Friday, 21 June 2024

غدیر شناسی قسط 6۔خطبہ سے قبل کے مراسم

 

خطبہ سے قبل کے مراسم:


 

الف:غدیر خم کا اجتماع:

بروز شنبہ ظہر سے قریب جیسے ہی "قراع الغمیم" نامی علاقہ میں پہونچے (اسی علاقہ میں غدیر خم واقع ہے) رسولؐ خدا نے اپنا راستہ بدل کر جادہ کے داہنی سمت رخ کرلیا اور غدیر کی طرف روانہ ہوگئے ارشاد فرمایا: "ایھا الناس اجیبوا داعی الله انا رسول الله۔۔۔"اے لوگوں خدا کے داعی کی آواز پر لبیک کہو میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ یہ جملات کسی اہم پیغام کے پہونچانے کی طرف اشارہ کررہے تھے۔ منادی کو حکم دیا قافلہ کو رکنے کی ندا کرے  سب رک گئے جو آگے بڑھ گئے تھے واپس بلائے گئے اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظار ہوتا رہا رفتہ رفتہ سارے لوگ اس مقام پر جمع ہوگئے جس کا تعین پہلے سے کیا گیا تھا پھر حکم ہوا کہ قدیمی درختوں کے سایہ میں کوئی نہ بیٹھے بلکہ اس مقام کو خالی رکھا گیا۔

سورایاں رک گئیں آگے بڑھ جانے والے پیچھے واپس پلٹے قافلہ سرزمین غدیر خم پر سواریوں سے اترا اور اپنی اپنی جگہ بنا کر آرام سے بیٹھ گئے صحراء پہلی بار اتنے عظیم مجمع کو دیکھ رہاتھا۔

تمازت آفتاب اور جھلستی ہوئی زمین کی حرارت لوگوں کو مضطرب کررہی تھی لوگوں نے اپنے لباس کو سروں پر ڈال رکھا تھا خود نبیؐ اکرم نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور ایک سرا پیروں کے نیچے رکھ لیا تھا۔ کچھ افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے گرمی کی شدت کے باعث اپنی عبا کو پیروں میں لپیٹ لیا تھا۔

میدان غدیر میں پہونچ کر پیغمبرؐ اکرم نے فرمایا: "میرے اونٹ یہاں بٹھائے جائیں اس مقام سے اس وقت تک کوچ نہیں کروں گا جب تک کہ الٰہی ذمہ داری و فریضہ سے سبکدوش نہ ہوجاؤں۔ لوگوں کو مامور کیا کہ قافلہ کو متفرق نہ ہونے دیں جو آگے بڑھ گئے ہیں واپس بلاؤ اور جو ابھی تک یہاں نہیں پہونچے ہیں ان کی راہنمائی کرو اسی طرح یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ ان پانچ پرانے پیڑوں کے نیچے کوئی نہ جائے۔ مقداد، سلمان، ابوذر، عمار کو بلایا اور حکم دیا کہ درخت کے نیچے اور اس کے ارد گرد کی زمین کو آمادہ و تیار کرو۔ کانٹوں اور پتھروں کو چن چن کر صاف کیا اور جاروب کشی کے بعد پانی کا چھڑکاؤ کیا، درخت کی بڑھی ہوئی شاخوں اور ٹہنیوں کو کاٹ دیا جائے اور اس کے نیچے منبر بنایا جس کا رخ نمازیوں کی طرف اور پشت قبلہ کی طرف ہو، بڑے بڑے پتھروں ایک پر ایک رکھ کر اس پر اونٹوں کے پالان کے ذریعہ منبر کو مکمل کیا اور پھر اس پر ایک خوبصورت کپڑا ڈالا، منبر اس طرح رکھا گیا تھا کہ دونوں طرف کے مجمع کے درمیان میں ہو تاکہ ہر ایک پیغمبرؐ کی گفتگو کو سن لے۔

