Friday, 21 June 2024

غدیر شناسی قسط 13 ۔حجۃ الوداع ایک غیر معمولی سفر

 

ایک غیر معمولی سفر:

اہداف سفر:

ذی قعدہ         ۱۰ھ میں سورہ حج کی آیت ۲۷(واذن فی الناس بالحج۔۔۔۔) کے نزول کے بعد پیغمبرؐ اسلام نے پہلی بار آئینی طور پر حج کا عمومی اعلان کرایا تاکہ جو افراد قادر ہیں وہ شریک حج ہوسکیں اس سے قبل    ۹ھ میں مسلمانوں اور مشرکوں نے ایک ساتھ حج انجام دیا تھا ، اسی سال امیر المؤمنینؑ نےرسولؐ خدا کی جانب سے بحکم الٰہی و قرآنی :و اذان من الله و رسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان الله بری من المشرکین و رسولہ۔۔۔۔(توبہ/۳) اعلان کیا کہ اگلے سال سے حج صرف مسلمان انجام دیں گے مشرکین کی شرکت ممنوع ہوگی اسی لئے ۱۰ھ میں پہلی بار خانہ خدا مشرکین سے خالی ہوا اور حج ابراہیمی ہر قسم کی بدعات و خرافات سے پاک انجام پایا (گزارش حجۃ الوداع، دلیل ما، چ۱، ۱۳۸۷ش ھ، ص۱۸، بحوالہ علل الشرائع، ص۴۲۲، ج۱، ص۱۱۸) آنحضرتؐ نے اس سفر کو حجۃ الوداع  کا نام دیا تاکہ یادوں بھرا یہ سفر دلوں میں نقش ہوجائے اس سفر کا مقصد اسلامی قوانین میں سے دو اہم قانون کو بیان کرنا تھا جو اب تک پورے آئین کے مطابق بیان نہیں ہوئے تھے ان میں سے ایک حجۃ الاسلام کے احکام و اعمال اور دوسرا مسئلہ خلافت و ولایت حضرت علیؑ اور رسولؐ کے بعد آپ کا خلیفہ ہونا تھا۔ (گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر، دلیل ما، چ۱، ۱۳۸۸ش، ص۱۳، منقول از عوالم العلوم، ج۱۵/۳، ص۱۶۷۔۲۹۷، الغدیر، ج۱، ص۹۔۱۰، بحار الانوار، ج۲۱، ص۳۹۰، ۳۸۴، ۳۸۳،ج۲۸، ص۹۵، ج۳۷، ص۲۰۱)

تمہید سفر:

حکم الٰہی کے بعد رسولؐ خدا نے مدینہ و اطراف مدینہ میں منادی بھیج کر اس سفر کے ارادہ سے لوگوں کو باخبر کیا تاکہ جو چاہے وہ اس سفر میں نبیؐ اکرم کا ہم رکاب ہوسکے، جن لوگوں کو خط لکھنے کے امکانات تھے ان کو خط لکھ کر باخبر کیا خط کا مضمون اس طرح تھا پیغمبرؐ اکرم حج کا رادہ رکھتے ہیں جس سے بھی ممکن ہو وہ اس سفر میں شریک ہوسکتا ہے (گزارش حجۃ الوداع، ص۲۴، منقول از کافی ، ج۴، ص۲۴۵، تفسیر الاصفی، ج۲، ص۳۰۸)

اس اعلان عام کے بعد اطراف مدینہ سے بہت زیادہ تعداد میں افراد جمع ہوئے مشرقی و شمالی مدینہ کے باشندے مدینہ آئے تاکہ آنحضرتؐ کی بیعت میں یہ سفر انجام دیں مکہ ومدینہ کے درمیان آباد علاقوں کے لوگ تیار ہوکر راستہ پر انتظار کررہے تھے تاکہ قافلہ نبوی میں شریک ہوسکیں اہل یمن اور جنوبی مکہ میں آباد مسلمان بھی منظم منصوبہ کے تحت اپنے اپنے میقات سے احرام پہن کر مقام معین پر پہونچنے کی تیاری کرنے لگے ان دنوں امیر المؤمنینؑ بحکم پیغمبرؐ ایک لشکر کے ہمراہ یمن و نجران کی مہم پر تھے رسولؐ خدا نے انہیں بھی خط لکھ کر اپنے سفر حجۃ الوداع سے آگاہ کیا اور حکم دیا کہ لشکر کے ہمراہ مکہ آئیں مدینہ و اطراف مدینہ میں غیر معمولی جوش و خروش نظر آرہا تھا خاندان رسولؐ اکرم جس میں اہل بیتؑ و ازواج پیغمبرؐ شامل تھیں سفر کی تیاری میں مصروف تھیں چونکہ امیر المؤمنینؑ مدینہ میں موجود نہیں تھے اس لئے حضرات حسنینؑ و جناب زہراؑ آمادہ سفر تھیں، ازواج پیغمبرؐ میں ام سلمیٰ، ریحانہ، صفیہ، زینب بنت جحش، میمونہ بنت حارث، سودہ بنت زمعہ، ام حبیبہ بنت ابو سفیان، عایشہ و حفشہ بھی بحکم رسات مآبؐ اس سفر میں شریک تھیں یہ اکیلا سفر تھا جس میں تما ازواج نبیؐ، نبیؐ اکرم کے ساتھ ساتھ تھیں ۶۶ اونٹ قربانی کے لئے رسولؐ خدا نے مہیا کئے اور ناجیہ بن جندب کو ان اونٹوں کا نگہبان مقرر فرمایامیقات حجاج معین کئے (میقات وہ مقام جہاں سے حج کرنے کا ارادہ رکھنے والے یا عمرہ کا ارادہ رکھنے والے افراد لباس احرام زیب تن کرتے ہیں اور انہیں  یہ اختیار نہیں ہوتا ہے کہ بغیر احرام کے ان میقات سے آگے بڑھیں) اس سفر کی اتنی اہمیت تھی کہ وہ عورتیں جو امید سے تھیں (حاملہ) اور زمانہ ولادت نزدیک تھا وہ بھی حضرتؐ کے ہمراہ ہوگئیں انہیں میں سے ایک اسماء بنت عمیس مادر محمد بن ابی بکر بھی تھیں جن کے زمانہ حمل کے آخری ایام تھے مدینہ سے نکل کر ابھی ذو الجحفہ کے مقام پر پہونچی تھیں اور ولادت ہوئی ولادت کے بعد بھی قافلہ کے ساتھ رہیں گرچہ اس ولادت کی وجہ سے کارواں ذوالجحفہ سے تاخیر سے روانہ ہوا، رسولؐ اسلام نے ابو دجانہ سماک بن خرشہ ساعدی انصاری کو مدینہ کا نگہبان مقرر کیا تھا تاکہ شہر کے امن و امان کو برقرار رکھے ابو دجانہ وہی شخص ہے جو میدان احد میں جب سب بھاگ گئے تھے تب بھی میدان میں ڈٹے رہے اور حضرت علیؑ کے ساتھ حفاظت پیغمبرؐ اسلام کی خاطر ان کے گرد پیش رہے (گزارش حجۃ الوداع، ص۲۷، گزارش حجۃ الوداع، ص۱۸۔۲۷ منقول از سیرۃ النبویہ، ابن ہشام، ج۴، ص۲۴۸)

مدینہ سے مکہ تک:

یہ عظیم قافلہ ۲۵/ ذی قعدہ بروز شنبہ بوقت صبح مدینہ سے نکلا حکم پیغمبرؐ اسلام سے لوگوں نے لباس احرام اپنے ساتھ رکھا آنحضرتؐ نے بھی غسل فرمایا اور لباس احرام (لنگی چادر) اپنے ساتھ لیا (گزارش حجۃ الوداع، ص۳۲، منقول از کافی، ج۴، ص۲۴۵، تہذیب الاحکام، ج۵، ص۴۵۴) مدینہ سے نو کیلو میٹر کے فاصلے پر مقام ذوالجحفہ (اب یہ شہر مدینہ کا حصہ ہوگیا ہے) تشریف لائے، ابو رافع رسولؐ اکرم کے اثاثہ کے ذمہ دار تھے آذوقہ سفر پیشگی منصوبہ کے تحت ابو بکر کے اونٹ پر باندھے گئے تھے ناجیہ بن جندب نے اپنے قبیلہ کے جوانوں کے ہمراہ ۶۶اونٹ قربانی کے آپ کے ہمراہ کئے اہل بیتؑ (فاطمہ زہرا، حضرات حسنینؑ) اور جملہ اولاد پیغمبرؐ اسلام تمام ازواج اونٹوں پر بندھے ہوئے ہودج میں سوار ہوئے (گزارش، حجۃ الوداع، ص۳۲، منقول از المغازی واقدی، ج۲، ص۱۰۹۰) ظہر کے وقت پیغمبرؐ اکرم ذوالجحفہ کی مسجد شجرہ پہونچے اور احرام زیب تن کیا اور تلبیہ کہا (تلبیہ یعنی لبیک کہنا) البتہ پیغمبرؐ اکرم اور دیگر افراد جو قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے ان کا احرام اشعار و تقلید ساتھ تھا، اشعار یعنی اونٹ کے کوہان میں شگاف کرنا تاکہ خون بہے جس سے پتہ چل جائے کہ یہ جانور خانہ خدا کی قربانی کا ہے، تقلید یعنی پرانے جوتوں کو جانور کی گردن میں لٹکانا جو علامت ہے کہ یہ جانور بیت اللہ کی قربانی کے لئے ہے اس قسم کے حج کو جس میں قربانی کا جانور حجاج کے ہمراہ ہوتا ہے حج قران کہتے ہیں، رسولؐ خدا نے بآواز بلند لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمة لک و الملک لاشریک لک لبیک کہا (گزارش حجۃ الوداع، ص۳۶، منقول از کافی، ج۴، ص۲۴۵، تہذیب الاحکام، ج۵، ص۴۵۴، صحیح مسلم، ج۲، ص۷۲۵) مجمع نے نبیؐ کی معیت میں اس جملہ کی تکرار کیا لبیک کی صدا کے ساتھ قافلہ روانہ ہوا مقام بیداء میں قافلہ پہونچا جہاں سے دس روز کا سفر مکہ کا ہے وہاں سے قافلہ روانہ ہوا ایک عظیم کارواں جو سواروں اور پیدلوں پر مشتمل ہے نبیؐ کے ساتھ چل رہا ہے قافلہ دیکھ کر مدینہ سے مکہ کے درمیان کی آبادیوں سے بھی لوگ ملحق ہوگئے دور دراز کے علاقوں میں جب خبر پہونچی تو اطراف مکہ، یمن وغیرہ سے بھی لوگوں کی بھیڑ مکہ پہونچنے لگی تاکہ احکام حج کے جزئیات ذات پیغمبرؐ اسلام سے سیکھ لیں یہ پہلا سفر تھا جس میں رسمی طور پر حج کے عنوان سے نبیؐ اکرم نے شرکت کیا، مزید بر آں آنحضرتؐ نے یہ اشارے بھی دئے کہ یہ میری زندگی کا آخری سال ہے ہر طرف سے لوگوں کی شرکت کا ایک سبب یہ بھی تھا (مثلا آپؐ نے فرمایا مناسک حج مجھ سے سیکھ لو کیوں کہ ممکن ہے اس کے بعد حج کے لئے نہ آؤں) (گزارش حجۃ الوداع، ص۳۹،منقول از کنز العمال، ج۵، ص۱۱۶) ایک لاکھ بیس ہزار افراد نے اعمال حج میں شرکت کیا تھا جس میں ستر ہزار مدینہ سے نبیؐ اکرم کے ساتھ شریک ہوئے تھے، لبیک کی صداؤں کے ساتھ قافلہ چل رہا تھا (گزارش لحظہ بہ لحظہ از غدیر ص۱۲، منقول از عوالم العلوم، ج۱۵/۳، ص۲۹۷، ۱۶۷، الغدیر، ج۱، ص۹۔۱۰، بحار الانوار، ج۲۱، ص۳۶۰، ۳۹۰، ۳۸۴، ۳۸۳، ج۲۸، ص۹۵، ج۳۷، ۲۰۱)

یک شنبہ کی صبح نمودار ہونے والی تھی مَلَل نامی مقام پر ٹحہر کر نماز صبح ادا کیا اور رات ہونے تک شرف السیالہ کے مقام پر پہونچے نماز مغربین وہیں ادا فرمایا (پیغمبرؐ اکرم چونکہ مسافر تھے لہذا نماز قصر پڑھتے تھے اور چونکہ وقت کم صرف ہو نماز ظہر و عصر نیز مغرب و عشا ساتھ ساتھ پڑھتے تھے) نماز مغربین کے بعد قافلہ روانہ ہوا اور اگلی صبح عرق الظبیہ پہونچے، انجشہ سیاہ پوست غلام جو ازواج پیغمبرؐ کے اونٹوں کا ساربان تھا حدی خوانی کرتا رہتا تاکہ اونٹ تیز رفتاری سے چلیں پیغمبرؐ اکرم نے اس تیز رفتار سے چلنے کا منظر دیکھ کر فرمایا انجشہ شیشوں کو آہستہ بلاؤ مقصد یہ تھا کہ عورتوں کے حالات کی رعایت کرو (گزارش حجۃ الوداع، ص۴۱، منقول از استیعاب، ج۱، ص۱۴۰)اثناء راہ زوجہ پیغمبرؐ صفیہ کا اورنٹ بیٹھ گیا اور چلنے کے لئے آمادہ نہیں ہورہا تھا صفیہ گریہ گرنے لگیں پیغمبرؐ اسلام تشریف لائے اور اپنے ہاتھوں سے ان کے آنسو پونچھے لیکن ان کا گریہ مزید بڑھ گیا چونکہ قافلہ روحہ سے نزدیک تھا لہذا حکم رسولؐ خدا سے روکا گیا لوگ سواریوں سے اترے، جب قافلہ چلنے کا وقت ہوا تو زینب بنت جحش زوجہ پیغمبرؐ نے اپنا ایک اونٹ عاریتا دیا اور صفیہ نے قبول کرلیا کیوں کہ زینب کے پاس ازواج میں سب سے زیادہ اونٹ تھے (گزارش حجۃ الوداع، ص۴۱، منقول از اسد الغابہ، ج۶، ص۱۷۲، مسند احمد بن، ج۱، ص۲۵۴) روحہ سے قافلہ روانہ ہوا رویثہ پہونچا وہاں سے منصرف جس کو غزالہ بھی کہتے ہیں پہونچا نماز ظہر و عصر وہیں ادا ہوئی پھر مغرب و عشاء کے وقت متعشّی میں اترے اور رات کا کھانا وہیں کھایا گیا ،مقام اثایہ میں نماز صبح ادا ہوئی اس مقام پر رسولؐ خدا نے ایک ہرن کو دیکھا جو درخت کے نیچے سورہا ہے آنحضرتؐ نے ایک شخص کو مامور کیا کہ اس کے پاس کھڑا رہے اور نگرانی کرے کہیں کوئی حاجی حالت احرام میں اسے گزند نہ پہونچادے (گزارش حجۃ الوداع، ص۴۳، منقول از سنن نسائی، ج۵، ص۱۸۳)

مقام اثایہ میں ابو بکر کا غلام جو نگہبان تھا اس اونٹ کا جس پر آذوقہ پیغمبرؐ بار تھا اس نے رات وہیں بسر کیا اونٹ سلا دیا تاکہ آرام کرلے پھر قافلہ سے ملحق ہوجائے گا وہ سوگیا اونٹ اٹھا اور درہ کی طرف چل پڑا جب غلام خواب سے بیدار ہوا تو اونٹ نہ دیکھ کر پریشان ہوگیا کہ قافلہ کے ساتھ تو نہیں چلا گیا وہ اونٹ ڈھونڈتا رہا پیغمبرؐ اکرم ابیات جو عرج سے قریب تھا سواری سے اترے اندازہ ہوگیا کہ غلام پیچھے رہ گیا ہے اس کا انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ وہ پہونچا تو اونٹ اس کے ہمراہ نہ تھا ابو بکر نے طمانچہ رسید کردیا نبیؐ مسکرا رہے تھے فرمایا : اس محرم(لباس احرام پہنے ہوئے شخص کو کہتے ہیں) کو دیکھو کیا کررہا ہے بہت جلد اونٹ مل جاے گا اس درمیان سعد بن عبادہ اور ان کے بیٹےقیس نے ایک اونٹ پر آذوقہ بار کیا اور خیمہ پیغمبرؐ اسلام کی طرف روانہ کردیا جس وقت یہ پہونچا نبیؐ اکرم کا اونٹ بھی مل گیا پیغمبرؐ اکرم نے ان کےء لئے دعا کیا اور فرمایا اللہ نے ہمارے اونٹ آذوقہ کے ساتھ لوٹا دیا اللہ تمہیں برکت عطا کرے اپنا اونٹ اور آذوقہ لے جاؤ  (گزارش حجۃ الوداع، ص۴۲ و ۴۳، منقول از سنن ابی داؤد، ص۲۸۳، سنن ابن ماجہ، ج۳، ص۹۷۸، المغازی واقدی، ج۲ ص۱۰۹۴، ۱۰۹۲)

سہ شنبہ (بروز منگل) کی صبح عرج میں قیام رہا (گزارش حجۃ الوداع، ص۴۵، منقول از بحار الانوار، ج۱۰، ص۴۴۱، ج۱۵، ص۱۶۲، المغازی واقدی ، ج۲، ص۱۰۹۳) بروز بدھ شقیا پہونچے (حوالہ سابق) اثناء راہ پیدل چلنے کی زحمات کا تذکرہ کرتے ہوئے پیدل چلنے والوں نے سواری کا مطالبہ کیا حضرتؐ کے پاس چونکہ سواری نہ تھی لہذا آپ نے فرمایا اپنی کمر میں کمر بند باندھ لو چلنا آسان ہوجائے گا چلتے وقت نہ بہت تیز رفتار ہو نہ دوڑو بلکہ درمیانی رفتار میں چلو اس ترتیب پر عمل کرکے سکون ملا اثناء سفر جبرئیلؑ نازل ہوئے اور عرض کیا لبیک کہنا احرام میں ہونے کی نشانی ہے بآواز بلند لبیک کہو ، یہ سن کر لوگوں نے اتنا لبیک کہا  کہ لوگوں کی آوازیں بھاری ہوگئی تھیں (حوالہ سابق ، منقول از مسند احمد ، ج۱، ص۶۶۸، تہذیب الاحکام، ج۵، ص۹۲، کافی، ج۴، ص۳۳۶) جمعرات کے روز ابواء پہونچے جہاں جناب آمنہ والدہ گرامی رسولؐ خدا کی قبر ہے (حوالہ سابق، ص۴۶، بحار الانوار، ج۱۰، ص۴۴۱، ج۱۵، ص۱۶۲) قبر مادر گرامی کی زیارت کیا وہاں سے تلعات الیمین پہونچےجہان سمُرہ نامی درخت تھا اس درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے (حوالہ سابق، ص۴۷، المغازی، ج۲، ص۱۰۹۶) وہاں سے وادی عقبہ ہرشا اور ہرشا نامی پہاڑی پر پہونچے اس کے بعد اِراک نامی چوٹی جو جحفہ کی سمت میں ہے وہاں واقع مسجد میں نماز ادا کیا اسی راستے میں سورہ نساء کی آیت ۱۷۶جس میں کلالہ کے احکام بیان ہوئے ہیں نازل ہوئی(کلالہ ان کو کہتے ہیں جو بے اولاد دنیا سے رخصت ہوجائیں) (حوالہ سابق، منقول از مناقب شہر آشوب، ج۱، ص۲۰۱، العبرۃ فی غبن العدۃ، ص۱۲) وہاں سے روانہ ہوئے اور جحفہ کے باہر واقع مسجد جہاں احرام باندھتے ہیں نماز پڑھی یہ مسجد غدیر خم سے پہلے ہے اور راستہ کے بائیں جانب واقع ہے (حوالہ سابق، منقول از فقیہ، ج۲، ص۲۹۵، المغازی ص۱۰۹۷، ج۲) جمعہ کے روز جحفہ غدیر خم سے گزر کر قُدَیر کی جانب روانہ ہوئے شنبہ کے دن وہاں قیام رہا اور مسجد مشلّل اور اس مسجد میں نماز ادا کیا جو لغت کے نچلے حصہ پر واقع ہے (حوالہ سابق، ص۴۸، منقول از المغازی، ج۲، ص۱۰۹۷) بروز دوشنبہ چار ذی الحجہ مرّ الظہران پہونچے وہاں غروب تک قیام رہا نماز مغرب ثنیتین میں ادا کیا اور کچھ دیر ٹھہر کر رات ہی میں سَرِف مکہ سے چھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے کی جانب روانہ ہوئے وہاں سے اگلی منزل مکہ تھی (گزارش حجۃ الوداع، ص۴۹، منقول از المغازی، ج۲، ص۱۰۹۷) وہ ستر ہزار افراد کا قافلہ جو مدینہ سے چلا تھا اب تک ایک لاکھ سے متجاوز ہوچکا تھا (حوالہ سابق) دس دن کی مسافت طے کرکے سہ شنبہ ۵/ ذی الحجہ (گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر  ص۱۵، منقول از بحار الانوار، ج۲۱، ص۳۶۰، ج۳۷، ص۲۰۱، عوالم العلوم، ج۱۵/۳، ص۲۹۸) یا بقولے چار ذی الحجہ شام تک (گزارش حجۃ الوداع، ص۵۵، منقول از معجم ما استعجم، ج۴، ص۱۱۱۸،المغازی، ج۲، ص۱۰۹۷، نصب الرایۃ، ج۲، ص۲۲۱)پہلا کاروان حج عدیم المثال جلالت و عظمت کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا (گزارش حجۃ الوداع، خلاصہ ص۳۳۔۵۵)

حجاج یمن حضرت علیؑ کے ہمراہ:

جن دنوں سفر حج کا اعلان ہوا تھا امیر المؤمنینؑ ایک لشکر کے ہمراہ بحکم رسولؐ خدا نجران اور یمن کی طرف گئے تھے اس سفر کا مقصد دعوت اسلام (جس کے نتیجہ میں ہمدانی قبیلہ و دیگر یمنی قبائل نے اسلام قبول کرلیا تھا) خمس و زکات نیز جزیہ کی جمع آوری تھا (جزیہ وہ ٹیکس جو اہل کتاب حکومت اسلامی سے قرار داد کے مطابق ادا کرتے ہیں یہ معاہدہ نجران کے عیسائیوں اور پیغمبرؐ اسلام کے درمیان ایک سال پہلے ہوا تھا نجرانیوں کا جزیہ ایک ہزار حلہ تھا) اہل یمن کے درمیان کے اختلافات کو ختم کرنا بھی ایک مقصد تھا، مدینہ سے نکلتے وقت پیغمبرؐ اسلام نے امیر المؤمنینؑ کو خط لکھا اور یہ حکم دیا کہ آپ بھی لشکر اور اہل یمن سے خواہشمند افراد کو لیکر حج میں شرکت کرنے کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوجائیں (گزارش حجۃ الوداع، خلاصہ ص۱۰۔ ۲۱، منقول از اعلام الوری، ج۱، ص۲۵۷۔ ۲۵۹) اپنی ماموریت کو انجام دینے کے بعد امیر المؤمنینؑ لشکر اور بارہ ہزار یمنیوں کے ہمراہ مکہ کی جانب روانہ ہوئے جو آٹھ سو کیلو میٹر کا فاصلہ تھا، جس وقت مدینہ سے چل کر رسولؐ خدا اور آپ کے ہمراہی مکہ کے قریب پہونچے اسی وقت امیر المؤمنینؑ یمن سے چل کر مکہ کے قریب پہونچے یلملم جو اہل یمن کا میقات تھا وہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیا یلملم مکہ کے جنوب میں سو کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے وہاں سے احرام زیب تن کیا اس کے بعد امیر المؤمنینؑ ایک شخص کو لشکرکا  نگراں بنا کر نبیؐ اکرم کی زیارت و ملاقات کے لئے روانہ ہوئے مکہ کے پاس حضرتؐ سے ملاقات کیا سفر کی رپورٹ پیش کیا اور بتایا کہ ۳۴اونٹ قربانی کے لئے لایا ہوں پیغمبرؐ اکرم یہ ساری باتیں سنکر مسرور ہوئے خاص طور پر جب یہ سنا کہ ہمارے قربانی کے لئے سو اونٹ ہوگئے ہیں حکم فرمایا علیؑ جتنی جلدی ممکن ہو لشکر اور یمنی حجاج کے ہمراہ مکہ میرے پاس پہونچو امیر المؤمنینؑ واپس ہوئے (گزارش حجۃ الوداع، ص۵۳۔۵۴، منقول از کافی، ج۴، ص۲۴۶، ج۵، ص۲، ج۷، ص۲۸۶، بحار الانوار، ج۲۱، ص۳۶۱، ۳۸۳، ۳۶۳، صحیح مسلم، ج۲، ص۷۲۵) جب یمنی قافلہ کے پاس پہونچے جو مکہ سے بالکل قریب تھا دیکھا کہ نجرانیوں کا دیا ہوا حلہ لشکری پہنے ہوئے ہیں جس کی اجازت نہ تھی یہ دیکھ کر تعجب ہوا اور لشکر کے نگہبان سے کہا وائے ہو تم پر، کس دلیل کی بنیاد پر حلہ لشکر کے حوالہ کیا جب کہ ابھی نبیؐ کے حوالے نہیں کیا گیا تھا؟ میں نے تمہیں اس امر کی اجازت بھی نہیں دیا تھا، نگہبان نے جواب دیا کہ لوگ مجھ سے مانگ رہے تھے کہ اسی کو لباس احرام بنائیں گے اور اپنے آپ کو مزین کریں گے پھر واپس لوٹا دیں گے حضرت علیؑ نے وہ حلہ اتارنے کا حکم دیا اور پہلے کی طرح تہہ بہ تہہ اسی مقام پر رکھنے کا فرمان جاری کیا اس حکم سے کچھ لوگوں کے دلوں میں آتش کینہ بھڑک اٹھی اور یہ عزم بالجزم کرلیا کہ جب مکہ نبیؐ کی بارگاہ میں پہونچیں گے تو اس کی شکایت نبیؐ اکرم سے کریں گے (گزارش حجۃ الوداع، ص۵۵، منقول از اعلام الوری، ج۱، ص۲۵۷۔ ۲۵۹، الطبقات الکبری، ج۲ ص۱۶۹۔۱۷۰، المغازی، ج۲، ص۱۰۷۹، صحیح مسلم، ج۲، ص۷۲۵، مسند احمد، ج۱، ص۱۶۷) بہر حال قافلۂ یمن قافلہ پیغمبرؐ ایک ہی وقت میں بروز سہ شنبہ ۵/ ذی الحجہ وارد مکہ مکرمہ ہوا۔

 

 

#islam#quraan#imamat#ideology#iran#ghadeer#khum#prophet#muhammad#karbala#saqeefa#zahra#eid#jashn#maula#hadith#rawi#ahlesunnat#takfiri#wahabiyat#yahusain#aashura#azadari#mahfil#majlis#

#اسلام#قرآن#امامت#غدیر#خم#حدیث#راوی#عقاید#محمد#عاشورا#کربلا#سقیفہ#خلافت#ملوکیت#عمر#ابو بکر#عثمان#علی#صحابی#صحابیات#تاجپوشی#

 

No comments:

Post a Comment

مادران معصومین ایک تعارف۔۱۱۔والدہ امام علی نقی علیہ السلام

سما نہ مغربیہؑ سیدہ کے نام سے معروف تھیں ، ان کی کنیت ام الفضل تھی، آپ امام محمد تقیؑ کی زوجہ اور امام ہادیؑ (علی نقیؑ) کی والدہ تھیں ، ...