غدیر خم کی جغرافیائی حیثیت:
اہل لغت، جغرافیا نویس اور مؤرخین کے مطابق غدیر خم مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ہے (حوالہ سابق،ص۴۵) مکہ سے وہاں کا فاصلہ دو سو کیلو میٹر اور مدینہ سے تین سو کیلو میٹر کے فاصلہ پر پانی کا تالا ب خم نام سے تھا جس کو غدیر خم کے نام سے جانا جاتا تھا شمال و جنوب کی دو پہاڑیوں کے درمیان یہ تالاب مشرق سے مغرب کی طرف جاتا اور دریاء سرخ تک پہونچتا، زمینی سیلاب کا راستہ تھا جہاں ہمیشہ سیلاب آتا رہتا تھا، جنگلی درخت جن کو عربی میں سمُر اور فارسی میں کُنار، (lotus) کہتے ہیں جا بجا متفرق طور پر اس سیلابی راستے پر نظر آتے ہیں، ایک طرف غدیر خم نامی بڑا سا تالاب ہے اس کی اہمیت اس وجہ سے زیادہ تھی کہ سال بھر اس کا پانی خشک نہیں ہوتا ہے یہی اس کی امتیازی حیثیت تھی ، اس کے کنارے کچھ درخت بھی اگے رہتے تھے جو مسافروں کے آرام کرنے کی مشہور جگہ تھی (حوالہ سابق، ص۱۱) مختلف علاقوں میں سیلابی راستہ پر متعدد تالاب پائے جاتے تھے جو اپنے نام کی وجہ سے ایک دوسرے سے علاحدہ ہوتے تھے، اس تالاب کو بھی دیگر تالاب سے ممتاز کرنے کے لئے غدیر خم کے نام سے یاد کیا جاتا تھا (حوالہ سابق، ص۴۴) بہر حال یہ متفقہ ہے کہ غدیر خم مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ہے ہاں اگر کسی نقطہ پر بحث و گفتگو ہوتی بھی ہے تو دقیق مقام کے تعین کے سلسلے میں دونوں شہروں کے درمیان اکثریت کا کہنا ہے کہ غدیر خم جحٖفہ میں ہے جو میقات ہے ، اس بات کا ثبوت وہ مسافت ہے جو جحفہ اور غدیر خم کے درمیان پائی جاتی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جحفہ اور غدیر خم دو الگ الگ مقام ہیں جن کے درمیان فاصلہ بھی پایا جاتا ہے (وادی جحفہ کی ابتداء غدیر خم سے ہوکر دریاء سرخ پر ختم ہوتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ غدیر خم وادی جحفہ کا ایک حصہ ہے) (حوالہ سابق، ص۴۶و ۴۷)
غدیر کا انتخاب کیوں:
۱۔ یہ جگہ مکہ سے پلٹنے میں اس چوراہے سے ایک منزل پہلے جو جحفہ میں ہے جہاں سے لوگ متفرق ہوتے ہیں (ایک راستہ مشرق کی طرف سے مدینہ کی جانب جاتا ہے اور دریا کے کنارے سے شمالی سمت میں شام کی طرف اور مغربی سمت سے دریا تک پہونچتا ہے جہاں کشتی کے ذریعہ مصر اور آفریقہ کے دیگر مناطق میں جایا جاتا تھا) (حوالہ سابق، ص۱۴) چونکہ مدینہ سے مکہ تک کے سفر میں آنحضرتؐ مختلف قبائل اثناء راہ ملحق ہوتے رہے جس کے نتیجہ میں اتنا بڑا مجمع جمع ہوگیا لہذا علاحدہ ہونے سے پہلے پروگرام منعقد ہوجائے اور غدیر خم اس کے لئے سب سے مناسب مقام تھا (۱۵روز باغدیر، محمد صدری، عطر عترت قم، ۱۳۸۹ھ ش، ص۳۱)
۲۔ اس تالاب کے کنارے سمُر نامی پانچ پرانے درخت تھے جو اس صحراء کے خاص درخت ہیں، ان پانچوں درخت بلند قامت اور بہت زیادہ پتے والے تھے جس کے سبب مسافروں کے لئے بہترین سائبان قرار پاتے تھے ایسی صورت میں یہ وسیع صحراء تین روزہ پروگرام کے لئے بہترین جگہ تھی خطبہ کی جگہ بھی انہیں درختوں کے نیچے متعین ہوئی جہاں سے پورے صحراء پر اور حجاج کے مجمع پر بھی نظر رکھی جاسکتی تھی اور خطبہ دینے کے لئے مناسب سائبان بھی تھا (گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر، محمد باقر انصاری، دلیل ما قم، چ۶۱۱۳۸۸ھ ش، ص۱۸)
۳۔ اگرچہ اکثر مسلمان مدینہ کی طرف سے آئے تھے لیکن اس چوراہے سے پہلے غدیر خم کا انتخاب در اصل مستقبل میں ادھر سے گذرنے والے قافلوں کو ہمیشہ اس واقعہ کی یاد دلانے کے لئے ہوا جو ۱۸/ ذی الحجہ کو اس مقام رونما ہوا یعنی قافلے علاحدہ ہونے سے پہلے اس مقدس دن اور مقام کی یاد و زیارت کرلیں (غدیر کجاست؟ محمد باقر انصاری، ص۱۴)
غدیر کے دوسرے نام:
چونکہ ایک منطقہ کو مختلف مناسبتوں کے اعتبار سے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اسی طرح غدیر خم بھی تاریخ میں جغرافیائی اعتبار سے ان مناطق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو اس کے حدود میں شمار ہوتے ہیں ہم یہاں پر غدیر خم کے چند دوسرے اسماء کا تذکرہ کررہے ہیں
۱۔ وادی خم: یہ نام جغرافیا ئی موقعیت کے اعتبار سے دیا گیا ہے چونکہ سیلاب کے راستہ میں واقع ہے اور عربی میں اس علاقہ کو جو سیلاب کے راستہ میں واقع ہو وادی کہتے ہیں
۲۔ جحفہ: یہ نام اس اعتبار سے پڑا کہ کبھی کبھی جزء کو کل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، وادی خم جحفہ نامی عظیم وادی کا حصہ تھا حدیث میں آیا ہے "پیغمبرؐ اسلام سے سنا کہ روز جحفہ فرما رہے تھے ۔۔۔۔" دوسری حدیث میں ہے "جحفہ کے دن پیغمبرؐ اکرم سے سنا کہ علیؑ کا ہاتھ پکڑ کر ۔۔۔"
۳۔ خرّار: سکونی کے بیان کے مطابق غدیر خم کو خرار بھی کہتے ہیں اور یہ بیان معجم میں بکری کے بیان سے موافقت رکھتا ہے وہ کہتا ہے "خرار حجاز کی ایک وادی ہے جس کا سیلاب جحفہ کو بھی گھیر لیتا ہے" اسی طرح یہ بھی لکھا ہے "جحفہ و غدیر کا سیلاب ایک ہے جس کو وادی خرار کہتے ہیں" اس لفظ کے معنی ہیں بلندی سے پستی کی طرف گرنا اور تیزی سے سیلاب کا گرنا ہے، خرّ الماء اس وقت کہا جاتا ہے جب پانی گرنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔
۴۔ غدیر جحفہ: زید بن ارقم کی روایت میں ہے "رسولؐ خدا حجۃ الوداع میں ۔۔۔غدیر جحفہ جو مکہ و مدینہ کے درمیان ہے سواری سے اترے
۵۔ غُرَبَہ: یہ وہ نام ہے جس سے اس علاقہ کے باشندے آج بھی غدیر کو یاد کرتے ہیں۔ بلاذری کا بیان ہے آجکل غدیر خم غدیر کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ، وہ تالاب ہے جس کے ارد گرد کچھ خرما کے درخت ہیں، یہ نام اس لئے دیا گیا کہ غدیر اس منطقہ کے پڑوس میں واقع ہے اور دونوں ایک ہی وادی میں ہیں (غدیر کجاست؟ ، محمد باقر انصاری، ص۳۹۔۴۲)
غدیر و جحفہ کے درمیان کا فاصلہ:
غدیر خم اور جحفہ کی موقعیت مشرق سے مغرب کی جانب سیلابی راہ میں ہے جتنا دریا سے قریب ہوگا سیلاب کا راستہ وسیع تر ہوگا جو لوگ جحفہ اور غدیر خم کے درمیان کا فاصلہ معین کرنا چاہتے ہیں انہوں نے مختلف زاویہ سے مسافت کا اندازہ لگایا اس لئے غدیر خم سے جحفہ کا فاصلہ کبھی تین میل، دو میل اور ایک میل بیان کیا ہے (غدیر کجاست؟، محمد باقر انصاری، ص۴۵) (ایک میل تقریبا ۔۔۔۔کیلو میٹر ہے چونکہ غدیر خم کا تعین جغرافیائی اعتبار سے اور اس کی جحفہ سے نسبت کیا ہے اس اعتبار سے یہ بحث اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ جحفہ مشہور علاقہ تھا اور ہے، مندرجہ ذیل منابع غدیر خم اور جحفہ کے درمیان کے فاصلہ کے حوالے سے دستیاب ہوئے ہیں:
۱۔ بکری نے تین میل کا فاصلہ بتایا ہے، زمخشری سے کسی کا قول نقل کیا ہے کہ دو میل فاصلہ ہے (اس قول کے ضعیف ہونے کا اشارہ بھی دیا ہے)
۲۔ یاقوت حموی مؤلف معجم البلدان، فلسفی و جغرافیا دان، متولد ۵۷۴ ھ و متوفی ۶۲۶ھ نے دو میل کا فاصلہ بتایا ہے
۳۔ فیروزآبادی: تین میل فاصلہ ہے
۴۔ نصر وعرام نے ایک میل فاصلہ بتایا ہے
ایک سے تین میل یا اس سے زیادہ کا فاصلہ مختلف راستوں کی وجہ سے ہے جو غدیر خم و جحفہ کے لئے جاتے ہیں خاص طور پر وادی جحفہ غدیر خم کے بعد دھیرے دھیرے پھیلنے لگی اور جحفہ پھر دریا تک پہونچ گئی، ممکن ہے کسی وقت پہاڑوں کے کنارے سے اندازہ لگایا گیا ہو تو یہ نزدیک ترین ہوگا اور ایک میل کہہ دیا ہو، کسی موقع پر وادی کے درمیان سے راستہ طے کیا ہو تو دو میل کہہ دیا ہو اور کسی موقع پر وادی کے کنارے سے اندازہ لگایا ہو تو تین میل طے پایا ہو (حوالہ سابق، ص۴۸)
#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#
#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#
No comments:
Post a Comment