وقت نماز ظہر آگیا حضرتؐ کے منادی نے عمومی اعلان کیا لوگوں نے وضو کیا تاکہ اللہ کے آخری رسولؐ کی اقتداء میں نماز ادا کرسکیں نماز ظہر کے بعد ہر ایک خطبہ رسولؐ کا منتظر تھا، پہلے چند ان افراد کو جن کی آواز بلند تھی مامور کیا گیا کہ نبیؐ کی باتوں کو دہرائیں تاکہ سب سن لیں، منبر کے ارد گرد جو شاخین کاٹی نہیں جاسکتی تھیں ان کو دو آدمی اپنے ہاتھوں سے اٹھائے ہوئے تھے تاکہ منبر صاف صاف نظر آئے، نبیؐ اٹھے اور منبر کی طرف روانہ ہوئے منبر کے آخری حصہ پر کھڑے ہوئے ان سے ایک زینہ نیچے حضرت علیؑ تھوڑا سا ان کی طرف جھک کر احتراماً کھڑے ہوگئے۔

اس حساس موقع پر بھی منافقین اپنی سازشوں میں ڈوبے ہوئے تھے اپنے چند بہی خواہوں کو منبر کے پاس بھیجا تاکہ جیسے ہی نبیؐ خطبہ شروع کریں وہاں سے اٹھ کر متفرق ہوں تاکہ جلسہ میں افرا تفری جیسا ماحول پیدا ہو اور خطبہ مکمل نہ ہوسکے یہ منصوبہ نبیؐ و علیؑ کے منبر پر آتے ہی عملی صورت اختیار کرنے لگا پہلے تو نبیؐ باکمال صبر و تحمل دیکھتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ وہ خود اپنے اس عمل قبیح سے دست بردار ہوجائیں لیکن جب سازش کا یقین ہوگیا تو امیر المؤمنینؑ کو حکم دیا کہ منبر سے اترو اور جاکر ان کو منبر کے سامنے لاکر بٹھا دو تاکہ جلسہ میں کسی قسم کی بدنظمی پیدا نہ ہو جب جلسہ منظم ہوگیا تو حضرت علیؑ دوبارہ اپنی جگہ پر واپس آئے اور آنحضرتؐ نے خطبہ ارشاد فرمایا۔

ب: رسولؐ خدا کے اقدام:

۱۔ پیغمبرؐ اکرم کا خطاب:

میدان غدیر میں پیغمبرؐ اسلام کا تاریخی خطبہ جس کا دورانیہ ایک گھنٹہ تھا اس کے گیارہ حصے کئے جاسکتے ہیں پہلے حصے میں حمد و ثناء الٰہی، اللہ کی صفت قدرت، رحمانیت کا تذکرہ ہے اس کے بعد ذات باری کی الوہیت اور اپنی بندگی کی شہادت بیان ہوئی ہے۔

دوسرے حصہ میں اصلی مطالب کی طرف روی سخن موڑ دیا اور بیان فرمایا کہ میں حضرت علیؑ کے سلسلے میں خدا کا اہم پیغام پہونچانا چاہتا ہوں کہ اگر اس پیغام کو نہ پہونچایا تو گویا کار رسالت ہی انجام نہیں دیا اور عذاب کا خوف لاحق ہوگا۔

تیسرے حصہ میں اپنے بعد کے بارہ ائمہ کے بارے میں جو دنیا کے خاتمہ تک رہیں گے اعلان فرمایا تاکہ حرص و طمع کی ساری شاخیں کاٹ دی جائیں، حضرتؐ کے خطبہ کا اہم ترین نکتہ ولایت عامہ ہے جو ہر دور اور ہر جگہ کے تمام انسانوں پر ہے اور ان کے احکام کی پیروی بھی لازم و ضروری ہے ائمہ خدا و رسولؐ کے نائب تام و کامل ہیں، حرام و حلام اور تمام اختیارات میں۔

چوتھے حصہ میں پیغمبرؐ اسلام نے بآواز بلند امیر المؤمنینؑ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا: "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ" میں جس کا مولا ہوں علی اس اس کے مولا ہیں خدا اس کو دوست رکھنا جو علی کو دوست رکھے اور اس سے دشمنی رکھنا جو علی سے دشمنی رکھے اس کی نصرت کرنا جو علی کی مدد کرے اور اس کو ذلیل و رسوا کرنا جو ان کو ذلیل کرنا چاہے۔

تکمیل دین و اتمام نعمت کا اعلان ولایت ائمہ کے بعد اعلان ہوا، خدا، ملائکہ اور لوگوں نے اس ذمہ داری کے ادا کرنے پر شہادت دیا۔

پانچویں حصہ میں بالصراحت رسولؐ خدا نے فرمایا: "جو ولایت ائمہ سے سرپیچی کرے گا اس کے اعمال نیک ختم ہوجائیں گے اور وہ جہنم میں رہے گا اور اس کے بعد حضرت علیؑ کے کچھ فضائل بیان فرمائے۔

چھٹے مرحلہ میں پیغمبرؐ نے غضب الٰہی کے پہلو کو بیان فرمایا: حضرتؐ نے قرآن کی آیہ عذاب و لعن کی تلاوت کیا اور فرمایا ان آیات سے میرے کچھ اصحاب مراد ہیں جن سے چشم پوشی کا حکم دیا دیا گیا ہے لیکن یہ بات جان لو کہ اللہ نے مجھے معاندین، مخالفین، خیانت کاروں اور کوتاہی کرنے والوں پر حجت قرار دیا ہے دنیا میں ان سے چشم پوشی آخرت کے عذاب میں رکاوٹ نہیں ہے۔ اس کے بعد ائمہ ضلالت جو لوگوں کو جہنم کی طرف ڈھکیل کر لے جاتے ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا "میں ان سب سے بیزار ہوں" کچھ علامتی اشارے اصحاب صحیفہ ملعونہ کی طرف بھی فرمایا اور تصریح کیا کہ میرے بعد امامت کے منصب کو چھین لیں گے اور لعنت بھی غصب کرنے والوں پر کیاہے۔

ساتویں حصہ میں گفتگو کا محور ولایت و محبت اہل بیتؑ کے اثرات کو قرار دیتے ہوئے فرمایا "اصحاب صراط مستقیم جن کا تذکرہ سورہ حمد میں آیا ہے اہل بیتؑ کے شیعہ ہیں۔ پھر جنت کے بارے میں کچھ آیات کی تلاوت فرمایا اور اس کی تفسیر میں بیان کیا کہ یہ شیعوں اور پیروان اہل بیتؑ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے کچھ جہنم کے بارے میں آیات کی تلاوت کیااور اس کی تفسیر میں بیان فرمایا کہ یہ دشمنان اہل بیتؑ کے بارے میں ہے۔

آٹھویں حصہ میں امام مہدیؑ کےبارے میں بنیادی نکات کا تذکرہ کیا آپ کے خاص صفات و امتیازات کی طرف بھی اشارہ کیا اور دنیا مستقبل میں آپ کے ہاتھوں عدل و انصاف سے بھر جائے گی کا مژدہ جانفزا سنایا۔

نویں حصہ میں فرمایا اختتام خطبہ پر میری اور پھر علیؑ کی بیعت کرنا اور اس بیعت کی ضمانت یہ ہے کہ میں نے خدا کی بیعت کیا اور علیؑ نے بھی میری بیعت کیا ہے لہذا یہ بیعت جو تم سے لے رہا ہوں در حقیقت خدا کے حکم سے ذات حق کی بیعت ہے۔

دسویں حصہ میں حضرتؐ نے احکام الٰہیہ کو بیان کیا جس کا مقصد چند اہم اعتقادی ستون کی وضاحت تھی من جملہ تمام حلال و حرام کا بیان مجھ سے ممکن نہیں ہے لہذا یہ بیعت جو ائمہ کی تم سے لے رہا ہوں وہ حرام و حلال کو روز قیامت تک بیان کرتے رہیں گے کیوں کہ ان کا علم و عمل حجت ہے دوم یہ کہ بلند ترین امر بالمعروف و نہی عن المنکر تبلیغ پیغام غدیر جو ائمہ کے سلسلے میں ہے ان کی اطاعت کا حکم اور ان کی مخالفت سے روکنا ہے۔

خطبہ کے آخری حصہ میں زبانی بیعت انجام پائی حضرتؐ نے فرمایا "اللہ نے حکم دیا ہے ہاتھ سے بیعت لینے سے پہلے زبان سے اقرار لوں" پھر ان باتوں کو بیان کیا جس کا اقرار تمام افراد سے لینا تھا جس کا خلاصہ بارہ ائمہ کی اطاعت، تبدیل نہ ہونے اور نہ بدلنے کا عہد و پیمان، پیغام غدیر کو آئندہ نسلوں تک پہونچانا اسی کے ضمن میں ہاتھوں کے ذریعہ بیعت بھی شمار ہوگی کیو ں کہ حضرتؐ نے فرمایا تھا "کہو دل وجان، زبان و ہاتھ سے بیعت کرتے ہیں" آخری کلمات پیغمبرؐ اسلام اقرار کرنے والوں کے حق میں دعا اور انکار کرنے والوں کے لئے نفرین۔ حمد باری پر خطبہ کو آنحضرتؐ نے ختم فرمایا۔

عرشۂ منبر پر دوعملی اقدام:


 

رسولؐ خدا نے خطبہ کے درمیان منبر کی بلندی سے دو اقدام کئے جو جاذب نظر تھے اور سابق میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

علیؑ بن ابی طالب کو ہاتھوں پر اٹھانا:

رسولؐ اکرم نےمقام خلافت و ولایت حضرت علیؑ کے تذکرہ کے بعد رہتی دنیا تک ہر قسم کے شکوک و شبہات کی راہیں مسدود کردیا اور ہر قسم کی سعی و کوشش کو نقش بر آب بناتے ہوئے پہلے زبان سے اشارہ فرمایا پھر عملی طور پر لوگوں کو بتایا۔ ابتدا میں فرمایا قرآن کے باطن اور تفسیر کو وہی شخص بیان کرے گا جس کا ہاتھ پکڑ کر میں اٹھا رہا ہوں۔ یہ کہہ کر اپنی بات کو عملی جامہ پہنایا اور حضرت علیؑ کو جو منبر پر آپ کے پاس کھڑے تھے اور نزدیک بلایا جیسے ہی قریب آئے نبیؐ نے دونوں بازو پکڑا جب کہ امیر المؤمنینؑ نے اپنا دونوں ہاتھ نبیؐ کے سامنے پھیلادیا تھا اس طرح کہ دونوں ہاتھ آسمان کی جانب تھا اس کے بعد پیغمبرؐ نے امیر المؤمنینؑ کو جو ایک زینہ نیچے تھے بلند کیا یہاں تک کہ امیر المؤمنینؑ کے دونوں قدم آنحضرتؐ کے بازو کے مقابل آگئے سفیدی بغل کو لوگوں نے دیکھ لیا جبکہ اب تک نہیں دیکھا تھا اس کے بعد فرمایا "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" جس جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علیؑ بھی مولا ہیں۔

قلبی و زبانی بیعت:


 

دوسرا اقدام آنحضرتؐ نے یہ کیا کہ چونکہ جم غفیر سے فرداً فرداً بیعت لینا نا ممکن تھا اور یہ بھی ممکن تھا کہ لوگ کسی نہ کسی بہانے سے اپنے کو بیعت سے الگ کرلیں جس کے نتیجہ میں عملی طور پر اور قانونی گواہی ان سے نہ لی جاسکے لہذا حضرتؐ نے خطبہ کے آخر میں فرمایا: اے لوگو! چونکہ ایک ہاتھ سے اتنے کم وقت میں اتنے بڑے مجمع سے سب کی بیعت لینا ممکن نہیں ہے لہذا تم سب میری بات کی تکرار کرو اور کہو "ہم آپ کا حکم علیؑ کے سلسلے میں اور ان کی اولاد کے جو ائمہ ہیں کے بارے میں اللہ کی جانب سے ہم تک پہونچا یا ہے اطاعت کرتے ہیں راضی ہیں اور قلب و جان، زبان، و دست سےاس مسئلہ پر بیعت کرتے ہیں۔۔۔۔جو عہد و پیمان اس سلسلہ میں ہم سے ہمارے قلوب، جان، زبان، ضمیر و وجدان اور ہمارے ہاتھوں سے لیا گیا ہے جو ہاتھوں سے کرسکتا ہے کرلے ورنہ زبان سے اس کا اقرار کرے۔

یہ بات واضح ہے کہ آنحضرتؐ نے جس بات کی تکرار کرانا چاہا تھا اس کے الفاظ و کلمات نیز عبارت کو معین کرکے انہیں سکھایا تاکہ ہر آدمی اپنے اعتبار سے اقرار نہ کرے بلکہ تمام افراد وہی کلمات دہرائیں جو نبیؐ چاہتے تھے اور انہیں کلمات کے ذریعہ بیعت کریں۔ جب پیغمبرؐ کی گفتگو ختم ہوگئی تو ہر ایک نے اس کی تکرار کیا اور عمومی بیعت میں شرکت کیا۔

 

 

 

 

 

#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#

#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#

 

No comments:

Post a Comment

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام

سما نہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ...