Friday, 21 June 2024

غدیر شناسی قسط 14۔ مراسم حج

 

مراسم حج:

نو ذی الحجہ آگئی حج کا آغاز ہوا عرفات اور پھر مشعر میں آنحضرتؐ نے قیام فرمایا (گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعۂ غدیر،ص۱۵) عید قربان اس سال مسلمانوں کے لئے عظیم دن تھا کہ منی میں قربانی کررہے تھے خلیل خدا اور اسماعیل کی یاد دلوں میں زندہ کررہے تھے اس سنت ابراہیمی کا ہمیشہ کے لئے احیاء ہورہا تھا جمرہ عقبہ پر رمی کیا اور انٹوں کی قربانی پیش کیا جو اپنے ساتھ لائے تھے ذبح کے امور میں حضرت علیؑ ساتھ تھے، قربان کے بعد سر منڈا کر احرام سے باہر آئے اور مکہ روانہ ہوئے جہاں طواف، سعی، طواف النساء نماز ادا کرکے دوبارہ منی لوٹے تاکہ اس کے بعد کے اعمال حج کو انجام دیں یعنی تین شب و روز منی میں قیام اور رمی جمرات، رات منی میں بسر کرکے پیغمبرؐ اسلام نے تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں یہ رمی جمرات شیطان سے نفرت و بیزاری کی علامت ہے جو کنکریاں مارکر ظاہر کی جاتی ہیں(۱۵روز با غدیر، محمد صدری، عطر عترت قم، ۱۳۸۹ش خلاصہ ص۸۔۱۱، منقول از کتاب گزارش حجۃ الوداع، محمد باقر انصاری)

حدیث ثقلین:

رمی جمرات کے بعد پیغمبرؐ اسلام نے نماز ظہرین مسجد خیف میں ادا کیا اور اس کے بعد ایک اہم ترین خطبہ ارشاد فرمایا "خدا اس کی زندگی کو آباد کرے جو میری باتوں کو سنتا ہے دل میں جگہ دیتا ہے اور حفاظت کرتا ہے جن لوگوں نے نہیں سنا ہے ان تک پہونچاتا ہے، اے لوگو! تمہاری ذمہ داری ہے ان لوگوں تک پہونچانا جو یہان موجود نہیں ہیں بہت سے ایسے افراد ہیں جو علم دوسروں کو بانٹتے ہیں لیکن اس کا معنی نہیں سمجھتے ہیں اور بہت سے ایسے افراد ہیں جو علم اپنے سے عالم تک منتقل کرتے ہیں اے لوگو! میں دو گرانقدر چیزیں (ثقلین) تمہارے درمیان چھوڑ رہا ہوں سوال کیا کیا ہے؟ فرمایا کتاب خدا اور میری عترت و اہل بیتؑ، خدائے لطیف و خبیر نے مجھے خبر دیا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہونچیں میری ان دونوں انگلیوں کی طرح (آنحضرتؐ نے اپنی انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کی طرح نہیں بلکہ دو انگشت شہادت کو دکھایا کہ اس کی طرح) اور فرمایا ان میں سے کوئی دوسرے پر فضیلت نہیں رکھتا ہے اور نہ ایک دوسرے پر مقدم ہے آگاہ ہوجاؤ جو ان سے متمسک رہے گا نجات یافتہ ہوگا اور جو ان سے سرکشی کرے گا ہلاک ہوجائے گا، آگاہ ہوجاؤ عنقریب تم میں سے کچھ لوگ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے لیکن مجھ سے دور کردئے جائیں گے میں کہوں گا خدا میرے اصحاب ہیں جواب ملے گا اے محمد ان لوگوں نے تمہارے بعد  بدعت ایجاد کیا سنت تبدیل کیا یہ سن کر میں بھی کہوں گا دور ہوجاؤ دور( ۱۵روز باغدیر، خلاصہ ص۱۱۔۱۲، منقول از کافی، ج۲، ص۴۰۳، امالی مفید، ص۱۸۶، بحار الانوار، ج۲، ص۱۴۸، سنن ابن ماجہ، ج۱، ص۸۴، سنن ترمذی، ج۵، ص۶۲،مسند شامیین، ج۱، ص۲۹۱)

رسولؐ خدا نے اس اہم ترین مقام پر ثقیلن کا تعارف کرایا اور ایک دوسرے کے ساتھ قرار دیتے ہوئے سب کو ان سے متمسک رہنے کا حکم دیا، مسلمانوں نے نبیؐ کی بات سنا اور اہل بیتؑ کے عظیم حق سے آشنا ہوئے۔

ایک دوسرے کلام میں آنحضرتؐ نے فرما "مجھ پر جھوٹی باتیں منصوب کی جارہی ہیں میرے بعد اور زیادہ ہوگا جو عمداً مجھ پر جھوٹ بولے گا اس کا ٹھکانہ آگ ہے" جب کوئی میری حدیث سنو اس کو کتاب و سنت پر پرکھو جو کتاب و سنت کے موافق ہو قبول کرلو اور جو کتاب و سنت کے خلاف ہو اس کو رد کردو (۱۵روز باغدیر، ص۱۲، منقول از احتجاج طبرسی، ص۲۴۶)

سورۃالنصر کا نزول:

پیغمبرؐ اسلام نے ۱۲/ ذی الحجہ منی میں رات بسر کرنے کے بعد دوبارہ تینوں شیطانوں کو کنکری مارا، اس دن کے آخری لمحات میں بھی مفصل خطبہ ارشاد فرمایا جس کو تمام مسلمانوں نے سنا، اسی روز سورہ النصر نازل ہوا (بسم اللہ الرحمن الرحیم، اذا جاء نصر الله و الفتح و رأیت الناس یدخلون فی دین الله افواجاً فسبح بحمد ربک و استغفرہ انہ کان تواباً)اس سورہ کے نزول کے بعد رسمی طور پر اپنے موت کے نزدیک ہونے کا پیغمبرؐ اکرم نے فرمایا کہ آنے والے سال میں میری روح قبض ہوجائے گی (۱۵ روز با غدیر، ص۱۳، منقول از نور الثقلین، ج۵، ص۶۹، بحار الانوار،ج۳۷، ص۱۱۳،امتاع الاسماع، ج۲، ص۱۲۷، عدۃ الداعی، ص۲۷۹) اس اعلان کا پہلا رد عمل خلافت پیغمبرؐ کا مسئلہ تھا اصحاب نے مسلمان سے کہا معلوم کرو ہمارے امور کس کے حوالہ ہوں گے ہم کس کی طرف مراجعہ کریں گے نبیؐ اکرم کے نزدیک سب سے محبوب کون ہے؟ رسولؐ خدا نے تھوڑا سکوت فرمایا جب تین بار سوال دہرایا جاچکا تب آپؐ نے فرمایا میرا بھائی، میرا وزیر و خلیفہ میرے اہل بیتؑ میں ہے یہی بہترین شخص ہے جس کو اپنے بعد کے لئے چھوڑ رہا ہوں میرے قرض کو ادا کرے گا وعدہ کو پورا کرے گا وہ حضرت علیؑ بن ابی طالب ہیں(۱۵ روز با غدیر، ص۱۴، منقول از تفسیر فرات، ص۶۱۳، شرح الاخبار، ج۱، ص۲۱۱)

اس گفتگو کے ذریعہ آنحضرتؐ لوگوں کو غدیر خم کے لئے آمادہ کررہے تھے اور تمہید اس عظیم واقعہ کے لئے بیان کررہے تھے امیر المؤمنینؑ کو بلا کر فرمایا اے علیؑ جس کا وعدہ کیا گیا تھا اس پر کامیاب ہوگیا لوگ جوق در جوق دین خدا میں داخل ہونے لگے تم سے زیادہ بہتر میرا قائم مقام کوئی نہیں ہوسکتا ہے کیوں کہ تم سابق الاسلام، مجھ سے قرابت، میرے داماد میری بیٹی سیدہ عالمیان تمہاری زوجہ ہے تم سے پہلے تمہارے پدر بزرگوار ابو طالبؑ نے میری حمایت و نصرت کیا تھا ۔۔۔(۱۵ روز با غدیر، ص۱۴، منقول از بحار الانوار، ج۴۰، ص۸۵، ینابیع المودۃ ج۲، ص۴۹۵)

حج کے آخری لمحات:

۱۳/ ذی الحجہ پیغمبرؐ اکرم کے حج کے آخری لمحات تھے اس روز بھی پیغمبرؐ اکرم نے رات منی میں بسر کرکے ظہر سے پہلے آخری بار رمی جمرات کیا اور مکہ کی جانب روانہ ہوگئے منی سے نکلتے ہوئے سواری پر سوار ہوکر ارشاد فرمایا"۔۔۔۔ہر چیز کی بنیاد ہوتی ہے اور اسلام کی بنیاد ہم اہل بیتؑ کی محبت ہے" (۱۵ روز با غدیر، ص۱۵، منقول از امالی طوسی، ص۸۴) پھر سب مکہ کی طرف روانہ ہوگئے مکہ کے نزدیک جبرئیلؑ بحکم خدا رسولؐ خدا پر نازل ہوئے اور سورہ عنکبوت کی ابتدائی آیات لے کر آئے جس کے بعد غدیری پروگرام کی تمہید شروع ہوگئی جبرئیلؑ نے خدا کی طرف سے یہ پیغام پہونچایا اے محمد آپ کی اللہ کی جانب بازگشت اور جنت کی جانب روانگی قریب ہے خدا نے آپ کو حکم دیا ہے کہ امت کو اپنے بعد حضرت علیؑ کے حوالہ کردیں انہیں اپنا خلیفہ مقرر کردیں اور انہیں ضروری ہدایات دیدیں وہی خلیفہ ہے جو رعایا و امت کے امور کے ذمہ دار ہیں، اسی طرح اس فتنہ کے رونما ہونے کی خبر دیا جس میں اطاعت حضرت علیؑ سے سرپیچی کریں گے (۱۵ روز باغدیر، منقول از بحار الانوار، ج۲۸، ص۹۵۔۹۶، ارشاد القلوب، ج۲، ص۱۱۲، کشف الیقین، ص۱۳۷) یہ وحی در حقیقت پہلے واجب یعنی حج کا اختتام اور دوسرے واجب یعنی ولایت کا آغاز تھی جس کے بعد ولایت کا پیشگی خاکہ عملی صورت اختیار کرنے لگا(۱۵ روز باغدیر، ص۱۶)

امانت الٰہیہ کی سپردگی:

اسی روز دوبارہ جبرئیلؑ اللہ کی طرف سے حکم لے کر نازل ہوئے کہ علم، میراث علوم انبیاء سابقہ، اسلحہ، تابوت اور دیگر آثار انبیاء جو آپ کے پاس ہیں اپنے بعد کے وصی و خلیفہ کے سپرد کردیں، پیغمبرؐ اکرم نے امیر المؤمنینؑ کو بلایا اور ایک خصوصی جلسہ میں امانات الٰہیہ مثلا اسم اعظم، علم، حکمت، کتب انبیاء ودیگر آثار انبیاء سابق آپ کے حوالہ کیا اور جبرئیلؑ کی گفتگو حضرت علیؑ سے بیان کیا، یہ امانات امیر المؤمنینؑ کے بعد ائمہؑ معصومینؑ کے پاس یکے بعد دیگرے منتقل ہوتی رہیں اور آج امام زمانہؑ کے پاس موجود ہیں (۱۵ روز با غدیر، ص۲۰، منقول از بحار الانوار، ج۲۸، ٓ۹۶، عوالم العلوم، ج۱۵/۳، ص۱۷۶)

صحیفہ ملعونہ پر دستخط:

منافقین کی سازش اور صحیفہ ملعونہ پر دستخط ایک اہم ترین واقعہ اس روز رونما ہوا تھا عایشہ و حفصہ دو ازواج پیغمبرؐ اسلام آنحضرتؐ کے ارادہ سے با خبر ہوگئیں کہ حضرت علیؑ کا تعارف ایک عظیم جلسہ میں کرانا چاہتے ہیں اپنے والد سے جاکر بیان کیا ان لوگوں نےمنافقین کے ساتھ ایک میٹنگ کیا خدا نے سورہ تحریم کی ابتدائی آیات نازل کرکے د وبیویوں کے ذریعہ پیغمبرؐ کے راز کے افشاء کی بات نبیؐ اکرم کو بتایا، اول و دوم اور تین معاہدہ کرنے والے ابو عبیدہ جراح، معاذ بن جبل اور سالم غلام ابن حذیفہ نے ارادہ کیا کہ اپنے عہد و پیمان کو آئینی صورت عطا کریں تاکہ عملی اقدام میں سب اس کی رعایت کریں ایک خاص موقع کی تلاش میں تھے اور موقع پاکر پوشیدہ طور پر کعبہ میں داخل ہوئے پہلے شفاہی طور پر اپنے معاہدہ کی تجدید کیا پھر قسم کھائی علیؑ کے خلاف مل کر اقدام کریں گے جب تک ہم زندہ ہیں خلافت اس کے پاس جانے نہیں دیں گے پھر دوم نے ایک مضمون جس پ سب کو دستخط کرنا تھا املاء کیا ابو عبیدہ جراح نے اس مضمون کو لکھا کہ "اگر محمدؐ دنیا سے رخصت ہوگئے یا قتل ہوگئے خلافت اہل بیتؑ سے دور کردیں گے" یہ معاہدہ خانہ کعبہ کے اندر لکھا گیا اور سب نے دستخط کیا ابو عبیدہ کو اس گروہ کا امانتدار بنایا گیا تاکہ خلافت ورزی کرنے والے کو سزا دی جاسکے اس معاہدہ کی تحریری سند کو کعبہ میں زیر خاک چھپاکر نکل گئے پیغمبرؐ اکرم کو وحی کے ذریعہ پوری صورتحال کی خبر مل چکی تھی جب مسجد الحرام میں ابو عبیدہ کو دیکھا تو استہزاء کے عنوان سے فرمایا یہ امت کے امانتدار ہیں(حوالہ سابق، ص۲۲، منقول از بحار الانوار، ج۲۴، ص۳۱۹، ج۲۸، ص۸۵، کافی، ج۱، ص۴۲۰) اس طرح معاہدہ میں شامل تمام افراد کو رسولؐ خدا نے بلایا اور انکی سازش کی خبر سنایا مگر ان لوگوں نے قسم کھایا کہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے اللہ نے ان کی اس قسم کی تردید سورہ توبہ کی آیت۷۴میں نازل فرمایا ان تمام پیچیدہ مسائل کے ساتھ دن گزررہا تھا معاہدہ کرنے والے افراد اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے فراق میں تھے، دوسے اقدام میں انہوں نے بنی امیہ کے پاس جاکر معاہدہ کیا، رسولؐ خدا ان کے تمام سازشی منصوبوں سے باخبر تھے مگر اس حساس موقع پر کسی بھی قسم کا رد عمل غدیر کے پروگرام کے لئے نقصان دہ ہوسکتا تھا کیوں کہ چند دنوں بعد اس غدیدی پروگرام کا انعقاد ہونا تھا لہذا ان تمام اقدامات پر کمال صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے رہے (۱۵ روز با غدیر، ص۲۱ و ۲۲، منقول از بحار الانوار، ج۲۲، ص۲۳۲، ج۳۰، ص۶۴۰، تفسیر قمی، ج۲، ص۳۷۶، نور الثقلین، ج۵، ص۳۷۰، مجمع البیان، ج۱، ص۵۶، صحیح بخاری، ج۷، ص۱۷، صحیح مسلم، ج۷، ص۲۴، مسند احمد، ج۱، ص۳۳)

مکہ مکرمہ سے خروج:

۱۵/ ذی الحجہ مکہ گریہ کناں تھا کہ کعبہ ناطق مکہ سےجارہا ہے اذان صبح سے کچھ پہلے نبیؐ اکرم نے نکلنے کا حکم دیا الوداعی طواف کے لئے مسجد الحرام تشریف لائے طواف کے بعد نماز ادا کیا خانہ کعبہ کو الوداع کہا اور قافلہ کے ساتھ مکہ کے نچلے حصہ کی طرف روانہ ہوگئے نماز صبح سے پہلے کوہ ذی طوی کے پاس سے گزرتے ہوئے مکہ سے باہر تشریف لائے، مقام کدی سے محصب کی جانب لوٹے اور اس راستہ کو اختیار کیا جو مدینہ پہونچتا تھا تنعیم سے سرف جو مکہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ہے پہونچے وہاں طلوع فجر ہوگیا نماز صبح ادا کرکے آگے بڑھ گئے ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد پر مشتمل قافلہ نبویؐ غدیر خم کی جانب رواں دواں تھا حیرت انگیز منظر تھا عُسفان سے گزر کر سفر جاری رکھا (۱۵ روز با غدیر، ص۳۵، منقول از کافی، ج۴، ص۲۴۸، تہذیب الاحکام، ج۵، ص۲۷۵، مغازی واقدی، ج۲، ص۱۰۹۹، اخبار مکہ، ج۲، ص۱۶۲، المصنف ابن شیبہ، ج۴، ص۴۶۹)

مقام قُدَیر میں نزول اجلال:

۱۷/ ذی الحجہ آج کاروان حجاج منزل قدیر پر پہونچا جہاں سے غدیر کا ایک دن کا سفر تھا، آبادی میں کاروان ٹھہرا حجاج آرام کرنے کے لئے سورایوں سے اترے نماز کا وقت ہوگیا تو سب نے نماز با جماعت ادا کیا رسولؐ خدا کی اقتداء میں، نماز کے بعد آنحضرتؐ نے اتنی بلند آواز میں کلام کیا کہ سب سن لیں ارشاد فرمایا: "پروردگارا محبت علیؑ مومنین کے دلوں میں اور ہیبت و عظمت منافقین کے دلوں میں جاگزیں فرما" پھر حضرت علیؑ کو بلایا اور لوگوں کے سامنے فرمایا: اے علیؑ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرو اور دعا کرو میں آمین کہوں گا، اے علیؑ کہو پروردگارا میرے لئے اپنے پاس عہد و پیمان قرار دے اور اپنے حضور میرے لئے محبت و مودت قرار دے میری محبت مؤمنین کے دلوں میں ڈال دے، امیر المؤمنینؑ نے ان کلمات کو زبان پر جاری کیا اور رسولؐ اسلام نے آمین کہا پھر آنحضرتؐ نے فرمایا: اے علیؑ اپنے لئے خدا سے جو مانگنا ہو مانگ لو میں آمین کہتا ہوں حضرت علیؑ نے تین بار یہ کلمات دہرائے: خدا یا میری محبت و مودت قیامت تک مؤمنین مرد و عورت کے دل میں پائدار و ثابت فرما، آنحضرتؐ نے آمین کہا، ان دعاؤں سے مسلمانوں کے نزدیک حضرت علیؑ کی عظمت و بلندی دو چند اور حیرت انگیز ہوگئی یہ دیکھ کر منافقین آرام سے نہیں رہ سکے ایسی باتیں کہیں جس سے قلب رسالت مآبؐ رنجیدہ ہوا لیکن اللہ نے سورہ ہود کی آیات۱۲۔ ۲۴ نازل فرما کر پیغمبرؐ اسلام کی دلجوئی کیا (۱۵ روز با غدیر، ص۳۰، منقول از بحار الانوار، ج۳۵، ص۳۵۳۔۳۵۸، عوالم العلوم، ج۱۵/۳، ص۳۱۔۳۵)

منزل قدیر میں آرام کرنے کا وقت تمام ہوا قافلہ سفر کے لئے آمادہ ہوگیا منافقین نے غدیر کو قریب ہوتا دیکھ اپنے سازشی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نبیؐ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اجازت طلب کیا کہ قافلہ سے علاحدہ ہوجائیں اور غدیر کے پروگرام میں شرکت سے معاف کردیا جائے وہ جلد گھر پہونچنا چاہتے ہیں وہ چاہتے تھے کہ غدیر میں حاضر نہ ہوکر اپنے منصوبہ کو عملی کرسکیں رسالت مآب یہ سن کر ناراض ہوئے اور فرمایا کیا ہوگیا ہے کہ تم اپنے نبیؐ سے گریزاں ہو؟ یہ سن کر سب شرمندہ ہوگئے اور واپس لوٹ گئے ایک سازش منافقین کی پیغمبرؐ اسلام نے اس طرح ناکام بنایا، کاروان چل پڑا اور غدیر خم کا مقام آگیا یہیں ایسا پروگرام ہونا طے پایا تھا جو مسلمانوں کے مستقبل کا ضامن تھا یہ جگہ دور قدیم سے پانی اور پانچ پرانے درخت کی وجہ سے مسافروں کی آرامگاہ تھی مکہ سے لوٹتے ہوئے ایک ایسے چوراہے کے پاس جہاں سے مختلف راستے نکلتے ہیں وادی جحفہ میں قافلوں کے ایک دوسرے سے جدا ہونے کی جگہ تھی، چونکہ مکہ جاتے ہوئے راستے میں متعدد و مختلف قبائل کے لوگ آنحضرتؐ سے ملحق ہوئے جس کے نتیجہ میں ایک عظیم قافلہ تیار ہوا تھا لہذا جد اہونے سے پہلے پروگرام کے انعقاد کے لئے غدیر خم سب سے زیادہ مناسب مقام تھا۔ (۱۵ روز باغدیر، ص۲۹۔۳۱)

 

 

 

 

 

#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#

#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#

 

No comments:

Post a Comment

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام

سما نہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ...