ولایت کی تبریک و تہنیت:
خطبہ مکمل ہوا لوگوں کی آواز بلند ہوگئی ہاں ہم نے سن لیا خدا و رسولؐ کے حکم کے مطابق دل و جان، دست و زبان سے اطاعت کریں گے۔ مجمع نبیؐ اکرم اور حضرت علیؑ کے پاس اکٹھا ہوا بیعت کرنے کے لئے ہر ایک بیعت میں سبقت حاصل کرنا چاہتا تھا دست بیعت دراز کئے۔
اظہار احساسات اور فریاد پرجوش جو مجمع سے بلند ہورہی تھی اس حجاج کے مجمع کو پرشکوہ اور بے نظیر بنا رہی تھی اور پیغمبرؐ اکرم اس لمحہ حمد و ثناء پروردگار کررہے تھے الحمد للہ الذی فضلنا علی جمیع العالمین تمام تعریفیں اس خدا کے لئے جس نے ہمیں دونوں جہاں پر برتری عطا فرمایا۔
توجہ کے لائق نقطہ جس کا فقدان جنگوں کی فتح، دیگر کامیابیوں حتی فتح مکہ میں بھی نظر آتا ہے وہ یہ کہ حضرتؐ نے غدیر کے دن فرمایا "مجھے مبارک باد دو مجھے تہنیت پیش کرو کیوں کہ اللہ نے مجھے منصب نبوت پر فائز کیا اور میرے اہل بیتؑ سے امامت کو مختص کیا۔ کفرو نفاق کے محل کو تہس نہس کرنے کی عظیم نشانی تھی۔ دوسری طرف پیغمبرؐ اکرم نے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں کے درمیان گھوم کر خلاصہ خطبہ غدیر "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ" کی تکرار کرے تاکہ میدان غدیر ہی میں ولایت ہمیشہ کے لئے لوح دل پر نقش ہوجائے۔
بیعت عمومی:
دوران خطبہ نبیؐ اکرم نے وعدہ کیا فرمایا تھا کہ خطبہ کے بعد تم سے بیعت لی جائے گی ارشاد ہوا "میں خطبہ کے بعد تمہیں بلاؤں گا تاکہ بیعت کے عنوان سے اپنا ہاتھ مجھے دو اور اس کا اقرار کرو اور پھر علیؑ کو اپنا ہاتھ دینا بیعت کے لئے یہ بات یاد رہے میں نے خدا سے بیعت کی ا ور علیؑ نے مجھ سے اور میں اللہ کی طرف سے اس کے لئے تم سے بیعت لوں گا۔ بات کو پختہ کرنے اور جم غفیر کے منظم طریقہ سے بیعت کرنے کے لئے خطبہ کے بعد حکم دیا کہ دو خیمے نصب کئے جائیں ایک خیمہ اپنے لئے معین کیا اور تشریف فرما ہوگئے اور دوسرے خیمے میں علیؑ سے کہا جاگزیں ہوجاؤ مجمع کو جمع ہونے کا حکم دیا پھر مجمع گروہ در گروہ خیمہ پیغمبرؐ میں آتا اور حضرت علیؑ کے ہاتھوں پر بیعت کرتا اور تبریک و تہنیت پیش کرتا اس کے بعد حضرت علیؑ کے خیمہ میں حاضر ہوکرامام و خلیفہ پیغمبرؐ کے عنوان سے بیعت کرتا اور وفاداری کا عہد و پیمان کرتا امیر المؤمنین کہہ کر سلام کرتا اور تبریک و تہنیت پیش کرتا، بیعت کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا تین دن نبیؐ اکرم غدیر میں قیام پذیر رہے، پروگرام کی ترتیب ایسی تھی کہ سب شریک ہوسکیں عمر نے بیعت کے بعد یہ کلمات کہے مبارک ہو مبارک ہو اے ابوطالب کے بیٹے اے ابو الحسنؑ خوشا بحال کہ آپ میرے اور مؤمنین مرد وزن کے مولا بن گئے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ سب نے حکم پیغمبرؐ کے بعدبغیر کسی حیلہ و حوالہ کے بیعت کرلیا لیکن ابو بکر و عمر نے نبیؐ اکرم سے پوچھا کیا یہ حکم خدا کی طرف سے ہے یا اس کے رسول کی کی طرف سے؟ حضرتؐ نے فرمایا خدا و رسولؐ کی طرف سے ہے کیا اتنا عظیم کام بغیر حکم خدا کے ہوسکتا ہے؟ ہاں حق ہے کہ خدا و رسولؐ کی طرف سے علیؑ کو امیر المؤمنین بنایا گیا۔
عورتوں کا بیعت کرنا:
عورتوں کو بھی نبیؐ اکرم نے بیعت کا حکم دیا اور امیر المؤمنینؑ کہہ کر سلام اور تبریک و تہنیت پیش کرنے کا حکم دیا اپنی ازواج کے سلسلہ میں تاکیداً فرمایا چونکہ اکثر خواتین نا محرم تھیں لہذا ایک برتن میں پانی رکھا گیا اور اس پر کپڑا ڈال دیا گیا اور عورتوں کو مامور کیا گیا کہ اپنا ہاتھ پانی پر رکھیں اور اپنی بیعت کو انجام دیں۔
یہ بات بیان کردینا ضروری ہے کہ اس مجمع خواتین میں حضرت زہراؑ بھی موجود تھیں، تمام ازواج پیغمبرؐ، ام ہانی خواہر جناب امیر، فاطمہ بنت حمزہ، اسماء بنت عمیس بھی اس پروگرام میں شریک رہیں۔
عمامہ سحاب:
دستور عرب تھا کہ اگر کسی قوم کو کسی عظیم منصب و سرداری سے نوزا جاتا تو اس شخص کے سر پر عمامہ باندھنے کی رسم بھی ہوتی تھی اور رسم کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی تھی جب عمامہ کسی کے سر باندھا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس پر اعتماد و بھروسہ ہے۔ پیغمبرؐ اکرم نے میدان غدیر میں سحاب نامی اپنا عمامہ امیر المؤمنینؑ کے سر پر تاج پر افتخار کے عنوان سے رکھا اور عمامہ کا ایک سرا دوش علیؑ پر لٹکا دیا اور فرمایا عمامہ عرب کا تاج ہے۔ امیر المؤمنینؑ نے اس سلسلہ میں فرمایا رسولؐ خدا نے روز غدیر میرے سر پر عمامہ باندھا جس کا ایک سرا میرے دوش پر لٹکایا اور فرمایا اللہ نے بدر و حنین کے دن ایسے ملائکہ کے ذریعہ نصرت کیا جن کے سروں پر ایسا ہی عمامہ تھا۔
جبرئیلؑ کی حاضری:
ملائکہ آدمی کی شکل میں خاص مواقع پر ظاہر ہوتے تھے جو ایک خاص پیغام لوگوں کی راہنمائی کےلئے ہوتا تھا میدان غدیر میں یہ ہوا کہ خطبہ پیغمبرؐ اسلام کے بعد ظاہر ہوئے اور اتمام حجت کیا۔ ایک حسین و جمیل شخص معطر لوگوں کے کنارے کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے بخدا ایسا دن کبھی نہیں دیکھا اپنے چچا زاد بھائی کے امور کو کتنی تاکیدی انداز میں پیش کیا اور اس کے لئے عہدو پیمان باندھا جس کو صرف کافر توڑ سکتا ہے وائے ہو اس پر جو اس عہد کو توڑے۔
عمر نے پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا سنا آپ نے اس آدمی نے کیا کہا؟ حضرتؐ نے فرمایا اس کو پہچانتے ہو؟ کہا نہیں فرمایا یہ جبرئیلؑ ہیں تم بھی خبردار ہوجاؤ پیمان شکنی نہ کرنا اگر ایسا کردیاتو خدا، رسولؐ، ملائکہ اور مؤمنین تم سے بیزار ہوں گے۔
الٰہی اعجاز:
غدیر خم میں جو کچھ بیان ہوا اس میں اسلام کا عظیم پیغام ولایت اہل بیتؑ تھا۔ اگر اکثر مقامات پر اتمام حجت کی خاطر نبیؐ اکرم کی طرف سے معجزہ ظاہر ہوتا تھا تاکہ موجودہ و آئندہ دور کے لوگوں کو اطمینان قلب حاصل ہوجائے تو غدیر خم میں نبیؐ کی موجودگی میں بلا واسطہ خدا نے معجزہ دکھایا الٰہی تائید غدیری اعلان کے اختتام پر رونما ہوئی تیسرے دن کے آخری لمحات میں حارث فہری اپنے بارہ ساتھیوں کے ہمراہ نبیؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے محمدؐ تین سوال کا جواب چاہئے۔ وحدانیت پروردگار اور اپنی نبوت کی گواہی کا فرمان خدا کی جانب سے تھا یا آپ کی طرف سے؟ نماز، زکات، حج و جہاد کا حکم خدا کی طرف سے تھا یا آپ کی جانب سے؟ علیؑ کو آپ نے مولا بنایا یہ حکم خدا کی بنیاد پر تھا یا اپنی طرف سے؟ حضرتؐ نے تینوں سوالوں کے جواب میں فرمایا اللہ نے مجھ پر وحی کیا تھا میرے اور خدا کے درمیان کا واسطہ جبرئیلؑ تھے میں اس پیغام ربانی کو پہونچانے والا تھا بغیر اذن الٰہی کسی چیز کا اعلان نہیں کرتا ہوں۔ حارث نے کہا خدایا جو کچھ محمدؐ نے کہا ہے اگر وہ حق ہے اور تیری جانب سے ہے تو مجھ پر آسمان سے پتھر برسا یا دردناک عذاب میں مبتلا کردے۔ ابھی حارث کی گفتگو ختم نہیں ہوئی تھی کہ وہ چلا اور آسمان سے اللہ نے پتھر بھیجا جو اس کے بھیجے میں در آیا اور حارث ہلاک ہوگیا۔ اصحاب فیل کا منظر سوا لاکھ مجمع کی نگاہوں میں میدان غدیر میں پھرنے لگا اس کے بعد آیۂ "سأل سائل بعذاب واقع " نازل ہوئی پیغمبرؐ اکرم نے لوگوں سے فرمایا دیکھا؟ جواب ملا ہاں۔ فرمایا سنا؟ مجمع نے کہا ہاں لوگوں کے اس اقرار کے بعد فرمایا خوش نصیب ہے وہ جس نے ولایت کو قبول کیا اور بد نصیب ہے وہ جس نے دشمنی کیا علیؑ اور ان کے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ روز قیامت اونٹوں پر سوار جوان چہرہ جنتی باغ میں گھوم رہے ہیں جب کہ ان کے سروں پر تاج ہے کسی قسم کا خوف وحزن نہیں ہے اللہ کی جانب سے عظیم ترین رضایت کے ذریعہ تائید شدہ ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے یہاں تک کہ جوار رب العالمین میں مقام خطیرۃ القدس میں سکونت پذیر ہوں گے جہاں جو چاہیں گے ان کے لئے ہوگا جن چیزوں سے آنکھیں لطف اندوز ہوتی ہیں وہ موجود ہوں گی، ہمیشہ اسی میں ہوں گے ملائکہ ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو ان چیزوں کے عوض جن پر صبر کیا پس آخرت کا گھر کتنا اچھا ہے۔ اس معجزہ نے سب کے لئے ثابت کردیا کہ غدیر کا سرچشمہ وصی ربانی و امر خدائی ہے۔
دوسری طرف اس دور سے لے کر صبح قیامت تک کے منافقین جو حارث جیسی فکر کے مالک ہیں ان کے فرائض کا تعین بھی فرمادیا جو بزعم خود خدا ورسولؐ کو مانتے ہیں اور یہ جان لینے کے بعد بھی کہ ولایت علیؑ خدا کے حکم وفرمان سے ہے کہتے نظر آتے ہیں کہ ہضم نہیں ہوتا۔ اللہ کا دندان شکن جواب یہ بات بھی واضح کردیتا ہے کہ جو ولایت علیؑ کو قبول نہیں کرتا ہے وہ خدا ورسولؐ کے فرمان سے سرپیچی کرتا ہے اور اس کا منکر ہے۔
غدیری پروگرام کا اختتام:
غدیر کا تین روزہ پروگرام ختم ہوا وہ ایام "ایام ولایت" کے عنوان سے ذہنوں میں نقش ہوگئے، گروہ و قبائل عرب پیغمبرؐ اکرم سے رخصت ہوکر معارف اسلامی کے عظیم ذخیرہ و خلیفہ پیغمبرؐ کی مکمل معرفت کے ساتھ اپنے شہروں کی جانب روانہ ہوئے، نبیؐ کاروان نبوت کو ساحل مراد تک پہونچا کر مدینہ کی جانب چلے، واقعہ غدیر کا چرچہ شہروں میں پہونچا تیزی سے وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا سب باخبر ہوگئے، مسافروں، ساربانوں اور تاجروں کے ذریعہ دنیا کے دور دراز علاقے ایران و روم و چین تک پہونچ گیا غیر مسلم بھی اس واقعہ سے باخبر ہوگئے اور ایک بار پھر اسلامی سماج کی شوکت و عظمت کو دنیا نے دیکھا اسلام اغیار کے حملہ سے محفوظ ہوگیا الٰہی حجت لوگوں پر تمام ہوگئی چنانچہ امیر المؤمنینؑ نے فرمایا: "ما عملت ان رسول الله ترک یوم لغدیر لاحد حجة ولا لقائل مقالاً۔۔۔" پیغمبرؐ اسلام نے روز غدیر کسی کے لئے عذر کی گنجائش باقی رہنے نہیں دیا اور نہ ہی مجال سخن وگفتگو چھوڑا۔
۲۵/ ذی الحجہ کی صبح پیغمبرؐ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ مدینہ کی جانب روانہ ہوئے جیسے ہی دور سے مدینہ نظر آیا تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا: "اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں وہ واحدو بے مثل و بے نظیر ہے حکمرانی وحمد صرف اس کے لئے ہے ہر چیز پروقار ہے میں اس حال میں لوٹ رہا ہوں کہ تائب، عابد، ساجد و شاکر پروردگار ہوں اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اپنے بندہ کی مدد کیا اور تنہا سارے گروہ کے فرار ہونے پر مجبور کیا۔ ایک ماہ کے بعد حجاج کا قافلہ اسی روز مدینہ پہونچا ولایت کی خبر لے کر، پیغمبرؐ اکرم نے روز غدیر کو عید قرار دیا اور فرمایا روز غدیر خم میری امت کی بہترین عید ہے وہ، وہ دن ہے جس کے لئے خدا نے مجھے مامور کیا تھا کہ میها اپنے بھائی علیؑ بن ابی طالب کو امت کے لئے منصوب کروں۔
#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#
#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#



No comments:
Post a Comment