Friday, 21 June 2024

غدیر شناسی قسط 9۔اعتراضات اور جواب۔۲۔

 

دوسرا سفر:

حضرت علیؑ کا یمن کی جانب دوسرے سفر کے سلسلے میں اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ یہ سفر صرف قضاوت و فیصلہ کی غرض سے تھا جو          ۸ھ و         ۹ھ  کے درمیان واقع ہوا تھا اس میں کسی قسم کی جنگ و شکایت کا تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ ایک حدیث میں حضرت علیؑ سے منقول ہے :بعثنی رسول الله الی الیمن قال فقلت یا رسول الله تبعثنی قوم الی اسن منی و انا حدیث لا ابصر القضاء قال فوضع یدہ علی صدری و قال اللھم ثبت لسانہ و اھد قلبہ، یا علی اذا جلس الیک الخصمان فلا تقض بینھما حتی تسمع عن الآخر کما سمعت من الاول فانک اذا فعلت ذلک تبین لک القضاء قال فما اختلف علی قضاء بعدا و ما اشکل علی قضاء بعد (الدرر فی اختصار المغازی و السیر، ابن عبد البر اندلسی، قاہرۃ وزارت اوقاف مصر   ۱۴۱۵ھ، کتاب المغازی، ج۳، ص۱۰۸۲)پیغمبر نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ مجھے ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جو سن و سال میں مجھ سے بزرگ ہیں اور میں جوان ہوں مسائل قضاوت پر چندان احاطہ نہیں رکھتا ہوں یہ سنکر پیغمبرؐ اکرم نے میرے سینہ پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا خدایا اس کی زبان کو استوار اور قلب کو ہدایت یافتہ بنا پھر فرمایا اے علیؑ اگر دو آدمی لڑتے ہوئے تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک کہ اسی طرح دوسرے گروہ کی بات بھی نہ سن لینا جس طرح پہلے گروہ کی سنا ہے، اگر ایسا کرلوگے تو فیصلہ اور حکم واضح ہوجائے گا حضرت علیؑ نے فرمایا بخدا دو لوگوں کے درمیان فیصلے میں مجھے کسی قسم کا تردد نہ ہوا۔

تیسرا سفر:

ماہ رمضان      ۱۰ھ میں حضرت علیؑ کو پیغمبرؐ اکرم نے پھر یمن بھیجا اور شوال و ذی قعدہ کا مہینہ وہیں قیام پذیر رہے ذی الحجہ میں جب نبیؐ اکرم نے حج کے ارادہ سے مکہ کا سفر کرنا چاہا تو حضرت علیؑ اور دیگر افراد جو کسی نہ کسی ماموریت کی وجہ سے سفر میں تھے خط لکھ کر مطلع فرمایا تاکہ آپ کے ہمراہ حجۃ الوداع میں شرکت کرسکیں

حضرت علیؑ جب طائف کے ایک قریہ فتق پہونچے تو پوری سرعت سے مکہ میں حضرت محمدؐ مصطفی سے ملحق ہونے کے لئے چل پڑے اور ابو رافع کے حوالہ اصحاب کی باگ ڈور کیا، خمس کی نگہبانی کا ذمہ دار بنایا، اس کے علاوہ اموال خمس، کچھ یمنی لباس، اونٹ اور چوپایہ جو مال غنیمت کے عنوان سے تھے اور مال زکات بھی اسی کے ساتھ تھا حضرتؐ نے جاتے جاتے لوگوں کو منع فرمایا تھا صدقے اور زکات کے اونٹوں پر سوار نہ ہونا اصحاب نے ابو رافع سے مطالبہ کیا لباس انہیں دیں ابو رافع نے دو کپڑے دے دئے جو ان لوگوں نے پہنا جب سدرہ نامی مقام جو مکہ کے اندر ہے پہونچے تو امام ان سے ملنے آئے تاکہ ان کے رہنے سہنے کا انتظام کرسکیں پھر انہیں آنحضرتؐ کی خدمت میں لے جائیں تو آپ نے دیکھا کہ دو آدمیوں نے نئے لباس پہن رکھے ہیں لباس کو پہچان لیا اور ابو رافع سے فرمایا کیوں ایسا کیا؟ اس نے جواب دیا اصحاب آپس میں باتیں کررہے تھے اور میری شکایت بھی کررہے تھے مجھے غصہ آیا میں نے خیال کیا آپ ناراض نہ ہوں گےکیوں کہ پہلے بھی سرداروں نے ایسا کیا تھا، امام نے فرمایا کیا پچھلوں کے مطالبات کو میں نے تسلیم کرلیا تھا؟ میں نے ان کے مطالبات کو رد کردیا تھا اب جب کہ تم نے ان کے مطالبات مان لئے ہیں تو اب علیؑ نے مقابلہ کیا بعض کے کپڑے اتروا دئیے اس کے بعد جب یہ لوگ پیغمبرؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت علیؑ کے اس عمل کی شکایت کیا آنحضرتؐ نے علیؑ کو بلاکر دریافت کیا کیوں یہ لوگ تمہاری شکیت کررہے ہیں؟ امام نے جواب دیا میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے شکایت کریں، مال غنیمت سے جو حصہ ان کا تھا دے دیا خمس کو بچا لیا تھا تاکہ آپ کے حوالہ کروں اور آپ اپنی صوابدید پر عمل کریں، ہاں گذشتہ سرداروں نے کچھ ایسے کام کئے تھے مثلا جن کو چاہتے تھے خمس سے دے دیتے تھے لیکن میری نظر میں یہ خلاف مصلحت ہے میں آپ کے حوالہ اموال خمس کرنا چاہتا تھا تاکہ آپ جو مناسب سمجھیں عمل کریں اسی سختی کی وجہ سے لشکر والے امیر المؤمنینؑ کی شکایت کررہے تھے، یہ سارے واقعات اس وقت رونما ہوئے جب صحابہ مکہ مکرمہ پہونچے تھے۔

جب لشکر نے علیؑ کی شکایت کردیا اس کے بعد راوی کہتا ہے: فقام رسول الله (صلعم) فینا خطیبا فسمعتہ یقول ایھا الناس لا تشکوا علیاً فو الله انہ لاخسن فی ذات الله او فی سبیل الله من ان یشکی مضی رسول الله علی حجہ فاریٰالناس مناسکھم و اعلمھم سنن حجھم (سیرہ ابن ہشام، ج۴، ص۱۰۲۱۔ تاریخ طبری، ج۲ ص۴۰۱۔ الطبقات الکبری، ج۲، ص۱۲۸۔ مسعودی، التنبیہ و الاشراف تصحیح عبد اللہ اسماعیل الصاوی، قاہرہ، دار الہادی، بی تا، آفسیسٹ قم، مؤسسہ نشر المنابع الثقافۃ الاسلامیہ)

پیغمبرؐ اکرم نے مکہ میں کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا اور اعلان کیا کہ علیؑ کی شکایت کا حق کسی کو نہیں ہے دینی معاملات میں وہ سخت ہیں اور چونکہ ان کے تمام اعمال برحق ہیں لہذا وہ شکایت سے بالاتر ہیں، اس کے بعد پیغمبرؐ اسلام نے عرفات کی طرف کوچ فرمایا اور اعمال و مناسک حج لوگوں کو سکھایا۔

ہم ان دعویداروں سے مندرجہ ذیل سوالات کے جواب کا انتظار کررہے ہیں:

۱۔ غدیر کے طولانی خطبہ میں پیغمبرؐ اکرم نے کسی مقام پر ان شکایات کی طرف جو لشکر کے افراد نے کیا تھا معمولی سا اشارہ بھی نہیں فرمایا، کیوں؟

۲۔ تیسرے سفر کا واقعہ مراسم حج کے آغاز میں رونما ہوا کیوں کدورت برطرف کرنے کے لئے نبیؐ اکرم نے ۱۸/ ذی الحجہ کا انتظار کیا؟

۳۔ علیؑ و چند اصحاب کے درمیان کا معاملہ تھا تو کیوں نبیؐ نے تمام مسلمانوں کے سامنے پیش کیا؟

۴۔ خطبہ غدیر میں دقت نظر سے کام لینے والا بخوبی اس بات کو پہچان لے گا کہ پیغمبرؐ اسلام کا مقصد ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے بہت بلند تھا

۵۔ اگر بالفرض ان کے تجزیوں کو تسلیم کرلیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نبیؐ نے تپتی ہوئی ہوا، جھلسا دینے والی گرمی میں لوگوں کو جمع کرکے صفات حضرت علیؑ کی تاکید و اعلان فرمایا؟

نتیجہ:

اہل سنت کی اہم تاریخی و روائی کتب کا جائزہ اس نتیجہ تک پہونچاتا ہے کہ حضرت علیؑ نے یمن کی جانب جو تین سفر کئے ہیں ان کا مختلف بیان شدہ دلائل کی بنیاد پر واقعہ غدیر خم سے کسی قسم کا تعلق نہیں تھا۔

منابع و مدارک

۱۔ گزارش حجۃ الوداع، حمید باقر انصاری، دلیل ما، چ سوم      ۱۳۹۲

۲۔ گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر، حمید باقر انصاری، دلیل ما، چ۶۱، ص۱۳۸۸

۳۔ ۱۵ روز با غدیر، حمد صدری، عطر عترت قم

۴۔ فرہنگ غدیر، جواد محدثی، نشر معروف قم      ۱۳۸۶ ش

۵۔ الاعتقاد، ج۱، حمد بن الحسین البیہقی، دار الآفاق الجدیدہ بیروت

۶۔ البدایہ و النہایہ، ج۵، اسماعیم بن عمر بن کثیر القرشی ابو الفداء، مکتبۃ المعارف بیروت

۷۔ الصواعق محرقہ، ج۱، حمد بن محمد بن محمد بن علی بن حجر الہیثمی، مؤسسۃ الرسالہ بیروت

۸۔ المسند بن حنبل، ج۳، الغدیر للدراسات و النشربیروت

۹۔ منہاج السنۃ، ابن تیمیہ، ج۷، قم مرکز الحقائق الاسلامیہ ۱۴۳۸ھ، ۱۳۸۶ش

۱۰۔ السیرۃ النبویہ، ج۱، ابن ہشام عبد الملک، (بیتا) ابراہیم آبیاری دار المعرفہ بیروت

۱۱۔ الصحیح من سیرۃ الامام علی، ج۲، العاملی، المرکز الاسلامی للدراسات بیروت

۱۲۔ الدرر فی اختصار المغازی و السیر، ابن عبد البر اندلسی، قاہرہ مصر وزارت اوقاف

۱۳۔ التاریخ الکبیر، ج۶، محمد بن اسماعیل بخاری، دار الجبل بیروت

۱۴۔ الجامع الاحکام، القرآن، ج۱۳، قرطبی ناصر خسروتہران

۱۵۔ بحار الانوار، ج۱۸، علامہ مجلسی، کتابخانہ مسجد ولی عصر تہران

۱۶۔ التنبیہ و الاشراف، عبد اللہ اسماعیل الصاوی، دار الصاوی قاہرہ، آفسیٹ قم، مؤسسہ نشر المنابع الثقافۃ الاسلامیہ

۱۷۔ مستدرک الصحیحین، ج۳، الحاکم النیشاپوری

۱۸۔ السیرۃ النبویہ، ابن ہشام الحمیدی، ج۴

۱۹۔ المعجم الکبیر، سلیمان بن احمد بن ایوب ابو القاسم طبرانی، ج۱۸، مکتبۃ العلوم و الحکم الموصل، الطبعۃ الثانیۃ ۱۴۰۴ھ ۱۹۸۳ء

 

 

 

#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#

#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#

 

No comments:

Post a Comment

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام

سما نہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ...