غدیر خم کے عمومی صفات:
تاریخ کے صفحات پر غدیر خم کی مکمل تصویر کشی کی گئی ہے جس سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے لیکن غدیر خم کی جغرافیائی موقعیت طول تاریخ میں بدلتی رہی ہے خاص طور پر اس لئے کہ سیلاب کے راستہ میں ہے لہذا بآسانی اس کی شکل تبدیل ہوتی رہی اسی وجہ سے حیاتی، طبیعی اعتبار سے غدیر خم کی توصیف میں عصر پیغمبرؐ اکرم سے آج تک تبدیلیاں نظر آتی ہیں
۱۔ چشمۂ غدیر: غدیر نامی تالاب کے نزدیک پانی کا ایک چشمہ تھا جو نکل کر غدیر کی طرف جاتا تھا اور اسی میں گرتا تھا کبھی کبھی یہ چشمہ سوکھ جاتا یا اس کا پانی کم ہوجاتا تھا اور کبھی کبھی طبیعی اسباب کے زیر اثر اس کا راستہ غدیر سے الگ ہوجاتا تھا اور دوسری سمت بہنے لگتا (غدیر کجاست؟ ، ص۵۰) لسان العرب میں درج ہے "مکہ ومدینہ کے درمیان غدیر خم ایک جگہ کا نام ہے جس میں چشمہ گرتا ہے (حوالہ سابق، ص۵۱ بحوالہ معجم البلدان، ج۲، ص۲۸۹) عیاض کا بیان ہے "غدیر خم ایک چھوٹا سا دریا ہے جس میں چشمہ گرتا ہے چشمہ اور اس کے درمیان میں مسجد پیغمبرؐ اکرم واقع ہے (غدیر کجاست؟ ،ص۵۱، منقول از خلاصۃ الوفاء، ص۲۲۹)
۲۔ درخت: چشمہ و تالاب کے کنارے سر سبز جنگلی درختوں کی بھیڑ ہے درخت بہت قدیمی ہیں اس کی وجہ سے اس جگہ کے حسن میں اضافہ ہوجاتا ہے، کبھی کبھی سیلاب کی وجہ سے درخت گرجاتے ہیں یا جن سالوں میں چشمہ کا پانی کم یا سوکھ جاتا ہے درخت کی ہریالی بھی ختم ہوجاتی ہے یا درخت سوکھ جاتے ہیں(غدیر کجاست؟ ،ص۵۰)
طبرانی نے حدیث نقل کیا ہے "پیغمبرؐ اکرم نے غدیر خم کے درختوں کےنیچے خطبہ دیا تھا۔ (حوالہ سابق، ص۵۲، منقول از المراجعات، ص۵۴) "حاکم نے بیان کیا جب رسولؐ خدا حجۃ الوداع سے لوٹ رہے تھے تو غدیر خم میں سواری سے اترے اور حکم دیا درختوں کے نیچے کانٹوں کو چن لیا جائے" (حوالہ سابق) احمد بن حنبل نے بیان کیا ہے "رسولؐ خدا کے لئے کپڑے سے سایبان بنایا گیا اور یہ کپڑا سمرہ نامی درخت پر لٹکا کر بنایا گیا تھا (حوالہ سابق) ابو نعیم کی روایت میں ہے "درختوں کے پاس کوئی نہ رہا مگر یہ کہ وہ اپنی آنکھوں سے پیغمبرؐ اکرم کو دیکھ رہا تھا اور اپنے کانوں سے نبیؐ کی باتیں سن رہا تھا (حوالہ سابق، ص۵۳، منقول از احقاق الحق، ج۲۱، ص۴۶) میدان غدیر میں جو درخت تھے وہ سمرہ نامی تھے اشعار و احادیث میں دوح کے نام سے یاد کیا گیا ہے جس کے معنی بڑے درخت کے ہیں یہ درخت تالاب کے کنارے تھے اور ان درختوں سے علاحدہ ہیں جو وادی میں متفرق صورت میں موجود تھے (غدیر کجاست؟ ،ص۵۳)
۳۔ تالاب: لفظ غدیر تالاب کے معنی میں ہے وہی مقام جہاں سیلاب اور چشمہ کا پانی جمع ہوتا تھا (حوالہ سابق، ص۵۱)عرّام کا بیان ہے غدیر اس سمت میں تھا جدھر سے آفتاب طلوع کرتا تھا کبھی بھی اس کا پانی خشک نہیں ہوتا تھا (حوالہ سابق، ص۵۲، منقول از معجم البلدان، ج۲، ص۳۹۸)یہ تالاب لمبائی چوڑائی اور گہرائی کے اعتبار سے مسلسل برسوں تک سیلاب کے گذرنے کی جگہ پر تھا اس لئے اس میں تبدیلیاں بہت رونما ہوئیں لیکن اصلی جگہ تبدیل نہیں ہوئی طول تاریخ میں آج تک اسی غدیر خم کے نام سے وہ مقام مشہور و معروف ہے (حوالہ سابق، ص۵۰)
غدیر خم کی آبادی و رہائش:
یاقوت حموی نے حازمی سے نقل کیا ہے کہ اس وادی کی ایک صفت وخامت ہے جس سے مراد ایسی جگہ جو رہائش کے لائق نہ ہو لیکن حموی نے عرّام سے نقل کیا ہے کہ اس علاقہ میں قبیلہ حزاعہ و کنانہ کے کچھ لوگ رہتے تھے جن کی تعداد بہت کم تھی، عاتق بن غیث بلاذری نے اس علاقہ میں کچھ لوگوں کی رہائش پر شہر کے اعتبار سے یا کسی اہم دیہات کے اعتبار سے، تین دلائل ذکر کئے ہیں:
۱۔ چشمہ غدیر کا پایا جانا: ماضی قریب میں اس شہر کے رہنے والوں میں سے کچھ لوگوں نے دوبارہ اس چشمہ کو کھودا ہے تاکہ پانی کا ذخیرہ زیادہ ہوسکے، یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ حجاز میں ایک چشمہ ایک دیہات کے ہونے کے مساوی ہوتا تھا علاوہ از این آثار قدیمہ اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ اس علاقہ میں آبادی تھی جس میں پتھروں اور کنکڑوں سے مکانات تعمیر ہوئےتھے
۲۔ اطراف غدیر کی زمین سب کی سب پہاڑی اور جنگل کی صورت میں ہے یہاں تک کہ علاقہ کے لوگوں نے بیان کیا کہ پورا علاقہ کھجور کے باغ سے گھرا ہوا تھا یہ بات خود اس چیز کا امکان قوی کردیتی ہے کہ کچھ لوگ رہائش پذیر تھے وہاں۔
۳۔ شہادت امیر المؤمنینؑ کے بعد صحابہ، انصار اور قریش کی اولادیں حجاز کے جنگلات میں بکھر گئیں اپنے لئے باغات لگائے زمین آباد کیں تاریخی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ غدیر خم اور اس کے اطراف میں بھی آئے، چونکہ غدیر خم سے زیادہ دور دراز کے علاقہ میں پانی کے کنارے آبادیاں ملتی ہیں لہذا بعید نہیں کہ میدان غدیر خم کو بھی وطن بنایا ہو اور اس کے اطراف میں بھی رہائش اختیار کیا ہو، کیوں کہ یہ علاقہ جادہ سے اور دیگر آبادیوں سے بہت نزدیک ہے اور ماضی میں نبیؐ اکرم نے بھی وہاں قیام فرمایا تھا۔
ان تینوں دلائل سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سرزمین غدیر خم جہاں آج چند چادر نشین ادھر ادھر خیمہ زن نظر آتے ہیں ماضی میں ایک شہر یا دیہات کے عنوان سے آباد تھا، شیعہ نقطہ نگاہ سے دوسرے دلائل بھی متذکرہ بالا موارد کی تائید کرتے ہیں اور وہ تاریخی صراحت اس بات کی کہ وہاں مسجد غدیر ہے اور حجاج کا گذر ہوتا ہے تو طبیعی طور پر وہاں سکونت کے انتظامات بھی ہوں گے (حوالہ سابق، ص۵۴، ۵۵)
مسجد غدیر:
واقعہ غدیر کے دور سے وہاں ایک بابرکت مقام کا تذکرہ صفحات تاریخ پر ملتا ہے حجاج کے راستے میں ہے لہذا کبھی بھی ذہنوں سے محو نہیں ہوا وہ مقام جہاں نبیؐ اعظم نے توقف فرماکر نماز ادا کیا اور خطبہ ارشاد فرمایا امیر المؤمنینؑ کو خلیفہ و با اختیار متعین فرمایا تھا اس جگہ ایک مسجد تعمیر ہوئی جس کا محل وقوع تالاب و چشمہ کے درمیان ہے اس مسجد کو مسجد پیغمبرؐ کے نام سے موسوم کیا گیا اس کی زیارت کے لئے حجاج آتے ہیں۔
بکری کا بیان ہے: غدیر اور چشمہ کے درمیان مسجد پیغمبرؐ واقع ہے (غدیر کجاست؟ ،ص۵۴، محمد باقر انصاری، منقول از معجم ما استطعتم، ج۲، ص۳۶۸)
حموی کہتا ہے کہ صاحب مشارق کا بیان ہے "خم وہ مقام ہے جس میں ایک چشمہ گرتا ہے اور غدیر و چشمہ کے درمیان مسجد پیغمبرؐ ہے (حوالہ سابق، منقول از معجم البلدان، ج۲،ص۳۸۹)
تاریخی بیانات کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ اس مسجد کو مسمار کرنے اور اس کے نشانات کو مٹانے کا اقدام سب سے پہلے عمر نے کیا تھا (حوالہ سابق، ص۵۶،منقول از مثالب النواصب الخطوطہ ص۶۳ و ۶۴)
ابن شہر آشوب مثالب نامی کتاب میں تحریری کرتے ہیں عمر کے حکم سے مسجد غدیر کے آثار کو پوشیدہ کردیا گیا (حوالہ سابق، ص۶۰، منقول از مثالب النواصب، (خطی) ص۶۳)
متذکرہ بالا بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہاں تخریب سے پہلے آبادی تھی، دوبارہ مسجد غدیر کی تعمیر دور حضرت امیر المؤمنینؑ میں ہوئی لیکن آپ کی شہادت کے بعد معاویہ کے حکم سے آثار غدیر خم کو خاک میں ملادیا گیا
ابن شہر آشوب کتاب مثالب میں تحریر کرتے ہیں: الاغانی کے مؤلف ابو الفرج اصفہانی نے بیان کیا ہے کہ معاویہ نے ایک سایبان خوارج سے دو افراد کے ہمراہ بھیجا تاکہ آثار خم کو خاک میں ملا دیں (حوازلہ سابق، ص۶۰، منقول از مثلب النواصب، ص۶۴)
بعد کے ادوار میں دوبارہ مسجد غدیر کی تعمیر ہوئی چونکہ حجاج کے راستے پر پڑتی تھی لہذا مشہور و معروف جگہ تھی اہل سنت کے مؤرخین و جغرافیا نویس نے اس کا تذکرہ کیا ہے اور اس کا محل وقوع بھی متعین کیا ہے معاویہ کے ہاتھوں تاراجی کے بعد امام محمد باقرؑ کے دور میں ہم نے دیکھا کہ غدیر کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: راستہ کے داہنی جانب سے پیغمبرؐ اسلام مسجد غدیر کی طرف آئے اور یہ عمل جبرئیلؑ کے حکم سے انجام دیا (حوالہ سابق، ص۶۰، منقول از مثالب النواصب (خطی) ص۶۴)
ان تعبیرات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ معاویہ کے بعد بنی امیہ کے ہی دور میں اس مسجد کی دوباری تعمیر عمل میں آئی اور بظاہر وہ زمانہ عمر بن عبد العزیز کا تھا، اس کے بعد امام جعفر صادقؑ بنفس نفیس غدیر میں آئے اور غدیر کے جغرافیائی موقعیت پر دقیق وضاحت فرمایا، حسان جمال کا بیان ہے امام صادقؑ کو مدینہ سے مکہ لے جارہا تھا جب مسجد غدیر کے قریب پہونچے حضرتؑ نے بائیں طرف نگاہ کرکے فرمایا وہ جگہ وہ ہے جہاں پیغمبرؐ اکرم کے قدم مبارک پڑےتھے جب کہ آنحضرتؐ فرما رہے تھے "من کنت مولاہ ۔۔۔اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ"پھر مسجد کی دوسری جانب دیکھ کر فرمایا وہاں ابو بکر و عمر، سالم غلام ابن حذیفہ اور ابو عبیدہ جراح کا خیمہ تھا جو نبیؐ اکرم کا مذاق اڑا رہے تھے تو ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی (حوالہ سابق، ص۵۷، منقول از کافی، ج۴، ص۵۵۶، اثبات الھداۃ، ج۲، ص۱۶، ج۶۷، ص۲۱، ج۸۷، بحار الانوار، ج۱۰۰، ص۲۵۵،ج۲۱)
امام موسی کاظمؑ نے بھی مسجد غدیر کے سلسلے میں گفتگو فرمایا ہے جو اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ حضرتؑ کے دور میں وہاں آبادی تھی، عبد الرحمٰن بن حجاج کا بیان ہے امام موسی کاظمؑ سے مسجد غدیر میں نماز پڑھنے کے حوالہ سے سوال کیا کہ میں مسافر ہوں اور دن میں مسجد غدیر میں نماز پڑھ سکتا ہوں امامؑ نے فرمایا وہاں نماز پڑھنے کی خاص فضیلت ہے میرے پدر بزرگوار امام صادقؑ نے حکم بھی کیا تھا (غدیر کجاست؟ ،ص۵۷، منقول از کافی، ج۴، ص۵۵۶، ج۱)
زمانہ غیبت صغریٰ (تقریبا ۲۶۰ھ)میں علی بن مہزیار اہوازی کے بارے میں ملتا ہے کہ امام زمانہؑ کی زیارت کے شوق میں تقریبا بیس حج کئے وہ بیان کرتے ہیں "مدینہ سے مکہ کے ارادہ سے نکلا جحفہ پہونچا ایک دن وہاں قیام کیا پھر جحفہ سے غدیر کی جانب روانہ ہوا جو چار میل کے فاصلہ پر ہے وہاں جب مسجد میں پہونچا تو نماز ادا کیا اور چہرہ خاک پر رکھ کر خوب دعا کیا (حوالہ سابق، ص۵۸، منقول از غیبت، شیخ طوسی، ص۱۵۵، بحار الانوار، ج۵۲، ص۵، ج۴)
شیخ صدوقؒ (متوفی ۳۸۱ھ) کے بیانات میں بھی اس کے دور میں مسجد غدیر کے وجود کا تذکرہ ملتا ہے وہ کہتے ہیں"جب مسجد غدیر پہونچو تو اندر داخل ہو اور جتنا ممکن ہو نماز پڑھو" (حوالہ سابق، منقول از من لایحضرہ الفقیہ، ج۲، ص۵۵۰)
شیخ طوسیؒ (متوفی ۴۶۰ھ) کا بیان بھی اسی سے مشابہ ہے انہوں نے مصباح المتہجد میں بیان کیا "جب حاجی مکہ سے مدینہ کی جانب روانہ ہوں تو مسجد غدیر میں داخل ہوں ۔۔۔۔" (حوالہ سابق، ص۵۸، منقول از مصباح المتہجد، ص۷۰۹)
قاضی بن براج (متوفی ۴۸۱ھ) شیخ ابن ادریس (متوفی ۵۹۸ھ) شیخ ابن حمزہ (متوفی ۵۶۰ھ) علامہ حلیؒ (متوفی ۷۲۶ھ) نے بھی اسی سے ملتے جلتے مفاہیم کو بیان کیا ہے اور مسجد غدیر میں نماز کا تذکرہ کیا ہے
شہید اولؒ (متوفی ۷۸۶ھ) نے اپنی کتاب دروس میں مسجد غدیر کی چہار دیواری کا تذکرہ کیا ہے وہ کہتے ہیں "حاجی جب مدینہ کی جانب جائے اور مسجد غدیر کے پاس پہونچے تو اس کے اندر جائے نماز پڑھے اور بکثرت دعا کرے" مسجد غدیر کی چار دیواری ابھی باقی ہے (حوالہ سابق، ص۵۸، منقول از دروس، ج۲، ص۱۹، جواہر الکلام ج۲، ص۷۵)
بارہویں صدی ہجری میں شیخ یوسف بحرانی نے بھی اس سلسلہ میں تصریحات و توضیحات بیان کیا ہے سید حیدر کاظمی (متوفی ۱۲۶۵ھ) نے عمدۃ الزائر میں تحریر کیا ہے "مساجد میں سے ایک مسجد مسجد غدیر خم ہے جو جحفہ کے نزدیک ہے آج کل وہ رابغ کے نام سے جانی جاتی ہے اب تک اس کی دیواریں باقی ہیں ۔۔۔۔" حج کا راستہ غدیر سے خالی تھا لیکن ناصبیوں نے اس فضیلت کو چھپانے کے لئے راستہ بدل دیا گرچہ موجود راستہ سے بھی غدیر نزدیک ہے (حوالہ سابق، ص۵۹، منقول از عمدۃ الزائر، ص۵۲)
محدث نوری آخری فرد ہیں جنہوں نے بالتصریح کہا ہے کہ مسجد غدیر ان کے زمانہ میں موجود تھی انہوں نے اپنے استاد سید مہدی قزوینی حلی (متوفی ۱۳۰۰ھ) کے حالات میں لکھا ہے "حج کے لئے جانے اور واپسی میں ان کے ساتھ تھا اور ساتھ ہی میں مسجد غدیر میں نماز پڑھی تھی" (حوالہ سابق، ص۵۹، منقول از الکنی والالقاب، ج۳، ص۶۳)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہندوستانی شیعہ سلاطین نے مسجد غدیر کے احیاء کی کوششیں کیا سہمودی نے اس سلسلہ میں لکھا ہے "یہ مسجد ہندوستان کے شیعہ بادشاہوں کے ذریعہ کئی مرتبہ تعمیر ہوئی ہے" (حوالہ سابق، ص۵۹، منقول از مفتاح الجنان(سید محسن امین) ج۲، ص۳۶، معالم مکہ و المدینہ بین الماضی و الحاضر (شیخ یوسف رغد العاملی) ص۲۵۴)
چونکہ یہ علاقہ سیلابی تھا اس لئے طبیعی آفات کے نتیجہ میں خراب وتاراج ہوجاتی تھی نمونہ کے طور پر سہمودی کا بیان ملاحظہ فرمائیں"سلطنت عثمانیہ میں سیلاب نے مسجد غدیر خم کا کچھ حصہ خراب کردیا تھا (حوالہ سابق، منقول از مفتاح الجنات، ج۲، ص۳۶، معالم مکہ والمدینہ بین الماضی و الحاضر، ص۲۵۳)
بہر حال سو سال پہلے تک مسجد غدیر کا وجود ثابت ہے باوجودیکہ علاقہ اہل سنت کا تھا لیکن رسمی طور پر مقام عبادت اور مسجد غدیر کے عنوان سے معروف تھا یہاں تک کہ وہابیوں نے آخری مرتبہ تاراج کیا وہابیوں نے دو حاسدانہ اقدام مسجد غدیر کے حوالہ سے انجام دیا پہلے تو مسجد کو مسمار کیا اور پھر اس کے آثار کو مٹا دیا دوسرا اقدام راستہ کی تبدیلی سے متعلق تھا اور اس کا منصوبہ اس طرح ترتیب دیا کہ غدیر سے فاصلہ زیادہ ہوجائے (غدیر کجاست؟ ،محمد باقر انصاری، خلاصہ، ص۵۶۔۶۱)
#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#
#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#
No comments:
Post a Comment