Thursday, 20 June 2024

غدیر شناسی قسط ۔۱. حجۃ الوداع توضیح:

 


گفتار اول: اسلامی سماج کی پہلی دہائی میں تشکیل

الف: تبلیغ اسلام میں پیغمبر اسلام کی ذمہ داری: (بحار، ج۲۰،ص۱۸۔۱۹)

آخری اور تمام ادیان کو منسوخ کردینے والا اسلام، بلند و بالا الٰہی معارف کا حامل ہے جس کو زمان و مکان میں محدود نہیں کیا جاسکتا ہے معارف الٰہیہ ہمیشہ اور پوری کائنات کے لئے افکار و ارواح انسانی کی تربیت کا دستور العمل اور بشریت کے لئے آئین حیات ہے۔

خاتم الانبیاء حضرت محمدؐ مصطفی پر یہ عظیم فریضہ عائد ہوا تھا آپ نے اسلام کے احکام و معارف کو تدریجی طور پر لوگوں سے بیان فرمایا، ہر عملی اقدام سے پہلے اس کی راہ ہموار کرتے، اسلام جتنا ترقی کے مراحل اور استحکام کی منزلیں طے کرتا رہا نبیؐ اکرم اتنے ہی عمیق مطالب لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہے اور یہ سلسلہ عمر مبارک کے آخری لمحات تک جاری و ساری رہا۔

۱۔ ہجرت سے قبل مسلمان: (بحار، ج۱۸، ص۱۴۳۔۱۴۸، ج۱۹، ص۱۔۲۷)

مکہ کی تیرہ سالہ تبلیغی حیات میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اسی وجہ سے بظاہر اسلام ضعیف و ناتواں نظر آتا تھا دنیوی ہوس لوگوں کو اسلام کی طرف راغب ہونے میں رکاوٹ پیدا کرتی تھی

گرچہ اس مختصر تعداد میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کے دل نفاق سے بھرے تھے اور اپنے مستقبل کو صحیح کرنے کے لئے پیغمبرؐ کے گرد اکٹھا ہوئے تھے، جاہلی اہداف کی تکمیل اور رسالتی اقدامات کو کمزور کرنے کی تمنائیں دل میں مچلتی رہتی تھی باوجود اس کے دیگر مسلمانوں کے اخلاص کے باعث ان کی تمنائیں پوری نہیں ہو پاتی اور دل کی حسرت دل ہی میں رہ جاتی۔

۲۔ مسلمان ہجرت کے بعد: (بحار، ج۱۹، ص۱۳۳۔۱۴۰،ج۲۰، ص۱۔۹۰)

پیغمبرؐ اکرم کی مدینہ تشریف آوری اول لوگوں کا استقبال، مسلمانوں کے لئے ایک پر امن مقام ملنے کے بعد روز بروز مسلمانوں کی تعداد بڑھتی گئی ترقی کی رفتار انی تیز تھی کہ کبھی گروہ در گرہ اور کبھی پورا ایک قبیلہ مسلمان ہوجاتا، اطراف و جوانب سے لوگ نبی ؐ اکرم کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے۔ اس لئے مسلمان کی جمعیت میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں، مختلف گروہ و قبائل جن میں مشرکین، یہودی، نصاریٰ وغیرہ تھے نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ان لوگوں کے درمیان کچھ ایسے افراد تھے جو قبائل کے سردار کی پیروی میں اور کچھ جنگوں میں شریک ہوکر مال غنیمت کی خاطر اور کچھ سماجی مقام و مرتبہ کے حصول کی غرض سے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے۔

جب جنگ بڑھی اور مسلمان سماجی و عسکری اعتبار سے مضبوط ہوئے جنگوں میں فتح یاب ہونے لگے تو بہت سے افراد اپنی جان و مال کی حفاظت کی خاطر دائرہ اسلام میں آگئے اور کچھ نے اکثریت کا دامن تھام لیا تاکہ رسوائی نہ ہو مخلص و و فداکار مسلمانوں کی تعداد بھی کم نہ تھی جس کے باعث منافقین کی سازشیں ناکام اور دنیا پرستوں کی ہوسرانیاں نقش بر آب ہوجاتی تھی۔

۳۔ فتح مکہ کے بعد مسلمان: (بحار، ج۲۱، ص۹۱۔۱۸۵)

فتح مکہ کے بعد حالات اور پیچیدہ ہوگئے اس فتح عظیم کے نتیجہ میں بت پرستی اور شرک کی بساط الٹ گئی اور عمومی معافی کے اعلان کے بعد وہ افراد جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں تلوار و نیزہ چلائے تھے دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے اور اسلامی سماج نئی شکل و صورت اختیار کرگیا۔

ب۔ حجۃ الوداع کے وقت اسلامی سماج کے عناصر:(بحار، ج۲۱، ۱۸۵۔ ۳۷۸)

پیغمبرؐ اکرم کی حیات کے آخری سال میں اسلامی معاشرہ مخلص مسلمان مثلا سلمان، ابوذر و مقداد وہ جدید مسلمان جنہوں نے کل تک مسلمانوں کے خلاف اسلحہ استعمال کئے تھے شہوت پرست و دنیا طلب افراد جن کا مقصد صرف دنیا کا حصول تھا پر مشتمل تھا۔

جاہلی عصبیت بعض کے ذہنوں پر حکمراں تھی بدر، احد، حنین و خیبر کی کسک باقی تھی، حرص دنیا نے کچھ لوگوں کے دلوں سے ایمان راسخ کا اغوا کرلیا تھا، دلوں میں چھپے حسد و کینے ہر روز آشکار ہورہے تھے ۔ حجۃ الوداع کے وقت یہ ساری صورتحال اسلامی سماج کا اٹوٹ حصہ تھیں۔


 

۱۔ اسلامی معاشرے میں منافق:

اسلامی سماج کی سب سے بڑی مشکل نفاق تھا جو روح ایمان کو لوگوں سے چھین کر اپنی طرف کھینچتا، منافق بظاہر مسلمان دکھتے لیکن قانونی کاروائی ان کے ساتھ دشوار تھی یہ گروہ آغاز بعثت سے مسلمانوں کے درمیان تھا بلکہ بعض تو منافقت کے ساتھ اسلام لائے تھے لیکن ان کی تعداد کم تھی۔ جتنی اسلام کی قدرت بڑھتی جارہی تھی منافقین کا گروہ بھی منظم تر ہوتا جارہا تھا اس گروہ نے اسلام کے مشرکوں اور کفار سے زیادہ عظیم نقصان پہونچایا

حیات مرسل اعظمؐ کے آخری سالوں میں منافقین باقاعدہ میدان عمل میں کود پڑے اور پوشیدہ جلسات و خفیہ میٹنگ کرتے اور اسلام و پیغمبرؐ اسلام کے خلاف سازشیں کرنے لگے تھے جس کا تذکرہ قرآن کی آیات میں بخوبی پایا جاتا ہے۔ یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ منافقین سے متعلق آیات آنحضرتؐ کی حیات کے آخری سالوں میں نازل ہوئی ہیں (اسی سلسلہ میں سورہ آل عمران، نساء، مائدہ، انفال، توبہ، عنکبوت، احزاب، محمد، فتح، مجادلہ، حدید، منافقین و حشر وغیرہ کی طرف مراجعہ کریں)

منافقین ظاہر بظاہر مسلمان نظر آتے لیکن باطنی طور پر کفرو الحاد و شرک میں ڈوبے ہوئے، ان کے دلوں میں اسلام کی ہمہ جانب بیخ کنی کے ارمان مچلتے رہتے انہیں خوب پتہ تھا کہ یہ مقصد اتنی آسای سے حاصل نہ ہوگا کم از کم حیات پیغمبرؐ اکرم میں بہر حال ناممکن ہے لہذا آپ کی رحلت کے بعد اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے لائحہ عمل تیار کرتے انہوں نے سال حجۃ الوداع میں آپس میں کچھ عہد نامہ پر دستخط کیا جس میں اسلام کے خلاف نہایت دقیق و مستحکم منصوبے تھے۔


 

۲۔ غدیر سازشوں کا خاتمہ:

وہ چیز جس نے منافقین کے تمام منصوبوں پر پانی پھر دیا اور ان مشکل ترین حالات میں اسلام حقیقی کی حفاظت کیا اعلان خلافت اور انتصاب جانشین پیغمبرؐ اسلام ہےجس کا آغاز ابتداء بعثت سے نبیؐ اکرم نے کیا تھا اور متعدد مناسب مواقع پر واضح طور پر بیان بھی کیا تھا۔

ان تمام اقدام کے با وصف پیغمبرؐ اسلام نے، اس اعلان و انتصاب کے لئے ایک ایسے موقع کی تلاش میں تھے جو زمان و مکان کے اعتبار سے سب سے مناسب ہو تاریخ پیغمبرؐ اکرم میں آپ کی حیات کے آخری مراحل میں جو عظیم الشان اجتماع ہوا وہی سب سے مناسب موقع تھا منافقین خوف زدہ ہوگئے اور مختلف النوع حیلہ و بہانہ کے ذریعہ رکاوٹیں ایجاد کیا۔

زمان و مکان کے اعتبار سے مناسب ترین موقع غدیر خم کا اجتماع تھا جس نے منافقین کو مفلوج اور ان کے دیرینہ سازشی منصوبوں پر پانی پھر دیا اور شیطانی افکار و خیالات پر خط بطلان کھینچ دیا۔ جناب فاطمہؑ زہرا نے اس سلسلے میں ارشاد فرمایا:و الله لقد عقد لہ یومئذ الولاء لیقطع منکم بذلک الرجاء (عوالم، ج۱۱، ص۵۹۵، ج۵۸)رسولؐ اسلام نے روز غدیر عقد ولایت کو حضرت علیؑ کے لئے مستحکم کردیا تاکہ تمہارے ارمانوں پر پانی پھر جائے۔

 

 

 

 

#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#

#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#

 

No comments:

Post a Comment

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام

سما نہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ...