عرفہ سے نکل جاتے تھے لیکن پیغمبرؐ نے ان کے برخلاف عمل کیا اور غروب کے بعد وہاں سے نکلے۔ اور اس سلسلہ میں ایک خطبہ بھی ارشاد فرمایا جس میں بیان فرمایا کہ"ہمارا طریقہ ان کے طریقہ سے الگ و جداگانہ ہے"

طلوع فجر کے بعد پیغمبرؐ اکرم نے نماز صبح ادا فرمائی اور وقوف عرفات کا آغاز کیا جس کا دورانیہ طلوع آفتاب تک تھا اور جیسے ہی دس ذی الحجہ کا سورج طلوع ہوا پھر منی کی جانب کوچ کا رادہ کرلیا۔

مکہ و منی میں عید قربان:

دس ذی الحجہ کی صبح حجاج منی کی جانب کوچ کررہے تھے تاکہ بقیہ اعمال بجا لائیں اور آئندہ تین دن وہیں قیام پذیر رہیں پہلے دن جمرہ عقبہ کو کنکری ماری، پھر قربانی انجام دیا، بال مونڈوائے اور احرام سے باہر آگئے پھر مکہ کی جانب طواف اور طواف النساء کے لئے روانہ ہوگئے۔

دس ذی الحجہ کو ہی منی واپس ہوگئے تاکہ گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کے شب و روز وہیں گزاریں اور تینوں دن تینوں جمرات کو کنکری ماریں۔ رمی جمرات شیطان سے نفرت و بیزاری کی علامت ہے جس کا اظہار پتھر مارکر کیا جاتا ہے۔

منی میں اہم ترین خطبات:

تین دن منی میں حجاج کے قیام اور اعمال کے اختتام پر پیغمبرؐ اکرم نے متعدد اہم خطبے ارشاد فرمائے تھے۔

۱۔ میدان منیٰ میں خطبہ رسولؐ:

رسولؐ اکرم نے غدیر سے پہلے دو حساس مقام پر لوگوں سے خطاب فرمایا جو در حقیقت خطبہ غدیر کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں پہلا خطبہ منی میں تھا جس میں اسلامی معاشرہ کی امنیت، جان، مال و آبرو کی حفاظت کے مسئلہ سے آغاز فرمایا، دور جاہلیت میں ناحق بہائے گئے خون، اموال پر غاصبانہ قبضہ کو معاف کرنے کا اعلان فرمایا تاکہ لوگوں کے درمیان سے کینہ ختم اور اجتماعی امن و امان بحال ہوسکے، پھر لوگوں کو اس بات سے باخبر فرمایا کہ میرے بعد اختلافات رونما ہوں گے اور ایک دوسرے پر تلواریں اٹھیں گی اس سے بچتے رہنا اس کے بعد تصریح فرمایا"اگر میں نہ رہوں تو علیؑ بن ابی طالب سرکشوں سے مقابلہ کریں گے" اس مقام پر حدیث ثقلین آپ کی زبان مبارک پر جاری ہوئی "میں دو گرانقدر چیزیں تمہارے درمیان چھوڑکر جارہا ہوں اگر ان دونوں سے متمسک رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے کتاب خدا اور میری عترت یعنی اہل بیتؑ" اس بات کا اشارہ بھی فرمایا کہ میرے اصحاب کا ایک گروہ روز قیامت جہنم میں جائے گا۔ اس خطبہ کی خاص بات یہ ہے کہ پیغمبرؐ اکرم کی باتوں کو حضرت علیؑ دہرارہے تھے تاکہ جو دور بیٹھے ہیں وہ بھی سن لیں۔

۲۔مسجد خیف میں خطبہ پیغمبرؐ اکرم:

منی میں ٹھہرے ہوئے تیسرا دن تھا نبیؐ اکرم نے مسجد خیف میں لوگوں کے جمع ہونے کا حکم دیا اور جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا یہ دوسرا اہم ترین خطبہ تھا۔ اس خطبہ میں بالصراحت نبیؐ اکرم نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ حاضرین میری باتوں کو محفوظ کرلیں اور جو موجود نہیں ہیں ان تک پہونچائیں، اس خطبہ میں اخلاص عمل، امام مسلمین کے لئے دلسوزی اور اختلافات سے بچتے رہنے کی تاکید کے ساتھ فرمایا تمام مسلمان حقوق اور الٰہی قانون میں مساوی ہیں اس کے بعد آپ نے مسئلہ خلافت اور حدیث ثقلین کو بیان کیا۔ یہ دوسرا موقع تھا جب آپ نے غدیر کی راہ ہموار کرنے کا عمل انجام دیا۔ منافقین کو مکمل یقین ہوگیا کہ خطرہ ہے، معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے آپس میں معاہدہ کیا اور قسم کھائی اور اپنے منصوبہ کا آغاز کردیا۔

اس اہم ترین مقام پر پیغمبرؐ اکرم نے حدیث ثقلین کو بیان فرمایا ان دونوں کو ایک دوسرے کا ساتھی بتاتے ہوئے ہر ایک کو ان دونوں سے متمسک رہنے کی تاکید فرمایا، نبیؐ کی اس بات کو مسلمانوں نے سنا اور اہل بیتؑ کے عظیم حق سے باخبر ہوگئے۔ اسی طرح ایک خطاب میں حضرتؐ نے فرمایا: اے لوگو! مجھ پر غلط باتوں کی نسبت لگانے کا عمل بڑھ رہا ہے میرے بعد اور زیادہ ہوگا جو جان بوجھ کر میری طرف غلط باتوں کی نسبت دے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے جب بھی کوئی حدیث مجھ سے سنو اس کو کتاب و سنت کے سامنے پیش کرو (یعنی کتاب وسنت کی ترازو پر پرکھو)جو کچھ کتاب و سنت کے مطابق ہو قبول کرلو اور جو کتاب و سنت کے خلاف ہو اس کو قبول نہ کرو۔

۱۲/۱۳/ ذی الحجہ منی میں:

۱۲/ ذی الحجہ کے روز جب کہ رات منی میں گذاری پیغمبرؐ اسلام نے نماز ظہر سے پہلے تینوں شیطان کو کنکریاں مارا اور اس دن کے آخری لمحات میں مفصل خطبہ ارشاد فرمایا کہ تمام مسلمان اس کو سن لیں، اسی روز سورہ نصر نازل ہوا اور جب یہ سورہ نازل ہوا تو آپ نے باقاعدہ طور پر اپنی موت کے نزدیک ہونے کی خبر دیا اور بتایا کہ جو سال آنے والا ہے اس میں میری روح قبض کرلی جائے گی۔

اس اعلان کا پہلا رد عمل یہ سامنے آیا کہ نبیؐ اکرم کا جانشین کون ہوگا، اصحاب پیغمبرؐ میں سے سلمان نے پوچھنا چاہا کہ ہمارے امور کس کے حوالہ کئے ہیں؟ ہم کس کی طرف مراجعہ کریں گے؟ آپ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ذات کون سی ہے؟ اس سوال کے جواب میں کچھ دیر پیغمبرؐ اکرم خاموش رہےجب تین بار یہ سوال دہرایا گیا تو آپ نے فرمایا: میرا بھائی، وزیر و جانشین اہل بیتؑؑ ہیں اور میرے بعد بہترین شخص جو میرے قرض کو ادا اور میرے وعدہ کو وفا کرے گا علیؑ بن ابی طالب ہے۔ اس بیان کے ذریعہ آنحضرتؐ لوگوں کو غدیر خم کے لئے لوگوں کو تیار اور اس عظیم واقعہ غدیر کے لئے مقدمات فراہم کررہے تھے۔ بیان ہوا ہے کہ آنحضرتؐ نے علیؑ کو بلا کر فرمایا: جس کا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا علیؑ وہ آن پہونچا ہے فتح و کامرانی آگئی لوگ جوق در جوق دین خدا میں داخل ہونے لگے، کسی میں میرے مرتبہ پر فائز ہونے اور قائم مقام ہونے کی توانائی نہیں ہے، تم سب سے پہلے اسلام لانے والے اور دامادی کی وجہ سے مجھ سے قریب ہو، سیدۂ نساء عالمیان تمہاری زوجہ اور ان سے پہلے تمہارے پدر بزرگوار حضرت ابو طالبؑ نے میری نصرت و حمایت کیا تھا۔

منی سے نکلتے نکلتے حضرتؐ سواری پر خطاب کرتے ہیں"ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی اسلام کی بنیاد ہم اہل بیتؑ کی محبت ہے"۔

اختتام واجب اول و آغاز واجب دوم:

۱۳/ ذی الحجہ ظہر سے قبل پیغمبرؐ اسلام حجاج کے عظیم قافلہ کے ہمراہ منی سے مکہ کے لئے عازم سفر ہوئے یہاں تک کہ وادی البطح کی بلندی تک پہونچے اور محصّب نامی مقام میں جو ہجرت سے پہلے قریش کی سازشیں تیار کرنے کا مقام تھا قیام فرمایا اور ۱۳/ ذی الحجہ کے دن نماز ظہر و عصر وہیں ادا کیا اور تھوڑی دیر آرام فرمایا۔

مکہ کے البطح کی بلندی پر جبرئیلؑ نازل ہوئے اور حکم خدا سے سورہ عنکبوت کی ابتدائی آیات لے کر آئے اسی نقطہ سے غدیری پروگرام کا آغاز ہوا جبرئیلؑ نے اللہ کی طرف سے پیغام سناتے ہوئے کہا "اے محمد اللہ اور اس کی جنت کی طرف تمہاری بازگشت نزدیک ہے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ امت میں اپنے بعد کے لئے حضرت علیؑ کو معین کردو اور انہیں اپنی تاکیدات سے مطلع کردو وہی وہ خلیفہ ہیں جو رعایا اور امت کے امور کے ذمہ دار ہوں گے"

جبرئیلؑ نے امیر المؤمنینؑ کی اطاعت سے سرپیچی نامی کا فتنہ بھی بیان کیا یہ وحی الٰہی پہلے واجب یعنی حج کے خاتمہ اور دوسرے واجب یعنی ولایت کا آغاز تھی جس کے منصوبے آج سے عملی شکل اختیار کرنے لگے۔

میراث انبیاء غدیر سے پہلے حوالہ کردیا:

یادگار انبیاء، جناب آدمؑ، جناب نوحؑ و جناب ابراہیمؑ کے صحیفے، توریت، انجیل، وعصاء موسیؑ، جناب سلیمانؑ کی انگشتری اور دیگر باعظمت میراث صرف حجت الٰہیہ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اس دن تک خاتم الانبیاء ان الٰہی میراث کے محافظ تھے اور آج سے بحکم خدا حضرت علیؑ کی طرف منتقل ہوگئی اور پھر حضرت علیؑ کے بعد اماموں کے پاس منتقل ہوتی رہی اور آج بھی آخری حجت ربانی حضرت بقیۃ اللہ الاعظم کے پاس موجود ہے، نبیؐ نے حضرتؑ کو بلا کر عام جلسہ تشکیل دیا ایک رات و دن ان امانتوں کے حوالہ کرنے میں گذرگیا۔

لقب امیر المؤمنینؑ کا نزول:

۱۴/ ذی الحجہ نبیؐ کا مکہ میں آخری دن تھا اگلی صبح کو  سب کو مکہ سے نکلنا تھا اور غدیر کی طرف جانا تھا، جبرئیلؑ امیر المؤمنینؑ کا لقب حضرت علیؑ کے لئے لیکر نازل ہوئے جبرئیلؑ نے اسی لقب کے ساتھ سلام کیا: السلام علیک یا امیر المؤمنین، حضرت علیؑ نے پیغمبرؐ اکرم سے عرض کیا کہ میں کچھ آواز سن رہا ہوں لیکن کوئی نظر نہیں آرہا ہے رسولؐ اکرم نے جواب دیا جبرئیلؑ خدا کی طرف سے اس وعدہ  کی وفا لیکر نازل ہوئے ہیں جس کا وعدہ مجھ سے کیا گیا تھا۔

اس کے بعد نبی ؐنے اکابر صحابہ کو حکم دیا کہ علیؑ کے پاس جاکر سلام کریں السلام علیک یا امیر المؤمنین،  اکابر صحابہ نے سلام کیا صرف عمر و ابو بکر نے اعتراض جتاتے ہوئے پیغمبرؐ سے کہا کیا یہ حق خدا و رسولؐ کی طرف سے ہے؟ پیغمبرؐ نے فرمایا خدا نے مجھے یہ حکم دیا ہے۔

غدیر میں حاضر ہونے کا باقاعدہ اعلان:

امید تھی کہ رسولؐ اسلام اپنے آخری سفر حج میں کچھ دن مکہ میں قیام کریں گے لیکن اتمام حج کے فوراً بعد اپنے منادی بلالؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو بتا دے کہ کل معذوروں کے علاوہ سب کو چلنا ہے تاکہ معین وقت میں غدیر خم میں پہونچ جائیں۔

 

 

 

 

 

 

 

#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#

#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#

 

No comments:

Post a Comment

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام

سما نہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ...