جواب اعتراضات:
غدیر کے حوالہ سے لشکر یمن پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں ان کے تذکرہ سے پہلے اس بات کی یاددہانی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ طول تاریخ میں ہر دور ہر زمانہ میں اس واقعہ پر دشمنان ولایت نے مختلف نقطہ نظرسے حملہ کیا ہے۔
علامہ کورانی غدیری امواج سے مقابلہ کے سلسلے میں تحریر کرتے ہیں:
پہلی موج: سقیفہ اور قریش کا خاندان رسالت پر حملہ
دوسری موج: عایشہ و طلحہ و زبیر کی سرداری میں قریش کے اسلام مخالف احتجاجات
تیسری موج: بنی امیہ کا فتنہ جس کے نتیجہ میں حضرت علیؑ و امام حسنؑ کی شہادت واقع ہوئی
چوتھی موج: شہادت امام حسینؑ اور شیعوں کے خاتمہ کی اموی پلاننگ جس کا اختتام عصر امام محمد باقرؑ پر ہوا
پانچویں موج: منصور دوانیقی اور عباسی حکومت کی تشکیل سے شہادت امام جعفر صادق ؑ
چھٹی موج: ہارون رشید و منصور کی کوششیں اور شہادت امام موسی کاظمؑ و امام علی رضاؑ
ساتویں موج: مامون کے عہد و پیمان کو توڑ کر معتصم کی سرگرمیاں، اہل بیتؑ کے تئیں نرم رویہ اور آخر کار شہادت امام محمد تقیؑ
آٹھویں موج: متوکل اور اس کے بھوکے خلفاء کی سرگرمیاں ائمہؑ کے قتل کرنے کی غرض سے جس کا سلسلہ امام حسن عسکریؑ کے دور تک جاری وساری رہا۔
نویں موج: متوکل گروہ اور بغداد کے حسینی گروہ کی شیعہ کشی، دینی مراسم پر حملہ کی سرگرمیاں، یہ سلسلہ سلجوقیوں کی حکومت تک چلتا رہا۔
دسویں موج: تقریبا ڈیڑھ سو سالہ دور فعالیت سلجوقی
گیارہویں موج: صلاح الدین ایوبی کی کوشش، فاطمی حکومت کا مصر و شام میں خاتمہ کرنا، شیعوں کو نیست و نابود کرنا
بارہویں موج: مذاہب اربعہ کے غلبہ اور شیعیت کی نابودی کی خاطر پا۔۔ اور مصر سلاطین کی سرگرمیاں
تیرہویں موج: عثمانی ترکیوں کی شیعہ مخالف سرگرمیاں
چودہویں موج: روس، انگلستان اور مغربی ممالک کی شیعہ مخالف فعالیتیں
پندرہویں موج: ابن تیمیہ کے نئے پیرو کار جو گروہ متوکل کے احیاء کرنے والے ہیں ان کی سرگرمیاں
قصہ جیش یمن کا شبہ:
غدیر کے سلسلہ میں اہل سنت بالخصوص وہابیوں کا بزعم خود محکم و قوی اعتراض و شبہہ جیش یمن کی داستان ہے ان کا دعوی ہے کہ حضرت محمدؐ مصطفی نے حضرت علیؑ کو یمن بھیجا تھا ان کا وہاں پر لشکر کے افراد سے اختلاف ہوا ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جب لشکر نبیؐ اکرم کی بارگاہ میں واپس ہوا تو امیر المؤمنینؑ کی شکایت کیا آنحضرتؐ نے صحابہ کے دلوں سے کدورت اور اختلافات کو ختم کرنے کے لئے غدیر خم کے مقام پر مجمع کو اکٹھا کرکے فرمایا: اے لوگو! علیؑ کی شکایت نہ کرو جو مجھ کو دوست رکتا ہے وہ علیؑ کو بھی دوست رکھے۔ ان کلمات و عبارات کے ذریعہ شیعوں کے اصل مدعا پر سوال اٹھایا ہے اور کلمہ "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" جو غدیر میں زبان رسالتؐ پر جاری ہوا اس کو امامت کی دلیل کے طور پر قبول نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس سے امامت کے اثبات کا استدلال نہیں ہوتا ہے۔
جواب شبہ:
اس شبہ کے جواب سے قبل مندرجہ ذیل مطالب پر توجہ و تحقیق ضروری ہے۔
شبہ کا پس منظر
۔ حضرت علیؑ نے یمن کا کتنی بار سفر فرمایا؟
۔ حضرت علیؑ کی شکایت کرنے والے کون لوگ تھے؟ لشکر؟ بریدہ؟
۔ ابو سعید خدری یا دیگر صحابہ؟ یا خالد بن ولید؟
۔ شکایت مدینہ میں کی گئی یا مکہ میں؟
۔ حضرت علیؑ کی شکایت کا سبب کیا تھا؟
۔ شکایت اعمال حج انجام دینے سے پہلے کی گئی یا بعد میں؟
۔ شکایت کرنے والوں سے پیغمبرؐ اکرم کا رد عمل کیا تھا؟ انہوں نے جواب میں کیا فرمایا؟
پس منظر:
اہل سنت کی معتبر کتابوں کی بنیاد پر سب سے پہلے جن افراد نے اس شبہہ کو پیش کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کیا ہے کہ حدیث غدیر جیش یمن کے پس منظر میں بیان ہوئی ان میں مندرجہ ذیل افراد سر فہرست ہیں:
بیہقی نے الاعتقاد صفحہ ۳۵۴، ابن کثیر نے البدایہ و النہایہ جلد۵، صفحہ ۱۲۲ و ۲۲۷، دہلوی نے تحفہ اثنا عشریہ و ناصر غفاری نے اصول مذہب الشیعہ میں۔
بعنوان نمونہ ابن کثیر نے دو الگ الگ واقعات کو مخلوط کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: قال بن کثیر المتوفی سنة۷۷۴ "و المقصود ان علیاً لما کثر فیہ القیل و القال من ذلک الجیش بسبب منعہ ایاھم استعمال اھل الصدقة و استرجاعہ منھم الحلل التی اطلقه لھم نائبہ و علی معذور فیما فعل لکن اشتھر الکلام فیہ فی الحجیج فذلک و الله اعلم۔
لما رجع رسول الله من حجتہ و تفرغ من مناسکہ و رجع الی المدینة فمر بغدیر خم قام فی الناس خطیبا فبراساحة علی ورفع من قدرہ و نبہ علی فضلہ سیزیل ما و قد فی نفوس کثیر من الناس
حدیث غدیر کا مقصد یہ تھا جو نا مناسب باتیں حضرت علیؑ کے سلسلے میں لوگ بیان کررہے تھے اور حضرتؐ نے انہیں بیت المال کے اونٹ اور لباس کو پہننے سے منع کیا تھا لیکن ان لوگوں نے پہن لیا جس کے بعد حضرتؐ نے سخت لب و لہجہ میں ان سے گفتگو فرمایا۔ وہ یہ گمان کرتے تھے حضرت علیؑ مجبور و معذور تھے ان کا اقدام صحیح تھا لیکن اس واقعہ کی حجاج کے درمیان شہرت ہوگئی تھی۔ پھر وہ بیان کرتے ہیں۔ پیغمبرؐ اکرم نے حجۃ الاسلام ادا کرنے اور مناسک حج سے فراغت کے بعد مدینہ جاتے ہوئے غدیر خم سے گزر ہوا تو آپ نے حضرت علیؑ کو صحابہ کی بدگمانیوں سے پاک و مبرا گردانتے ہوئے خطبہ پڑھا اور گفتگو کو اس طرح آگے بڑھایا"حضرت علیؑ کے مقام کو بلند فرمایا لوگوں سے فضیلت علیؑ کے سلسلے میں گفتگو فرمایا تاکہ لوگوں کے دلوں سے کدورتیں ختم ہوجائیں
محدث دہلوی نے بارہ سو سال بعد انہیں کلمات کو نقل کرتے ہوئے تحریر فرمایا: قال الدھلوی المتوفی سنة ۱۲۳۹ھ ان سبب ھذہ الخطبة کما روی المؤرخون و اھل السیر۔ یدل بصراحة علی ان الغرض افادة محبة الامیر و ذلک ان جماعة من الاصحاب الذین کانوا معہ فی الیمین مثل بریدة الاسلمی و خالد بن الولید و غیرھما من المشاھیر جعلوا لیشکون لدی رجوعھم من الامیر عند النبی (صلعم) شکایات لامور دلھا فلما رأی رسول الله شیوع تلک الاقاویل من الناس و انہ ان منع بعضھم عن ذلک حمل علی شدة علاقتہ بالامیر ولم یفد فی ارتداعھم لہذا خطب خطبة عامة و افتح کلامہ بنص من القرآن فأملأ ألست اولی بالمؤمنین من انفسھم یعنی انہ کل ما اقولہ لکم ناشی من شفقتی علیکم و رأی فتی بکم و لیس الغرض الحمایة عن احد و لیس ناشئاً عن فرط المحبة لہ (نفحات الازھار،ج۹، ص۲۹۲)
علیؑ کا یمن کی جانب سفر:
۱۔۸ھ میں پہلا سفر یمن کا فرمایا، فتح مکہ کے بعد اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لئے یہ سفر انجام پایا
۲۔ دوسرا سفر ۸ھ و ۹ھ کے درمیان کچھ فیصلے کرنے کے لئے واقع ہوا
۳۔ ۱۰ھ میں یہ تیسرا حجۃ الوداع سے پہلے خالد بن ولید کو یمن بھیجا چند ماہ بعد حضرت علیؑ بھی وہاں گئے اور یمن کو فتح کرکے مال غنیمت کے ہمراہ جس میں کنیزیں بھی تھیں واپس ہوئے حضرتؐ نے ان کنیزوں میں سے اپنا حصہ لے لیا (البتہ ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرتؑ ایسا نہیں کرسکتے ہیں یہ سب بنی امیہ کی من گھڑت باتیں ہیں بالفرض اگر ایسا کیا بھی تو منقولہ عبارت کے مطابق حضرتؑ کا حق مال غنیمت میں اس سے کہیں زیادہ تھا) پھر خالد بن ولید نے صحابی پیغمبرؐ بریدہ کو یمن سے پیغمبرؐ اکرم کی خدمت میں بھیجا اور حضرت علیؑ کی شکایت کیا پیغمبرؐ اسلام نے بریدہ و دیگر صحابہ کی شکایت سے ناراض ہوکر حضرت علیؑ کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔
ہر چیزسے پہلے اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ یہ سفر ۸ھ میں فتح مکہ کے بعد انجام پایا یعنی دو سال حجۃ الوداع سے پہلے زینی دحلان مفتی مکہ مکرمہ (متوفی ۱۳۰۴ھ یا ۱۳۰۵ھ) کا بیان ہے: فی التاریخ سنة عشرو ھم لان بعث علی الی ھمدان لم یکن سنة عشر انما کان سنة عشر بعثہ الی بنی مذحج و اما بعثہ الی ھمدان فکان سنة ثمان بعد فتح مکة۔ ۱۰ھ میں حضرت علیؑ کا ہمدان کا سفر یہ وہم ہے اس سال نہیں گئے تھے ۱۰ھ میں امیر المؤمنینؑ قبیلہ بنی مذحج کی طرف بھجے گئے لیکن ہمدان کا سفر ۸ھ میں فتح مکہ کے بعد ہوا
۲۔اصحاب شکایت کی غرض سے مدینہ آئے اور مسجد نبوی میں شکایت کیا لہذا اس کا واقعہ غدیر سے کسی قسم کا تعلق نہیں معلوم دیتا ہے جیسا کہ طبرانی نے اپنی کتاب میں اس کی تائید کیا ہے
طبرانی نے معجم اوسط میں اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد تحریر کیا "ان الشکوی قد وقعت فی المدینة قبل حجة الوداع فلا علاقة لھا بحدیث الغدیر کما فی صریح کلام الطبرانی: عن بریدة، قال: "بعث رسول الله علیاً امیراً علی الیمن و بعث خالد بن الولید علی الجبل فقال ان اجتمعنا فعلی علی الناس فالتقوا و اصابوا من الهغنائم مالم یصیبوا مثلہ و اخذ علی جاریة من الخمس فدعا خالد بن الولید بریدة فقال اغتنمھا فاخبر النبی بما صنع فقدمت المدینة و دخلت المسجد و رسول الله فی منزلہ و ناس من اصحابہ علی بابہ (معجم الاوسط، ج۶، ص۱۶۳)
اس کا بیان ہے کہ بریدہ کہتے ہیں مجھے خالد نے مدینہ جاکر پیغمبرؐ کو ان تمام امور کی خبر دینے کا حکم دیا جو علیؑ نے انجام دیا تھا وہ کہتے ہیں میں مدینہ میں وارد ہوا تو مسجد نبی گیا کچھ صحابہ دروازہ کے پاس بیٹھے تھے۔
ایک بیان کے مطابق عمر بن شاس اور ابو سعید خدری نے بھی مدینہ میں نبیؐ اکرم کی بارگاہ میں شکایت کیا تھا لیکن اس کا روزغدیر اور حجۃ الوداع سے نبیؐ اکرم کی واپسی سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے "مسجد میں داخل ہوا پیغمبرؐ اپنے بیت الشرف میں تھے کچھ صحابہ دروازہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے صحابہ نے پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا اچھی خبر ہے اللہ نے مسلمانوں کو کامیابی عطا کیا ان لوگوں نے پوچھا پھر تم لشکر سے پہلے مدینہ کیوں آگئے ہو؟ جواب دیا علیؑ نے ایک کنیز مال خمس سے اپنے ذاتی مصرف میں لے لیا ہے بیت المال میں تصرف کیا ہے میں پیغمبرؐ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ کے داماد نے خمس سے کنیز لے لیا ہے صحابہ نے کہا جاؤ جاکر پیغمبرؐ کو بتاؤ کہ علیؑ نے کنیز (کہا گیا ہے کہ وہ کنیز حسین و جمیل تھی) اپنے ذاتی استعمال میں لے لیا ہے اگر یہ بات نبیؐ تک پہونچ گئی تو علیؑ نگاہ پیغمبرؐ میں گرجائیں گے "فقالوا ما الخبر یا بریدة فقلت خیر فتح الله علی المسلمین فقالوا ما اقدمک قال جاریة اخذھا علی من الخمس فجئت لأخبر النبی (صلعم) قالوا فاخبرہ فانہ یسقطہ من عین رسول الله (معجم الاوسط،ج۶، ص۱۶۲)
ایک دوسری روایت جس کو ابن اثیر، ابن ابی شیبہ اور بخاری نے نقل کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں:
مال غنیمت کو حضرت علیؑ نے تقسیم کردیا ہر گروہ کا حصہ علاحدہ علاحدہ کیا بنی ہاشم سے متعلق حصہ کی تقسیم بھی کردیا اور جو کم تھیں ان کے سلسلے میں قرعہ اندازی کیا کنیز کا قرعہ علیؑ کے نام نکلا علیؑ نے اسلامی قانون کے مطابق یہ تقسیم انجام دیا تھا "آگے وہ تحریری کرتے ہیں "صحابہ میں سے چار افراد علیؑ کے اس عمل سے ناخوش تھے ان لوگوں نے آپس میں طے کیا کہ حضرت علیؑ کی رسولؐ خدا سے شکایت کریں گے، فاستعمل علیھم علی بن ابی طالب فمضی فی السریة فاصاب جاریة فانکروا علیہ و تعاقدار بعدة من اصحاب النبی فقالوا اذ لقینا رسول الله (صلعم) اخبرناہ بما صنع علی (جامع الاصول، ج۸، ص۶۵۳،مصنف ابن ابی شیبہ، ج۶، ص۳۷۲،اسد الغابہ، ج۴، ص۱۱۶) جب نبیؐ سے ملاقات ہوگی علیؑ کے عمل کی شکایت پیغمبرؐ سے کریں گے۔
۳۔ ان شکایات پر رسولؐ خدا کا رد عمل کیا تھا؟
ذہبی نے تاریخ الاسلام میں اس واقعہ کے بعد پیغمبرؐ اکرم کا جواب تحریری کیا وہ بیان کرتے ہیں "ما تریدون من علی علی منّی و انا منہ و ھو ولی کل مؤمن بعدی، (تاریخ الاسلام، ج۳، ص۶۳۱) علیؑ سے کیا چاہتے ہو علیؑ مجھ سے ہے اور میں علیؑ سے ہوں میرے بعد وہ تمام مؤمنین کے ولی ہیں، اس کے آگے تحریر کرتے ہیں :اخرجہ احمد فی المسند و الترمذی و حسنہ و النسائی (احمد مسند میں، ترمذی و نسائی وغیرہ نے اس کو نقل کیا ہے)
ذہبی نے اسی کتاب میں نسائی نے بریدہ کے قول کو نقل کرتے ہوئے تحریر کیا :فرأیت الغضب فی وجہ رسول الله (غصہ کے آثار پیغمبرؐ اکرم کے چہرہ مبارک پر نمایاں تھے) بریدہ مزید بیان کرتے ہیں "فقلت یا رسول الله (صلعم) لاتقع فی علی فانہ منی و انا منہ و ھو ولیکم بعدی انہ منی و انا منہ و ھو ولیکم بعدی" (مسند احمد بن حنبل، ج۵، ص۳۵۶۔ سنن النسائی الکبریٰ، ج۵، ص۱۳۳) میں پناہ چاہتا ہوں اے رسولؐ خدا کہ آپ کے غصہ کا سبب بنوں اے اللہ کے رسول مجھے خالد نے بھیجا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ اس کی اطاعت کروں کہ وہ میرا سردار تھا اسی نے خط لکھا ہے رسولؐ خدا نے فرمایا علیؑ کے بارے میں نامناسب بات نہ کہو کیوں کہ علیؑ مجھ سے اور میں علیؑ سے ہوںوہ میرے بعد تمہارا ولی ہے۔
حاکم نیشا پوری نے بریدہ کو نقل کیا ہے "فقدمت علی رسول الله (صلعم) فذکرت علیاً فتنقصتہ فرأیت وجہ رسول الله (صلعم) یتغیر فقال یا بریدۃ الست اولی بالمؤمنین من انفسھم قلت بلی یا رسول اللہ فقال من کنت مولاہ فعلی مولاہ و ذکر الحدیث ھذا حدیث صحیح علی شرط مسلم و لم یخرجاہ (مستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص۱۱۹) نبیؐ اکرم کی خدمت میں پہونچا علیؑ کے بارے میں گفتگو کیا ان کی منقصت بیان کیا تو نبیؐ اکرم کا چہرہ متغیر ہوگیا حضرتؐ نے فرمایا کیا میں مؤمنین کے نفوس پر ان سے زیادہ حق تصرف نہیں رکھتا؟ میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ فرمایا جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علیؑ مولا ہیں۔ان متذکرہ بالا مطالب کا غدیر خم سے کیا رابطہ ہے؟
حاکم نے ایک دوسری روایت میں بیان کیا ہے "مسلمانوں کا طریقہ تھا جب وہ سفر سے مدینہ آتے تھے تو پہلے پیغمبرؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور سلام کرتے اس کے بعد اپنے گھروں کو جاتے تھے چار صحابہ نے آپس میں عہد و پیمان کیا کہ خدمت رسولؐ میں پہونچ کر جو کچھ علیؑ نے غیر مناسب عمل انجام دیا ہے اس کی خبر دیں گے بیت المال کو تقسیم کیا اور اپنے حق میں تصرف کیا ہے اس کی اطلاع دیں گے جب ہم اس سفر سے پلٹے تو پیغمبرؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام کیا اس کے بعد پہلا شخص اٹھا اور علیؑ کی شکایت کیا نبیؐ نے اس کی طرف سے رخ موڑ لیا دوسرا کھڑا ہوا اس سے بھی منھ پھیر لیا تیسرے سے بھی منھ پھیر لیا تو چوتھے نے کھڑے ہوکر شکایت کیا نبیؐ نے اس سے بھی رخ پھیر لیا آخر میں ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی باتوں سے مطلق متاثر نہ ہوتے ہوئے اظہار غصہ فرمایا اور ارشاد فرمایا علیؑ سے کیا چاہتے ہو؟ علیؑ مجھ سے ہے اور میں علیؑ سے ہوں وہ مؤمنین کا ولی ہے۔ اس کے بعد تحریری ہے کہ:ھذا حدیث صحیح علی شرط مسلم و لم یخرجاہ (مستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص۱۱۹) (یہ حدیث مسلم کی شرط صحت کے معیار پر صحیح ہے اور اس کو ان دونوں نے نقل نہیں کیا) بریدہ نے شکایت اور پھر آنحضرتؐ کی ناراضگی کو دیکھ کر کہا "فما فارقتہ حتی بایعتہ علی الاسلام" (معجم الاوسط، ج۶، ص۱۶۳) اے اللہ کے رسولؐ میں جب تک دوبارہ اسلام کی بیعت نہیں کروں لوں گا آپ کے پاس سے جدا نہیں ہوں گا۔
#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#
#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#
No comments:
Post a Comment