غدیر خم میں آمد:
بچا ہوا راستہ بڑی تیزی سے طے ہورہا تھا، منافقین اپنے سیاسی منصوبہ کو عملی کرنے کی فکر میں ڈوبے ہوئے تھے کچھ ان میں سے قافلہ کے آگے آگے چل رہے تھے جو غدیر سے گزر کر جحفہ کے قریب پہونچ گئے تھے اپنے عمل سے مسلمانوں کے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھ جانا چاہتے تھے تاکہ غدیری پروگرام منعقد نہ ہوسکے رسالت مآبؐ کو اس کی خبر تھی جیسے ہی غدیر خم پہونچے کچھ لوگوں کو بھیج کر آگے بڑھ جانے والوں کو واپس لائیں اس عمل سے منافقین کے اس منصوبہ پر بھی پانی پھیر دیا ابھی چند پرانے درختوں اور غدیر نالی تالابوں سے دور نظر آرہا تھا یہ سرزمین رسالت مآبؐ کو پسند آگئی آپ اس کو مقدس مانتے بھی تھے کیوں کہ یہیں سے نداء ولایت زمانہ کے دوش پر سوار دنیا کے آخری نقطہ تک پہونچے گی (حوالہ سابق، ص۳۴)
خطبہ سے پہلے:
میدان غدیر آگیا رسولؐ اسلام نے فرمایا میرے اونٹوں کو بیٹھایا جائے یہاں سے آگے نہیں بڑھوں گا جب تک الٰہی ذمہ داری کو پہونچا نہ دوں، کچھ لوگوں کو حکم دیا کہ قافلہ کے پراکندہ ہونے سے روکیں جو آگے بڑھ گئے ہیں انہیں واپس بلایا جو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظار کیا، حکم دیا کہ ان پانچ درختوں کے نیچے کوئی نہ جائے۔ مقداد، سلمان، ابوذر و عمار کو بلایا اور حکم دیا درخت اور اس کے ارد گرد کے علاقہ کو پروگرام کے لئے آمادہ کریں، ان لوگوں نے درخت کے نیچے پڑے ہوئے کانٹوں پتھروں کو اکٹھا کیا وہاں جھاڑو دیا پانی کا چھڑکاؤ کیا درخت کی بڑھی ہوئی شاخوں کوکاٹا تاکہ کسی کو زحمت نہ ہو پھر دو درختوں کے درمیان پڑی جگہ پر سایہ کے لئے درختوں کی شاخوں پر کپڑا ڈالا اس کے نیچے منبر اس طرح رکھنے کا منصوبہ بنایا کہ پشت قبلہ کی طرف اور رخ نمازیوں کی طرف ہو بڑے بڑے پتھروں کو ترتیب سے ایک دوسرے پر رکھا پھر پالان شتر سے منبر مکمل کیا اور اس پر خوبصورت کپڑا ڈالا، منبر اس طرح تھا کہ دونون طرف مجمع اور بیچ و بیچ منبر، سب خطبہ کے وقت نبیؐ اکرم کو دیکھ سکتے تھے ظہر کا وقت آگیا آنحضرتؐ کے منادی نے عمومی اعلان کیا لوگوں نے وضو سے فراغت کے بعد نماز کی تیاری کیا تاکہ آخری نبی کی قتداء میں نماز پڑھیں نماز تمام ہوئی مجمع خطبہ پیغمبرؐ اکرم کا انتظار کررہا تھا، چند بلند آواز لوگوں کو مامور کیا گیا کہ وہ رسولؐ اسلام کی باتوں کو دہرائیں تاکہ سب سن لیں دو آدمی مامور ہوئے کہ وہ شاخیں جو منبر کے دونوں طرف تھیں اور کاٹی نہیں جاسکتی تھیں اٹھائے رہیں تاکہ مجمع اچھی طرح دیکھے پیغمبرؐ اسلام اٹھے منبر کی جانب چلے منبر کے آخری زینہ پر کھڑے ہوئے پھر حضرت علیؑ کو اپنے سے ایک زینہ نیچے احتراما! تھوڑا جھک کر کھڑا کیا اس حساس لمحات میں بھی منافقین اپنی سازشوں میں ڈوبے ہوئے تھے انہوں نے اپنے چند کو ذمہ داری سونپی کہ منبر کے پاس بیٹھیں اور جب نبیؐ خطبہ شروع کریں وہ اٹھ کر متفرق ہوجائیں تاکہ پروگرام میں خلل پیدا ہو جیسے ہی نبیؐ و علیؑ منبر پر کھڑے ہوئے منافقین نے یہ کام کردیا پہلے مرحلہ میں رسالت مآبؐ نے صبر و تحمل فرمایا اور انتظار کیا کہ یہ اپنی حرکت سے باز آجائیں لیکن جب محسوس کیا کہ سازش جدیت کے ساتھ عملی صورت اختیار کررہی ہے تو امیر المؤمنینؑ کو حکم دیا منبر سے نیچے اتر کر انہیں متفرق ہونے سے روکیں اور سب کو منبر کے پاس اکٹھا کریں تاکہ جلسہ بدنظمی کا شکار نہ ہو جب مجمع منظم ہوگیا تو حضرت علیؑ اپنی جگہ وپس آئے اور رسالت مآبؐ نے خطبہ شروع کیا (۱۵ روز باغدیر، ص۳۴۔۳۶، منقول از بحار الانوار،ج۲۱، ص۳۸۷، ج۳۷، ٓ۱۵۱، عولم العلوم، ج۱۵/۳، ص۵۰۔۶۰)
خطبۂ رسالت مآبؐ کا محور:
خطبۂ حضرت محمد مصطفی ؐ کے کلیدی نکات پر مشتمل گفتگو جداگانہ طور پر ہوگی۔
ولایت کی مبارک باد:
اختتام خطبہ پر لوگوں کی آوازیں بلند ہوگئیں: ہاں ہم نے سنا اور حکم خدا و رسولؐ کے مطابق جان و دل، زبان و ہاتھ سے ہم اطاعت کریں گے، مجمع بیعت کے لئے حضرت رسولؐ خدا و امام علیؑ کی طرف ٹوٹ پڑا سب سبقت لے جانےکی فراق میں تھے ان کے ہاتھوں پر بیعت کررہے تھے یہ اظہار احساس و خوشی و مسرت بھری آوازیں جو مجمع سے بلند ہورہی تھیں بے نظیر شان و شوکت اس مجمع کو عطا کررہی تھیں اس وقت زبان رسالت مآب ؐپر یہ کلمات جاری تھے الحمد لله الذی فضلنا علی جمیع العالمین ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں دو جہاں پر فضیلت عطا کیا۔
وہ قابل توجہ نقطہ جو پیغمبرؐ اکرم کی کسی کامیابی و کامرانی (جنگ ہو یا دیگر مقامات حتی فتح مکہ) میں نظر نہیں آتا ہے وہ یہ کہ آنحضرتؐ روز غدیر فرمارہے تھے "مجھے مبارکباد دو مجھے تہنیت پیش کرو کیوں کہ خدا نے مجھے نبوت اور میرے اہل بیتؑ امامت کو مختص فرمایا ہے، یہ محاذ کفرو نفاق کی عظیم ہزیمت کا پتہ دیتا ہے دوسری جانب رسولؐ اسلام نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں کے درمیان گھوم گھوم کر خلاصہ غدیر کی تکرار کرے اور وہ خلاصہ یہ ہے :و من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ ،‘ تاکہ غدیر کااعلان ولایت ہمیشہ کے لئے لوح دل پر نقش ہوجائے (گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر، ص۳۷۔۳۸، منقول از بحار الانوار، ج۲۱، ص۳۸۷، امالی شیخ صدوق ص۵۷)
مرودوں کی بیعت:
خطبہ میں پیغمبر اکرم نے وعدہ فرمایا تھا کہ اختتام خطبہ پر تم لوگوں سے بیعت لی جائے گی ارشاد ہوا:جان لو!میرے خطبہ کے اختتام پر تم اپنا ہاتھ بیعت کے عنوان سے دینا اور اقرار کرنا اس کے بعد علی کے ہاتھوں میں ہاتھ دینا ،جان لو میں نےاللہ سے اور علی نے مجھ سے بیعت کیا ہے میں اللہ کی جانب سے ان کےلئے بیعت لوں گا۔غدیرمیں ہونے والی بیعت کا مفہوم بارہ ائمہ معصومین کی بیعت سے وفاداری کا عہد وپیمان تھا جس کا مضمون خطبہ میں متعین ہواتھا لوگوں نے زبانی اقرار بھی کرلیا تھا لیکن قانونی حیثیت کو مستحکم کرنے اور جم غفیر کو منظم اور منصوبہ بند طریقہ سے مراسم بیعت کو انجام دینے کےلئے دو خیمہ نصب کئے گئے ایک خیمہ آنحضرت سے مخصوص تھا جسمیں آپ تشریف فرما تھے دوسرے خیمے میں نبی اکرم نے حضرت علی کو تشریف فرما ہونے کا حکم دیا لوگوں کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا اس کے بعد مجمع گروہ در گروہ پیغمبر اکرم کے خیمے میں حاضر ہوتا اور بیعت کرتا اور وفاداری کا عہد کرتا تبریک وتہنیت پیش کرتا پھر دوسرے خیمے میں جاکر دست حضرت علی پر خلیفہ وامام ہونے کے عنوان سے بیعت کرتا اور وفاداری کا عہد وپیمان کرتا امیر المومنین کہہ کر سلام کرتا اس عظیم منصب ومقام پر فائز ہونے کی مبارکباد دیتا یہ سلسلہ تین روز تک چلتا رہا اور رسول خدا غدیر ہی میں قیام پذیر رہے پروگرام کی ترتیب کچھ اس طرح تھی کہ سارے افراد شریک ہوسکیں۔
غدیر میں جن لوگوں نے حضرت امیر المومنین کی بیعت کیا تھا ان ہی لوگوں نے سب سے پہلے بیعت توڑا بھی تھا اور عہد وپیمان کو پاوں تلے روند ڈالا وفات مرسل اعظم کے بعد امیر المومنین کے مقابل کھڑے نظر آئے،قابل توجہ امر یہ ہے کہ عمر نے بیعت کے بعد یہ کلمات زبان پر جاری کئے’’سرمایہ افتخار ہے مبارک ہو مبارک ہو اے ابو طالب کے لال خوشابحال اے ابوالحسن اب آپ میرے اور ہر مومن مرد وزن کے مولا ہوگئے‘‘اس سے بھی زیادہ قابل توجہ امر یہ ہے کہ رسول اکرم کے حکم کے بعد سارے حجاج نےبغیر چون وچرا بیعت کرلیا لیکن ابو بکر وعمر نے کہا یہ حکم پروردگار تھا یا اس کے رسول کا حکم تھا؟رسول اکرم نے فرمایا خدا ورسول کی جانب سے تھا ۔اتنا عظیم مسئلہ بغیر حکم خدا کے ہوسکتاہے؟ نیز ارشاد فرمایا’’ہاں حق ہے خداورسول کی طرف سے حضرت علی کو امیر المومنین بنایاگیاہے‘‘(گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر ،ص ۳۸۔۶۰۔منقول از بحار الانوار ،ج ۲۱،ص۳۸۷۔ج۲۸،ص۹۰۔ج۳۷،ص۱۲۷ ۔۱۶۶۔الغدیر،ج۱،ص ۵۸، ۲۷۱، ۲۷۴۔عوالم ۱۵/۳،ص ۴۲، ۶۰، ۶۵، ۱۳۴، ۱۳۶، ۱۹۵، ۱۹۴، ۲۰۳، ۲۰۵)
عورتوں کی بیعت:
رسول خدا نے عورتوں سے بھی بیعت لیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ امیر المومنین کہہ کر سلام کریں مبارک باد دیں ،اپنی ازواج کےلئے تاکیدی طور پر فرمایاتھا ،چونکہ اکثر خواتین نامحرم تھیں اس لئے حضرت کے حکم کے مطابق ایک برتن میں پانی لایاگیا اور اسپر ایک کپڑے سے پردہ ڈالاگیا اس طرح کہ عورتیں پردہ کے پیچھے سے پانی پر ہاتھ رکھتی تھیں اور اسطرح بیعت انجام پاتی۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ اسلام کی عظیم خاتون حضرت فاطمہ زہراغدیر میں موجود تھیں اسی طرح خواہر امیر المومنین ام ہانی اور تمام ازواگ پیغمبر اسلام،فاطمہ بنت حضرت حمزہ،اسما بنت عمیس بھی اس بیعت کے پروگرام میں شریک رہیں(گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر ،ص۴۰۔منقول از بحار الانوار،ج۲۱،ص۳۸۸۔عوالم ۱۵/۳،ص۳۰۹)
عمامہ سحاب:
دستور عرب کے مطابق اگر کسی شخص کی سرداری وریاست کا اعلان کرنےکےلئے جو پروگرام منعقد ہوتا انمیں ایک عمامہ گذاری کا پروگرام بھی ہوتا تھا اور اس پروگرام کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی تھی جب کوئی عظیم انسان اپنا عمامہ کسی کے سر پر رکھدے کیونکہ اس عمل کا مقصد ومفہوم یہ ہوتاتھا کہ ہم اس پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں ۔پیغمبر اکرم نے میدان غدیر خم پروگرام میں اپنا عمامہ سحاب تاج افتخار کے عنوان سے امیر المومنین کے سر پر باندھا اس کا آخری سرا دوش پہ لٹکا دیا اور ارشاد فرمایا’’عمامہ عربوں کا تاج ہے ‘‘امیر المومنین نے اس سلسلے میں فرمایا ’’پیغمبر نے روز غدیر میرے سر پر عمامہ باندھا اسکا ایک سرا میری دوش پر لٹکا دیا اور فرمایا اللہ نے بدروحنین میں ان ملائکہ کے ذریعہ میری نصرت کیا تھا جو اسی طرح عمامہ بانھے ہوئے تھے(گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر ،ص۴۰۔ منقول ازعوالم ۱۵/۳،ص۱۹۹۔الغدیر ،ج۱،ص۲۹۱۔اثبات الھداۃ،ص۲۱۹،ح۱۰۲)
جبرئیل کی حاضری:
بشکل بشر ملائکہ کا ظاہر ہونا خاص مقامات پر ایک طرح کی ہدایت تھی لوگوں کےلئے۔غدیر خم میں بھی خطبہ کے اختتام پر ملائکہ بشری صورت میں ظاہر ہوئے اور اتمام حجت کیا ،ایک حسین شکل انسان معطر ومہکتا ہوا لوگوں کے درمیان کھڑا ہوکر کہہ رہاتھا بخدا ایسا دن کبھی نہیں دیکھا اپنے چچازاد بھائی کے امور کی کس قدر تاکید کیا ہے اور اس کے لئے عہد وپیمان کیا جسکو خدا ورسول کا منکر ہی توڑ سکتاہے وائے ہو اس پر جو اس عہد وپیمان توڑے۔عمر پیغمبر اکرم کی خدمت میں آئے اور کہا سنا یہ شخص کیا کہہ رہاہے؟حضرت نے فرمایا اس کو پہچانتے ہو؟کہا نہیں،حضرت نے فرمایا روح الامین جبرئیل ہیں ۔ہوشیار رہنا پیمان توڑنا نہیں اگر توڑدیا تو خداورسول ،ملائکہ ومومنین تجھ سے بیزار ہوں گے(حوالہ سابق۔منقول از بحار الانوار،ج۳۷،ص ۱۲۰، ۱۶۱۔ عوالم ۱۵/۳،ص۸۵، ۱۳۶)
الہی معجزہ:
میدان غدیر خم میں اسلام کا جو عظیم پیغام پہونچایاگیا وہ ولایت اہل بیت تھی۔اگر اکثر مقامات پر اتمام حجت کےلئے پیغمبر کے ہاتھوں معجزہ ظاہر ہوتا تھا تاکہ لوگوں کو اطمینان قلب ہوجائے اور تاریخ میں آنے والی نسلوں کو یقین ہوجائے تو غدیر میں خدا نے نبی اکرم کے حجور بلا واسطہ معجزہ دکھایا اورالہی تائید غدیری راہ پر ثبت فرمایا ،تیسرے دن کے آخری لمحات میں حارث فہری اپنے بارہ ساتھیوں کے ساتھ آیا اور کہا اےمحمد تین سوال ہیں ۔کیا خدا کی وحدانیت اور نبی کی نبوت کا اعلان اپنی جانب سے کیا ہے یا خدا کی طرف سے؟نماز،روزہ،زکات،حج اور جہاد کا حکم خدا کی طرف سے تھا یا آپ کی جانب سے؟حضرت علی کے بارے میں کہا’’من کنت مولاہ۔۔۔‘‘یہ حکم پروردگار تھا یا آپ کی جانب سے؟حضرت نے تینوں سوالوں کے جواب میں فرمایا خدا نے میرے پاس وحی کیا میرے اور خدا کے درمیان واسطہ جبرئیل تھے میں اس پیغام کو پہونچانے والاہوں بغیر اذن الہی کسی بات کا اعلان نہیں کرتا ہوں۔حارث نے کہا اگر محمد نے جو کچھ کہا ہے وہ حق اور تیری جانب سے ہے تو مجھ پر آسمان سے پتھر برسایادردناک عذاب نازل کردے۔ابھی حارث کی گفتگو تمام ہوئی تھی اور چند قدم چلا تھا خدا نے ایک پتھر آسمان سے نازل کیا جو اس کے مغز میں گھس گیا اور وہیں ہلاک ہوگیا ۔اصحاب فیل کے قصہ کی یاد ایک لاکھ بیس ہزار حاجیوں کے مجمع کے ذہن میں میدان غدیر میں تازہ ہوگئی اس واقعہ کے بعد آیہ’’سال سائل بعذاب واقع للکافرین لیس لہ دافع۔۔۔‘‘(سورہ معارج/۱۔۳)نازل ہوئی۔پیغمبر لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا دیکھا؟ سب نے کہا ہاں اس اقرار کے بعد فرمایا خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنھوں نے ولایت کو قبول کیا اور وائے ہو اپر جو ان سے دشمنی رکھے،علی اور انکے شیعوں کو روز قیامت اونٹوں پر سورا جوان چہرہ کے ساتھ باغ بہشت میں گھومتے ہوئے دیکھ رہا ہوںجبکہ ان کے سروں پر تاج ہے کسی قسم کا خوف نہیں ہے حزن واندوہ نہیں رکھتے اور اللہ کی عظیم خوشنودی کے ذریعہ تائید شدہ ہیں یہ عظیم کامیابی ہے یہاں تک کہ جوار رب العالمین میں حظیرۃ القدس میں مسکن گزیں ہوں گےوہاں ان کے لئے جو چاہیں گے موجود ہوگا آنکھیں جس سے لطف اندوز ہوں گی وہ آمادہ ہوگا ،وہاں ہمیشہ رہیں گے ملائکہ انھیں سلام کرتے ہوں گے’’سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبیٰ الدار(سورہ رعد/۲۴)اس معجزہ کے رونما ہونے سے ہر ایک کیلئے واضح ہوگیا کہ غدیر کا سرچشمہ وحی ربانی اور امر الہی ہے۔
دوسری طرف طول تاریخ میں جتنے منافقین جنم لیں گے ان کا انجام بھی معین ہوگیا کہ حارث فہری کی طرح جو بھی خیال کرتے ہیں کہ خدا ورسول کو مانتے ہیں اور جب یہ پتہ چلتاہے کہ ولایت علی ابن ابی طالب خدا کی جانب سے ہے فوراً کہہ دیتے ہیں یہ ہم سے برادشت نہیں ہوتا۔یہ دندان شکن جواب جو خدا نے فوراً دیا ثابت کرتاہے کہ جو ولایت علی کو قبول نہ کرے وہ فرمان خدا ورسول کا منکر ہے۔) گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر ،ص۴۳، ۴۵۔منقول از بحار الانوار،ج۳۷،ص۱۳۶، ۱۶۲، ۱۶۷۔عوالم ۱۵/۳،ص۵۶، ۵۷، ۱۲۹، ۱۴۴۔الغدیر،ج۱،ص۱۹۳)
اختتام مراسم غدیر:
تین دن کے بعد غدیری پروگرام کا اختتام ہوا وہ تین دن ایام الولایۃ کے نام سے ذہنوں میں بس گیا ،عربی قبائل وقافلے معارف اسلامی کا ایک عظیم ذخیرہ لئے پیغمبر اکرم سے رخصت ہوئے ،جانشین رسول کی مکمل معرفت لئے ہوئے اپنے اپنے شہروں کی طرف روانہ ہوگئے،رسول خدا بھی مدینہ کی جانب روانہ ہوئے اس حال میں کہ کاروان رسالت ونبوت منزل مقصود پر پہونچاچکے تھےواقعہ غدیر کی خبریں تیزی سے شہروں میں پھیل رہی تھیں سب باخبر ہورہےتھے ،مسافروں،ساربانوںوتجار کے ذریعہ دنیا کے دور دراز علاقوں تک یہ خبر پہونچ گئی ،ایران ،روم وچین میں بھی پھیل گئی غیر مسلم سماج بھی مطلع ہوگیا اور اسلامی سماج ایک بار پھر اپنی طاقت کی نمائش کے ذریعہ اغیار کے حملے سے محفوظ ہوگیا ،الہی حجت مکمل وتمام ہوگئی چنانچہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا’’ماعملت ان رسول اللہ ترک یوم الغدیر لاحد حجۃ ولالقائل مقالا۔۔۔( گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر،ص۴۶۔منقول از بحار الانوار،ج۲۸،ص ۱۸۶، ،ج ۳۷،ص۱۳۹،ج۳۹،ص۳۳۶،ج۴۱،ص۲۲۸۔اثبات الھداۃ ،ج۲،ص۱۱۵۔عوالم،ج۱۵/۳،ص ۶۸۔کشف المھم،ص ۱۰۹۔بصائرالدرجات،ص۲۰۱)
مدینہ میں ورود مسعو د:
۲۵/ذی الحجہ کی صبح رسول خدا اپنے ہمراہوں کے ساتھ مدینہ کی جانب روانہ ہوئے جب دور سے مدینہ کو دیکھا تو تین بار’’اللہ اکبر‘‘کہا اور فرمایا’’اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں وہ واحد ویکتا ہے،حکمرانی اور حمد اسی کےلئےہے ہر چیز پر قادر ہے میں لوٹاہوں درآنحالیکہ توبہ گزار،عابد،ساجد اور پروردگار کا شاکر ہوں اللہ نے وعدہ وفا کیا اور اپنے بندے کی یاری فرمایا اور تمام گروہوں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا‘‘
حجاج کا یہ عظیم قافلہ ایک ماہ کے بعد اس مدینہ لوٹا تو ولایت کی خبر لیکر،رسول اسلام نے ایک حساس اقدام کرتے ہوئے اس روز غدیر کو عید کادن قرار دیا اور ارشادفرمایا:میری امت کی بہترین عید عید غدیر خم ہے وہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے مجھے حکم دیا کہ اپنے بھائی حضرت علی کو امت میں منصوب کروں(۱۵روز باغدیر ،ص ۶۱۔منقول از بحار الانوار،ج۳۷،ص ۱۰۹)
انگشتری دوراں میں نگین غدیر ہمیشہ کےلئے چمکتا رہے گا جو تمام انسانوں کی ہدایت کا سامان فراہم کرتا رہے گا(۱۵روز باغدیر ،ص۶۰، ۶۱)
#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#
#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#
No comments:
Post a Comment